جیٹلی2017 کے بجٹ میں ٹیکسوں میں تخفیف کر سکتے ہیں

Arun-Jaitelyنئی دہلی: نوٹ بند سے ڈیمانڈ میں کمی سے دو چار وزیر مالیات ارون جیٹلی آئندہ ہفتے پیش کئے جانے والے بجٹ میں ٹیکس کی شرحوں میں تخفیف کر کے کھپت کو رفتار دینے پر غور کر سکتے ہیں، لیکن ان کے سامنے 2017-18،میں غیر راست ٹیکس کلیکشن کے اندازے کو لے کر ایک عجیب مسئلہ ہے۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔
عام طور پر وزیر خزانہ مالی سال میں راست اور غیر راست ٹیکس کلیکشن کے اندازے کی بنیاد پر فلاح و بہود کے خرچ کا خاکہ بنتے ہیں۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق راست ٹیکس (ذاتی اور کمپنی ٹیکس) کلیکشن کا اندازہ مہیا ہوگا لیکن اشیاء اور سروس ٹیکس کے نافذ ہونے کی ڈیڈلائن ایک جولائی تک ٹالے جانے سے 2017-18کے لئے غیر راست ٹیکس کلیکشن کے بارے میں کوئی معتبر اندازہ مہیا نہیں ہوگا۔
غیر راست ٹیکس میں کسٹم ڈیوٹی، سینٹرل پروڈکشن ٹیکس اور سروس ٹیکس شامل ہیں۔ کسٹم ڈیوٹی ریوینیو کے بارے میں اندازہ مہیا ہوگا، لیکن پروڈکشن فیس اور سروس ٹیکس کے معاملہ میں یہ مشکل ہے کیونکہ یہ دونوں ٹیکس جی ایس ٹی میں شام ہوں گے۔ جی ایس ٹی اسٹیٹ ویٹ کو بھی خود میں شامل کرے گا۔ موٹے طور پر پروڈکشن ٹیکس ، سروس ٹیکس اور ویٹ کی چیزیں اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) شامل ہونے کے بعد قومی سطح پر جی ایس ٹی ریوینیو میں مرکز کی حصہ داری آدھی ہوگی اور وزیر خزانہ اپنا بجٹ اس بنیاد پر تیار کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لیکن اس سال کچھ الگ ہے۔ جی ایس ٹی کونسل کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون سے پروڈکٹس یا سروس پر کس شرح سے ٹیکس لگے گا۔ ایسی صورت میں جی ایس ریوینیو کا بالکل صحیح اندازہ مہیا نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *