اسرائیلی مساجد میں لائوڈاسپیکر سے اذان پر پابندی

damiناانصافی پر مبنی فیصلہ
اسرائیل مساجد میں لائوڈ اسپکر سے اذان پر پابندی کا بل پاس کرنے جارہا ہے۔اس بل پر عالم عرب کے اخبارات میں شدید رد عمل ہورہا ہے ۔عالم عرب کا ایک مشہور اخبار’’ الجزیرہ‘‘ لکھتا ہے کہ اسرائیل کے شہر القدس میں لائوڈ اسپیکر پر اذان کی پابندی کا مقصد القدس اور فلسطین کی 500مساجد کو نشانہ بنانا ہے۔اس قانون کا مسودہ 1948 میں ہی تیار ہوا تھا جس پر اسرائیل کی قانون ساز اسمبلی نے رضامندی دے دی تھی۔ اب تک مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے اسے بل کی شکل میں کنیسٹ میں پیش نہیں کیا جاسکا تھا ۔لہٰذا اس مسودے کو قانونی حیثیت نہیں مل سکی۔ اب اسرائیل کی حکومت اسے قانونی شکل دینے کے لئے کوشاں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ القدس میں کئی ایسے محلے ہیں جہاں مسلم اکثریت ہے ۔جیسے حی الفسون میں تقریباً 90فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ۔اسی طرح حی عکا جہاں 2500 گھر مسلمانوں کے ہیں۔یہ گھنی آبادی والے علاقے ہیں جہاں لائوڈ اسپیکر پر اذان سننے کے بعد ہی لوگ رمضان میں افطار کرتے ہیں یا نماز کے لئے جاتے ہیں۔اس پابندی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔
دنیا کو آواز اٹھانی چاہئے
مشہور عربی اخبار ’’ الاھرام ‘‘ نے تنظیم تعاون اسلامی کے حوالے سے لکھاہے کہ مقبوضہ قدس شہر میں اذان پر پابندی منحوس قدم ہے جسے اسرائیلی حکومت نے اٹھایا ہے۔اس کے اس عمل سے فلسطینی عوام میں نفرت کو بڑھاوا ملے گا۔ اسرائیل نے اپنے اس عمل سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔اس پر تمام ممالک کو رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے۔فلسطین کے عوام جو پہلے سے ہی اسرائیل کے مذہبی تعصب کاسامنا کررہے تھے،اب انہیں مزید ایک نئے مشکل گھری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اسرائیل کو ایسے کسی بھی اقدام سے احتیاط کرنا چاہئے۔
تعصب کا کھلا مظاہرہ
ایک عربی نیوز سائٹ ’’ وکالۃ معا الاخباریہ ‘‘ لکھتا ہے کہ اسرائیل نے مساجد میں اذان پر پابندی کے تعلق سے جو مسودہ تیار کیا ہے اور اسے جلد ہی کنیسٹ میں پیش کرکے منظور کرانے کا منصوبہ بنایا ہے ،یہ انسانیت کے معارض ہے ۔اس بل کو تیار کرنے میں دو پارٹیاں ’’ البیت الیھودی ‘‘ اور لیکوڈ‘‘ پارٹی پیش پیش رہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بل میں اذان پر تو پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن صفارۃ السبت (ہفتہ کے روز مخصوص قسم کا بگل جو یہودی بجاتے ہیں) کو اس قانون سے الگ رکھا گیا ہے جو کہ تعصب کا کھلا مظاہر ہ ہے۔کسی بھی ملک میں شہریوں کے عقیدے میں تفریق کرنا اور کسی ایک طبقے کی خوشنودی کے لئے دوسرے کو دبانا تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
شہریوں میں تفریق کا باعث
ایک عربی اخبار ’’ الایام ‘‘ لکھتا ہے کہ اسرائیل کے لائوڈ اسپکر سے اذان پر پابندی کا قانون ملک کے شہریوں میں تفریق کا باعث ہے۔اخبار مشہور سیاست داں یوسف محمود کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اب تک شہریوں میں اس طرح کی تفریق نہیں تھی لیکن اس بل کے پاس ہوجانے کے بعد شدید تفریق کا ماحول پیدا ہوگا۔ یہ قانون آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام عرب دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بل کے خلاف یکجا ہوکر آواز بلند کریں ۔یہ فیصلہ انسانیت ،معاشرت اور شہری حقوق کے سراسر خلاف ہے۔
عالمی معاہدے کی خلاف ورزی
ایک اخبار ’’ الیوم السارع ‘‘ لکھتا ہے کہ اسرائیل کے اس قدم نے پوری دنیا خاص طور پر فلسطینی مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔یہ قدم اس عالمی معاہدے کے خلاف ہے جس میں کسی بھی فرد کو اپنے مذہب پر کھلے عام عمل کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ایسا کرکے اسرائیل نے عالمی معاہدے کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔اخبار نے تنظیم تعاون اسلامی کے جنرل سکریٹری یوسف بن احمد عثیمن کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ قانون خطے میں تشدد کو بڑھاوا اور مذہبی تنازع کو جنم دینے میں معاون ہوسکتا ہے۔انہوں نے اسرائیل کو عالمی معاہدے پر پابندرہنے کی صلاح دی ہے۔
آسمانی کتابوں کے خلاف فیصلہ
عربی نیوز سائٹ ’’ عربی اسپوت نک ‘‘ ’’ اسرائیل کا لائوڈ اسپیکر سے اذان پر پابندی فلسطینیوں کو بھڑکانے والا ہے ‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ کچھ یہودیوں کی خواہشات کو پوری کرنے کے لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔اس فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اب ملک کی سیاست اپنی حدوں سے تجاوز کرکے مذہبی حدود میں داخل ہورہی ہے۔اس سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں اب تک مذہب کی جو آزادی رہی ہے، اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ یہ آسمانی کتابوں کے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ یہ فیصلہ یقینا اس شہر کی عظمت کو تارتار کرنے کے مترادف ہے ۔یہاںصدیوں سے لوگ اپنے مذاہب پر عمل کرتے رہے ہیں لیکن اب اس پر روک لگانے کی سازش کی جارہی ہے۔
قومی ہکجہتی کا دامن چاک
ایک عربی اخبار ’’ الوفا ‘‘ لکھتا ہے کہ القدس شہر کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں کے لوگ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔لیکن کچھ شدت پسندوں کو یہ ہم آہنگی پسند نہیں تھی اور یہی لوگ اس طرح کے قانون کا مطالبہ کررہے تھے۔بالآخر ان کی منشا پوری ہونے جارہی ہے اور یہاں کی جو قومی یکجہتی تھی اس کا دامن چاک ہونے جارہا ہے۔ ہمارے یہاں اب تک جو درگزر کامزاج تھا اور عبادتوں میں آزادی تھی اس پر روک لگنے والی ہے۔اخبار نے القدس کے سرکاری ترجمان یوسف محمود کے حوالے سے لکھا ہے کہ نیشنل فیڈریشن ، عالم عرب اور پوری دنیا کو اسرائیل کے اس خطرناک فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔( وسیم احمد )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *