آگ لگا کر پانی کاانتظام نہیں کیا جاتا

damiسیاسی مشاورت کی سطح نیچے کی طرف جارہی ہے۔ وزیر اعظم اور اہم اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہیں۔ لیکن ان کا موضوع بہت عام ہے۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے خلاف الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر انھوںنے اپنے الزامات کا خلاصہ کردیا تو زلزلہ آجائے گا۔ انھوںنے اپنے الزام کا خلاصہ کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ اب زلزلے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم الزامات کوسنجیدگی سے نہیں لیتے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے انھوںنے بے شک انتخاب کے لیے پیسے لیے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ یہ بدعنوانی نہیں ہے۔ ہر ایک سیاسی پارٹی صنعتی گھرانوں سے پیسہ لیتی ہے۔ آپ یہ کہہ نہیں سکتے کہ ہم نے پیسے نہیں لیے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میںکوئی بدعنوانی نہیںہے کیونکہ ہم نے ان کی کوئی مدد نہیںکی۔ لیکن بد قسمتی سے پورا اسٹیبلشمنٹ چاہے سرکار ہو، مودی ہو، بی جے پی یا آر ایس ایس ،سبھی بچکانہ اور ناپختہ سلوک کررہے ہیں۔
نوٹ بندی کا 50 دن کا وقت 30 دسمبر کو ختم ہوگیا۔ آج تک اس کے کوئی اشارے نہیںملے ہیںکہ کیش کی قلت کچھ کم ہوگئی ہے۔ دیہی علاقوں میںابھی بھی کیش کی سخت کمی ہے۔ ابھی، یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ قدم اٹھاتے ہوئے جن نتائج کی امید کی گئی ہوگی ،وہ اس سے بہت کم حاصل کرپائیںگے۔ یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوجائے گا کہ جو نتیجے نکلے،وہ لوگوں کو ہوئی پریشانی کے مطابق ہیں۔ آپ نے 87 فیصد کرنسی کو واپس لے لیا، جس کی وجہ سے ملک کا ہر ایک شہری متاثر ہوا۔ اگر ایک لاکھ کروڑ روپے سے کم کی رقم سسٹم سے باہر رہتی ہے او رسارا پیسہ سسٹم میں آجاتا ہے تو بلیک منی کی بحث بیکار ہوجائے گی۔ لمبے عرصہ میںجی ڈی پی اوپر جاتی ہے یا نیچے آتی ہے، اس کے لیے ہمیںانتظار کرنا ہوگا۔ لیکن یہ کہنا کہ ہم یہ قدم کیش لیس اکانومی کی تعمیرکے لیے اٹھارہے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے پہلے آگ لگانا اور بعد میںیہ کہنا کہ ہمیںاس آگ کو بجھانے کے لیے پانی کا بہتر انتظام کرناچاہیے۔ کیش لیس یا لیس کیش سماج کا ہدف رکھنے میںکوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت محنت کرنی ہوگی۔ آ پ کو لوگوں کو تیار کرنا پڑے گا،آپ کو سسٹم کو تیار کرنا ہوگا۔
مجھے خوشی ہوگی ، اگر وہ یہ قدم ابھی شروع کردیں۔ لیکن اس کے نتیجے کے لیے دو تین سال تک انتظار کرنا ہوگا۔ کئی گاؤں ایسے ہیں ، جہاں نہ تو اے ٹی ایم ہے،نہ بینک۔ دیہی لوگوں کو بینک تک جانے کے لیے 20 کلومیٹر تک کی دوری طے کرنی ہوتی ہے۔ آپ ایسے گاؤں میں کیش لیس سسٹم قائم نہیں کرسکتے۔ شہری علاقوںمیں،جہاںلوگ پلاسٹک کارڈ، پے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں، اسے لاگوکیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاںلوگ اس کے لیے تیار نہیںہیں۔ بہرحال سرکار کیش لیس سسٹم کے لیے آگے بڑھ سکتی ہے اور اس کو جتنا ممکن ہوسکے کیش لیس بنانے کی کوشش کرسکتی ہے۔
سیاست کے دوسرے مدعوںکی طرف لوٹتے ہیں۔ ابھی جو احساسات ظاہر کیے جارہے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ بھاشن بازی نہ صرف یوپی اور پنجاب کے لیے نہیںبلکہ ملک میںوسط مدتی انتخاب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بہرحال یہ وزیر اعظم کا استحقاق ہے اگر وہ سوچتے ہیں کہ ان کے اٹھائے گئے قدم مقبول ہیںتو وہ ملک کو حیرت زدہ کرتے ہوئے وسط مدتی انتخاب کا اعلان کرسکتے ہیں۔ لیکن یوپی سے آنے والی رپورٹ ان کے لئے بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔نوٹ بندی کے بعد وہ اپنے لوک سبھا حلقے میں پہلی بار گئے۔ ان کے تئیں وہاں لوگوں کا جوش پہلے جیسا نہیں دکھائی دیا۔ ان کے اجلاس میں اتنی بھیڑ نہیں آئی حالانکہ یہ سچ ہے کہ بی جے پی ایسی پارٹی ہے جس کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے۔وہ پیسے کے بل پر بھیڑ اکٹھا کر سکتی ہے۔لیکن کچھ مہینے پہلے جس طرح کا جوش دکھائی دیا تھا، وہ جوش ابھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
8نومبر سے پہلے بھلے آپ مودی کی حمایت میں ہوں یا ان کے خلاف ،کوئی بھی ان کا مذاق نہیں اڑا رہا تھا۔لیکن8 نومبر کے بعد لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ ان کے تشخص کا گراف یقینی طور سے نیچے گیا ہے۔ بیشک سیاست میں ایسا ہوتاہے۔لیکن ان کا ایک فیصلہ جس پر مجھے لگتا ہے کہ وہ روزانہ غور کرتے ہوں گے کہ یہ صحیح ہے یا غلط، لیکن فی الحال اس پر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں 30دسمبر کے بعد بھی کافی تعداد میں نوٹ نہیں ہوں تو انہیں پا500کے نوٹ کو پھر سے ریگولرائز کرناچاہئے۔ جتنا پیسہ آنا تھا، وہ سب آچکا ہے اور30 دسمبر تک سارا پیسہ آجائے گا۔ اب اس میں دلیل یہ ہے کہ اب ایک ہزار کا نوٹ دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں ہے،لیکن 500 کے نوٹ کو لاکر تنائو کی صورت حال کو فوری طور سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے دوررس نتیجے کیا نکلتے ہیں، اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔
وزیر اعظم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن پاکستا ن کی مدد کر رہا ہے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اپوزیشن کیسے پاکستان کی مدد کررہا ہے۔ دراصل، سرکار کشمیر میں پاکستان کی مدد کررہی ہے۔اپنے لوگوں کو حراست میں لے کر ریفرنڈم کی بات اور علاحدگی پسندوں کی بات کرکے وہ اپنا سائڈ مضبوط کررہی ہے۔ اپوزیشن پاکستان کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔ پاکستان بھی یہی بات کہہ سکتا ہے۔نوٹ بندی کی تنقید ہر کوئی کررہا ہے۔ پورا اپوزیشن نوٹ بندی کی تنقید کررہا ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سبھی ایک ہو گئے ہیں۔ جب انتخابات آئیں گے تو وہ اپنے اپنے طور پر انتخاب لڑیں گے۔ پارلیمنٹ کا سیشن برباد ہو گیا جس کو بچایا جاسکتا تھا، اگر سرکا ر نے دوسرے فریق کے لوگوں سے بات کرکے ہم آہنگی کی کوشش کی ہوتی۔لیکن یہ سرکار کی منشا نہیں ہے۔ جب لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تھا تو کانگریس کو 44سیٹیں آئی تھیں اور انہیں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نہیں دیا گیا تھا۔ ان کے رویے سے یہ لگ رہا تھا کہ پارلیمنٹ اگلے 50سالوں کے لئے منتخب کی گئی ہے اور اب انتخابات نہیں ہوں گے۔ دراصل جب انتخابات ہوتے ہیں تو بہت ساری چیزیں بدل جاتی ہیں۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ ان کے صلاح کار کون ہیں؟ لیکن جتنی جلدی وہ سیاست کی منطق کو سمجھیں گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *