اترپردیش میںبے اصولی عروج پر

damiاترپردیش میںگٹھ بندھن کا چکر گھوم گیا۔ اکھلیش یادو اور راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کی اور لکھنؤ میں روڈ شو کیا۔ لیکن اس واقعہ کے فوراً بعد اکھلیش کے والد اور سماجوادی پارٹی کے بانی صدر شری ملائم سنگھ یادو نے ایک نیوز ایجنسی سے کہا کہ وہ اس سمجھوتہ سے خوش نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ وہ اس گٹھ بندھن کے حق میںپرچار بھی نہیں کریںگے۔ شری ملائم سنگھ یادو نے یہ بھی کہا کہ سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے بہت محنت کی ہے۔ ان 105 سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کے کارکنوںکا حق ہے۔ اتنا ہی نہیں انھوںنے یہ بھی کہا کہ بہت سارے لوگوں کو بے وجہ پارٹی سے نکال دیا گیا ، اب وہ کیا کریںگے؟

ملائم سنگھ کے اس اعلان نے اترپردیش میں ایک نئی صورت حال پیدا کردی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اترپردیش کی سیاست میں سماجوادی پارٹی کے اندر کچھ واقعات رونما ہوئے، جن میں ایک واقعہ یہ تھا کہ اکھلیش یادو نے ایک عمر کا دھیان رکھتے ہوئے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کو سماجوادی پارٹی کی طرف متوجہ کیا۔ یہ کشش نظریات کی نہ ہوکراقتدار کی کشش تھی اور ان میں سے بہت سارے نوجوان وہ تھے،جنھیں ضلعوں میںسرکار کے ذریعہ کیے جانے والے کاموں کا ٹھیکہ ملا۔ اکھلیش یادو نے شاید یہ پالیسی اس لیے بنائی ہوگی کہ اگر ریاست میںمضبوط نوجوان کارکن تیار ہوتے ہیں اور ان کی اقتصادی بنیاد بھی مضبوط ہوتی ہے تو یہ سماجوادی پارٹی کے مستقبل کے لیے اچھا ہوگا۔ دوسری طرف ملائم سنگھ یادو پورے پانچ سال سماجوادی پارٹی کے ان کارکنوںکے رابطے میںرہے، جنھوںنے ان کے ساتھ پچھلے 15-20-25 سالوں سے جدوجہد کی۔ ملائم سنگھ کا یہ ماننا رہا ہے کہ جو لگاتار جدوجہد میں شامل رہا ہے یا پارٹی کے ساتھ رہا ہے، اسی کو اسمبلی اور پارلیمنٹ میںبھیجنا چاہیے۔ لیکن وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اکھلیش یادو نے ایک طرف ممکنہ نوجوان امیدوار تلاش کیے، جنھیں انھوںنے اقتصادی طور پر مضبوط بنایا، وہیں انھوںنے قانون ساز کونسل میں بھی اپنے معتمدین کو بھیجا۔ دراصل اکھلیش یادو نے ادھورا کام کیا۔ اگر وہ پورا کام کرتے، تو ان نوجوانوںمیںنظریاتی کیمپوں کے ذریعہ سماجواد کے تئیں آستھا جگاتے۔ لیکن اس پوری کھیپ کو نہ تو سماجوادی نظریات کے بارے میںمعلوم ہے اور نہ ہی انھوںنے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی کوئی کتاب پڑھی ہے۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے اپنے نظریات سے اور اپنی زندگی سے اس ملک کی سیاست پر بہت زبردست اثر ڈالا تھا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب پارٹی میں اختلاف پیدا ہوا، ایک طرف شری ملائم سنگھ یادو اور ان کے بھائی شیو پال یادو ہوئے، دوسری طرف پروفیسر رام گوپال یادو اور ان کے بھتیجہ اکھلیش یادو ہوئے اور اراکین اسمبلی نے اپنی حمایت اکھلیش یادو کو دی، تو اکھلیش یادو کے سامنے ایک پریشانی پیدا ہوگئی۔ اکھلیش یادو کی ایک حکمت عملی رہی ہوگی کہ وہ اسمبلی میں 400 نئے اراکین اسمبلی لائیں گے۔ لیکن جب الیکشن کمیشن کو دھیان میں رکھ کر اراکین اسمبلی نے اپنی حمایت دی تو اکھلیش یادو کے سامنے مجبوری ہوگئی کہ وہ انھیںدوبارہ ٹکٹ دیں۔ کچھ لوگوں کو اکھلیش یادو نے ٹکٹ نہیںدیا، جن میں سے امبیکا چودھری اور نارد رائے بہوجن سماج پارٹی میںمل گئے۔ اوم پرکاش سنگھ نے صاف کردیا کہ وہ سماجوادی پارٹی میں ہی رہیں گے، اس لیے انھیں آخری وقت میںٹکٹ دے دیا گیا۔
خاص طور سے اختلاف نئے سرے سے یہاں پیدا ہوا۔ وہ نوجوان جو پچھلے پانچ سال سے اس امید میں تھے کہ اکھلیش یادو چونکہ نوجوان ہیں او رپارٹی کو نوجوان چہروں میں تبدیل کرانا چاہتے ہیں، وہ سارے حیران رہ گئے اور تب انھوں نے طے کیاکہ وہ انتخاب لڑیںگے۔ موٹے طور پر 80 کے آس پاس ایسے امیدوار ہیں، جنھوںنے پچھلے پانچ سال سماجوادی پارٹی کی اکھلیش کے انداز میں سیاست کی، مختلف ذیلی تنظیموں کے عہدیدار رہے یا اس کے فعال کارکن رہے، وہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں باغی ہوکر انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ ایک طرف سماجوادی پارٹی کے باضابطہ نمائندے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جو لڑنا چاہتے تھے، لیکن ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اگر ان کا سماجواد یا ڈاکٹر لوہیا کے خیالات سے واسطہ ہوتا، یا انھوںنے ان کے خیالات کو جانا ہوتا، تو شاید یہ اگلے انتخاب کا انتظار کرتے، باغی امیدوار بن کر انتخاب نہ لڑتے۔ دوسری طرف بہت سارے وہ لوگ، جن کی آستھا شیو پال یادو یا ملائم سنگھ یادو میںتھی،ان کا بھی ایک بڑ اطبقہ آزاد امیدواروں کے طور پر انتخاب لڑرہا ہے۔ یہ صورت حال بہوجن سماج پارٹی میںنہیںہے۔ اس سے تھوڑی الگ صورت حال بھارتیہ جنتا پارٹی میں ضرور ہے۔ کانگریس کی بہت ساری سیٹوں پر امیدوار نہیںہیں۔ وہاں پر ان کے امیدوار کے طور پر سماجوادی پارٹی کے ہی اہم کارکن انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پرینکا گاندھی انتخابات میں پرچار کرتی ہیں یا نہیںکرتیں۔ لکھنؤ کی پریس کانفرنس میںراہل گاندھی نے اس کا ٹالنے والا جواب دیا کہ وہ طے کریں گی کہ پرچار کریںگی یا نہیں۔ حالانکہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس لیڈروں کے بیچ یہ بات بہت پختہ ڈھنگ سے پھیلی ہوئی ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے صدر کے عہدے سے ہٹنے سے پہلے اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی کے فون بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ ایک روزنامہ کے مطابق پرینکا نے 11 بار اکھلیش کو فون کیا اور انھوںنے فون نہیںاٹھایا۔ لیکن ملائم سنگھ یادو کے صدر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد پرینکا گاندھی نے ممکنہ طور پر ڈمپل یادو کے ذریعہ اکھلیش سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے گٹھ بندھن کا اعلان ہوگیا۔
اس گٹھ بندھن کے سب سے بڑے مخالف ملائم سنگھ یادو ہیں۔ دو سال پہلے جب بہار میںنتیش کمار اور لالو یادو انتخاب لڑ رہے تھے ، ان کے گٹھ بندھن میںکانگریس شامل تھی۔ جس کا سہارا لے کر پروفیسر رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ یادو کے ذریعہ اس گٹھ بندھن کو توڑ دیا تھا۔ اس سے پہلے ملائم سنگھ یادو کے گھر پر ملک کے سارے بڑے اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ ہوئی تھی، جن میںاوم پرکاش چوٹالہ کے بیٹے ابھے چوٹالہ، اجے چوٹالہ کے بیٹے دشینت چوٹالہ، لالو یادو، نتیش کمار، کمل مرارکا اور ہندوستان کے سابق وزیر اعظم دیوگوڑا بھی شامل تھے۔ ان سب نے یہ طے کیا تھا کہ ہم اپنی اپنی پارٹی کا انضمام سماجوادی پارٹی میں کر دیںگے۔سماجوادی پارٹی کا جھنڈا نئی پارٹی کا جھنڈا ہوگا۔ نئی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو ہوںگے او روہ ہی پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین بھی ہوںگے۔ ایک طرح سے ساری پارٹیوں نے سماجوادی پارٹی میںشامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن وہ گٹھ بندھن صرف اس لیے ٹوٹ گیا کیونکہ بہار میں نتیش کمار اور لالو یادو نے کانگریس کو ساتھ لیا تھا۔ ملائم سنگھ یادو اور پروفیسر رام گوپال یادو نے عوام کو گٹھ بندھن نہ ہونے کا یہی سبب بتایا تھا۔ اب پروفیسر رام گوپال یادو ،اکھلیش یادو کے حکمت عملی ساز ہیں،خاص چانکیہ ہیں۔ دہلی میں کانگریس سے بات کرنے میںان کا رول رہاہے۔ اب وہ ہی کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن بناکر انتخاب لڑنے جارہے ہیں۔ ملک میں اگر آج بھارتیہ جنتا پارٹی یا وزیر اعظم نریندر مودی کا کوئی متبادل نہیںہے، تو اس کا صرف اور صرف قصور پروفیسر رام گوپال یادو اور خود ملائم سنگھ یادو کا ہے۔ اگر وہ پارٹی بن گئی ہوتی تو آج ملک میں واحد اپوزیشن لیڈر ملائم سنگھ یادو ہوتے، جنھیںلوگ وزیر اعظم نریندر مودی کا متبادل مان کر 2019 کی تیاری کررہے ہوتے۔ لیکن تاریخ ایسے ہی کھیل کھیلتی ہے۔ اس وقت اکھلیش یادو بھی کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کے حق میں نہیں تھے،کیونکہ انھیںلوگوںنے بتا رکھا تھا۔ پروفیسر رام گوپال یادو نے ابھی ایک مہینے پہلے اعلان کیا کہ اکھلیش یادو ہی وزیر اعظم بنیں گے یا اکھلیش یادو مستقبل کے وزیر اعظم ہیں۔ کانگریس کو لے کر بن رہی اس جماعت کے پاس ہریانہ، بہار اور کرناٹک میں اراکین اسمبلی ہوتے، بہار میں سرکار ہوتی۔ ان کا سمجھوتہ شرد پوار اور ممتا بنرجی سے بھی ہوجاتا، بائیںبازو بھی ان کے ساتھ ہوتے۔ لیکن اس ممکنہ پارٹی کا شیرازہ بکھیرنے میں پروفیسر رام گوپال یادو براہ راست طور پر اور شری اکھلیش یادو نظریاتی طور پر اہم کردار نبھانے والے بن گئے۔ اور آج اسی کانگریس کے ساتھ پروفیسر رام گوپال یادو کو بات کرنی پڑی اور اکھلیش یادوکو گٹھ بندھن کا اعلان کرکے اسمبلی کی انتخابی تشہیر میں ساتھ ساتھ سبھائیںکرنے کا فیصلہ بھی لینا پڑا۔ صرف ملائم سنگھ یادو اکیلے ہیں، جو اپنی کانگریس مخالف پالیسی پر قائم ہیں او رانھوںنے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وہ اس گٹھ بندھن کے حق میںپرچار نہیںکریںگے۔
سماجوادی پارٹی کے باغی اراکین اسمبلی
1۔ رکن اسمبلی امبیکا چودھری: رکن اسمبلی امبیکا چودھری ایس پی چھوڑ کربی ایس پی میں شامل ہوئے۔ بلیا کے کوپاچیٹ اسمبلی حلقہ سے اکھلیش یادو نے ٹکٹ نہیں دیا۔ اب وہیں سے بی ایس پی کے ٹکٹ سے وہ انتخاب لڑیںگے۔ امبیکا چودھری کی کوشش سے’ قومی ایکتا دل‘ کا ایس پی میںانضمام ہوا تھا، اب ان ہی کی وجہ سے ’قومی ایکتا دل‘ کا بی ایس پی میںانضمام ہوگیا۔
2۔ رکن اسمبلی نارد رائے : رکن اسمبلی نارد رائے ایس پی چھوڑ کر بی ایس پی میںشامل ہوئے۔ رکن اسمبلی نارد رائے کو بھی اکھلیش یادو نے ٹکٹ نہیںدیا تھا۔ بی ایس پی نے نارد رائے کو بلیا صدر سے ٹکٹ دے دیا۔
3۔رکن اسمبلی ستپال یادو: رام پال یادو کو اکھلیش یادو نے سیتا پور کے بسواں اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ نہیںدیا۔ اب وہ لوک دل (سنیل سنگھ) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
4۔ رکن اسمبلی رام ویر سنگھ یادو: رام ویر سنگھ بھی ایس پی سے بغاوت کرکے لوک دل میں شامل ہوگئے۔ لوک دل نے رام ویر سنگھ کو ان کی سیٹ فیروزآباد کے جسرانہ سے ٹکٹ دیا ہے۔
5۔رکن اسمبلی اشفاق علی : اشفاق علی بھی ایس پی کے باغی ہیں اور لوک دل سے انتخاب لڑیں گے۔ اشفاق کو لوک دل نے امروہہ سے ٹکٹ دیا ہے۔
6۔رکن اسمبلی آشیش یادو : آشیش یادو نے بھی اکھلیش یادو کے خلاف بغاوت کرکے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ بی ایس پی نے آشیش یادو کو ایٹہ صدر اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔ آشیش یادو اترپردیش ودھان اسمبلی پریشد کے چیئرمین رمیش یادو کے بیٹے ہیں۔
7۔ رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر: کلدیپ سنگھ سینگر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ بھگونت نگر سے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو بی جے پی نے بانگرمئو سے ٹکٹ دیا ہے۔
8۔رکن اسمبلی گڈو پنڈت:بلند شہر کی ڈبائی سیٹ سے ایس پی کے رکن اسمبلی شری بھگوان شرما عرف گڈو پنڈت راشٹریہ لوک دل میںشامل ہوگئے ہیں۔ راشٹریہ لوک دل نے انھیں بلند شہر سے اپنا امیدوار ڈکلیئر کیا ہے۔
9۔رکن اسمبلی مکیش پنڈت: شکار پور سے ایس پی کے رکن اسمبلی مکیش پنڈت نے بھی اپنے بھائی گڈو پنڈت کے ساتھ بغاوت کرکے راشٹریہ لوک دل کا جھنڈا تھام لیا۔
10۔رکن اسمبلی وجے مشرا: بھدوہی ضلع کے گیانپور اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی سے لگاتار تین بار رکن اسمبلی رہے وجے مشرا کو اکھلیش نے ٹکٹ نہیںدیاہے۔ باغی وجے مشرا کو پیس پار ٹی اور نشاد پارٹی دونوںنے گیانپور سیٹ سے ہی اپنا ساجھا امیدوار بنایا ہے۔
11۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر اجے کمار پاسی: الہ آباد کی بارا اسمبلی سیٹ سے ایس پی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر اجے کمار پاسی بی جے پی میںشامل ہوگئے۔ بی جے پی نے بارا سے انھیں اپنا امیدوار بنایا ہے۔
12۔رکن اسمبلی اردمن سنگھ:آگرہ کی باہ اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ اردمن سنگھ بی جے پی میں گئے۔ بی جے پی نے انھیںباہ سے امیدوار بنایا ہے۔
13۔رکن اسمبلی روی داس مہروترہ: ایس پی کے رکن اسمبلی روی داس مہروترہ کا ٹکٹ ڈکلیئر ہونے اور نامنیشن داخل ہونے کے بعد اکھلیش یادو نے ان کا ٹکٹ کاٹ دیا۔ آخری وقت میں لکھنؤ وسط کی ساکھ والی سیٹ اکھلیش یادو نے کانگریس کو دے دی ہے۔ اب روی داس مہروترہ کا آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کا چرچا ہے۔
ان اراکین اسمبلی کو اکھلیش یادو نے ٹکٹ نہیںدیا۔ اب وہ مخالفت کررہے ہیں
1۔رکن اسمبلی رگھوراج سنگھ شاکیہ: اٹاوہ ضلع کی صدر سیٹ سے رکن اسمبلی رگھوراج سنگھ شاکیہ نے اکھلیش یادو کے خلاف بغاوت کرکے سماجوادی پارٹی چھوڑ دی ہے۔ شاکیہ ابھی باغی امیدوار کے طور پر انتخاب لڑیںگے یا نہیں، یہ واضح نہیںہے۔
2۔رکن اسمبلی نندیتا شکلا:گونڈہ کی مہنون سیٹ سے ایس پی رکن اسمبلی نندیتا شکلا کا ٹکٹ کٹا۔
3۔رکن اسمبلی رام پرکاش سنگھ-فیروزآباد کی شکوہ آباد سیٹ سے رکن اسمبلی رام پرکاش سنگھ کا ٹکٹ کٹا۔
4۔رکن اسمبلی وسیم احمد: اعظم گڑھ کے گوپال پور سے رکن اسمبلی بنے وسیم احمد کو ٹکٹ کٹا۔
5۔رکن اسمبلی زینت خان: پٹیالی سے ایس پی رکن اسمبلی زینت خان کا ٹکٹ کٹا۔
6۔رکن اسمبلی لال منی سنگھ: سدھارتھ نگر کے شہرت گڑھ سے ایس پی کے رکن اسمبلی لال منی سنگھ کا ٹکٹ کٹا۔
7۔رکن اسمبلی شاداب فاطمہ: ظہورآباد سے ایس پی کی رکن اسمبلی شاداب فاطمہ کا ٹکٹ کٹا۔
8۔رکن اسمبلی رام سرن : لکھیم پور کھیری کی سری نگرسیٹ سے ایس پی کے رکن اسمبلی رام سرن کا ٹکٹ کٹا۔
9۔رکن اسمبلی اجیت سنگھ : فرخ آباد کی قسمتیا جنگی پور سیٹ سے رکن اسمبلی اجیت سنگھ کا ٹکٹ کٹا۔
10۔رکن اسمبلی راج متی: پپرائچ سے ایس پی رکن اسمبلی راج متی کا ٹکٹ کٹا۔
11۔رکن اسمبلی برج لال سونکر:میہ نگر( محفوظ) سیٹ سے ایس پی رکن اسمبلی برج لال سونکر کا ٹکٹ کٹا۔
12۔رکن اسمبلی اندل راوت: ملیح آباد( محفوظ) سیٹ سے ایس پی رکن اسمبلی اندل راوت کا ٹکٹ کٹا۔
13۔رکن اسمبلی پرمود گپتا:ودھونہ سیٹ سے ایس پی کے رکن اسمبلی پرمود گپتا کا ٹکٹ کٹا۔
ایس پی کے باغی اراکین اسمبلی
1۔ سابق رکن اسمبلی چھوٹے لال یادو: سماجوادی پارٹی کے بارہ بنکی سے سابق رکن اسمبلی چھوٹے لال یادو لوک دل کے ٹکٹ پر بارہ بنکی صدر سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
2۔ سابق رکن اسمبلی سرور علی: سرور علی اکھلیش یادو سے بغاوت کرکے پیس پارٹی میںشامل ہوگئے ہیں۔ وہ کرسی اسمبلی حلقہ سے ایس پی کے امیدوار فرید قدوائی کے خلاف انتخاب لڑر ہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *