اترپردیش اسمبلی انتخابات تم مجھے مارو میں تمہیں ماروں

اترپردیش میں انتخابات کے لیے ووٹ پڑ رہے ہیں۔ پنجاب اور گوا کے ووٹ پڑچکے ہیں۔ بھاری تعداد میںووٹنگ ہوئی ہے۔ جمہوریت میںلوگوںکافیصلہ ہی مقدم ہوتا ہے، خواہ وہ کسی کی نظر میں صحیح ہو یا کسی کی نظر میں غلط ہو۔ اس الیکشن میں بہت سارے تضاد بھی دکھائی دیے۔ ہم آپ کو کچھ حالات بتاتے ہیں تاکہ آپ خود اس بات کافیصلہ کرسکیںکہ انتخابات میںووٹ پڑے ہیںتو فیصلہ کس کے حق میںجائے گا۔
damiبات شروع کرنے یا حالات کا جائزہ لینے سے پہلے ہم آپ کو دو واقعات بتاتے ہیں۔ ایک واقعہ میں نام ہے، ایک واقعہ میںاشارہ ہے۔ جس میںاشارے ہیں، انھیںآپ سمجھیں کہ اس کے کردار کون کون ہیں۔ ک اداکارہ ، ایک لیڈر اور اترپردیش
ملک کی ایک بہت بڑی اداکارہ اپنے ایک گہرے دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوںکی بات چیت سیاستدانوں پر شروع ہوئی ،کیونکہ آج کل اداکارہ، اداکار اور سیاستداں نہ صرف ہم پیالہ وہم نوالہ ہوتے ہیں،بلکہ اپنا دائرہ اور حدود بھی خود بناتے ہیں۔ اس اداکارہ نے اپنے دوست سے کہا کہ چلو میں تمہیںایک کھیل دکھاتی ہوں جو ریئل لائف ڈرامہ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم چپ رہوگے۔ اگر سانس کی آواز بھی فون میںآگئی تو تمہارا سارا مزہ کرکرا ہوجائے گا۔ اس دوست نے حامی بھردی۔ اس اداکارہ کو یہاںہم پی ڈی کے نام سے پکاریں گے۔ پی ڈی نے ملک کے ایک بڑے لیڈر کو فون ملایا۔ یہ لیڈر اترپردیش کے ہیںاور اترپردیش کے اُن 8 بڑے لیڈروںمیں شامل ہیں جو وزیر اعلیٰ کی دوڑ میںہیں۔ فون پر اس لیڈر کو جیسے ہی پی ڈی کی آواز سنائی دی، انھوںنے بہت لرزتی ہوئی آواز میںکہا کہ آج تو میری شام بن گئی۔ لیکن اگر آپ میرے پاس ہوتیں تو میںبہت سکون سے سوتا۔ پی ڈی نے بہت ہی دلکش آواز میں اس لیڈر سے بات کی کہ ایسا کیا ہوگیا کہ آپ کو میری آواز سے اتنا سکون ہوا۔ اس انداز میںتقریباً پانچ منٹ تک فون پر دونوںکی گفتگو ہوئی۔ گفتگو ختم ہونے کے بعد پی ڈی کا دوست تھوڑا حیران تھا،کیونکہ پہلے اس نے پی ڈی سے کہا تھا کہ مجھے بھروسہ ہی نہیںہوتا کہ تم جو کہہ رہی ہو،وہ صحیح ہے۔ اس کا ثبوت پی ڈی نے اپنے دوست کو دے دیا تھا، بات چیت کرتے ہوئے فون کو اسپیکر پر لگاکر۔دوست نے کہا کہ اب مجھے بتاؤ کہ یہ سب بات کیا ہے اور کہاں تک پہنچی ہے؟ پی ڈی نے پہلے تو بتانے سے انکارکیا لیکن اس کے بعد سارے واقعات اس نے اپنے دوست کو بتائے۔
پی ڈی کے سکریٹری نے پی ڈی سے کہا کہ آج مجھے تھوڑا سا گنوار دکھائی دینے والا اترپردیش کا ایک آدمی ملا، وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ پی ڈی نے اس سے کہا کہ میں کسی سے نہیںملوںگی، تم کسی کا بھی آفر لے کر آجاتے ہو۔ تب سکریٹری نے کہا کہ نہیں،وہ ڈائمنڈ کی پانچ کیریٹ کی انگوٹھی اور پانچ کیریٹ کے ایر رنگس آپ کو گفٹ کرنا چاہتا ہے۔ پی ڈی نے فوراً کہا کہ اسے بلالو۔ اگلے دن وہ شخص پی ڈی سے ملا اور پی ڈی کو گفٹ دیا۔ گفٹ دینے کے بعد اس نے کہا ، میںچاہتا ہوںکہ آپ میری کمپنی کی برانڈ ایمبیسڈر بنیں۔ اس شخص کو یہاںہم ایس این کہیںگے۔ یہ اترپردیش کے ایک شہر کا بڑا بلڈرہے یا اَپ کمنگ بلڈر ہے۔ اس نے پی ڈی سے کہا کہ آپ اگر میری کمپنی کی برنڈ ایمبیسڈر بنیںگی تو میرے بنائے ہوئے مکان زیادہ اچھی طرح سے بک جائیںگے۔ پی ڈی نے حامی بھر دی۔ اس کے بعد یہ شخص پی ڈی کو مہنگے مہنگے تحائف بھیجنے لگا۔ ایک دن اس شخص نے کہا کہ میںآپ سے مل کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ پی ڈی نے اسے بلالیا۔
ایس این نے پی ڈی سے کہا کہ ایک شخص (ایک بڑاسیاستداں) آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ پی ڈی نے نام سناتو ملنے کی حامی بھرلی۔ ایس این نے کہا کہ کل شام کو وہ شخص ممبئی میںہوگا او روہاں آپ سے ملاقات کرے گا۔ پی ڈی نے کہا کہ ملاقات میںکیا میںاپنے منیجر کو ساتھ لاسکتی ہوں۔ ایس این نے کہا، ضرور لے آئیے۔ اگلے دن قلابہ کے تاج محل ہوٹل کے پریسیڈنشیل سوئٹ میںرات 9 بجے پی ڈی کی ملاقات اس شخص سے ہوئی۔ ملاقات میں10 منٹ کے بعد پی ڈی نے اپنے منیجر کو اشارہ کیا اور منیجر سوئٹ کے ڈرائنگ روم میںبیٹھ گیا۔ اس بڑے سیاستداں اور پی ڈی کے بیچ بات چیت شروع ہوئی، جس میںاس نے پی ڈی کی بہت تعریف کی۔ اس دوران اس شخص نے پی ڈی سے کہا کہ میں تمہیںمون لائٹ یعنی چاندنی رات میںتاج محل دکھانا چاہتا ہوں۔ پی ڈی مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ اس شخص نے پی ڈی سے یہ بھی پوچھا کہ میںآپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں۔ پی ڈی نے کہا کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میںچاہتا ہوںکہ آپ زندگی میںبہت خوش رہیں، سکھی رہیں۔ یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ چلی۔ پھر کھانے پینے کے بعدپی ڈی اپنے منیجر کے ساتھ گھر آگئی۔ اگلے دن سے اس شخص نے پی ڈی کو بہت اپنے پن کے میسج بھیجنے شروع کیے۔ اس کے دو ہفتے بعد ایس این نے پی ڈی سے کہا کہ آپ کو ایک فنکشن میںلکھنؤ میںآنا ہے،آپ کے وہ دوست آپ کو مدعو کررہے ہیں۔ ایس این نے پی ڈی سے یہ بھی کہا کہ وہ آپ کے پیار میں مطیع ہوگئے ہیں او ر آپ سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔پی ڈی نے کہا کہ پاگل ہوگئے ہو، وہ اتنے بڑے ہیں او رشادی شدہ ہیں، ان کے بچے ہیں۔ تو ایس این نے کہا کہ اس سے کیا ہوا؟ بہت سارے لوگ شادی شدہ ہیں، بہت سے لوگوںکے بچے ہیں لیکن وہ پیار کرتے ہیں۔ پی ڈی کو اس کے اوپر بھروسہ نہیںہوا۔اسے لگا کہ یہ گوسپ ہے۔ حالانکہ وہ اسپیشل ہوائی جہاز سے مقررہ وقت پر لکھنؤ پہنچی۔ لکھنؤ میںکوئی پروگرام نہیں تھا۔ ایک بڑے پاش گیسٹ ہاؤس میںپی ڈی کی ملاقات اس شخص سے ہوئی ۔ اس شخص نے پی ڈی سے کہا کہ پی ڈی میںچاہتا ہوںکہ میںنے آپ کو چاہا ہے، تو آپ کو زندگی میںکبھی دکھ نہیںہو۔ بتائیے آپ کہاںرہتی ہیں؟ پی ڈی نے بتایا کہ میںچھوٹے فلیٹ میںرہتی ہوں،لیکن ایک بڑا فلیٹ خریدنا چاہتی ہوں۔ اس شخص نے پوچھا کہ اس فلیٹ کی قیمت کتنی ہے، تو پی ڈی نے کہا کہ وہ 32 کروڑ کا فلیٹ ہے۔ اب اس شخص کے چہرے پر تشویش دکھائی دینے لگی۔ اس نے کہا کہ 32 کروڑ تو بہت زیادہ ہیں، لیکن آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں؟ پی ڈی نے کہا کہ 12 کروڑ میرے پاس ہیں لیکن باقی 20 کروڑ نہیںہیں۔ اس شخص نے پی ڈی کو 20 کروڑ دینے کا وعدہ کرلیا۔ اس وعدے کو اس نے اگلے چار دنوںمیں نبھایا۔ اس نے پی ڈی سے یہ بھی کہا کہ میں آپ کو ممبئی میںایک اتنی بڑی پراپرٹی خرید کر دوں گا، جس کا کرایہ آئے گا 15-16 لاکھ روپے مہینہ۔ شاید اس شخص نے یہ پراپرٹی بھی خرید کر پی ڈی کو دے دی او راس کے بعد اس نے جس طرح سے پی ڈی کو میسج بھیجنے شروع کیے، میںیہ کہنا چاہتا ہوں، میںیہ کرلوںگا، میںیہ چھوڑ دوںگا۔ اس سے پی ڈی پریشان ہوگئی او ر اس نے ایس این سے کہا کہ برائے مہربانی میرا ان سے پنڈچھڑوائیے۔ وہ پنڈ ابھی چھوٹا نہیںہے۔
جاٹ آپ کا ساتھ نہیں دے گا
دوسرا واقعہ، الیکشن کا اعلان ہوگیا، ٹکٹوںکے بٹوارے شروع ہوئے تو امت شاہ نے مغربی اترپردیش کے جاٹ لیڈروں کی اپنے جاٹ وزیروںسمیت ایک میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میںانھوںنے کہا، ایسا لگتا ہے کہ جاٹ ناراض ہیں۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں انھوںنے سو فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیے تھے۔ کسی بھی طرح سے جاٹوں کو اپنے ساتھ لانا ہے۔ جتنے جاٹ لیڈر آئے تھے، مغربی اترپردیش کے الگ الگ ضلعوںکے، وہ اپنے یہاںکے چودھری مانے جاتے ہیں۔ انھوںنے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا کہ اس بار جاٹ آپ کا ساتھ نہیں دے گا، کیونکہ آپ نے اجیت سنگھ کو اپنے ساتھ نہیںلیا۔ جاٹوں کو لگتا ہے کہ اجیت سنگھ کے سیاسی اعتکاف کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی ہے او رجاٹ پورے طور پر اجیت سنگھ کے ساتھ ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ کسی بھی طرح سے جاٹوں کو ساتھ رکھیے ،لیکن مغربی اترپردیش کے جاٹ وزیروںسمیت جاٹ لیڈر ،امت شاہ سے یہ صاف کہہ کر چل دیے کہ اس بار وہ جاٹوںکو اپنے ساتھ یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ رکھنے کے لیے کچھ نہیںکرپائیں گے۔
یہ دو واقعات دو طرح کے اشارے دیتے ہیں۔ ایک تو الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کیسے اپنے وعدے سے ہٹتی ہے اور کیسے اپنا گٹھ جوڑ بنانے میںناکام رہتی ہے، جس کی وجہ سے مغربی اترپردیش کی ایک بڑی کمیونٹی اس سے دور چلی جاتی ہے۔اس کا اگلا ممکنہ قدم پارلیمانی انتخابات میںہریانہ میںبھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اترپردیش کے اگلے آٹھ ممکنہ وزرائے اعلیٰ میںکس طرح کے لوگ ہیں، جو اپنی انسانی کمزوریوںکو پورا کرنے کے لیے بے جھجک اپنی حالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
بی ایس پی او رمسلم سماج
سب سے پہلے ہم بہوجن سماج پارٹی کو لیتے ہیں۔ ہمارے سروے میںشروع میںبہوجن سماج پارٹی سب سے آگے دکھائی دیتی تھی۔ لیکن بہوجن سماج پارٹی سے کئی لوگ ، پارٹی چھوڑ کر چلے گئے او روہ بھی تب، جب الیکشن نزدیک آگیا تھا۔ انھوںنے لوگوںکے بیچ کئی الگ الگ دلیلیںدیں۔ لیکن جو پارٹی میں ہیں، ان میںایک صاحب وزیر بھی رہے۔انھوںنے اپنے کسی دوست سے کہا کہ میں نے دو ٹکٹ مانگے تھے اور ان دو ٹکٹوںکے لیے مجھے 10 کروڑ دینے پڑے۔ انھوں نے اپنے دوست سے کہا کہ تب مجھے لگا کہ میں کیوںاس پارٹی میں ہوں۔ جس کے لیے میں نے سب کچھ کیا او رمجھے بھی اپنے او ر ایک دوسرے ٹکٹ کے لیے پارٹی کو 10 کروڑ دینے پڑ رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات بہت سارے لوگوںکے ساتھ پیش آئے اور جو اچھے امیدوار تھے، ان کی جگہ ان لوگوںکو ٹکٹ ملاجو امیدوار شاید دلت کمیونٹی کے ووٹ کے لیے بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ پورے الیکشن کے دوران یا الیکشن سے پہلے، بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے مسلم سماج کو اپنے پاس نہ تو بلایا، نہ تو ان سے مشورہ کیا اور نہ ہی ان کے سوالوںکو حل کرنے کا کوئی وعدہ کیا۔ الٹے مسلم سماج یا اس سماج کے لیڈر بہوجن سماج پارٹی کے حق میں اپیلیں کرنے لگے،کیونکہ انھیں لگا کہ اکھلیش یادو کے داخلی انتشار کی وجہ سے کہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بڑھت نہ مل جائے۔ اگر مسلم کمیونٹی اکھلیش یادو اور مایاوتی میںبٹ گئی تب بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت یقینی ہوجائے گی۔ اکھلیش یادو نے کامیابی کے ساتھ اترپردیش کے مسلمانوںکے بیچ یہ پیغام پہنچادیا کہ اگر مایاوتی جی یہ الیکشن جیتتی ہیں او رکچھ سیٹیںکم رہ جاتی ہیں،تو ان کا گٹھ جوڑ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہوجائے گا۔ اس تشہیر کا دباؤ اتنا زیادہ بڑھا کہ مایاوتی جی کو عوامی طور پر یہ اعلان کرنا پڑا کہ میںبھلے ہی سرکار نہ بنا پاؤں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد سے سرکار نہیںبناؤںگی۔
ایس پی- کانگریس گٹھ بندھن کی کمزوری اور طاقت
دوسری طاقت، جو اترپردیش کے الیکشن میںسب سے بڑی بن کر ابھری ہے، وہ اکھلیش یادو ہیں۔ اکھلیش یادو اس وقت انتہائی اعتماد سے لبریز ہیںاور انھوںنے سماجوادی پارٹی کی سیاسی سمت ایک جھٹکے میںموڑدی ہے۔ ملائم سنگھ یادو 30 سال تک کانگریس کے خلاف سیاست کرتے رہے۔ حالانکہ کانگریس حکومت کو حمایت بھی دیتے رہے، حکومت بھی چلواتے رہے۔ لیکن عوامی طور پر انھوں نے کبھی کانگریس کی تعریف نہیںکی۔ اکھلیش یادو نے ایک جھٹکے میں کانگریس کا ساتھ لیا اورراہل گاندھی کے ساتھ سیٹوںکا سمجھوتہ کرلیا۔ اس سمجھوتے کے پیچھے راہل گاندھی کم اور پرینکا گاندھی زیادہ تھیں۔ پرینکا گاندھی نے کسی بھی طرح سے اکھلیش یادو کو سمجھایا، تیار کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کر یں۔پرینکا گاندھی کے معتمد پرشانت کشور کا بھی اس میںبڑا رول رہا۔
اکھلیش یادو کے ساتھ اس الیکشن میں اترپردیش کا نوجوان دکھائی دے رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے چنے ہوئے ایم ایل اے بھی اکھلیش یادو کے ساتھ ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اکھلیش یادو بڑی اکثریت سے الیکشن جیتیں گے۔ مگر دو تضاد اکھلیش کے ساتھ ہیں۔ پچھلے تین سالوںسے اکھلیش یادو سماجوادی پارٹی کو نوجوانوںکی پارٹی بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ انھوںنے ہر اسمبلی حلقہ میںایک نوجوان تیار کیا اور اسے پچھلے چار سال میں پیسے سے مضبوط کیا۔ اسے ٹھیکے دلوائے تاکہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ اس شخص نے اپنے انتخابی حلقہ میںجم کر کام کیا۔ لیکن جیسی سرگرمیاںہوئیں، جس طرح کے واقعات ہوئے اور الیکشن کمیشن میںاراکین اسمبلی کے حلف نامے کی ضرورت پڑی، تو اکھلیش یادو نے موجودہ سبھی اراکین اسمبلی سے وعدہ کیا یا انھیںیہ وعدہ کرنا پڑا کہ وہ انھیںٹکٹ دیںگے۔ اکھلیش یادو نے زیادہ تر موجودہ اراکین اسمبلی کو ٹکٹ دیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سارے لوگ ٹکٹ سے محروم رہ گئے، جو پچھلے تین چار سال کے دوران اترپردیش میںاسمبلی میںجانے کے لیے تیاری کررہے تھے او رجنھیںاکھلیش یادو نے ہی مضبوط بنایا تھا۔ان میں سے زیادہ تر سماجوادی پارٹی کے باضابطہ امیدواروںکے خلاف ہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف، جب اکھلیش یادو اپنے باپ سے اقتدار چھین رہے تھے، تب ملائم سنگھ یادو نے دو بیان دیے۔ پہلا بیان کہ اکھلیش یادو مسلم مخالف ہیں اور دوسرا یہ کہ میںاس گٹھ بندھن کو صحیح نہیںمانتا اور میرے حامی کانگریس کے خلاف الیکشن لڑیں۔ بہت سارے لوگ اس اعلان کے بعد تقریباً 50 سیٹوں پر، کانگریس کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے۔ حالانکہ ملائم سنگھ یادو نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے لیے انتخابی تشہیر کریںگے۔ لیکن ملائم سنگھ یادو کسی کے لیے بھی انتخابی تشہیر میں ابھی نہیںگئے ہیں۔ یہ دو صورت حال اکھلیش یادو کے لیے پریشانی پیدا کرسکتی ہیں۔ ایک تیسری انڈر کرنٹہے کہ شیوپال سنگھ یادو کو جس طرح سے مات ملی اس سے شیو پال یادو کے بہت سارے حامی الیکشن سے دور کھڑے ہیں۔ حالانکہ صرف شیو پال یادو کے حامی ہی دور نہیں کھڑے ہیں، ملائم سنگھ کے 40 سال کے سیاسی ساتھی اور ان کی تعریف کرنے والے لوگ بھی الیکشن سے دور کھڑے ہیں۔ یہ تین چیزیںاکھلیش یادو کے پوری طرح سے اقتدار حاصل کرنے میں آڑے آسکتی ہیں۔
کانگریس پارٹی کا گٹھ بندھن سماجوادی پارٹی سے ہوا او راس میں پرینکا گاندھی کابہت بڑا رول رہا۔ سیٹیںلگ بھگ بٹ گئیں او رکانگریس صرف 105 سیٹوںپر الیکشن لڑ رہی ہے۔ لیکن اس سمجھوتہ میںاتنی تاخیر ہوگئی کہ اترپردیش کی کسی بھی ریلی میں کانگریس کے لوگ شامل نہیں ہوئے ( ان ریلیوںکو چھوڑ کر جن میںاکھلیش یادو اور راہل گاندھی ایک ساتھ بولنے والے تھے)۔ دوسری حقیقت کانگریس کے حامی ووٹ سماجوادی پارٹی کو نہیںپڑے بلکہ جہاںکانگریس نہیںلڑرہی ہے، وہاں کانگریس کا ووٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کو چلا گیا۔ تیسری چیز ، مسلمانوںمیںبٹوارہ ہوااور مسلمانوں کی بڑی تعداد بہت سارے انتخابی حلقوں میںاکھلیش اور راہل گاندھی کے گٹھ بندھن کے ساتھ گئی۔ کانگریس کی پریشانی یہ ہے کہ بہت ساری جگہوں پر امیدوار ہی نہیں ملے تو اسے سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو اپنے انتخابی نشان پر الیکشن میںاتارنا پڑا، کیونکہ اسے اپنے 105 لوگوں کی تعداد پوری کرنی تھی۔
لکھنؤ کے تاج محل ہوٹل میں اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کی پہلی کانفرنس میںلوگوںنے دھیان نہیں دیا۔ وہاں پر راہل گاندھی اپنا دبدبہ دکھانے کے لیے بیتاب تھے۔ اکھلیش یادو نے اپنا خطاب راہل جی بول کرکیااور راہل گاندھی نے اپنے خطاب میںکہا کہ اکھلیش ایک اچھا لڑکا ہے۔ اکھلیش نے ان کی طرف تعجب سے دیکھا او راس جملہ کے بعد انھوںنے راہل جی کی جگہ راہل کہنا شروع کیا۔ یہ بتاتا ہے کہ دونوںکے کارکن ایک ہوکر الیکشن نہیںلڑ رہے ہیں۔ اس لیے کانگریس کی سیٹیں 35 سے 45 کے بیچ رہنے کی امید ہے، جبکہ پرشانت کشور کا کہنا ہے اور انھوںنے پرینکا گاندھی کو اس بات پر پریزنٹیشن بھی دیا کہ کانگریس اترپردیش میں 76 سیٹیں جیت رہی ہے۔ لیکن پرینکا گاندھی نے صرف گاندھی پریوار کی روایتی سیٹ رائے بریلی علاقے میںہی تشہیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ یہ خبر آرہی تھی کہ وہ پورے اترپردیش میںکیمپین کریںگی۔ پرینکا گاندھی شاید اس پس وپیش میںپڑ رہی ہیںکہ اگر وہ کیمپین کرتی ہیں اور کانگریس کو سیٹیںنہیں آتی ہیں ،تو ان کے اپنے سیاسی مستقبل کو لے کر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوجائے گا۔ یہ پس و پیش پرینکا گاندھی کے دل میںہے۔ اس پس و پیش سے راہل گاندھی کا کوئی لینا دینا نہیںہے۔ راہل گاندھی اس الیکشن میںسادھو سنت والی زبان میںان سوالوں پر زیادہ بات کرتے دکھائی دیے، جن کا الیکشن سے کوئی مطلب نہیںہے۔
بی جے پی کی الجھن
بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا چہرہ طے نہیںکرپائی ہے، جسے وزیر اعلیٰ بنایا جاسکے۔ لیکن مغربی اترپردیش کی ایک سبھا میںیوگی آدتیہ ناتھ نے جس طرح کا بھاشن دیا اور جیسا انھیںوہاں ردعمل ملا، اس سے دہلی میںبیٹھے پارٹی کے صدر کو یہ فیصلہ لینا پڑا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش میںزیادہ سے زیادہ جگہوںپر گھمایا جائے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو دہلی بلایا گیا ۔ ان کے دہلی پہنچنے سے پہلے یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ انھیں مستقل طور پر تشہیر کے لیے ایک ہیلی کاپٹر دیا جائے، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ جگہوں پر جائیں۔ جب وہ دہلی آئے تو ان سے پارٹی کے سینئر لیڈروں نے، خاص طور سے پارٹی صدر نے کہہ دیا کہ ہم اعلان تو نہیںکررہے ہیں، لیکن اگر ہم جیتتے ہیںتو آپ ہمارے اگلے وزیر اعلیٰ ہوںگے۔ یوگی آدتیہ ناتھ شب و روز بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشہیر میں لگے ہوئے ہیں۔ یوگی کے ذریعہ اٹھائیگئے سوال اترپردیش میںبھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ امید دے گئے کہ الیکشن میںپولرائزیشن ہوجائے گا او رمسلمانوں کے خلاف سارے ہندو بی جے پی کو ووٹ دیںگے۔حالانکہ اب تک یہ پولرائزیشن نہیںہوپایا ہے۔ ساری کوششوں کے بعد بھی شروع کے تین چار فیز تک عوام نے پولرائزڈ ہونے سے منع کردیا ہے۔ اب آخری مرحلہ کے لیے کچھ طاقتیں پولرائزیشن کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ اور کوئی بڑا کیمپینر نہیں ہے۔ ان ہی کی سبھاؤں میںبڑی بھیڑ ہورہی ہے۔ وہ جیسے بھاشن دے رہے ہیں ، اس سے یہ مانا جانا چاہیے کہ اترپردیش میںبی جے پی کو واضح فتح ملنے والی ہے۔ لیکن یہاںپر سن 1957 کے الیکشن کو یاد رکھنا چاہیے،جب بھارتیہ جن سنگھ کی سبھائیں ہورہی تھیں اور اٹل بہاری واجپئی کی سبھاؤں میں لاکھوں لوگ آتے تھے۔ بعد میںاٹل جی نے ایک بات چیت کے دوران، جس میں میں شامل تھا، ہندوستان کے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر جی سے کہا کہ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہم جیت رہے ہیں لیکن بعد میںمجھے پتہ چلا کہ میری سبھاؤں میں جتنی بھیڑ ہورہی تھی، اتنے ہی ہمارے ووٹ کم ہورہے تھے۔ یہ بات میںاس لیے یاد کررہا ہوں کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے دیہی علاقے کے لوگ ناراض ہیں۔ خاص طور سے کسان، جنھیں اس نوٹ بندی سے کافی پریشانیاںجھیلنی پڑیں۔ تاجر طبقہ، جو بی جے پی کا ہمیشہ حامی رہاہے، لیکن آج اس کا ایک بڑا طبقہ بی جے پی سے ناراض ہے ۔ نوٹ بندی سے ان کی خوردہ تجارت بہت زیادہ دباؤ میںآگئی اور انھیں ان لوگوںکو اپنے یہاںسے ہٹانا پڑا جنھیں وہ نقد پیسہ دے کر اپنی تجارت کو بڑھانے کے لیے کام میںلاتے تھے۔ تجارت پر جس طرح کی سختی وزیر اعظم مودی لاگو کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ تاجروں کو سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ تاجروں کی ناراضگی کا دوسرا سبب یہ بھی ہے ۔ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مکمل قیادت پچھڑوں کو دے دی گئی ہے ۔ اس سے ان کا روایتی برہمن سماج سو فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اجیت سنگھ کے ساتھ گٹھ بندھن نہ کرنے کا بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کچھ مسلم ووٹ بھی ملتے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو الیکشن میں نہیں اتارا۔ اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت اس الیکشن میں بھلے ہی دیکھنے میںبہت مضبوط لگے ،لیکن یہ پریشانیاں الیکشن میں اس کے سامنے آرہی ہیں اور لوگوں کو اس کے حق میں ووٹ دینے سے روک رہی ہے۔
سرکار کس کی بنے گی
اگر یہ صورت حال رہتی ہے تو اس میں شک ہے کہ اترپردیش میںکسی بھی پارٹی کو اکثریت ملے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے یعنی کسی پارٹی کو اکثریت نہیںملتی ہے تو اس کا مطلب ہے، فریکچرڈ مینڈیٹ یعنی ہنگ اسمبلی اترپردیش میںدکھائی دے گی۔ تب حکومت کس کی بنے گی؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ تب بھارتیہ جنتا پارٹی اور مایاوتی کی حکومت بنے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی اور اکھلیش یادو جی کی حکومت بنے گی۔ اکھلیش یادو کے بارے میں ایک عام تصور ہے کہ انھوںنے جدوجہد نہیں دیکھی ہے، سماجواد نام ان کا رٹا ہوا ہے لیکن سماجوادی قدروںمیںان کی آستھا کم ہے ۔ انھوںنے جیسے کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کیا، سرکار بنانے کے لیے ویسے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ بھی گٹھ بندھن کرسکتے ہیں ۔ اگر مایاوتی کی تعداد کم ہوئی ، تو راہل گاندھی ،اکھلیش یادو کا ساتھ چھوڑ کر مایاوتی سے بھی ہاتھ ملا سکتے ہیںاور ان کی سرکار بنوا سکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میںیہ پیغام یا اشارہ دیا بھی کہ وہ مایا وتی کو بہت نقصاندہ نہیںمانتے ہیں۔اگر الیکشن کے بعد ایسی صورت حال آتی ہے ، تو مایاوتی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میںانھیںکوئی دقت نہیں ہو گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ لیڈر اگر الیکشن نہیں جیتتے ہیں ، جن میںسنگیت سوم بھی شامل ہیں، تو اترپردیش کا فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مانا جائے گا۔ ایسی صورت میںبی جے پی کے صدر امت شاہ کے مستقبل پر بھی اثر پڑے گا،کیونکہ بہار اور اترپردیش کے سارے فیصلے صرف اور صرف امت شاہ نے لیے ہیں۔ امت شاہ کی کوشش راجناتھ سنگھ کو اترپردیش میںپارٹی کا چہرہ بنانے کی تھی لیکن وہ بہت صفائی سے ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔
اترپردیش کا الیکشن ملک کے آنے والے انتخابات پر اثر ڈالے گا، جن میںمدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، مہاراشٹر جیسی ریاستیںشامل ہیں ۔ 2019 کے اوپر تو یقینی طور پراس کا اثرہو گا۔ یہ الیکشن ان لائنوںکو صاف طور پر سامنے لائے گا، جس کے آس پاس اکھلیش یادو اور راہل گاندھی اپنی حکمت عملی طے کریںگے۔
پرینکا گاندھی اور نتیش کمار، یہ دو پردے کے پیچھے کے کھلاڑی ہیں۔ پرینکا گاندھی کانگریس کی پوری حکمت عملی بنانے میں، ایشوز طے کرنے میں، مدد پہنچانے میںسب سے بڑا رول پلے کررہی ہیں۔ دوسری طرف، نتیش کمار اترپردیش میں ایک سیٹ پر بھی الیکشن نہیںلڑ رہے ہیں، تاکہ سیکولر ووٹوں کا بٹوارہ نہ ہو۔ حالانکہ اگر وہ 50-60 سیٹوںپر الیکشن لڑتے ،تو ان کے پاس بھی 6-8 سیٹیں ہوتیں، لیکن انھوںنے ویسا ہی جرأت مندانہ فیصلہ لیا جیسا جرأت مندانہ فیصلہ انھوںنے کانگریس کو بہار میں40 سیٹیںدے کر لیا تھا۔
اکھلیش یادو کی ایک بات صحیح ہے کہ اترپردیش کا الیکشن ملک کا مستقبل طے کرے گا۔ تقریباً یہ بات سبھی لوگ دبی زبان سے کررہے ہیں۔ میںیہ تو نہیںکہتا کہ ملک کا مستقبل طے کرے گا لیکن ملک کے مستقبل کی سمت طے کرے گا او ربھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی بہت ساری پالیسیوں پر پھر سے سوچنے پر مجبور کرے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اگرالیکشن جیت جاتی ہے تو پھر سماجوادی پارٹی ہو یا ملک کی دوسری پارٹیاں، انھیں 2019 کے لیے ایک دباؤ کے تحت ایک ساتھ آنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس وقت اگر راہل گاندھی حالات کے اوپر سارا بوجھ ڈال دیں گے، تب وہ اپوزیشن کے واحد لیڈر نہیں کہلائیں گے ، ان کے سامنے کئی سارے اور لیڈر کھڑے ہوجائیںگے جس کا فائدہ سیدھا سیدھا وزیر اعظم نریندر مودی کو ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *