اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ٹکٹ تقسیم کنبہ پروری اور گروپ بندی کا بول بالا

damiبی جے پی نے اپنے ہی وزیر اعظم کو کنارے لگا دیا۔بی جے پی کے لیڈر ہی کہتے ہیں کہ تنظیم کے سب سے بڑے لیڈر مودی کا چہرہ انتخابات جیتنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں اور اسی چہرے پر سیاہی ملتے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کہتے رہے ہیں کہ ٹکٹ کی تقسیم میں بھائی وبھتیجہ، جانبداریت اور گروپ بندی ہرگز نہ ہو،لیکن پارٹی نے مودی کی ہدایت کو طاق پر رکھتے ہوئے کھل کر بھائی و بھتیجہ، جانبداریت اور گروپ بندی کا کھیل کھیلا۔ بنیادی کارکنوں کو بہت زیادہ نظر انداز کیا گیا۔ گروپ بندی کی وجہ سے اعلیٰ عہدیدار اورسینئر لیڈر ٹکٹ پانے سے محروم رہ گئے۔جونیئر خوشامد پسند ٹکٹ پاگئے اور سینئروں کو انگوٹھا دکھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ باہر سے ٹپکنے والے لیڈروں کے بھی مزے رہے۔یہ سب سے زیادہ اخلاق و کردار کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کا حال ہے جس کے لیڈر سیاسی اور سماجی اسٹیجوں سے کانگریس اور سماج ادی پارٹی کی کنبہ پروری کو کوستے رہے ہیں،لیکن انہیں خود اپنی آنکھوں کی شہتیر دکھائی نہیں دیتی۔
اتر پردیش
بی جے پی امیدواروں کی اب تک جتنی بھی لسٹ سامنے آئی ہے، اس میں کنبہ پروری اور گروپ بندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ بی جے پی نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ کو نوئیڈا سے ٹکٹ دیا ہے۔ اسی طرح بی جے پی ممبر پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے بیٹے پرتیک بھوشن کو گونڈا سے ٹکٹ ملا۔ ممبر پارلیمنٹ حُکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا سنگھ کو کیرانہ سے ، ممبر پارلیمنٹ کوشل کیشور کی بیوی جئے دیوی کو ملیح آباد سے، ممبر پارلیمنٹ کملیش پاسوان کے بیٹے وملیش پاسوان کوبانس گائوں سے، ممبر پارلیمنٹ سرویش سنگھ کے بیٹے سوشانت سنگھ کو بڑھا پور سے، بی جے پی لیڈر پریم لتا کٹیار کی بیٹی نیلما کٹیار کو کلیان پور سے، رام لال راہی کے بیٹے سریش راہی کو سیتا پور کے ہرگائوں سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔اسی طرح لال جی ٹنڈن کے بیٹے آشوتوش ٹنڈن کو لکھنو نارتھ سے ٹکٹ ملا ہے۔ آشوتوش ٹنڈن عرف گوپال ٹنڈن کے ساتھ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سیٹ سے و ہی ایم ایل اے تھے۔ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اوم پرکاش سنگھ کے بیٹے انوراگ سنگھ کو چونار سے، راجستھان کے گورنر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی بہو پریم لتا اور پوتے سندیپ سنگھ عرف سنجو بھیا کو بھی بی جے پی نے ٹکٹ دے دیا۔ کلیان سنگھ کے بیٹے راجویر سنگھ پہلے ہی ایٹا سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔
باہر سے آئے لیڈروں میں سوامی پرساد موریہ کو پڈرونا سے ٹکٹ ملا تو ان کے بیٹے اوتکرش موریہ کو اونچاہار سے ٹکٹ دیا گیا۔ بہو جن سماج پارٹی سے ہی آئے ہوئے ممبر پارلیمنٹ جگل کیشور کے بیٹے سوربھ سنگھ کو کستا سے ، بہو جن سماج پارٹی سے بی جے پی میں میں آئے برجیش پاٹھک کو لکھنو مڈل کی سیٹ سے، کانگریس سے آئیں ریتا بہو گنا جوشی کو لکھنو کینٹ سے ، بہو جن سماج پارٹی سے آئے بھاگوتی ساگر کو بیلہور سے اور پرتبھا شکل کو اکبر پور رنیا سے ٹکٹ ملا۔ اسی طرح کانگریس سے آئے نیرج بورا کو بی جے پی نے لکھنو نارتھ ، کانگریس سے آئے ابھیجیت سانگا کو بیٹھور سے، بہو جن سماج پارٹی سرکار میں وزیر رہے نند کمار گپتا نندی کو بی جے پی نے الٰہ آباد سائوتھ سے ، سماج وادی پارٹی سے آئے کلیدپ سینگور بنگرا مئو سے اور کانگریس سے آئے سنجے جائسوال رودوھولی سے بی جے پی کے امیدوار بنے۔
سابق سماج وادی پارٹی کے لیڈر رنجنا واجپئی کے بیٹے ہرش باجپئی کو الٰہ آباد نارتھ سے ٹکٹ ملا تو کانگریس لیڈر سنجے سنگھ کی پہلی بیوی گریما سنگھ کو امیٹھی سے ٹکٹ دیا گیا۔ اسی طرح لال بہادر شاستری کے ناتی سدھارتھ ناتھ سنگھ کو مغربی الٰہ آباد سے بی جے پی نے اپنا امیدوار بنایا۔ بہو جن سماج پارٹی کے مہاویر رانا کو بیہٹ سے اور دھرم سنگھ سینی کو نکوٹ سے بی جے پی کا ٹکٹ ملا۔ کانگریس سے آئے پردیپ چودھری کو گنگوہ سے اور بہو جن سماج پارٹی سے آئے اوم کمار کو نٹہور سے بی جے پی نے ٹکٹ دیا۔ بلدیو سیٹ پر لوک دل سے آئے پورن پرکاش کو بی جے پی کا ٹکٹ ملا۔ بہو جن سماج پارٹی سے آئے اروند گری کو گولا گوکرن ناتھ سے ، رومی ساہنی کو پلیا سے، بالا پرساد اوستھی کو دھورہرا سے اور روشن لال ورما کو تلہر سے بی جے پی کا ٹکٹ ملا ۔بی جے پی کا ٹکٹ پانے والے دوسری پارٹی سے آنے والے ایسے لیڈروں کی لسٹ کافی لمبی ہے۔
کنبہ پروری کے خلاف بی جے پی میں اندرونی اور باہری ہنگامہ جاری ہے۔ اس کا اثر انتخاب کے نتائج پر یقینی طور پر پڑے گا۔ نوئیڈا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے بالی نے بی جے پی کے اس اخلاقی گراوٹ کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے۔ نوئیڈا اسمبلی سیٹ کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ کو ٹکٹ دینے کے چکر میں دوسرے مرکزی وزیر مہیش شرما کی اندیکھی کر دی گئی، جبکہ شرما ہی وہاں کی ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ اسی طرح بستی کے ممبر پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کے بیٹے ابھیشیک پال کو بستی صدر سے ٹکٹ دینے میں چال چلی گئی۔ ایک طرف ممبران پارلیمنٹ کے بیٹوں، بیویوں ،رشتہ داروں کو ٹکٹ دیا گیا تو دوسری طرف ممبر پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کے بیٹے کو ٹکٹ دینے میں اخلاقی دلیل دی جانے لگی۔
بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سمیت تمام لیڈر جو ٹکٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کررہے تھے، کنبہ پروری کی اپنی پرانی تقریر بھول گئے۔ جس میں کنبہ پروری کو پوری طرح خارج کر کے عوام کی حمایت حاصل کی گئی تھی۔ مودی کے کچھ بیانوں کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے۔ مودی نے کہا تھا کہ ’ کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیاسی پارٹیوں سے کوئی امید مت رکھئے۔ جمہوریت ان کی فطرت میں ہے ہی نہیں۔وہ صرف کنبہ پروری کی سیاست کے بل پر زندہ ہیں اور اس مغالطے میں رہتے ہیں کہ لوگ ان کی مٹھی میں ہیں‘۔مودی نے سوشل میڈیا پر بھی لکھا تھا کہ’ جمہوریت کے چار دشمن کنبہ پروری، نسل پرستی، فرقہ واریت اور موقع پرستی ‘۔ نریندر مودی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’ملک کو کنبہ پروری اور جمہوریت میں سے کسی ایک کو چننا پڑے گا‘۔ بی جے پی کی ٹکٹ تقسیم میں سینئر لیڈروں کے ذریعہ مچائی گئی دھاندلے بازی سے خفا ایک بی جے پی لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اتنے ہانکنے والے ہیں کہ ایک طرف مودی کے چہرے کا سہارا لے کر انتخاب جیتنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کے چہرے پر اپنی کرتوتوں سے سیاہی مل رہے ہیں۔
اتراکھنڈ
کنبہ پروری کی چال سے اتراکھنڈ بھی نہیں بچا۔ اترا کھنڈ میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم میں کنبہ پروری کا کھیل جم کر کھیلا گیا۔ کانگریس سے بی جے پی میں آئے وجئے بہو گنا کے بیٹے سوربھ بہو گنا کو سیتار گنج سے ٹکٹ دیا گیا۔ بھوو ند کھنڈوری کی بیٹی ترشت بھوشن کھنڈوری کو یمکیشور سے ٹکٹ دیا گیا۔ کانگریس سے بی جے پی میں آئے یشپال آریہ کو بازپور اور ان کے بیٹے سنجیو آریہ کو نینی تال سے ٹکٹ دیا گیا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کھنڈوری کی بیٹی کو ٹکٹ دینے کے لئے بی جے پی کی سینئر لیڈر اور سابق وزیر وجیہ بڑتھویال کو نظر انداز کردیا گیا۔ بی جے پی نے سابق کانگریسی لیڈر سبودھ انیال کو نریندر نگر سیٹ سے اپنا امیدوار اعلان کردیا۔ اب یمکیشور سے وجیا بڑتھویال اور نریندر نگر سیٹ سے اوم گوپال دونوں لیڈر آزاد امیدوار بن کر میدان میں اترے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے کانگریس کے ایم ایل اے رہیں شَیلا راوت کو کیدار ناتھ سیٹ سے امیدوار بنا یا ہے۔
بی جے پی کی اس دو رخی پالیسی کی وجہ سے بی جے پی کی سینئر لیڈر آشا دیوی کو آزاد امیدوار کی شکل میں میدان میں اترنا پڑا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر رہے ڈاکٹر ہرک سنگھ راوت کو بی جے پی نے کوٹ دوار سے اپنا امیدوار بنایا ہے، حالانکہ یہ سیٹ ہرک سنگھ راوت کے لئے مشکلوں والی سیٹ ثابت ہو رہی ہے۔
بی جے پی کے اس غیر اخلاقی طور طریقوں پر حملہ کرتے ہوئے اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کہا کہ بی جے پی کی لسٹ دل بدلوئوں اور کنبہ پروروں سے بھری ہوئی ہے۔ راوت نے اس پر حیرت ظاہر کی کہ کنبہ پروری کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی نصیحتوں کا بھی بی جے پی کے لیڈروں نے کوئی دھیان نہیں رکھا۔ وزیر اعظم کنبہ پروری سے دور رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں اور ان کی پارٹی کی کنبہ پروری میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ راوت نے کہا کہ جن لیڈروں کے خلاف ڈیزاسسٹر گھوٹالہ ، بیج گھوٹالہ، زمین گھوٹالہ، پالی ہائوس گھوٹالہ، دابکا اور کوسی ندی میں کانکنی گھوٹالہ اور نوٹ بندی کے بعد کوپریٹیو بینکوں میں غیر قانونی طور سے نوٹ جمع کرنے جیسے سنگین الزام لگے۔ وہ سبھی لیڈر اب بی جے پی کا حصہ بن گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *