اردو کی ارتقاء کے 150 برس اردو ادب میں علمائے دیوبند کا ناقابل تسخیر کارنامہ

damiیوبند تہذیب و ثقافت کی علامت اور ماضی کی روایتوں کا علمبردار ہے۔یہاں کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم نے اس کی شہرت کو آفاقیت عطا کردی ہے۔اس کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال کہا کرتے تھے کہ ’’”دیوبند ایک ضرورت تھی۔اس سے مقصود تھا ایک روایت کا تسلسل جس سے ہماری تعلیم کا رشتہ ماضی سے قائم ہے‘‘(اقبال کے حضور ص293)۔یہاں کے بارے میں امام حرم شیخ ڈاکٹر صالح محمد بن ابراہیم آل طالب کا قول مشہور ہے کہ ’’ دارالعلوم دیوبند نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے اور دارالعلوم دیوبند کے علماء نے ایسے عظیم الشان علمی کارنامے انجام دیئے ہیںجن کی گونج دنیا کے کونے کونے تک پہنچی ہے‘‘۔اس کے علاوہ سامراجی طاقتوں سے ملک کو آزاد کرانے میں علماء دیوبند کا عظیم کارنامہ ہے۔اکابرین دیوبند نے جان و مال کی قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں تختہ دار پرچڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرات وحوصلہ اورکمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا، قیدو بندکی صعوبتیں جھلیں اور حصولِ آزادی کی خاطرمیدان جنگ میں نکل پڑے، آخر غیرملکی (انگریز) ملک سے نکل جانے پرمجبورہوئے۔یہ دیوبند کی تاریخ کا ایک پہلو ہے،اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی اس طرف منصفانہ توجہ دی گئی ہے ، وہ ہے علمائے دیوبند کی لسانی خدمات اور اردو ادب میں ان کا ناقابل تسخیر کارنامہ۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ علمائے دیوبند نے جس فن پر بھی اپنی نوک قلم کو جنبش دی تو شہنشاہِ ادب، صاحب تخلیق اور بے مثال انشاء پرداز کی شکل میں نمودار ہوئے۔ جب ان کی نگاہِ عارفانہ شعر وسخن پر پڑی تو کہنہ مشق شاعرو سخن پرور کہلائے، مگر ستم طریفی یہ ہے کہ تاریخ نے انصاف سے کام نہیں لیا اور ان بزرگوں کی بے لوث خدمات کو نظر انداز کردیا۔البتہ دیوبند کے شیدائیوں میں کچھ ایسے باحوصلہ افراد بھی ہیں جنہوں نے مضبوط قوت ارادی اور عزم صمیم کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے علمائے دیوبند کے گمنام پہلوئوں کو اجاگر کرنے کی طرف قدم بڑھاکر ان کوتاہیوں کی تلافی کے طور پرایک قابل ستائش کوشش کی ہیں۔ایسے شیدائیوں میں تنظیم علمائے حق کے صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی کا نام شامل کیا جاسکتا ہے جنہوں نے حال ہی میں اخبار ’ فکر انقلاب‘ کا ایک خصوصی شمارہ بعنوان’’ اردو کے فروغ میں دیوبند کا ڈیڑھ سو سالہ کردار ‘‘ شائع کیا ہے۔ 888صفحات پر مشتمل یہ شمارہ دیوبند کی اردو خدمات پر انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ جوں جوں مطالعہ کرتے جائیے ، علماء دیوبند کے اردو ادب میں عظیم کارناموں کے گمنام گوشوں کا انکشاف ہوتا چلا جائے گا۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری بلا اختیار یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ علمائے دیوبند نے صرف شاعری کے میدان میں ہی نہیں بلکہ ، نثر نگاری کی دنیا میں بھی اپنے ادبی و تخلیقی جواہر پاروں سے اردو ادب کے نوک و پلک کوسنوارا ہے۔
اس علمی ادارے نے صاحب اسلوب نثر نگاروں کو جنم دیاہے۔فضلائے دیوبند کی نثر میں علمیت، منطقیت اور معروضیت کی فراوانی ہے۔ نہ وہ بے جا تمہید باندھتے ہیں نہ خارج از موضوع د ور دراز کی باتیں کرکے قاری کی تضییع اوقات اور ذہنی تشویش کا سبب بنتے ہیں۔ ان کی نثر میں ارتکاز و استدلال اور اخذ و استنباط کا مادہ ہوتا ہے ۔ علوم و فنون کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جو ان فضلا کی دسترس سے باہر رہا ہو ۔
علمائے دیوبندنے جس نثر کی تشکیل کی ہیں ، اس سے نہ صرف اردو زبان کا دامن وسیع ہوا ہے بلکہ دیوبندکی نثر کی وجہ سے بہت سے ایسے الفاظ بھی اردو زبان کا حصہ بن گئے ہیں جنہیں اگر علمائے دیوبند اپنی تحریروں میں شامل نہ کرتے تو شاید ان الفاظ سے اردو زبان کی شناسائی بھی ممکن نہ ہوپاتی۔ خاص بات یہ ہے کہ ان علماء نے عربی اور فارسی الفاظ کے موزوروں اور بر محل استعمال کرکے اردو نثر کا کینوس نہ صرف وسیع بنا دیا ہے بلکہ اردو کو بہت سے مترافات بھی عطا کئے ہیں۔نثری ارتقا کے باب میں دیوبند کی اس خدمت کو کسی بھی طور رپر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مولانا عرفی کو دیوبند سے عقیدت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس مبارک شمارہ کا بار گراں اٹھایا اور اس کے اجرا کے موقع پر اسلامی کلچر سینٹر میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کرکے ملک و بیرون ملک کی نامور شخصیتوں کو شرکت کے لئے رضامند کیا۔ تقریب میں متعدد مقررین نے دیوبند کے اردو ادب کی خدمات پر روشنی ڈالی ۔ ان مقررین میں تنظیم کے صدر مولانا عرفی نے علمائے دیوبند کے چند نامور مصنفیں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ مولانا اشرف علی تھانوی کی نثر کی جاذبیت و کشش، اس کے اختصار و جامعیت اوران کے استدلالی طریقہ کار اور اس کی سادگی کے اس زمانے میں بھی لوگ قائل و معترف تھے اور آج بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ عصر حاضر کے نامور محقق و ناقد شمس الرحمن فاروقی بھی تھانوی نثری اسلوب کے زبردست مداح رہے ہیں۔ انہوں نے مواعظ تھانوی اور ان کی کثیر الاشاعت کتاب بہشتی زیور کا نہ صرف زمانہ طالب علمی میں مطالعہ کیاتھا بلکہ اپنی نثر ی تحریروں میں اس سے خوشہ چینی بھی کی ہے۔اس پروگرام میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط بھی شریک تھے۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دیوبند کے علماء نے ارد و میں کتابیں تصنیف کرکے اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی کی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان علمائے کرام نے اردو میں سینکڑوں کتابیں لکھ کر اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ آج پوری دنیا میں ان کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری آسکر فرنانڈیز ممبرپارلیمنٹ نے کہا کہ دارالعلوم دیوبندنے صرف ملک کی آزادی میں ہی نہیں بلکہ اس کی تعمیروتشکیل اور اردو کی نشرواشاعت میں بھی اہم رول ادا کیا ہے جسے تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے اردو کے حوالے سے کہاکہ اردو وہ زبان ہے نامساعد حالات میں بھی باقی رہنا جانتی ہے اور دارلعلوم دیوبند نے اردو کو پوری دنیا تک پہنچایا ہے۔ یہ دیوبند کا ہی فیض ہے کہ کئی ملک میں مدارس کا ذریعہ تعلیم اردوہی ہے۔نمائندہ سفیر ایران احمد رحیمی نے دارالعلوم دیوبند کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس نے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اہم رول ادا کیا اور ساتھ ہی اس نے سائنس کو قرآنی نظریہ عطا کیا ہے۔
اقرا انٹرنیشنل اسکول کی بانی ڈائرکٹر محترمہ نور عائشہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ ہم نے اسکول اور مدرسہ کے درمیان تعلیم میں جو دوری ہے اسے پاٹنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ کچھ لوگ مدرسہ میں عصری تعلیم کا رونا روتے ہیں توکچھ لوگ اسکول میں دینی تعلیم نہ ہونے کا اور ہمارا اسکول دونوں تعلیم کا سنگم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے تلاش کیا جائے اور آگے بڑھایا جائے۔مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے دارالعلوم دیوبند کی ادبی وصحافتی خدمات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس نے ادبی اور صحافت کے فروغ میں نمایاں کردار اداکیا ہے ۔ تقریب میں فکر انقلاب کے مدیر اعلیٰ اسعد مختار نے دارالعلوم کی ادبی خدمات کا اعتراف اور تنظیم کے لئے نیک خواہشات کے اظہار پرمشتمل نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری کا پیغام پڑھ کر سنایا۔
بہر کیف اس ادارے کے سپوتوں نے جہاں ایمانی و روحانی کیفیت میں جلا بخشنے کے لئے عربیت سے اپنا تعلق استوار کیا، وہیں عوام الناس تک پیغام رسانی کے لئے اردو زبان وادب، صحافت، شعر وسخن کی نیرنگیوں سے ایسی رعنائی بخشی جس کی سحر انگیزی نے لوگوں کے ذہن ودماغ پر ایسا مقناطیسی اثر چھوڑا کہ ان کے دل ان کی طرف کھینچ آئے۔ البتہ یہاں کا ادب شعرانہ تخیل، فلسفیانہ موشگافیاں، مہمل داستانِ عشق، افسانہ نگاری، ناول نویسی، لطیفہ گوئی سے پاک وصاف رہا۔ علمائے دیوبند کا تصنیفی سرمایہ جو تعداد میں ہزاروں پر مشتمل ہے ،ان کی تحریری صلاحیت کا مظہر ہے،۔اردو ادب میں علمائے دارالعلوم کے کارناموں سے ایک تاریخ مرتب ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *