اپنی مرضی سے فیس نہیں بڑھا سکتے پرائیویٹ اسکول، حکومت کی منظوری لینا ضروری: سپریم کورٹ

Private-Schoolنئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے آج واضع کیا ہے کہ ڈی ڈی ای کی زمین پر چل رہے پرائیویٹ اسکول حکومت کی منظوری کےبنا فیس نہیں بڑھا سکتے۔ پرائیویٹ اسکولوں نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے۔
اس سےپہلے اسکولوں نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی اسکول ایجو کیشن ایکٹ اینڈ رولس 1973 ڈی ایس ای اے آر بھی کہتا ہے کہ اسکولوں کو اپنی فیس بڑھانے کا حق ہے۔ غور طلب ہے کہ راجدھانی دہلی میں 400سے زیادہ اسکول ڈی ڈی اے کی زمین پر چل رہے ہیں۔
کیا تھی اسکولوں کی دلیل
ایکشن کمیٹی، ان ایڈیڈ ریکاگنائزڈ پرائیویٹ اسکول کے صدر ایس کے بھٹا چاریہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلہ بہت سی خامیاں ہیں۔ ڈی ایس ای اے آر3 197کے آرٹیکل 17سی کے مطابق ، اسکولوں کو ڈائریکٹوریٹ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک پارلیمنٹ ایکٹ ہے اور اس میں تبدیلی کئے بنا یہ آرڈر کیسے دیا جا سکتا ہے۔
ان کے علاوہ ، دہلی اسکول ایڈوائزری بورڈ کے دو ممبرس ، پرینٹس ٹیچرس ایسو سی ایشن کا ایک نومنی اور باقی ایجو کیشن کمیٹی کے ممبر ہوتے ہیں۔ مینجمنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں ہی فیس اسٹرکچر اور فیس بڑھائے جانے پر فیصلہ لیا جاتا ہے اور اسے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن منظور دیتا ہے۔ فیس میں اضافہ ڈائریکٹوریٹ کی اجازت سے ہی ہوتا ہے، ایسی صورت میں اس فیصلہ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ ڈی ڈی اے لینڈ پر چل رہے اسکول یا جو خود کی زمین پر چل رہے ہیں، وہ اس ضابطہ کو مان رہے ہیں۔ وہیں فیس کے سلسلہ میں اسکولوں کا موقف ہے کہ اس سیشن کے لئے ان کا فیس اسٹرکچر طے ہی نہیں ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *