اترپردیش اسمبلی انتخابات مایاوتی، اکھلیش، پرینکا اور مودی کا اکھاڑہ

dami00اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ اتر پردیش کا انتخاب نہیں، ملک کا انتخاب ہے۔اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جو اتر پردیش میں جیتے گا، وہی 2019 میں مرکز میں سرکار بنانے میں کامیاب ہوگا۔ اکھلیش یادو کے اس بیان سے ان کے حامی سو فیصد متفق ہوں گے اور اس کے آگے وہ یہ بھی کہیں گے کہ اب اکھلیش یادونام کا ایک نیا چہرہ دہلی کی گدی کے لئے ملک کی سیاست میں سامنے آگیا ہے۔ اکھلیش یادو کے برعکس اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور محروموں کی لیڈر مایاوتی اس سے صرف جزوی طور سے متفق ہوںگی اور ان کے حامی یقینا یہ کہنا چاہیں گے کہ اتر پردیش میں سرکار ان کی بنے گی اور وہی 2017 سے 2019 کے مرکزی نقطے میں رہیںگی۔ کانگریسنے ہچکولے کھاتی ہوئی سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد بنائی ، لیکن یہ کہہ نہیں سکتے کہ اتر پردیش کے انتخابات میں اس کی کتنی بڑی جیت ہوگی اور وہ دہلی کی گدی کے لئے کتنی دعویدار ہوگی؟ بی جے پی ان تمام اندازوں سے الگ جاکر اپنے پورے ذرائع کے ساتھ مکمل سیاسی صلاحیتوں کے ساتھ اتر پردیش کے انتخابات کو جیتنا چاہے گی اور جیتنے کے بعد وہ 2019 میں پھر سے دہلی کی گدی پر اپنے ممکنہ قبضے کا اعلان کردے گی۔

ان چار فریقوں کے علاوہ ابھی کوئی اور فریق اتر پردیش میں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ نہ کسی پارٹی کی شکل میں اور نہ ہی کسی گٹھ بندھن کی شکل میں ۔ چوتھا گٹھ بندھن اجیت سنگھ، نیتش کمار، ڈاکٹر ایوب اور آر کے چودھری جیسوں کو بنانا تھا،لیکن اس کا جنین قتل بہت پہلے ہو گیا اور اس کے ذمہ دار ان چاروں میں سے زیادہ تر لوگ ہیں۔
سماج وادی پارٹی کا اندرونی اختلاف
اتر پردیش کے بنیادی طورپر تین اور تھوڑی اور تفصیل سے دیکھیں تو چار فریق ہیں جن کے اپنے اپنے مثبت پہلو بھی ہیں اور اپنے اپنے اندرونی اختلافات بھی ہیں۔سب سے پہلے اکھلیش یادو کی بات کرتے ہیں۔ گزشتہ تین مہینے اکھلیش یادو اور ان کے والد ملائم سنگھ یادو کے درمیان کا تنائو پورے اترپردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو اپنے میں باندھے رہا۔ تین مہینے تک چلا یہ سلسلہ کسی ٹیلی ویژن سیریل سے کم دلچسپ نہیں تھا۔ اس میں سازشیں تھیں، سوتیلی مائیں تھیں، ساس اور بہو تھیں، چاچائوں کے اپنے اپنے دائوں پیچ تھے ، کل ملا کر راج محل کے اندر چلنے والی سازش کا ماڈرن سین نمک و مرچ ،کمین گاہ ، جھڑکی کی شکل میں ہمارے سامنے تھا اور پورے ملک نے اس میں بھرپور دلچسپی دکھائی۔ سب سے آخر کے واقعات جس میں اکھلیش یادو نے اپنے والد کو اپنی ہوشیاری اور دانشمندی سے سماج وادی پارٹی کی گدی سے اتار دیالیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ انہیں اتارنا چاہتے ہیں۔ اکھلیش نے انہیں رہنما کی شکل میں سامنے رکھتے ہوئے ان کے تمام اختیارات چھین لیے اور اس معاملے میں خود ان کے چچا پروفیسر رام گوپال یادو بنیادی پالیسی ساز کی شکل میں ابھرے۔رام گوپال یادو نے گزشتہ 20-15 برسوں اپنے بڑے بھائی ملائم سنگھ یادو کے پالیسی ساز کا کردار بخوبی نبھایا تھا اور دہلی سمیت پورے ملک میں یہ مانا جاتا تھا کہ ملائم سنگھ وہی فیصلہ لیں گے جو پروفیسر رام گوپال کہیں گے کیونکہ ملائم سنگھ نے صورت حال کا تجزیہ کرنے اور لوگوں سے بات چیت کرنے کی پوری ذمہ داری پروفیسر رام گوپال کو سونپ رکھی تھی۔ اس کا آخر دو سال پہلے ثبوت کے ساتھ دیکھنے کو ملا،جب دیو گوڑا، نتیش کمار، لالو یادو ، شرد یادو،ابھے چوٹالہ اور کمل مرارکا نے ایک پارٹی بنانے کی کوشش کی۔سب نے مل کر ملائم سنگھ یادو کو نئی پارٹی کا صدر ، پارلیمانی بورڈ کا صدر مان لیا اور ان کے انتخابی نشان اور ان کی پارٹی کے نام پرسبھی نے رضامندی دے دی اور پریس کے سامنے انہیں مالائیں پہنا دی گئیں اور ملائم سنگھ نے اسے منظور بھی کرلیا۔ لیکن اس کے ٹھیک ڈیڑھ مہینے کے اندر بہار انتخابات میں اس فیصلے کی دھجیاں اڑ گئیں اور پروفیسر رام گوپال نے یہ اعلان کیا کہ وہ بہار میں الگ انتخاب لڑیںگے۔ دراصل جب ملائم سنگھ یادو کو ایک پارٹی کا لیڈر ماننے کی بات ہوئی اور جب لالو یادو اور نتیش کمار نے کہا کہ اب ملائم سنگھ کو آگے بڑھنا چاہئے تب ان کی طرف سے کہا گیا کہ ایک پارٹی بنانے کا عمل بہار انتخابات کے بعد شروع کریں گے۔ اس واقعہ نے لالو یادو اور نتیش کمار کو یہ پیغام دیا کہ بہار انتخابات کے جو نتائج آئیںگے ،اس کے بعد ہم سب نئی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا جسے پروفیسر رام گوپال یادو نے اپنے لئے نقصان دہ مانا اور یہ سمجھا کہ شاید نئی پارٹی میں سیاسی فیصلے لینے کا اختیار بہت سارے دوسرے لوگوں کے پاس جاسکتا ہے اور تب اچانک اس پارٹی کو غفلت کی حالت میں رکھنے کا منصوبہ بنا۔حالانکہ کہا یہ گیا کہ بی جے پی کے اشارے پر پروفیسر رام گوپال یادو نے ایک پارٹی بنانے کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا کیونکہ اگر ایک پارٹی بن جاتی تو بی جے پی کا ماننا تھا کہبہار میں ہر حالت میں وہ پارٹی جیت جاتی ۔ اس چرچا کی حقیقت کا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں ہے۔ لیکن سارے متعلقہ فریقوں اور سیاسی جانکاروں کے بیچ یہ بحث اتنی مضبوطی سے ابھری کہ پروفیسر رام گوپال یادو نئی پارٹی بنانے کے راستے کے اہم ویلن بن گئے۔اس سلسلے میں صرف ایک ہی بات کہی جاسکتی ہے کہ جب وزیر اعلیٰ کے خاندان کا جھگڑا اور آگے بڑھا تو پہلے شیو پال سنگھ یادو نے عوامی طور سے اور پھر خود ملائم سنگھ یادو نے علی الاعلان یہ کہا کہ پروفیسر رام گوپال یادو نے سی بی آئی سے بچنے کے لئے اور بی جے پی کے حق میں پالیسی بنانے کے لئے تمام مسائل پیدا کئے اور انہوں نے ہی خاندان میں تقسیم کردیا۔ صرف یہی دو بیان اس چرچا کے ثبوت میں ہمارے سامنے ہیں۔
ہو سکتا ہے یہ صحیح نہ ہو لیکن اکھلیش یادو کے ذریعہ ملائم سنگھ یادو کو بالکل کنارے کر دینا اور حاشئے پر ڈال دینا، اتر پردیش کے دیہی علاقوں میں بہت مثبت نہیں گیا اور نہ پسند کیا گیا۔50سال سے اوپر کے لوگ اس فیصلے کے خلاف دکھائی دے رہے ہیں لیکن50 فیصد وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نوجوان کہہ سکتے ہیں جو اس نفسیات کے ہیں کہ اکھلیش کے والد نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا، وہ اچھا کرسکتے تھے ۔ ایسی سمجھ والے نوجوان اس فیصلے کے حق میں ہیں۔اکھلیش یادو کے انتخاب کے کمپین میں ان کے لئے پہلا روڑا یہی سوال بننے والا ہے کہ انہوں نے اپنے پانچ سال کے وزیر اعلیٰ کے دور کے بعد ہی کیسے اپنے والد کو ذلیل کرکے ایک کنارے دھکیل دیا اور کس طرح سے ان کی اس ساری محنت کو ملیامیٹ کردیاجو انہوں نے گزشتہ 40 برسوں میں سماج وادی پارٹی کو اس اونچائی پر پہنچانے کے لئے کی تھی ۔
اکھلیش یادو کے لئے دوسرا چیلنج ملائم سنگھ یادو کا آخری بیان بن رہا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اکھلیش یادو مسلم مخالف ہیںاور انہوں نے پانچ سال میں اکھلیش یادو کو بہت ساری صلاحیں دیں جو اتر پردیش کے دیہی علاقوں سے متعلق تھیں جنہیں ملائم سنگھ یادو اپنا بنیادی ووٹ مانتے ہیں اور دوسری طرح کی صلاحیں مسلمانوں کو لے کر تھیں، ان کی ترقی کو لے کر تھیںلیکن اکھلیش یادو نے دونوں کے اوپر دھیان نہیں دیا ،ملائم سنگھ یادو کے اس انتباہی بیان کہ اکھلیش مسلم مخالف ہیں،، کا استعمال مایاوتی اور بی جے پی بھی کرے گی۔ان دو اڑچنوں کے علاوہ اکھلیش یادو کے سامنے اتر پردیش میں کوئی اوراڑچن نہیں ہے۔ اگر کوئی اڑچن ہے تو ان کے ذریعہ کئے گئے کام ہیں جن کے بارے میں یہ انتخاب فیصلہ کرے گا کہ وہ کام شہروں میں رہنے والے لوگوں کے لئے کئے گئے یا گائوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے کئے گئے۔یہ انتخاب یہ بھی فیصلہ کرے گا کہ گائوں میں کئے گئے کاموں کو اتر پردیش کا دیہی علاقہ کتنا اپنا مانتا ہے یا فطری طور سے کی گئی ترقی کو ایک مخصوص ترقی مانتا ہے۔جب اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنے تھے تو ملک میں ایک توقع قائم ہوئی تھی کہ ایک نوجوان وزیر اعلیٰ جس طرح سے کام کرے گا، اسی طرح کی شبیہ ملک میں نوجوانوں کی بنے گی۔ دوسری طرف بی جے پی کے پاس نہ نوجوان وزیر اعلیٰ ہیں اور نہ نوجوان پارٹی کے صدر ہیں نہ کسی ریاست میں کوئی نوجوان وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہے، دوسری طرف اکھلیش یادو کا نوجوان چہرہ ہے۔ اگر اکھلیش یادو اس انتخاب میں سرکار نہیں بنا پاتے ہیں تو یہ صرف اکھلیش یادو کے لئے ہی خطرناک نہیں ہوگا بلکہ ملک کے نوجوانوں کو اعلیٰ عہدہ دینے کے اصول پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرے گا کیونکہ ریاست، ریاست کے مسائل ،ریاست کی ترقی ،دوسرے لفظوں میں ملک کے مسائل،ملک کی ترقی کی ذمہ داری نوجوان کو سونپی جاسکتی ہے یا نہیں سونپی جاسکتی ہے، اس اصول کے اوپر نئی بحثیں شروع ہو جائیںگی۔
بی ایس پی کے مثبت پہلو
مایاوتی کی بات کریں تو سب سے پہلے ممکنہ امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے علاوہ ان کی پارٹی میں بغاوت نہ ہونا بھی ان کے حق میں جاتا ہے، ان کی پارٹی سے دو بڑے لیڈر نکلے ۔سوامی پرساد موریہ اور آر کے چودھری ۔سوامی پرساد موریہ کو بی جے پی نے 30ٹکٹوں کی یقین دہانی کی تھی لیکن انہیں 3 پر سمیٹ دیا۔ دوسری طرف آر کے چودھری کو ٹکٹ دیاگیا لیکن اس سے مایاوتی کے حامیوں میں کوئی بغاوت ہوئی ہو، کوئی بحث ہوئی ہو، کوئی غصہ ہو اہو، ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔ اتنا ہی نہیں مایاوتی نے جنہیں ٹکٹ دیا،ان کے حریف بھی ان کے خلاف کوئی ماحول نہیں بنا پائے۔ مایاوتی کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پچھلے پورے پانچ سال تک انہوں نے لکھنو اور دہلی میں رہ کر خاموشی سے گزار دیئے۔ انہوں نے اکھلیش یادو کی سرکار کے خلاف نہ زیادہ بیان دیئے، نہ کوئی آندولن کیا، نہ ان کی کمیوں کو اجاگر کیا۔ گاہے بگاہے وہ کبھی بول دیتی تھیں لیکن وہ کمپین کی شکل میں نہیں ہوتا تھا۔ اب جب انتخابات نزدیک آئے ہیں تو مایاوتی نے اپنے نپے تلے انداز میں نہ صرف مسلم سماج کو زیادہ سیٹیں دیں بلکہ انہوں نے مسلم سماج کو ایڈریس کرنا بھی شروع کیا اور کہا کہ اگر مسلمان بہو جن سماج پارٹی کی حمایت کرتے ہیں تو یقینی طور سے بی جے پی کو اتر پردیش میں ہرایا جاسکتاہے۔ ان کے کمپین کی یہ لائنیں مسلمانوں کو ان کی طرف کھینچ رہی ہیں۔ مسلم سماج آخر میں کسے ووٹ دے گا، ابھی کہا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ ایس پی اور کانگریس کا یا اکھلیش اور پرینکا گاندھی کا گٹھ بندھن مسلمانوں کو یکطرفہ فیصلہ لینے میں شاید تھوڑی پریشانی پیدا کرے گا۔ لیکن اتر پردیش انتخابات میں جانے انجانے مسلم سماج بہت بڑا فیکٹر بن گیا ہے، اس لئے اگر مسلم سماج بی ایس پی کے ساتھ جاتاہے جسے ساتھ آنے کی کھلی دعوت مایا وتی نے دی ہے تو اتر پردیش کے انتخابات کا فیصلہ اکھلیش اور بی جے پی کی خواہش کے برخلاف بھی ہوسکتاہے۔
کانگریس کی امید پرینکا گاندھی
کانگریس اتر پردیش میں سب سے خراب حالت میں ہے ۔ کانگریس کی پوری پالیسی راہل گاندھی کی قیادت و ہدایت میں چلی ۔پچھلے پورے پانچ سال کانگریس نے اکھلیش یادو کی سرکار کی مخالفت کی۔ راہل گاندھی کی اتر پردیش میں جتنی یاترائیں ہوئیں ،ان میں اکھلیش کی مخالفت اہم تھی اور ان کی کھاٹ یاترائوں میں بھی اکھلیش یادو کی مخالفت تھی۔ حالانکہ ایک جگہ انہوں نے اکھلیش یادو کی تعریف بھی کی۔ شاید اس وقت انہیں لگا ہوگا کہ میں عوامی طور سے تعریف کر کے اکھلیش کے ساتھ گٹھ بندھن کرسکتاہوں۔ راہل گاندھی کو یہ سمجھایا گیا کہ اگر وہ اکھلیش یادو کے ساتھ گٹھ بندھن کرتے ہیں تو مسلمان مایاوتی کے ساتھ نہیں جائے گا ۔پھر اکھلیش یادو اور کانگریس مل کر اتر پردیش کی 300سیٹوں پر قبضہ کرلیںگے جس کا کئی بار اعلان خود اکھلیش یادو نے کیا۔ کانگریس کا نقصان یہ ہوا کہ پانچ سال تک وہ جس پالیسی پر وہ چل رہی تھی، اس کے مطابق کانگریس کے 400امیدوار اسمبلی کے لئے کھڑے ہوتے اور پارٹی کی عوامی مقبولیت بڑھاتے۔شروع میں کانگریس کے سیاسی مشیر پرشانت کیشور نے بھی یہی لائن لی تھی اور انہوں نے راہل گاندھی کی ریلی بھی یہی کہہ کر کروائی تھی کہ جو امیدوار جتنے زیادہ لوگوںکو راہل گاندھی کی ریلی میں لائے گا ،وہ اس کا تجزیہ کروائیں گے۔ ان کے حامیوں کی تعداد گنوائیں گے اور اس کے حساب سے ٹکٹ کا فیصلہ کریںگے۔ پہلی بار راہل گاندھی کی بڑی ریلی لکھنو میں ہوئی جس میں ٹکٹ کے دعویدار 400 انتخابی حلقوں سے بسیں بھر بھر کرلوگوں کو لائے اور جیسے ہی یہ اعلان ہوا کہ اب اکھلیش یادو کے ساتھ کانگریس کاگٹھ بندھن ہوگا، کانگریس کے وہ کارکن مایوس ہوگئے اور گھر پر بیٹھ گئے ،جو ا نتخاب لڑنے کے لئے اپنا جی جان لگا رہے تھے ، اپنا پیسہ لگا رہے تھے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو 105سیٹیں کانگریس کو ملی ہیں، ان میں سے کانگریس کتنی سیٹیں جیت پاتی ہے۔ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کا اندازہ ہے کہ کانگریس کو70سیٹیں جیتنی چاہئے۔ جبکہ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کانگریس اگر 45 اور 50 سیٹیں جیت جائے تواس کے کھاتے میں بہت ہوگالیکن ایک تیسرا فریق بھی ہے جو یہ مانتا ہے کہ کانگریس اور اکھلیش یادو کے اتحاد سے کانگریس کو زیادہ فائدہ ہوگا ۔اکھلیش یادو کی سیٹیں کم ہوںگی۔ اس کی کوئی ابھی دلیل نہیں ہے۔ لیکن دلیل یہ ہے کہ گائوں میں جو اندرونی اختلاف ہے اور جو احساس اکھلیش یادو کے حالیہ طریقہ کار کے سبب لوگوں میں بنا ہے، اگر وہ اگلے 15دنوں میں ختم نہیں ہوا تو لوگوں کا یہ سوچنا صحیح ثابت ہو جائے گا کہ کانگریس تو اس اتحاد سے فائدہ اٹھا لے گی لیکن اکھلیش کو اس سے نقصان ہوگا۔ اس طرح کی ایک مثال مغربی بنگال کی ہمارے سامنے ہے جہاں کانگریس کی سیٹوں کی تعداد بڑھ گئی اور ان کے معاون کمیونسٹوں کی سیٹوں کی تعداد کم ہو گئی۔ جبکہ کانگریس کی کوئی عوامی مقبولیت مغربی بنگال میں نہیں تھی۔ کانگریس نے ایک بڑا کام پرینکا گاندھی کو انتخابی میدان میں اتار کر کیا ہے۔ ان کے کمپین کا منصوبہ ڈمپل یادو کے ساتھ بن رہا ہے اور اتر پردیش میں کم سے کم 6 یا 8 اجلاس دونوں مل کر کریں گی۔ پرینکا گاندھی کا اپنا انداز ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ اپنے کو کنیکٹ کرلیتی ہیں۔ لوگ بھی ان کے اجلاس میں اپنی موجودگی درج کرائیں گے۔ نیز پرینکا گاندھی کی انتخابی تشہیر میں اترنے کے بعد جو نوجوان کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ اکھلیش کے حامی نوجوانوں کے ساتھ مل کر ووٹوں کے اوپر خاصہ اثر ڈالیںگے ۔ کانگریس کے اندر اتر پردیش کے انتخابات میں دلی کی گدی کا بھی ایک انڈر کرنٹ دکھائی دے گا کہ اتر پردیش کے انتخابات کے بعد راہل گاندھی کانگریس کا چہرہ بنیں گے یا پرینکا گاندھی ۔ میرا ماننا ہے کہ اگر شیلا دیکشت کا اندازہ صحیح ہوتا ہے تو پرینکا گاندھی دہلی کا چہرہ بنیںگی اور اگر غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا اندازہ صحیح ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس 50-45 سیٹوںپر سمٹ جائے گی تو راہل گاندھی ہی دہلی کے لئے کانگریس کا چہرہ بنیں گے۔ کانگریس نے پرینکا گاندھی کو یوپی کے انتخابات میں اتارکر ایک بڑا جوا کھیلا ہے۔ کانگریس کے لوگ یقین کررہے ہیں کہ وہ اس بازی کو ضرور جیتیں گے۔
بی جے پی کے پاس وسائل ہیں، چہرہ نہیں
بی جے پی کے پاس پیسہ ہے ، تنظیم ہے، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ جیسا سمجھدار اور خطرناک لوگوں کا گروپ ہے جو ہر پولنگ بوتھ پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ شہروں اور گائوں میں ہوا بنا سکتے ہیں لیکن بی جے پی کے پاس وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا کوئی چہرہ نہیں ہے۔
بی جے پی کے اندر یہ موضوع بحث ہے کہ ریلوے اسٹیٹ منسٹر منوج سنہا کو اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ عہدہ کی شکل میں بی جے پی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ دوسرا نام مرکزی وزیر سیاحت مہیش شرما کا ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کی دوڑ میں تیسرا نام راجناتھ سنگھ کا ہے، جو خود وزیر اعلیٰ نہیں بننا چاہتے ۔لیکن ممبر پارلیمنٹ یوگیہ آدتیہ ناتھ،جو وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں، انہیں بی جے پی وزیر اعلیٰ کی شکل میں پیش نہیں کرنا چاہتی۔اگر بی جے پی یوگی آدتیہ ناتھ کو انتخاب کے کمپین سے دور رکھتی ہے یا ان سے یہ کہتی ہے کہ وہ بعد میں وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں تویوگی آدتیہ ناتھ کی ’ہندو رکشا واہینی ‘ جو پروانچل کے 22-20 ضلعوں میں سب سے طاقتور تنظیم ہے، وہ بی جے پی کا اس طرح سے ساتھ نہیں دے گی جس طرح سے 2014 کے لوک سبھاانتخابات میں دیا تھا۔ اگر یہ تنظیم بی جے پی کی حمایت نہیں کرتی ہے تب انتخاب کو لے کر بی جے پی کے امکانات تھوڑے سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ بی جے پی نے ہر انتخابی حلقے کے لئے 6 موٹر سائیکل، 12 فل ٹائم کارکنوں کے حساب سے دیے ہیں۔ تاکہ گائوں گائوں پہنچ کر بی جے پی کی تشہر کی جائے۔کل ملاکریہ 2400 کے قریب موٹرسائیکلیں ہوتی ہیں اور اگر ان کے کارکنوں کا خرچ جوڑ لیا جائے ،تنخواہ سمیت تو یہ ایک بہت بڑا خرچ ہو جاتاہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی اکیلی ایسی پارٹی ہے جس نے ہر انتخابی حلقے میں 6 موٹر سائیکلیں اور تقریباً 800 چھوٹے رتھ تشہیر کے لئے بھیجے ہوئے ہے۔ بی جے پی نے ایک بار پھر رام مندر بنانے کی بات کی تشہیر کرنے کے لئے ٹولیوں کی تشکیل کی ہے۔ بی جے پی بالکل اس تذبذب میں نہیں ہے کہ اسے مسلمانوں کا ووت ملے گا یانہیں ملے گا۔ اس کا ماننا ہے کہ اسے مسلمانوں کا ووٹ نہیں ملے گا۔ اس لئے وہ اب اس انتخاب کو مندر بنام مسجد میں بدلنا چاہتی ہے ۔ اس میں اس کا ساتھ سنگھ دے گا لیکن جس طریقے سے بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں ہر اس آدمی کو ٹکٹ دیا ہے جو دوسری پارٹی چھوڑ کر آیا ہے چاہے وہ سماج وادی پارٹی ہو، بہو جن سماج پارٹی ہو یا پھر کانگریس ہو، اس سے لگتا ہے کہ سنگھ کی پکڑ اب بی جے پی کے اوپر نہیں رہی ہے اور بی جے پی کھلے طور سے کانگریس کی پالیسی کے اوپر انتخاب لڑنا اور جیتنا چاہتی ہے۔
بی جے پی کی کمزوری کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ پہلی مثال آر کے چودھری کی ہے، جو کہ بہو جن سماج پارٹی سے نکلے، بی جے پی میں شامل بھی نہیں ہوئے، این ڈی اے کا ممبر بھی نہیں بنے، لیکن انہیں بی جے پی نے ٹکٹ دے دیا،انہیں اس لئے ٹکٹ دے دیا کیونکہ بی جے پی کو لگا کہ رکن پارلیمنٹ کوشل کیشور پاسیوان کے لیڈر ہیں، ان کامقابلہ کرنے کے لئے یا ان سے بچے ہوئے پاسیوں کو اپنی طرف لانے کے لئے آر کے چودھری کی ضرورت ہے ۔حالانکہ آر کے چودھری اور کوشل کیشور کی آپس میں نہیں بنتی ہے لیکن جہاں ایک طرف کوشل کیشور کی بیوی کو اسمبلی انتخابات کا ٹکٹ دیا گیاہے، وہیں آر کے چودھری کو بغیر پارٹی میں شامل کئے اسمبلی انتخاب کا ٹکٹ دیا گیا، یہ بتاتا ہے کہ بی جے پی انتخابی حلقے میں اپنے کو کہیں کمزور پا رہی ہے۔نارائن دت تیواری کی حمایت بی جے پی نے پہاڑ کے برہمنوں کی حمایت اپنی طرف کرنے کے لئے لیا۔ نارائن دت تیواری بھی اپنے بیٹے کے لئے امیت شاہ کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی یہ بتا دیا کہ اب اصول کی سیاست نہیں ، اقتدار کی سیاست ہی چلنے والی ہے۔ شاید اسی لئے جتنی پارٹیاں اتر پردیش میں انتخاب لڑ رہی ہیں، وہ ایک ہی اصول کو اہم مان رہی ہیں اور وہ ہے اقتدار، کسی بھی طرح اقتدار حاصل کرنا۔ جب کسی بھی طرح اقتدار کی بات آجائے ،پھر وہ غریبوں کے لئے نہیں ہوتا ہے۔وہ ٹھیکہ داروں کے لئے ہوتا ہے،پارٹی کے لوگوں کے لئے ہوتا ہے، بیوکریٹس کے لئے ہوتا ہے اور اپنے رشتہ داروں کے لئے ہوتا ہے۔
مسلمان کیا کریں گے؟
اکھلیش یادو اور کانگریس کے بیچ اتحاد پر 20-15 دنوں تک چلی بحث نے مشکلیں کھڑی کر دی ہیں اور مشکل مغربی ا تر پردیش کی ہے۔ یہاں پر مسلمانوں نے میٹنگیں کرکے یہ طے کیا تھا کہ اگرچہ جاٹوں نے مظفر نگر میں ان کے سماج کے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن وہ جاٹوں کے اس ظلم کو بھول کر، بی جے پی کے بڑے خطرے کو دیکھتے ہوئے ، اس اتحاد کے حق میں ووٹ کریں گے یعنی جاٹ اور مسلمان ایک ساتھ مل کر اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی کے لئے ووٹ کرتے لیکن اکھلیش یادو نے راشٹریہ لوک دل یعنی اجیت سنگھ کے ساتھ جس طریقے سے اتحاد نہ ہونے دینے کی پالیسی بنائی، وہ جاٹوں کو ذلیل کرگئی ۔مغربی اتر پردیش میں پہلے سماج وادی پارٹی کے ساتھ راشٹریہ لوک دل کے اتحاد کی بات چیت چلی۔ بعد میں سماج وادی پارٹی نے کہا کہ اگر اتحاد کرنا ہے تو کانگریس اپنی سیٹوں میں سے راشٹریہ لوک دل کو سیٹیں دے۔یہ کہنے کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی نے ان اہم سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار دیئے جہاں سے اجیت سنگھ کے اپنے لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور جو اجیت سنگھ کا گھر تھا، جیسے چھپرولی، باغپت۔ اس نے اجیت سنگھ کو ہی نہیں بلکہ جاٹ برادری کی بھی توہین کی۔اکھلیش یادو کے لئے اجیت سنگھ کا ساتھ نہ ہونا، اس انتخاب میں مغربی اتر پردیش میں بہت پریشانی پیدا کرسکتا ہے۔ اب مغربی اتر پردیش میں مایاوتی اور مسلم اتحاد ، بی جے پی کے اتحاد کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔
نتیش کمار نے اتر پردیش میں 8 کامیاب اجلاس کئے اور اتر پردیش کے ان لوگوں کو جو بی جے پی ، کانگریس یا کہیں پر مایاوتی اور سماج وادی پارٹی سے بھی الگ تھے، انہیں ایک امید کی کرن دی کہ نتیش کمار کے بہانے انہیں انتخاب میں کوئی رول پلے کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اتر پردیش میں کورمی سماج ہے جو کہ آج تک کبھی اقتدار میں نہیں رہا، اس نے نتیش کمار کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو کر یہ بتا دیا کہ اگر نتیش کمار اپنے امیدوار کھڑے کرتے ہیں یا وہ کسی اتحاد میں جاتے ہیں تو وہ نتیش کمار کے ساتھ اس اتحاد کو جتانے میں بہت معاون ثابت ہوںگے۔ لیکن نتیش کمار کو نہ مایاوتی نے پوچھا ،نہ ہی اکھلیش یادو نے ۔نتیش کمار کو یہ خبر پہنچائی گئی اگر وہ دو سیٹوں پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیںتو سماج وادی پارٹی انہیں اتحاد میں لینے کو تیار ہے ۔یہ پروفیسر رام گوپال یادو کا ماسٹر اسٹروک تھا کہ جب انہوں نے بہار میں ہمیں پانچ سیٹوں کی تجویز دی تھی تو ہم انہیں دو سیٹ اپنی طرف سے تجویز کریں۔ نتیش کمار 20سے 25 سیٹوں پر کافی اثر کن ثابت ہو سکتے تھے لیکن آخر میںانہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اتر پردیش میں انتخابات نہیں لڑیں گے،کیونکہ اس سے سیکولر ووٹوں کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ نتیش کمار کے انتخاب نہ لڑنے سے بی جے پی مضبوط ہوئی ہے۔ کورمی سماج شروع سے بی جے پی کے ساتھ رہا ہے۔ اب اگر نتیشکمار انتخاب نہیں لڑیں گے تو پورا کا پورا کورمی سماج بی جے پی کے حق میں جائے گا اور وہ اکھلیش یادو اور مایاوتی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔کل ملا کر اتر پردیش کے انتخاب میں نتیش کمار کا اور لالو یادو کا کوئی رول نہیں ہے۔لالو یادو پہلے ہی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اب نتیش کمار نے لالو یادو کے اس بیان کا سہارا لے کر کہا ہے کہ ہم لالو یادو کی صلاح پر سیکولر ووٹ کو نہ بٹنے دینے کے لئے انتخاب نہیں لڑیں گے۔
موٹے طورپرہم کہہ سکتے ہیں کہ اترپردیش کے انتخاب میںیہ کسی کے بھی حق میں جانے والے اندرونی اختلافات ہیں لیکن اگر ہم انہیں دھیان سے دیکھیں تو یہ اختلافات سب سے زیادہ بی جے پی کو نقصان پہنچائیں گے، پھر اکھلیش یادو کو نقصان پہنچا ئیں گے اور پھر مایاوتی کو نقصان پہنچائیں گے۔ لیکن ان کا سب سے زیادہ ملے گا فائدہ کانگریس کو۔ اب اس صورت میں کس کے حق میں اتر پردیش کی بازی آتی ہے وہ فیصلہ آنے کے بعد ہی طے ہوگا لیکن لگتا یہ ہے کہ جن دو فریقوں کے درمیان یہ بنیادی لڑائی ہوگی، ان میں سے ایک فریق مایاوتی جی کا ہے ۔دوسرے فریق میں بی جے پی آتی ہے یا اکھلیش یادو آتے ہیں، یہ انتخاب کا آخری ہفتہ بتائے گا۔
سب سے آخر میں اتر پردیش کا مسلم سماج پس و پیش میں ہے۔ مسلم سماج کے لئے بی جے پی نے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ مسلم سماج کے لئے گزشتہ 5 سالوں میں اتر پردیش کی سرکار نے بھی کوئی بہت زیادہ کام نہیں کیا ہے اور ابھی کے انتخابی منشور میںبھی اترپردیش کے مسلمانوں کے حق میں کوئی ٹھوس بات نہیں کر رہا ہے ۔ 90فیصد وہی وعدے دہرائے گئے ہیں جو 2012 کے انتخابات میں کئے گئے تھے۔ دو نئے وعدے کئے گئے ہیں۔ ایک تو بنارس میں حج ہائوس بنانے کی بات سماج وادی پارٹی کے منشور میں ہے۔لیکن مسلمانوں کے لئے مایاوتی نے بھی کوئی خاص اعلان نہیں کیا ہے۔ مایاوتی نے بس ایک کام کیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ ٹکٹیں دی ہیں اوران سے یہ اپیل کی ہیں کہ اگر وہ بہو جن سماج پارٹی کا ساتھ دیں گے تب بی جے پی کو روکا جاسکتا ہے۔ مایاوتی، مسلمانوں کی اس کمزور نس کو جانتی ہیں کہ جو کوئی بھی انہیں بی جے پی کو ہراتا ہواامیدوار دکھائی دے گا، مسلمان اپنا ووٹ اس امیدوار کے حق میں ڈالے گا۔اسی احساس کو اپنے حق میں موڑنے کا کام مایاوتی کررہی ہیں۔
معلق اسمبلی بنی تو کیا ہوگا؟
کیا ہوگا،اگر اترپردیش میں معلق اسمبلی کی صورت بنتی ہے ۔اس صورت میںبی جے پی ایک طرف اکھلیش یادو کے ساتھ مل کر سرکار بنا سکتی ہے اور دوسری طرف وہ مایاوتی کے ساتھ مل کر بھی سرکار بنا سکتی ہے۔ اس وقت بی جے پی دیکھے گی کہ دونوں میں سے اس کے حق میں کون شرطیں ماننے کے موڈ میں ہے؟ابھی تک اترپردیش میں کوئی نظریاتی لڑائی کسی سیاسی پارٹی میں نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ اگر کہیں دکھائی دے رہی ہے تو کچھ بی جے پی میں دکھائی دے رہی ہے کیونکہ بی جے پی سے جڑے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے منموہن وید نے بہت سوچ سمجھ کر بیان دیا ہے کہ ریزرویشن بھید بھائو کو بڑھاتا ہے اور وہ ریزرویشن نہیں چاہتے ہیں۔ یہ بیان بے خیالی میں دیا ہوا نہیں ہے ۔یہ بیان راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور بی جے پی کی اس سوچ کو بتاتاہے جس میں کامن سول کوڈ ہے، آرٹیکل 370 کا خاتمہ بھی ہے اور مسلمانوں کو منہ بھرائی نہ کیا جانا بھی شامل ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اتر پردیش میں ہر حالت میں وہ انتخاب جیت سکتے ہیں کیونکہ یہاں ہندوئوں کی تعداد زیادہ ہے اور اگر وہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو اب بچے ہوئے دو سال میں وہ اپنے نظریہ کے مطابق سارے ملک میں اپنے فیصلے لاگو کرسکتے ہیں۔ شاید اسی لئے اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ اتر پردیش کا انتخاب دراصل 2019کا دہلی کا انتخاب ہے۔ ان کے اس جملے کی مخالفت نہ مایاوتی جی نے کی ہے اور نہ کانگریس نے کیا ہے اور نہ بی جے پی نے کیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ انتخاب کن کے چہرے پر مکھوٹے لگاتاہے ،کن کے چہرے کے مکھوٹے اتارتا ہے ۔ یہ عوام کا بھی امتحان ہے کہ وہ کن کے دلائل سے متاثر ہوتے ہیں،کن کے دلائل سے متاثر نہیں ہوتے ہیں؟لیکن ہم اکھلیش یادو کی اس بات سے پوری طرح سے متفق ہیں کہ اتر پردیش کے انتخابات 2019 کے لئے دہلی کے راستے کی سمت اور شرطیں طے کریں گے۔
بشکریہ ’چوتھی دنیا‘

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *