اترپردیش میں پارٹیوں کے انتخابی منشور اپنی بے وقعتی کے ذمہ دار ہیں مسلمان

damiیوں تو پوری ریاست اتر پردیش میں مسلمان 19.3 فیصد ہیں اور ریاست کے ہر ایک اسمبلی حلقہ میں کم و بیش تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں مگر تقریباً 130اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں یہ قابل ذکر تعداد میں ہونے کے سبب ووٹ کے معاملہ میں فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ ان کی اسی اسٹراٹیجک پوزیشن کو محسوس کرتے ہوئے ریاست کی سیکولر کہلانے والی پارٹیاں گزشتہ پوری مدت میں انہیں نظر انداز کرنے کے باوجود انتخابات کے وقت انہیں اچانک اہمیت دینے لگتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان پارٹیوں میں سماج وادی پارٹی، کانگریس، بہو جن سماج پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کے علاوہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں جیسے راشٹریہ علماء کونسل، پیس پارٹی و دیگر ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی یہ قابل ذکر تعداد بی جے پی کے لئے بھی اہم ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انتخابات کے وقت سیکولر کہلانے والی پارٹیاں ووٹ لینے کے لئے مسلمانوں کو اہمیت دیتی ہیں تو بی جے پی انہیں صرف اس لئے اہم گردانتی ہے کہ ان کا ووٹ سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کے امیدواروں میں تقسیم ہوکر بے وقعت ہوجاتا ہے اور پھر اس سے بی جے پی کاامیدوار کامیاب ہوجاتا ہے۔
کیسی بے بسی ہے مسلم ووٹروں کی؟مسلم تنظیموں اور لیڈروں کی کال پر انہوں نے 1991 کے عام انتخابات کے وقت سے ٹیکٹیکل ووٹنگ کی اور سیکولر کہلانے والی پارٹیوں میں سے سبھی کو ہر ایک حلقہ میں ووٹ دیااور اس طرح اپنے ووٹ کو زیادہ مسلم آبادی والے بیشتر حلقوں میں پورے طورپر تقسیم کیا اور پھر اس کے نتیجے میں بی جے پی بڑے آرام سے کامیاب ہو کر نکل گئی۔ اس ستم ظریفی پر جتنا رو یا جائے ، کم ہے۔ جس سیاسی پارٹی کو ہرانے کے لئے ٹیکٹیکل ووٹنگ کا سہارا لیا، وہی ان کی جیت کا ذریعہ بن گیا۔
اس تعلق سے سچر کمیٹی میں او ایس ڈی کے فرائض انجام دیئے ڈاکٹر سید ظفر محمود بڑے چونکانے والے حقائق بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مغربی اترپردیش میں شاملی کے کیرانہ میں مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی 63فیصد ہے، پھر بھی 1957 سے اب تک منعقد 16انتخابات میں سے صرف 5 میں ہی وہاں سے مسلم کمیونٹی اپنا نمائندہ بھیج سکی ہے۔ حتی کہ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بھی وہاں سے سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کا کوئی مسلم امیدوار منتخب نہیں ہوا کیونکہ ان کے ووٹ سیکولر پارٹیوں میںمنقسم ہوگئے۔یہی حال مراد آباد کے ٹھاکر دوارہ میں ہوا جبکہ وہاں مسلمان 52 فیصد ہیں۔ یہاں سے بھی گزشتہ 17 انتخابات میں سے صرف 6 بار ہی سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کا مسلم چہرہ کامیاب ہوسکا ۔ 2012 میں بھی کم و بیش یہی حال رہا۔ صاحب آباد اسمبلی حلقہ میںمسلم آبادی 50فیصد ہے۔ یہاں بھی صورت حال وہی ہے۔ بہرائچ کے قیصر گنج میں 45 فیصد مسلمان ہیں ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ 2012 کے انتخابات میں ان میںسے آدھے سے زیادہ وو ٹرس نے ووٹ ہی نہیں دیا۔ سہارنپور کا حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ میرٹھ کے چار انتخابی حلقوں میرٹھ خاص، میرٹھ کینٹ، میرٹھ جنوبی اور سردھنہ میں مسلمان ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔ وہاں بھی منظر نامے کی یہی تصویر ہے ۔ بجنور شہر، نور پور، بریلی شہر، بریلی کینٹ، بھوجی پورہ، آنولہ، شاہجہاں پور اور فیروز آباد میں سے بھی ہر ایک حلقہ ایک چوتھائی مسلم آبادی رکھنے کے باجوود بے وقعت ہے۔ لکھنو ضلع میں بھی مسلمان ایک چوتھائی سے زائد ہونے پر بھی بے بس و مجبور ہیں۔ مشرقی یوپی میں گینساری اور اترولہ میں مسلم آبادی 45فیصد ہے، ردولی حلقہ میں مسلمان ایک تہائی ہیں ۔ یہاں بھی مسلم ووٹوں میں تقسیم کی وجہ سے ان کا وزن ختم ہوجاتا ہے اور انتخابی نتیجہ بی جے پی کے حق میں چلا جاتا ہے۔ المختصر یہ صورت حال مجموعی طور پر قابل ذکر مسلم آبادی والے تمام اسمبلی حلقوں میں پائی جاتی ہے۔ البتہ چند حلقوں میں مقامی طور پر توجہ دینے پر ایسے بھی تجربات ہیں جو کہ اس حقیقت کو ثابت کرتے ہیں کہ اگر حکمت عملی سے کام لیا جائے تو صورت حال سے نمٹا جاسکتا ہے۔
ان تمام تجزیوں سے یہ بات سمجھ میںآتی ہے کہ سیکولر کہلانے والی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی اس بے بسی اور مجبوری سے واقف ہوگئی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے انتخابی منشوروں میں انہیں اہمیت نہیں دیتی ہیں اور اگر کبھی دے بھی دیا تو اس پر عمل درآمد کے تعلق سے اقتدار میں آنے پر بھی کبھی نہیں سوچتی ہیں اور نہ ہی ان کے جیتے ہوئے امیدوار اپنے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں عملی طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات کے منشوروں کو بی ایس پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی پارٹیوں نے ریلیز کردیا ہے کیونکہ بی ایس پی انتخابی میٹنگوں میں ہی اپنے کئے گئے وعدوں پر اکتفا کرلیتی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی اس بار واحد ایسی لیڈر ہیں جو کہ اپنی انتخابی میٹنگوں میں کھل کر ایشوز پر بول رہی ہیں۔ پسماندگی دور کرنے کے لئے مسلمانوں کے امپاورمنٹ کا معاملہ ہو یا مظفر نگر فسادات کا، یہ جم کر سابقہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں اور اقتدار میں آنے کی صورت میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرارہی ہیں۔ انہوں نے 100مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے اور دلت-مسلم اتحاد کا نعرہ دے رہی ہیں۔
دوسری طرف سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد ہے۔ اول الذکر نے تو اتحاد سے قبل ہی اپنا منشور ر جاری کر رکھا ہے جس میں عجیب بات یہ ہے کہ 2012 کے منشور میں سچر رپورٹ پر عمل درآمد کے تعلق سے کئے گئے وعدوں کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔ ایک دم خاموشی اختیار کرلی گئی ہے اور سچر رپورٹ کا نام لینے سے گریز کیا گیا ہے۔ گرفتار مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے جو وعدے کئے گئے تھے، اس پر بھی خاموشی ہے۔ مسلم ریزرویشن کا گزشتہ بار ان کی آبادی کے تناسب سے وعدہ کیا گیا تھا، اس پر اس بار بھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ البتہ چند نکات میں سرکاری اسکیموں کا ذکر ضرور ہے۔ ویسے ذہن نشیں رہے کہ گزشتہ مدت میں اکھلیش سرکار نے 30 محکمات میں 85 اسکیموں پر عمل کرنے کی بات کی ا ور نتیجہ ناقابل ذکر رہا۔
اتحاد کی دوسری پارٹی کانگریس نے گزشتہ 8اکتوبر کو اپنا 12صفحاتی منشور جاری کیا جوکہ مجموعی طورپر ایس پی -کانگریس اتحاد کا منشور زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس نے اپنی اتحادی پارٹی سماج وادی پارٹی کا اپنے منشور میں پورا خیال رکھتے ہوئے ان ایشوز کو قطعی چھوا تک نہیں ہے جن میں سماج وادی پارٹی کی پوزیشن کمزور اور نازک ہے۔سچر کمیٹی کی سفارشات کے ذکر سے بھی اسے صاف طور پر پرہیز ہے۔پورے منشور میں لفظ ’مسلم ‘ سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔ایک ایسی پارٹی نے جس کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پہلے کے تمام رائج طریقوں سے ہٹ کر مسلمانوں کی مجموعی صورت حال کا جائزہ اقلیتی بینر کے تحت نہیں بلکہ خصوصی طور پر سچر کمیٹی کے ذریعے کرایا ہے اور لفظ مسلم کا نام لینے میں کوئی پرہیز نہیں کیا ہے۔ صفحہ 7-6 پر ایس سی ؍ ایس ٹی ؍ او بی سی اور اقلیتوں کے تحت 8نکات میں 7پر دلتوں پر خصوصی نظر کرم ہے۔ البتہ ڈائیورسٹی کمیشن کی تقرری اور اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان مرد و خواتین کی ہمت افزائی کے لئے شروع کی جانے والی اسکیم میں 20ہزار روپے کا قرض کم سود کی شرح پر دینے کی بات ضرور شامل ہے۔اسی طرح روایتی صنعتوں کو آگے بڑھانے کا معاملہ ہے اور قالین کے گڑھ بھدوہی کو خوبصورت شہر میں بدلنے کا خواب ہے۔
آر ایل ڈی نے بھی 6فروری کو ریلیز کئے گئے اپنے 28صفحات کے منشور میں مسلمانوں کا نام نہیں لیا اور کہا کہ یہ اوبی سی کا کلاسیفکیشن کرائے گی اور سب سے زیادہ پسماندہ کمیونٹی کو ریزرویشن دلائے گی۔ البتہ فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف اس میں ایک بل لانے کاوعدہ ہے ۔ ایک خاص بات یہ تو ہے کہ آر ایل ڈی سپریمو اجیت سنگھ نے منشور ریلیز کرتے وقت کہا ہے کہ ان کی پارٹی کسی بھی قیمت پر بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملائے گی۔اب رہی بی جے پی کی بات تو اس نے نہ کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے اور نہ ہی اپنے منشور میں مسلم ایشوز سے متعلق کوئی بات کی ہے۔ یہ تو محض مسلم ووٹ کی تقسیم سے ہی فائدہ مختلف حلقوں میں اٹھانا چاہتی ہے۔
المختصر سیاسی پارٹیوں کے منشوروں اور ایجنڈوں میں مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے اور انہیں پہلے کی طرح بیوقوف بنایا گیا ہے۔ اس دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 8فروری کو ایک خصوصی پریس کانفرنس میں دہلی میں مظفر نگر فسادات میں گینگ ریپ کی شکار 7خواتین پر 24صفحاتی خصوصی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کو مظفر نگر کے تعلق سے جڑنا چاہئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *