کشمیر کشمیریوں کو سونپنا چاہیے

dami00میں17 دسمبر سے 20 دسمبر کے بیچ سری نگر کے دورے پر تھا۔اس دورے کے پیچھے خیال یہ تھا کہ خود وہاں جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے کہ حالات کیا ہیں؟ وہاں ہو کیا رہا ہے؟ کن لوگوں نے کشمیر کے عوام کو اتنا زیادہ غصہ میں مبتلا کر دیا ہے؟ میں وہاںکے علیحدگی پسند لیڈروں سے ملنے کا زیادہ خواہش مند تھا۔ میںملا بھی۔ لیکن، اس موقع کا فائدہ میںنے وہاںکے سماج کے مختلف حصے کے لوگوں سے ملنے کے لیے بھی اٹھایا۔میںمختصر طور پر یاد کرکے آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ میںنے وہاں کیا دیکھا، کیا باتیں کیں اور وہاں کیا کیا واقعات ہوئے ہیں؟
حریت لیڈروںسے ملاقات
میں علیحدگی پسند مانے جانے والے لیڈروں میں سب سے سینئر لیڈر سید علی شاہ گیلانی سے ملا۔ گیلانی ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ وہ کافی نرم گفتار آدمی ہیں اور وہ اپنے گھر تک ہی محدود ہیں، کیونکہ پولیس انھیں باہر نکلنے نہیں دیتی ہے۔ یہاںتک کہ انھیں نماز کے لیے مسجد جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ لیکن وہ کافی پرعزم ہیں۔ وہ اس بات کو لے کر کافی واضح ہیں کہ جب تک ہندوستان اور پاکستان بیٹھ کر بات چیت نہیں کرتے ہیںتب تک کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ان کے گروپ کی مانگ یقینی طور پر ریفرنڈم ہے، جو کشمیر کا طویل مدت سے زیر التوا مدعا ہے۔ لیکن ان کے عمل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو دکھاتا ہو کہ وہ کشمیر میں عام لوگوں کے لیے رکاوٹ یا مسئلہ چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ دن پہلے انھوںنے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ سیاح بڑی تعداد میں کشمیر آئیں۔ اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ کوئی بھی سیاحوںکو نقصان نہیں پہنچاتا ہے۔ تشدد کی کارروائی ناراض نوجوانوں اور پاراملٹری فورسیز کے بیچ ہی ہوتی ہے۔
اس کے بعد، میں نے میر واعظ مولوی عمر فاروق، جو حریت کے ایک اور سینئر لیڈر ہیں، سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا نتیجہ بھی کم وبیش ویسا ہی رہا، لیکن وہ بات چیت شروع کیے جانے کو لے کر بہت زیادہ بے چین نظر آئے۔ وہ اس بات سے بھی کافی خوش نظر آئے کہ کم سے کم سول سوسائٹی کشمیر میں دلچسپی لے رہی ہے۔ انھوںنے اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ ہمیں اپنی طرف سے حکومت ہند کو یہ بتانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کچھ قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ میں نے مسلم کانفرنس کے پروفیسر عبدالغنی بٹ سے بھی ملاقات کی۔ وہ ایک بہت ہی معزز شخصیت ہیں۔ حالانکہ ان کی پارٹی انتخابی طور پر ایک اہم پارٹی نہیں ہے،لیکن ایمانداری اور اقدار کو لے کر ان کی ساکھ برقرار ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تشدد کہیں نہیں لے جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دہلی کو چاہیے کہ وہ سری نگر کے رابطے میں رہے، بات چیت کرے۔ پروفیسر بٹ ہمارے جیسے سول سوسائٹی گروپ کی کاوشوں کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔پھر، ہم نے نعیم خان، جو حریت کے سینئر ممبر ہیں او رجو طویل عرصہ سے انڈر گراؤنڈ ہیں، سے ملاقات کی۔ انھوں نے بھی یہی مانا کہ تب تک کچھ بھی نتیجہ نہیں آئے گا جب تک کہ دونوں فریق بیٹھ کر بات چیت نہیں کرتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان سبھی لوگوں میں ایک مثبت نوٹ تھا۔ حقیقت میں کوئی بھی منفی نہیں تھا اور گتھی کو الجھائے رکھنا نہیں چاہتا۔
طلبہ، وکیلوں او رتاجروں کی سوچ الگ
پھر ہم ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران سے ملے جو حقیقت میںکوئی آواز نہیں ہے، کیونکہ خود عدلیہ وہاں اپنے حکم کو عمل درآمد کراپانے کی اہل نہیں ہے۔ ان ممبران نے ایک مثال کے ذریعہ مجھے بتایا کہ ہائی کورٹ نے ایک حکم دیا ہے کہ شری گیلانی کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں۔ 2009 میں فیصلہ سنایا گیا تھا اور ابھی تک پولیس نے اس پر کارروائی نہیں کی ہے۔ ظاہر ہے ، یہ عدالت کی توہین کی ایک واضح مثال ہے۔ لیکن یہی وہاں کی عدلیہ کی صورت حال ہے۔ پورے ہندوستان کے یا کہیں کہ دنیا بھر کے وکیل، پڑھے لکھے ہوتے ہیں، اچھی طرح سے حقائق سے واقف ہوتے ہیں اور ان کی بات بھی کافی مدلل ہوتی ہے۔ کشمیر کے کسی بھی حصے سے وہ متعلق ہوسکتے ہیں، کچھ نیشنل کانفرنس، کچھ پی ڈی پی کے ہوسکتے ہیں، کچھ کانگریس میں ہوسکتے ہیں، لیکن جہاں تک بات چیت کا سوال ہے، وہ پوری طرح سے غیر سیاسی تھی۔
کچھ طلبہ مجھ سے ملنے آئے۔ جیسا کہ ہر جگہ ہوتا ہے، یہاں بھی طلبہ کے الگ خیالات ہیں۔ کچھ طلبہ نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ کیوں ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ہم پاکستان یا آزادی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہند ہمارے ساتھ مناسب طریقے سے سلوک کرے۔ کیوں آپ مسئلہ کو اور خراب کررہے ہیں؟ برہان وانی کے معاملے میں ہر کوئی اس بات سے متفق ہے کہ یہ ایک معمولی واقعہ تھا۔ یقینی طور پر حریت یا کسی دوسرے کے ذریعہ شروع نہیںکیا گیاتھا۔یہ ایسا کیٹلسٹ بن گیا تھا جس نے پہلے سے جمع غصے کو اور بھڑکا دیا اور اس نوجوان کے قتل نے حالات کو قابوسے باہر کردیا۔ ہاں، یہ صحیح ہے کہ اس کے بعد حریت نے کیلینڈر جاری کیا تاکہ ہڑتال میںنظم و ضبط لایا جاسکے۔ اور ایک ایسی ہڑتال جہاں چھ مہینے سبھی دکانیں بند ہوجاتی ہیں، لوگ اپنی روزی روٹی کھو رہے ہیں، اسکولوں، کالجوں کو بند کردیا جاتا ہے اور یہ سب کسی خوف کے بغیر رضاکارانہ طور پر ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑا اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ ہوا کس سمت میں بہہ رہی ہے۔ میں نہیںجانتا کہ وہ کون ہیں جو کشمیر کی زمینی حقیقت کے بارے میں دہلی میں سرکار کو مطلع کرتے ہیں۔ لیکن یقینی طور پر دہلی کی سرکار کو بہتر طریقے سے مطلع کرنے کی ضرورت ہے۔ بے شک، سردی کے موسم نے اس غصے کو تھوڑا کم کردیا ہے او ربتایا ہے کہ آپ سالوں تک اس طرح کی ایک تحریک نہیںچلاسکتے۔چھ مہینے تک وہاںراحت ہے، لیکن یہ ماننا کہ امن واپس آگیا ہے، جھوٹی بات ہوگی۔ سناٹا، امن نہیں ہے۔ سردیوں کے ختم ہونے کے بعد، جب سرکار پھر سے سری نگر آجاتی ہے، سرگرمی پھرسے شروع ہوتی ہے، میں نہیں جانتا کہ کیا ہوگا؟
میں نے تاجروں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی۔ وہ پھر سے اپنی تجارت کو شروع کرنے میں بہت زیاہ دلچسپی لے رہے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی حریت لیڈروں کے خلاف کچھ بھی نہیںکہا۔ نہ ہی انھوںنے نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی کے خلاف بولا۔ وہ ایسے فکرمند شہری ہیں جوعام زندگی چاہتے ہیں۔عام زندگی کی واپسی چاہتے ہیں۔ اصل میںمیںنے ہی ان سے اصرار کیا تھا کہ وہ ایک لائن لیں، لیکن سوائے یہ کہنے کے کہ حکومت ہند کو پاکستان کے ساتھ ، کشمیر کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ یہ ایک سہ فریقی بات چیت ہوسکتی ہے، کوئی لائن نہیں لے سکے۔ وہ چاہتے ہیںکہ کوئی ایسا فارمولہ نکلے جس سے سری نگر اور کشمیر کے دیگر حصوں میں عام پُرامن زندگی کی واپسی ہوسکے۔
علیحدگی کا احساس کیوں؟
ان سبھی لوگوں سے ملاقات کرنے کے بعد سوال یہ ہے کہ ان سب کو جوڑنے والا کامن دھاگاکیا ہے؟ دراصل آج کے نوجوان جن میں غصہ ہے، انھیں تاریخ کا پتہ نہیں ہے۔ لیکن میں کیا کہوں، یہاں تو بڑی عمر کے بھی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کشمیر کی تاریخ کا اپنا ایڈیشن ہے او روہی بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب شیخ عبداللہ ، جو کشمیر کے غیر متنازع لیڈر تھے، ان کے بارے میں بھی الگ کہانیاں سنائی جارہی ہیں۔ لوگ یہاں تک سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا شیخ عبداللہ غیر متنازع لیڈر تھے؟ یہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک اچھی بات نہیں ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ یہی کیا ہے او رجواہر لعل نہرو وغیرہ کو قصوروار مانتی ہے یا جان بوجھ کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبداللہ اصلاح پسند تھے، وہ زمینداری کے خلاف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مہاراجہ کے تابع ہندو زمیندار تھے او رمسلمان ان کے جوت دار تھے۔ انھوںنے اس میں اصلاح کی، توازن لائے۔ بہرحال مجھے لگتا ہے کہ حکومت ہند کو مثبت کارروائی کرنی چاہیے،ا سے سرگرم ہونا چاہیے۔ اس وقت کسی کے ساتھ بھی کوئی بات کرنے کا مطلب نہیں ہے جب عام شہری کی آزادی اور انسانی حقوق چھین لیے گئے ہوں۔ایسے میں جب آپ سری نگر میں دھرنا نہیں دے سکتے، پُرامن دھرنا نہیں کرسکتے، آپ ایک ہال میں میٹنگ نہیں کرسکتے، اس سے تو مطلق العنانیت اور تاناشاہی کے اشارے مل رہے ہیں۔ یہ آگے لوگوں کو علیحدگی کی طرف دھکیلے گا۔
میرے لیے سب سے بڑا جھٹکا عام لوگوں کے بیچ علیحدگی کا احساس تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہند امن کے وقت میں بھی سخت قانون کا سہارا لے رہی ہے، جس کی اصل میں ضرورت نہیں ہے۔ کیا ہوگا اگر آپ گیلانی کو سری نگر میںگھومنے کی اجازت دے دیتے ہیں؟ کیا ہوگا اگر شبیر شاہ کو جیل میں نہیں رکھا جاتا ہے؟ انھیں آزاد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کشمیر ہندوستان سے آزاد ہوجائے گا۔ بالکل نہیں۔ وہاں فوج پاکستانی سرحد پر کھڑی ہے۔ وہ رہے گی بھی، کوئی اس پر سوال کھڑے نہیں کرتا لیکن عام شہری حقوق، انسانی حقوق بحال کیے جانے چاہئیں۔ اتنا ہی نہیں ، وہاں اسے لے کر بھی ناراضگی ہے کہ آرٹیکل 370، جسے کشمیریوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے لاگو کیا گیا تھااور جسے مضبوط بنانے کی ضرورت تھی، اسے اور کمزور کیا جارہا ہے۔ 1953 میںجب شیخ عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور 1975 میںجب وہ پھر سے وزیر اعلیٰ بنے، اس بائیس سال کے بیچ تقریباً سبھی قوانین کو ایسا بنایا گیا جو آرٹیکل 370کو رسمی بنا کر رکھ دینے والے تھے۔ کوئی بھی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ بخشی غلام محمد، شمس الدین، جی ایم صادق اور سید میر قاسم کے وقت ان تجاویز کو اسمبلیوں سے منظور کیا گیا تھا۔ ٹھیک ہے، لیکن میں نہیں جانتا کہ موجودہ اسمبلی کیوں نہیں ان تجاویز کو رد کرسکتی ہے؟ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ کی طویل عرصے تک سرکاریں رہی ہیں۔ یہ قرارداد لا سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ اُس وقت جو تجاویز لائی گئی تھیں، انھیں ہم ختم کرتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اپنا قانون لاگو کریں گے، ہمیں ہندوستان کے قوانین کو یہاں لاگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن یہ سب قانونی او رتکنیکی معاملے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کچھ اقتصادی مسئلوں پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حق میں فیصلہ دیا، اس سے وہ غصہ میں ہیں۔ وہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے قرض چاہتے ہیں۔ یہ منطقی ہے۔ قرض کچھ قوانین کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے، لیکن علیحدگی کا احساس نفسیاتی ہے۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو تاجروں اور بینکوں کے بیچ توازن لانے کے لیے بخوبی مضبوط ہونا چاہیے۔ یہاںکے لوگ الزام لگاتے ہیں کہ سپریم کورٹ بھی ہندوستان بنام کشمیر کارڈ کھیل رہا ہے۔ یہ سچ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ صرف ایک قانون کی تشریح کررہا ہے، لیکن جب حکومت ہند ہندوستان اور کشمیر کے بیچ اس دیوار کو کھڑا کرتی ہے، تو کل پانچ یا دس سال بعد بھی حل نہیںنکلے گا۔ کشمیر کے لوگ مرکزی سرکار کے ذریعہ دیے گئے بھاشنوں سے،جس میں ٹیررسٹ منی، اے ٹی ایم میں کوئی قطار نہیں ہے، سے متفق نہیں ہیں۔ وہاں اے ٹی ایم میں اس لیے قطار نہیں ہے کیونکہ سردی کا موسم آنے سے پہلے لوگ فطری طور پر گھر میں دو سے تین مہینوں کا کھانا محفوظ کرلیتے ہیں۔ اس لیے وہاں اے ٹی ایم میں کوئی قطارنہیں ہے۔ اس لیے ، وہ ہندوستان کے دیگرحصوں کی طرح نہیں ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے انھیں تکلیف نہیں دی ہے۔ نوٹ بندی جس سے وہ گہرے متاثر ہوئے ہیں، جیسے اترپردیش، بہار، دہلی او ر ممبئی متاثر ہوا ہے۔
اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟ میرے حساب سے اگر سرکار صرف سیکورٹی نیٹ ورک کے ذریعہ کشمیر کو دیکھنا چاہتی ہے، چاہے نیشنل سیکورٹی، صلاح کار، فوج، وزارت داخلہ کے نظریے سے دیکھنا چاہتی ہے تو مسئلہ ہے۔ کشمیریوں کو اگر غیر ملک جانا ہے تو انھیں ہندوستانی پاسپورٹ ہی چاہیے، اس طرح وہ قانونی طور پر ہندوستان کا حصہ ہیں۔ لیکن ان کے دماغ اور دل ہندوستان کے ساتھ نہیںہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میںیہ احساس بار بار آتا ہے کہ ہم پیدائشی کشمیری ہیں اور بہار یا کیرالہ یا تمل ناڈو سے آیا ہوا ایک فوجی ہم سے ہر کچھ کلو میٹر کے بعد ہمار ی پہچان (آئی ڈی) پوچھتا ہے۔ یہ فوج کے جوان کشمیر سے نہیں ہیں اور ہم سے کشمیر کی آئی ڈی مانگتے ہیں۔ یعنی پولیس، پاراملٹری فورسیز، فوج کے نیٹ ورک کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کیسے کرنا ہے، یہ مشکل ہے۔ کنٹرول لائن پر فوج ہوتو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ تب فوج دو ملکوں کے بیچ ہوگی، نہ کہ کشمیر کے اندر۔ مسلح فورس او ر وردی پوش لوگوں کی تعداد کو کم کیا جانا چاہیے۔ اسے ہمرفتہ رفتہ کم کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں اور پاتے ہیں کہ تشدد نہیںہورہا ہے تو اس میںکیا مسئلہ ہے؟ کشمیر میںابھی کل 178دہشت گرد ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ اگلے چھ مہینوں میںاس تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ 178 بہت بڑی تعداد نہیں ہے، لیکن میںاس بات سے متفق ہوں کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہوتے ہیں۔ وہ کسی کے گھر میںچھپ سکتے ہیں اور بعد میںتباہی مچا سکتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ مدعا ہے۔ لیکن یہ جتنا نفسیاتی ہے اتنا ہی منطقی بھی۔
ریفرنڈم تب تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ ہندوستان او رپاکستان اس بات سے متفق نہ ہوں۔ اس لیے اسے الگ ہی رکھیں۔ لیکن دہلی یا ممبئی یا چنئی یا کسی دیگر جگہ کے لوگ جو عام زندگی جیتے ہیں، وہی عام زندگی کشمیر کے لوگوں کو بھی دی جاسکتی ہے، دی جانی چاہیے۔ 1983-84کے بعد او ر1989 کے انتخاب، جس میں کشمیری لوگ دھاندلی کیے جانے کی بات کرتے ہیں، تب سے تقریباً گزشتہ تیس سالوں میں شہری آزادی یا برابری کی جھلک نہیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پولیس سپریم ہے او رفوج سپریم ہے۔ غصہ اب اور بڑھ گیا ہے کیونکہ اب نئی پیلیٹ گن آگئی ہے۔ طلبہ کے ذریعہ پتھر پھینکے جانے پر ان پر پیلیٹ گن چلائی گئی جس سے لوگ اندھے ہوئے۔ اس سے یقینی طور پر ہندوستان کے لوگوں کے بیچ ایک اچھامیسج نہیںگیا۔ بے شک قانون اورنظم ونسق اہم ہے، لیکن کسی مسئلے کے حل کے لیے آپ غیر مناسب طریقے سے کارروائی نہیں کرسکتے۔ آپ یہ بول کر کہ نوٹ بندی سے مسئلہ ختم ہوگیا کیونکہ اب انھیں پتھر پھینکنے کے لیے 500 روپے نہیں مل پارہے ہیں، مذاق نہیں اڑا سکتے ۔ایسا بولنا ہی بچکانہ ہے۔
کشمیر کی سرکار کشمیر کے لیے کشمیریوں کے ذریعہ
ویسے ابھی امن کا فائدہ لینے کا وقت ہے۔ یہ وقت ہے جب سرکار کوچاہیے کہ لوگوں کورفتہ رفتہ سبھا، سیاسی میٹنگیں وغیرہ کرنے کی اجازت دینا شروع کرے۔ میںممبئی میں سیاسی میٹنگ کا انعقاد کرسکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ مہاراشٹر صرف مہارا شٹرین کے لیے ہے، دیگر کو یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ یہ اینٹی نیشنل تو نہیں ہیں۔ یہ میرا انتہائی پسند خیال ہوسکتا ہے۔ آپ اس سے متفق نہ ہوں۔ لیکن یہ باکل ایسا نہیں ہے کہ ہمارے آئین میںاس کی اجازت نہیںہے۔ کشمیر ہمیشہ ایک خصوصی ریاست رہی ہے اور آرٹیکل 370 اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان، کشمیر پر اپنے حق کا دعویٰ کررہا ہے۔ کشمیر میںتھوڑی بہت سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے میںکوئی برائی نہیں ہے۔ جب تک ایک ایسا وقت آتا ہے جب آپ پوری طرح سے شامل ہوجائیں ، تب تک آرٹیکل 370 کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ بی جے پی 370 کوختم کرنے کی دھمکی دیتی ہے اور جیسا کہ مودی کے حلف لیتے ہی ان کے پی ایم او کے وزیر نے کہا تھا کہ 370کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، ایسا کرنے سے حالات اور بگڑیں گے۔ یہ سب سے احمقانہ، غیر مناسب، غلط بیان تھا، جو وزیر اعظم کے آفس میں بیٹھے ایک شخص کی طرف سے آیا تھا۔ بے شک اس کے بعد ایسا نہیں کیا گیا۔ کشمیر میںجب آپ پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے آرٹیکل 370 کو قبول کرلیا ہے۔ اسی طرح کام ہونا چاہیے۔ سرکاریں آتی جاتی ہیں، لیکن ملک کے آئین میں قائم صورت کو بدلا نہیں جاسکتا ہے۔ کیا آج ایک سرکار آکر یہ کہہ سکتی ہے کہ کچھ وقت کے لیے ہندوستان کشمیر کو بھول جائے؟ نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ہرایک شہری کو آرٹیکل 14,19 سے حق ملا ہوا ہے اور عدالتوں کے پاس مناسب پابندی لگانے کا بھی اختیارہے۔ غداری، اگر کوئی ہندوستان کے خلاف تبصرہ کرتا ہے اور وہ تبصرہ اتنا حساس ہے تو آپ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔کیوں؟ ہاں، اگر آپ کے بھاشن سے تشدد بھڑکتا ہے تویقینی طور پر آپ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، لیکن محض بھاشن کرنے سے نہیں۔اظہار رائے کی آزادی کا مطلب ہے کہ کسی کو وہ بات بھی کہنے کا حق ہے جوآپ کو پسند نہیں ہے۔ اگر سبھی لوگ آپ کی تعریف میں ہی بولیں تو اس کامطلب ہے کہ اظہار رائے کی زیادہ آزادی نہیں ہے۔ آزادی یہ ہے کہ کوئی ایسی بات کرے جو آپ کو پسند نہیں ہے۔ اگر کوئی آپ کے خلاف خراب تبصرہ بھی کرسکے اور آپ اسے ایسا کرنے کا حق دیتے ہیں تبھی سچ مچ اسے اظہار رائے کی حقیقی آزادی ملتی ہے۔ مغربی جمہوریت میں ہم اسے دیکھتے ہیں ، کیا ہم ہندوستان میں بھی ایسا دیکھتے ہیں؟
پارلیمنٹ کے اندر سی انّادورئی، جواس وقت مدراس ریاست سے ڈی ایم کے کی نمائندگی کررہے تھے، نے ہندوستان سے مدراس کو چھوٹ دیے جانے کے لیے ایک تقریر کی تھی۔ انھوںنے مدراس ریاست کے لیے الگ جھنڈا، الگ نام، الگ آئین وغیرہ کی مانگ کی تھی۔ ایک گھنٹے کی ا ن کی تقریر راجیہ سبھا میں ہوئی۔ کسی نے ان کی تقریر میں خلل نہیںڈالا۔ان دنوںایک صحت مند بحث کی روایت تھی۔ اس کے بعد 12 ممبروں نے شری انادورائی کی دلیل کو غلط بتایا۔گمراہ کن بتایا۔ انھیں سمجھایا کہ کیسے ان کی مانگ ہندوستان کے مفادات کے خلاف ہے اور خود یہ تملوں کے مفادات کے خلاف بھی ہے۔ پھر کیا ہوا؟ انتخاب ہوئے، تمل اقتدار میںآئے۔ 1967 میں اقتدار میں آئے اور تب سے پچھلے 50 سال سے اقتدار میں ہیں۔ وہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انھوںنے الگ ہونے کی بات نہیںکی۔ حقیقت میں اگر آپ انڈیکس کو دیکھیں تو تمل ناڈو ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ آج یہ صنعتی اور دیگر طرح سے ترقی یافتہ ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ تمل ناڈو کے لوگوں کو لگتا ہے کہ ریاست میں اب ان کی سرکار، ان کے ذریعہ چنے گئے لوگ ریاست چلارہے ہیں۔ یہ دہلی سے گائڈ نہیں ہوتی۔ پہلے جب کانگریس تھی، تب دہلی سے گائڈ ہوتی تھی۔ لیکن کشمیر میں یہ جذبہ نہیں ہے ۔ صرف ایک بار 1983 میں جب فاروق عبداللہ انتخاب جیتے، تب لوگوں کو لگا کہ وہ اندرا گاندھی اور کانگریس کے ماتحت نہیں ہیں۔ ان کی اپنی چنی ہوئی سرکار ہے۔ یہ ایک سال تک چلی۔ جگ موہن گورنر تھے، آدھی رات کو سازش کے تحت دل بدل ہوئی، کانگریس نے جی ایم شاہ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ عبداللہ کی سرکار گر گئی۔ بدقسمتی سے پہلی بار فرقہ وارانہ فساد تبھی کشمیر میں ہوا۔ کشمیر کبھی فرقہ پرست نہیں رہا ہے، ایک مضبوط ہندو اور ایک مضبوط مسلم آبادی کے باوجود۔ حقیقت میں مذہب کشمیر میں مدعا ہے ہی نہیں۔ اس کے برعکس ہم کشمیر کو لے کر مذہبی پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔ بے شک وہ مسلمان ہیں جیسے عرب کے لوگ مسلمان ہیں، دبئی میں مسلمان ہیں پھر بھی وہاں بغیر کسی مسئلے کے ہندو کام کرتے ہیں۔ مذہب جب تک نجی زندگی کا موضوع ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے اور کشمیر میں یہ کوئی مدعا نہیں ہے۔ ٹھیک ہے کہ جموں میں زیادہ ہندو ہیںلیکن جموں کے کچھ ضلعوں میں ٹھیک ٹھاک تعداد میں مسلمان بھی ہیں۔ کشمیر ایک مخلوط ثقافت والی ریاست ہے۔ وہا ں ہندو ہیں، مسلمان ہیں، بودھ، سکھ ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے وہاں حکومت کی، ہری سنگھ کی وہاں حکومت تھی۔ بدقسمتی سے ہندوستان، کشمیرکو فوج، پاراملٹری فورس او ر پولیس کے ذریعہ کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
ہندوستان کی دوسری ریاستوںکی طرح ہی وہاں بھی قانون او رنظام ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بڑے فیصلہ کن نہیں ہوسکتے۔بدقسمتی سے کشمیر میں یہ قوی تصور ہے کہ حال میں دہلی سرکار صرف سیکورٹی اہلکاروں کی صلاح سے ہی چلتی ہے او رفیصلے لیتی ہے۔ یہ تصور ختم ہونا چاہیے۔ اسے اور زیادہ سیاسی ہونا چاہیے ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو باربار سری نگر کا سفر کرنا چاہیے۔ وہ ایک سیاسی آدمی ہیں، انتخاب لڑتے ہیں، وہ چیزوں کو سمجھتے ہیں۔ انھیں کشمیری سماج سے لگاتار مل کر بات چیت کرتے رہنا چاہیے۔ ظاہر ہے بغیر کسی تعصب کے وہ ایک بہتر پوزیشن لے سکتے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ کو اس بات پر متفق ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ کشمیر ایک کھلا سوال ہے۔ حکومت کے اندر رہتے ہوئے بھی کشمیر کے لیے بے پناہ امکانات ہیں۔ کیوں سری نگر کے شہریوں پر پابندی ہونی چاہیے۔ کشمیری لوگوں کو یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ وہ ان کیحکمرانی میں ہیں۔ جسے انھوںنے چنا ہے۔ حکمرانی کرنے والے ہمارے اور ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں۔ ایسے لوگ سرکار چلا رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ طلبہ پڑھائی کرسکیں، بیمار کا علاج ہوسکے، تجارت ٹھیک سے چلے، سیاح آئیں۔ یہ صحیح ہے ۔ لیکن ایک سیاح اخبار میںخون خرابہ کی خبرپڑھ کر کیوں کشمیر جائے گا؟ کوئی بھی خطرہ نہیںلینا چاہے گا۔ اس صورت حال کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ حریت کے لیڈروں کو قصوروار ٹھہرانا ایک بات ہے۔ وہ اپنا کام کررہے ہیں۔ لیکن سری نگر کی سرکار آپ کی ہے، بی جے پی اور پی ڈی پی کی ہے۔ دہلی کی سرکار آپ کے (بی جے پی)پاس ہے۔ آپ ملک چلانے کی اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتے ہیں۔ ملک کا ہر کونہ گڈ گورننس، شرافت، انسانی زندگی کی حفاظت اور آزادی کے ساتھ چلے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
میںفاروق عبداللہ ، کانگریس کے سیف الدین سوز، سی پی ایم کے تاریگامی او رکانگریس صدر جی ایم میر سے بھی ملا۔ سیاسی پارٹیاں سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی سخت خیال نہیں ہے۔ کوئی بھی ریفرنڈم کی بات نہیں کرتا، کیونکہ ان کا کام کاج ہندوستانی انتخابی قوانین سے چلتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان میں سے سبھی چاہتے تھے کہ کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ آگ ٹھنڈی ہو، لیکن کس نے آگ لگائی، نہیں معلوم۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ کون اس آگ کو ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ضرور چاہتے ہیں کہ لوگوں کے بیچ رابطہ بڑھے۔ یہ کچھ حد تک صحیح بھی ہے کہ اطلاع کا فقدان ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں آئیں۔ لیکن میرے حساب سے کشمیر کی چابی مرکزی سرکار کے پاس ہے۔ جب تک سرکار حفاظتی اقدامات میںڈھیل نہیں دیتی، عام زندگی بحال نہیں کرتی، چیزیں نہیں سدھریں گی۔
شبیر شاہ ایک پولیس اسٹیشن، جسے ایک ذیلی جیل ہی بنا دیا گیا ہے ، میں ہیں۔ ہمیںوہاں جاکر ان سے ملنے کا موقع ملا۔ ایس ایچ او پہلے تو راضی نہیں تھا اور ہمیں اجازت نہیں دی گئی لیکن بعد میں سنتوش بھارتیہ نے کچھ فون کال کیے اور پھر ہمیں ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ بے شک، ایک بار اجازت ملنے کے بعد ایس ایچ او نے ہمارے لیے چائے بھی بھجوائی۔ ہم نے شاہ کے ساتھ ایک گھنٹے بات کی۔ ایک اچھی میٹنگ ہوئی ۔ اس ملاقات کا اہم حصہ یہ رہا کہ شبیر شاہ نے غصہ نہیں دکھایا ۔ شاہ خود اس بات سے حیرت زدہ ہیںکہ سرکار کو انھیں 29 سال سے اور پچھلے 40 مہینوں سے لگاتار قید میں رکھ کر کیا مل رہا ہے۔ وہ حریت کا حصہ ہیں اور وہ ماضی میں وزیر اعظم شری چندر شیکھر کے دور میں کی گئی کوششوںکی سراہنا کرتے ہیں۔ چندرشیکھر سرکارنے لوگوں کے ساتھ رابطے کیے تھے، بیک چینل ڈسکشن ہوا تھا۔
کشمیر مسئلہ کی چابی مرکز کے پاس
اچھی بات یہ ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں کے یا حریت کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ ہمیشہ کے لیے غنڈہ گردی نہیں چلا سکتے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چھ مہینے کا وقت ایک بڑ ی مدت ہے او روہ خوش ہیں کہ اس ہڑتال میں ایک گیپ (وقفہ) آیا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے بھی خدشہ میں ہیں اور یہ نہیں جانتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا کیونکہ بنیادی سوال ابھی بھی سوال ہی ہے۔ ایسے میں لوگوں کا غصہ پھر سطح پر آسکتا ہے۔ بے شک پاکستان کا رول ہے، لیکن ہم اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کے لیے صرف پاکستان کو ہی الزام نہیں دے سکتے ہیں۔ کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ ہم اپنے ہی لوگوں کے دلوں کو جیت نہیںسکتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ہندوستان جیسے ایک بڑے ملک کے لیے قابل قبول چیز ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کو اور زیادہ اختیاردیے جائیں، 370 کو اور مضبوط بنائیں۔ تب پاکستان کیا کہے گا؟ اور جو لوگ آج ریفرنڈم کی بات کرتے ہیں ، اس میںمذہب ایک فیکٹر ہے۔ ریفرنڈم مذہب کے بغیر کیے جانے کی بات تھی، لیکن اب یہ مشکل ہے۔ آج کے اتنے زیادہ کمیونلائزیشن کی حالت میںریفرنڈم ایک متبادل نہیںہے۔ پاکستان بھی سمجھتا ہے کہ وہاں ریفرنڈم نہیں ہوگا۔ کنٹرول لائن بین الاقوامی سرحد کی طرح ہوجائے گی۔ تجویز یہ تھی کہ اسے ایک سافٹ بارڈر بنا دیا جائے لیکن لوگوںکو یہ سب کچھ سمجھ میںنہیںآتا ۔ وہ اسے لے کر بھی شک کرتے ہیں۔
اب جو بھی کہنا اور کرنا ہے ، حکومت ہند کو کرنا ہے۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ کشمیر ملک کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔کشمیر کی آبادی ہندوستان کے باقی حصوںکے مقابلے میں کیا ہے؟ اگر ہم اتنی کم آبادی کے دل میں اعتماد نہیںجگا سکتے ،اپنی حکومت کے بارے میں، اپنے آئین کے بارے میں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ اس کا بہت برا اثر ہوگا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ شرارتی عناصر یہ سب کررہے ہیں۔ وہ ہر جگہ ہیں۔ممبئی میں اور دہلی میں بھی مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پوری کی پوری ریاست متاثر نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے،کشمیر میں ووٹروں کے من پر زیادہ اثر ہے۔ اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ سرکار کا ردعمل اتنا خراب کیوں ہے؟ شاید اس کی وجہ پاراملٹری فورسیز کے ذریعہ طاقت کا استعمال بھی ہے، جو اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح کی شکایتیںآ تی رہتی ہیں۔
ایسے معاملے آج ہی نہیں، اکبر کے دور میں بھی تھے۔ یہ فوجوں کا عام رویہ ہے۔ لیکن مہذب ریاست میں ہمیں اسے نہ کہنا چاہیے۔ ایک اور شکایت ہے کہ فوج کے خلاف پولیس عام طور پر ایف آئی آر درج نہیں کرتی ہے۔ اب ایسے میں لوگ کیا محسوس کریں گے؟ جنگل راج اور قانون کی حکومت کے بیچ پھر کیا فرق رہے گا؟ ابتدائی رپورٹ درج ہونی چاہیے، جانچ کرائی جانی چاہیے۔ دس میں سے دو قصوروار پائے جائیں گے۔ اس سے ایک اوسط آدمی کے من میں اعتماد پیدا ہوگا۔ میںنہیںسمجھ پارہا کہ میںکیا کہوں؟ یا تو سرکار کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے معاملوں کے لیے الگ سے ایک وزارت بنائے،جیسا کہ ایک بار شری وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے کیا تھا، اور جارج فرنانڈیز اس کے انچارج تھے یا پھر خود وزیر داخلہ اس معاملے کو دیکھیں۔ لیکن کرن رجیجو تو بالکل اس کے لیے فٹ نہیںہیں۔ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہونا چاہیے جو چیزوںکو سمجھے، جو اعتدال پسند ذہنیت کا ہو۔ آپ جھنڈے والان (دہلی میں آر ایس ایس کا آفس) میںجو نظم وضبط لاگو کرتے ہیں وہی نظم و ضبط کشمیر میںلاگو نہیںکرسکتے ہیں۔ کشمیر ایک جامع ریاست ہے۔ حقیقت میں یہ ہندوستان کی شان ہے۔ یہ دنیا کو دکھانے لائق ایک جگہ ہے کہ دیکھئے ہم کیسے خیر سگالی کے ساتھ رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے اس خیر سگالی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک کشمیر ی پنڈتوں کا وہاں سے نکلنا ایک بدنما داغ ہے، کشمیری مسلمانوں کے لیے بھی۔ ان کی واپسی کی بات ہوتی ہے، لیکن وہ واپس جانے کا خطرہ کیوں لیں؟ مجھے امید ہے کہ ایک دن آئے گا اور رفتہ رفتہ وہ اپنے گھروںکو واپس آجائیں گے اور جامع کشمیر کی تصویر ہمارے سامنے ہوگی۔ آزادی کے بعد 1980 تک، یعنی 35 سال تک ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ریفرنڈم کا بھی مدعا تھا، پاکستان بھی مدعا تھا، لیکن کشمیر کے لوگوںکے بیچ خیر سگالی بنی رہی۔ ہمیں اسی حالت کو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دیکھتے ہیں کہ مرکزی سرکار کیا کرتی ہے؟

ریفرنڈم تب تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ ہندوستان او رپاکستان اس بات سے متفق نہ ہوں۔ اس لیے اسے الگ ہی رکھیں۔ لیکن دہلی یا ممبئی یا چنئی یا کسی دیگر جگہ کے لوگ جو عام زندگی جیتے ہیں، وہی عام زندگی کشمیر کے لوگوں کو بھی دی جاسکتی ہے، دی جانی چاہیے۔ 1983-84کے بعد او ر1989 کے انتخاب، جس میں کشمیری لوگ دھاندلی کیے جانے کی بات کرتے ہیں، تب سے تقریباً گزشتہ تیس سالوں میں شہری آزادی یا برابری کی جھلک نہیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پولیس سپریم ہے او رفوج سپریم ہے۔ غصہ اب اور بڑھ گیا ہے کیونکہ اب نئی پیلیٹ گن آگئی ہے۔ طلبہ کے ذریعہ پتھر پھینکے جانے پر ان پر پیلیٹ گن چلائی گئی جس سے لوگ اندھے ہوئے۔ اس سے یقینی طور پر ہندوستان کے لوگوں کے بیچ ایک اچھامیسج نہیںگیا۔ بے شک قانون اورنظم ونسق اہم ہے، لیکن کسی مسئلے کے حل کے لیے آپ غیر مناسب طریقے سے کارروائی نہیں کرسکتے۔ آپ یہ بول کر کہ نوٹ بندی سے مسئلہ ختم ہوگیا کیونکہ اب انھیں پتھر پھینکنے کے لیے 500 روپے نہیں مل پارہے ہیں، مذاق نہیں اڑا سکتے ۔ایسا بولنا ہی بچکانہ ہے۔

اب جو بھی کہنا اور کرنا ہے ، حکومت ہند کو کرنا ہے۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ کشمیر ملک کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔کشمیر کی آبادی ہندوستان کے باقی حصوںکے مقابلے میں کیا ہے؟ اگر ہم اتنی کم آبادی کے دل میں اعتماد نہیںجگا سکتے ،اپنی حکومت کے بارے میں، اپنے آئین کے بارے میں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ اس کا بہت برا اثر ہوگا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ شرارتی عناصر یہ سب کررہے ہیں۔ وہ ہر جگہ ہیں۔ممبئی میں اور دہلی میں بھی مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پوری کی پوری ریاست متاثر نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے،کشمیر میں ووٹروں کے من پر زیادہ اثر ہے۔ اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ سرکار کا ردعمل اتنا خراب کیوں ہے؟ شاید اس کی وجہ پاراملٹری فورسیز کے ذریعہ طاقت کا استعمال بھی ہے، جو اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح کی شکایتیںآ تی رہتی ہیں۔

کشمیر ایک جامع ریاست ہے۔ حقیقت میں یہ ہندوستان کی شان ہے۔ یہ دنیا کو دکھانے لائق ایک جگہ ہے کہ دیکھئے ہم کیسے خیر سگالی کے ساتھ رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے اس خیر سگالی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک کشمیر ی پنڈتوں کا وہاں سے نکلنا ایک بدنما داغ ہے، کشمیری مسلمانوں کے لیے بھی۔ ان کی واپسی کی بات ہوتی ہے، لیکن وہ واپس جانے کا خطرہ کیوں لیں؟ مجھے امید ہے کہ ایک دن آئے گا اور رفتہ رفتہ وہ اپنے گھروںکو واپس آجائیں گے اور جامع کشمیر کی تصویر ہمارے سامنے ہوگی۔ آزادی کے بعد 1980 تک، یعنی 35 سال تک ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ریفرنڈم کا بھی مدعا تھا، پاکستان بھی مدعا تھا، لیکن کشمیر کے لوگوںکے بیچ خیر سگالی بنی رہی۔ ہمیں اسی حالت کو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دیکھتے ہیں کہ مرکزی سرکار کیا کرتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *