اترپردیش دلت اور مسلم ووٹ سے ہی بنتی ہے مضبوط سرکار

damiاترپردیش میں 130 مسلم اکثریتی سیٹیں ہیں اور 85 سیٹیں درج فہرست ذات کے لیے محفوظ ہیں۔ اس طرح اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مسلم اکثریتی اوردرج فہرست ذات کی محفوظ سیٹوںکو ملا کر 215 سیٹیںایسی ہوجاتی ہیںجوساری سیاسی پارٹیوں کی توجہ کا مرکوزبنی رہتی ہیں۔کیونکہ یہ سیٹیںہی اترپردیش میں سبھی پارٹیوںکے لیے حکومت سازی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ ماضی کے انتخابی نتائج پر غور کریںتو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دلت اور مسلم طبقے جس پارٹی کو بھی متحد ہوکر ووٹ کرتے ہیں،وہی پارٹی لکھنؤ میں مکمل اکثریت کے ساتھ سرکار بناتی ہے اور جب یہ طبقے پوری طرح تقسیم ہوجاتے ہیں تب بھی ایک مضبوط سرکارہی وجود میں آتی ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دلت اور مسلم طبقے جب متحد ہوکر ووٹ دیتے ہیں تو ایک مضبوط سیکولر سرکار بنتی ہے او ر جب یہ ووٹ پوری طرح تقسیم ہوجاتے ہیں تب بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار وجود میں آتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تاریخی حقائق سے یہ بھی ندازہ ہوتا ہے کہ جب ان طبقوں کے ووٹوں میں کم تعداد میںانتشار ہوتا ہے تو پھر غیر مستحکم سرکاریں وجود میں آتی ہیں۔ گویا اترپردیش کی مضبوط حکومت بنانے میں مسلم اور دلت طبقے اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ اعلیٰ ذات والا طبقہ محض فلوٹنگ ووٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کی گزشتہ 27 سال کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اترپردیش میں مکمل اکثریت کی حکومت بنانے میںدلت اور مسلم طبقے اہم کردار اداکرتے ہیں ۔ 1991 سے 2012 تک کی درمیانی انتخابی تاریخ پر غور کریں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اس مدت میں اترپردیش میںصرف تین بار ہی مضبوط سرکاریں وجود میں آئیں ۔ 1991 میں اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 221 سیٹیں جیت کر مکمل اکثریت کی کلیان سنگھ کی قیادت میں بنائی۔ اس کے بعد ریاست میںملی جلی سرکاریں ہی وجود میں آئیں۔البتہ 2007 کے اسمبلی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی نے 206 سیٹیں جیت کر مایاوتی کی قیادت میں پوری اکثریت کی سرکار بنائی جبکہ 2012 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج بالکل برعکس آئے۔ برسراقتدار بہوجن سماج پارٹی محض80 سیٹوں پر سمٹ گئی اور سماجوادی پارٹی نے 224 سیٹوں پر جیت حاصل کرکے اکھلیش یادو کی قیادت میںایک مضبوط سرکاری بنائی۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ 1991 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 221 سیٹیں جیت کر مکمل اکثریت کی سرکار بنائی تھی۔ تب اسے مسلم اکثریتی علاقوں میں 76اور محفوظ سیٹوں پر 50 سیٹیں جیتنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم اور دلت حلقوںسے 126 سیٹیں جیت کر ہی اپنی مستحکم سرکار بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہی صورت حال 2007 میں ہوئی۔ 2007 میں بہوجن سماج پارٹی نے مسلم اور دلت اکثریتی حلقوںمیںسے 121 سیٹیں جیت کر مایاوتی کی قیادت میں حکومت بنائی حالانکہ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2007 میںمایاوتی کی حکومت بنانے میں اعلیٰ ذات کے ووٹوں کا اہم کردار رہا ہے۔لیکن اس جیت کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کی جیت کی راہ ان ہی مسلم اکثریتی حلقوں اور محفوظ سیٹوں سے ہموار ہوئی تھی۔ بہوجن سماج پارٹی نے2007 میں کل 206 سیٹیںجیتی تھیں اور ان سیٹوں میں سے 59 سیٹیں مسلم اکثریتی حلقوں سے اور 62 سیٹیںمحفوظ حلقوںسے جیتی گئی تھیں۔ گویا مایاوتی کو بھرپوراکثریت کی سرکار دینے میں دلت اور مسلم طبقے کا ہی اہم رول رہا ہے۔ 2012 میںسماجوادی پارٹی نے 224 سیٹیں جیتیں۔ ان میں سے سماجوادی پارٹی 78 سیٹیں مسلم اکثریتی حلقوں سے اور 59 محفوظ سیٹیں جیتنے میںکامیاب ہوئی تھی۔ اس طرح اکھلیش یادو نے224 سیٹوں میں سے 137 سیٹیں مسلم اور دلت حلقوں کی جیت کر سرکار بنائی تھی۔
مندرجہ بالا اعداد وشمار سے آسانی کے ساتھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میںمسلم اکثریتی حلقوںاو ردلتوںکی محفوظ سیٹیں کافی اہمیت کی حامل ہیں۔ جو پارٹی ان علاقوں میں زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے، لکھنؤ کا تاج بھی اسی کے سرپر رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
2017 کے اسمبلی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی نے دلت اور مسلم (ڈی ایم) کا فارمولہ اپنایا ہے اور اسے یقین ہے کہ ڈی ایم فارمولہ اسے یقینی طور پر اقتدار کی کرسی پر بٹھائے گا جبکہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے اپنا گٹھ بندھن ہی اس لیے بنایا ہے کہ مسلمان متحد ہوکر بغیر کسی کنفیوژن کے اس کی پالی میں آجائیں اور اس کی اقتدار میں واپسی کی راہ آسان ہوجائے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس کے بالکل برعکس مسلم ووٹ کی تقسیم میں اپنی حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اب کس کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے اور کس کا سپنا ٹوٹتا ہے، اس کا فیصلہ عوام نے تو کردیا ہے لیکن کیا فیصلہ کیا؟ اس کا 11 مارچ کو ہی پتہ چلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *