پچاس ہزار سے زیادہ نقدی نکلانے پر لگ سکتا ہے ٹیکس، وزرائے اعلیٰ نے پی ایم مودی کو سونپی رپورٹ

Txn-Rateنئی دہلی: بینکوں سے پچاس ہزار اور اس سے زیادہ نقد نکلانے پر ٹرانزیکشن ٹیکس لگائے جانے کی سفارش کرتے ہوئے وزرائے اعلیٰ کی کمیٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی حتمی رپورٹ دے دی۔ ڈیجیٹل پیمنٹ پر تشکیل ہوئی اس کمیٹی کی قیادت آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کر رہے تھے۔ غور طلب ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کو سال 2005میں ایسا ہی قدم اٹھا لینے کے بعد ہوئی مخالفت کی وجہ سے اسے واپس لینا پڑا تھا۔ نائیڈو نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نہیں تھا اور اسی وجہ سے اس قدم کی مخالفت ہوئی تھی۔ اب ہمارے پاس ڈیجیٹل ٹرانزیکشن اور موبائل ہیں اور جو اس سب کو بے حد آسان بناتے ہیں۔
وزرائے اعلیٰ کی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بڑے لین دین کے معاملہ میں نقدی کے استعمال پر روک لگانے کے لئے 50ہزار سے زیادہ کے لین دین پر بینک کے ذریعہ ٹیکس لگایا جائے۔ ہر طرح کے بڑے لین دین میں نقدی کے لین دین کی زیادہ سے زیادہ حد تک کی جائے ۔ رپورٹ میں آدھار کارڈ کے استعمال پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بینکوں کے ذریعہ کے وائی سی فارم میں آدھار کارڈ نمبر کو اولین شناختی نشان بنایا جانا چاہئے اور اس سلسلہ میں موجودہ آدھار قانون کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں ڈیجیٹل پیمنٹ کے معاملہ میں ہندوستان دنیا میں کتنا پیچھے ہے، اس بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ کمیٹی نے مائیکرو اے ٹیم کے لئے ٹیکسوں میں حوصلہ افزائی کی سفارش بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل پیمنٹ کو بڑھاوا دینے کے لئے گائیڈلائنس میں بدلائو کی سفارش کی ہے۔ یہ کمیٹی گزشتہ سال نوٹ بندی کے اعلان کے بعد نومبر میں تشکیل کی گئی تھی۔ کمیٹی کا مقصد شفافیت لانے کے لئے ڈیجیٹل لین دین سسٹم کو ڈیولپ کرنا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *