یہ مودی کاہندوستان ہے، گاندھی کا نہیں

damiشری شری روی شنکر جن کی ہندوستان میں معتبریت ہے ،ایک مذہبی لیڈر ہیں، ان کا کہناہے کہ برہان وانی کے والد دو دن ان کے پاس رہے۔ ایک ایسے موقع پر جب یہاں آگ لگی ہوئی تھی۔ جب حالات تھوڑے ٹھیک ہوئے تو جموں میں انہوں نے حریت کو گالیاں دیں۔ انہیں اس حد تک کہا کہ ان کے (کشمیریوں کے ) ڈی این اے ٹھیک کرنے پڑیں گے۔ اس سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لئے وہ اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ ہمیں ہندوستان کے لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ آپ ہمارے پاس کیوں آتے ہیں؟کشمیر کا مسئلہ تو پوری دنیا کو پتہ ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ہمارا جھگڑا کیا ہے؟جب بھی کوئی ہندوستان سے یہاں پر آتے ہیں ،چاہے بھارتیہ صاحب ہوں، مودی صاحب ہوں یا سونیا جی ہوں ،مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے اور معافی کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہماری قربانیوں کی توہین کرنے آتے ہیں۔ میں ایم ایل اے ہوں۔ کشمیر کے سوال سے الگ میں ایک چھوٹا سا سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں ایم ایل اے بنا تو میں نے ہندوستان کے آئین کی حلف لی۔ تو کیا وجہ ہے کہہندوستان مجھے بھی اپنا نہیں سمجھتا۔ میں نہیں چاہتا ہوں کہ مجھے پاور ملے، روپیہ ملے، عیش و آرام ملے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کا جو درد ہے وہ کوئی سمجھے۔ اس لئے خدا کے لئے کچھ کیجئے۔ اس مصیبت سے ہمیں باہر نکالئے۔ کوئی لالی پاپ دے کر نہیں، کوئی ٹافی دے کر نہیں۔ دھوکے سے نہیں جو 1947 سے آج تک آپ نے کیا ہے۔
میں سیدھا اسٹیٹ فاورڈ آدمی ہوں۔ بہت دکھ کے ساتھ کہہ رہاہوں کہ کوئیہندوستانی کشمیری کے پاس آنے لائق ہی نہیں ہے۔ یہاں وعدوں کے توڑنے کی لمبی تاریخ ہے۔ 47 سے لے کر آج تک دنیا کا کوئی جھوٹ نہیں ہوگا جو بھارتیوں نے ہم سے نہیں بولا ہوگا۔ چاہے کوئی ہو۔ ارنب گوسوامی ہوں، پریم شنکر جھا ہوں، لال بہادر شاستری ، سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوں۔ ہمارے ساتھ انسانوں کی طرح سے پیش آئیے۔ ہمارا معاملہ صاف ہے۔ ہمارے ذہن میں الجھن نہیں ہے۔ جبہندوستان اور پاکستان انگریزوں کے غلام تھے، تب ہم ایک خود مختار اسٹیٹ تھے۔ یہاں پرانگریزوں کا قبضہ نہیں تھا۔ جب آپ کو آزادی ملی تو آپ اپنے ملک کو اکٹھا نہ رکھ سکے۔ (اس کے تین حصے کر دیئے بنگلہ دیش، پاکستان اور انڈیا) اور ہمارے دو حصے کر دیئے۔ کچھ پاکستان میں کچھ ہندوستان میں، کچھ تو ہونا چاہئے ۔ایسے کام چلے گا کہ یہاں کچھ ہوگا تو ہندوستان سے لوگ آئیںگے ڈل جھیل کی سیر ہو جائے گی، گیلانی کے ساتھ چائے کا ایک کپ ہو جائیگا۔ انجینئر رشید سے دو باتیں ہو جائیںگی۔ عام آدمی سے ملیںگے۔ بھارت دراصل اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔
کشمیری آزادی چاہتے ہیں۔ ہم پلے بسائٹ (عوامی ریفرنڈم ) چاہتے ہیں۔یہ ایک عالمی سطح پر منظور کی ہوئی بات ہے۔ اب اگر کوئی یہاں کشمیر سے آتا ہے تو وہ کیا دے گا؟وہ یہ پوچھنے آتا ہے کہ یہاں کا مسئلہ کیا ہے۔ جبکہ یہاں مسئلہ بتاتے بتاتے تھک گئے ہیں۔ یہاں جھوٹ ،خون ، سیلف رسپیکٹ کا مسئلہ ہے۔ گیلانی کو میں چور لگ رہا ہوں وہ مجھے چور لگ رہے ہیں۔یہ بھارت نے ہمیں دیا۔ ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا۔ ہم فرقہ واریت کی لائن پر مسئلے کا حل نہیں چاہتے ۔ کشمیری پنڈت ہماری روح اور خون میں شامل ہیں۔
میرا کہنا ہے کہ جب آپ جموں میں 15ہزار لوگوں کو ہتھیار دیتے ہو، سو کالڈ ویلیج ڈیفنس کمیٹیز کو تو کشمیر میں ویلج اسکول کمیٹیز اسکول کمیٹیز بنائو، ہم کو ہتھیار دو، ہم اسکول کی حفاظت کریں گے۔ بٹ یو ڈانٹ ٹرسٹ اَس۔ آپ ہمیں ہتھیار نہیں دوگے۔جموں میں آپ نے سبھی شرابیوں، بدمعاشوں کو ہتھیار دیئے ہیں۔ آر ایس ایس والے خود ہی یہ کام کررہے ہیں۔ لعنت ہے اس شخص پر جو اس طرح کی سوچ رکھتا ہے۔ اس طرح سے آپ نے کشمیر کو کھو دیا ہے۔ یو ہیو لوسٹ کشمیر ، بہت دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ۔آج سیاحت بھی کشمیر چھوڑ کر جارہے ہیں۔ کچھ کرو،نہیں تو کشمیر آپ کے ہاتھ سے جاچکا ہے۔یہ کاسمیٹک دینے سے ،پین کیلر دینے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔
سرکار کہانی بنانے میں مصروف ہے۔ آپ نے کیا اسٹوری بنائی سرجیکل اسٹرائک پر۔98فیصد لوگوں نے ایگزام دیا۔ پھر بھی آپ ہمارے اوپر پالٹیکل کرتے ہیں۔ پالٹیکس ضرور کرو۔ ہم یہ امید رکھیںگے کہ آپ کم سے کم ہمارے دکھ درد کو بانٹنے کی کوشش کریںگے اور کہیں گے کہ مسئلہ کیا ہے؟شری شری روی شنکر کہتے ہیں کہ کشمیریوں کو معلوم نہیں ہے کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ ہم کو معلوم نہیں ہے کہ آزادی کیا ہے؟ہم نے افغانوں کو بھگایا ،پٹھانوں کو بھگایا، پھر بھی 1947 سے لگاتار ہم لڑتے آرہے ہیں۔ گلگت، پاکستان کے لوگوں نے، آزاد کشمیر کے لوگوں نے مجھے دس بار بولا کہ وی آڑ دی پارٹ آف ا نڈیا۔ تو ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جب گلگت پاکستان کے لوگ ہیں آپ کے ساتھ، آزاد کشمیر کے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ جموں تو سارا آپ کا ہے۔ لداخ تو آپ کا ہے۔ کشمیر میں محبوبہ مفتی کہتی ہے کہ سب لوگ آزادی ڈھونڈتے ہیں۔ تو ٹھیک ہے،ایک پلے بسائٹ ہو جائے تو ڈر کس بات کا ہے۔ آپ رائے شماری کروائو۔
صرف طاقت کے بل پر آپ ہمیں دبا رہے ہیں۔ ہم نے ہندوستان کا کیا بگاڑا ہے؟ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں پر میرے ساتھ بد تمیزی ہوئی تھی۔ میرے سارے کپڑے نکال دیئے گئے تھے۔ تبھی میں نے نوکری چھوڑ دی۔ ہم آپ سے بہار، آسام ، پنجاب ، نہیں مانگتے ۔ہم آپ سے جموں و کشمیر مانگتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔ سول سوسائٹی کو یہاں پر کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دلی میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔آپ لیفٹ پارٹی سے لے کر باقی پارٹیوں کو کہہ دیجئے کہ ہم لوگ ریفرنڈم چاہتے ہیں۔
آج تین طلاق کا مسئلہ ہے۔اس پر بی جے پی والے کیا کررہے ہیں؟اٹ از نوٹ سو ایزی۔ آپ اسے الجھانے کی کوشش کررہے ہیں، ہماری توہین کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم اسے کیا سمجھیں۔یہ مودی کا ہندوستان ہے۔گاندھی کا ہندوستان نہیں ہے۔
جب راجناتھ سنگھ آئے تھے اور باقی لوگ بھی ۔میں ایم ایل اے تھا، میں ملا ۔ میں نے ان سے کہا ٹھیک ہے۔اگر آپ کے پاس کوئی اچھا حل ہے تو دیجئے۔لیکن یو آر کنفیوژ ۔اگر آپ کنفیوژن کریٹ کرنا چاہتے ہیں، ہمارا گھر تو جلا ہی ہے، اس سے آپ بھی محفوظ نہیں رہو گے۔ نائنٹیز میں ملی ٹینٹس تھے۔ اب آج کا جو لڑکا ہے،وہ پڑھتا ہے۔اس کے بعد ملیٹینٹ بنتا ہے۔یقین مانئے کہ یاسین صاحب کا بیان بڑا زبردست تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ شکر کریں کہ پاکستان ابھی ہتھیار نہیں بھیج رہا ہے۔ اگر دو منٹ کے لئے وہ ہتھیار کا راستہ کھل جائے تو آج تو دس ہزار لڑکے تیار ہیںبندوق اٹھانے کے لئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *