یشونت سنہا کی کشمیر رپورٹ کیا نظر انداز کردی گئی ؟

damiسابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی ’’غیر سرکاری ‘‘ پینل نے حال ہی میں مرکزی سرکار کو کشمیر کے ناساگار حالات پر مرکزی سرکار کو ایک رپورٹ پیش کی ، جس میں مسئلہ سلجھانے کے لئے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

وادی کشمیر جولائی 2016سے نومبر 2016تک تشدد کی آگ میں جھلستی رہی ۔ اس عرصے میں ایک سو افراد جن میں زیادہ تر تعداد نوعمر لڑکوں تھی، جاں بحق ہوئے۔ ہزاروں زخمی ہوئے۔فورسز کی جانب سیپیلٹس گن کے استعمال کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عمر بھر کے لے اپنی بینائی سے محروم ہوگئے۔کروڑوں روپے کی املاک تشدد کی وجہ سے تباہ ہوگئیں۔ حال ہی میں حکومت نے اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ماہ کے پر تشدد حالات میں تمام تجارتی سرگرمیاں معطل رہنے کی وجہ سے کشمیر وادی کو 16ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
فی الوقت حالات قدرے نارمل ہیں۔ روز مرہ کی زندگی بحال ہوچکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ وادی کی جن سڑکوں اور شاہرائوں پر پانچ ماہ تک موت کا رقص جاری رہا، وہاں اب ایک خاموشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لیکن یشونت سنہا کی رپورٹ میں اس ’’خاموشی ‘‘ کو آنے والے ’’کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ سنہا کی رپورٹ میں کشمیر کے حالات کے بارے میں کئی اہم باتیں کہی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف طاقت کے بے تحاشا استعمال نے ان کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے یہ اعتراف بھی نہیں کیا جارہا ہے کہ کشمیر میں ایک بحران ہے۔ اس وجہ سے یہاں کے حالات مزید خراب ہورہے ہیں۔رپورٹ میں مذاکرات کی فوری بحالی اور ذیادتیوں کی جوڈیشل تحقیق کی سفارش کی گئی ہے۔
ماضی کے تجربے کی بنا پر یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مرکزی سرکار اس رپورٹ اور اس میں شامل سفارشات کو بالکل اسی طرح نظر انداز کرئے گی ، جس طرح 2010کے حالات پر قائم کی گئی ’’مذاکرات کاروں‘‘ کی رپورٹ کو نظر انداز کیا گیا۔ سال 2010کی ایجی ٹیشن میں 120افراد مارے گئے تھے۔ سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے اور کشمیر کئی ماہ تک بند رہا تھا۔ اُس وقت کی مرکزی سرکار نے حالات کا جائزہ لینے کیلئے سرکردہ صحافی آنجہانی دلیپ پڈگائونکر کی قیادت میں ایک سہ رکنی ٹیم قائم کی تھی۔ ٹیم کے دیگر دو ممبران میں سابق انفارمیشن کمشنر ایم ایم انصاری اور مصنفہ اور ماہر تعلیم پروفیسر رادھا کماری بھی شامل تھے۔ ایک سال کے عرصے میں اس ٹیم نے کشمیر کے درجنوں بار دورے کئے۔ یہ ٹیم 700وفود سے ملی ۔سینکڑوں افراد سے انفرادی طور پر ملی۔ اس ٹیم نے کشمیر کے ہرسیاسی ، سماجی اور مذہبی لیڈر سے ملاقات کی اور بالآخر ایک مفصل رپورٹ اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سامنے پیش کی۔ اس رپورٹ میں بھی کئی سفارشات پیش کی گئیں ، جن میں مسئلہ سلجھانے کے لئے بات چیت شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔لیکن مرکزی سرکار کی جانب سے قائم کی گئی اس پینل کی رپورٹ کو نہ ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور نہ کابینہ میں۔ بلکہ اسے سیدھے ڈسٹ بن میں ڈال دیا گیا۔
اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ سال 2005میں اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے اور اسے سلجھانے کے لئے کئی ورکنگ گروپ قائم کئے ۔ ان میں دو اہم ورکنگ گروپ جسٹس ( ریٹائرڈ) صغیر احمد اور حامد انصاری کی قیادت میں قائم کئے گئے تھے۔ حامد انصاری کے ورکنگ گروپ نے مکمل تحقیق کے بعد کئی سفارشات پیش کیں۔ ان میں جموں کشمیر میں نافذ ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پائورس ایکٹ کو ختم کرنے کی صلاح بھی شامل تھی۔ جسٹس صغیر کی قیادت میں قائم ورکنگ گروپ سے مرکز اور ریاست کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا جائزہ لینے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس گروپ نے اپنی 196صفحات کی رپورٹ میں ریاست جموں کشمیر کی خود اختیاری کو بحال کرنے کی تلقین کی تھی۔ لیکن مرکزی سرکار نے ان رپورٹوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا۔اس سے پہلے بھی رام جیٹھ ملانی سے کے سی پنت تک حکومت ہند نے درجنوں مذاکرات کاروں کو کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے اور ’سٹیک ہولڈرس ‘ ساتھ بات چیت کرنے پر مامور کیا تھا۔ لیکن مرکزی سرکار نے کبھی بھی کسی مذاکرات کار کے مشوروں کو لائق اعتنانہیں سمجھا۔ حد یہ ہے کہ مرکزی سرکار نے سال 2000ء میں ریاست کی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے پاس شدہ اٹانومی قرارداد کو بھی ڈسٹ بن کی نذر کیا ، جس میں ریاست کی اٹانومی بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ایک منتخب اسمبلی کی طرف سے پاس کی گئی اس قرار داد کو مرکزی کابینہ میں پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی گئی ۔بیشترماہرین آئین و قانون نے نئی دلی کے اس رویہ کو ریاست کی اسمبلی کی توہین قرار دیاہے۔
مختلف آراء
کشمیر کے حالات و واقعات اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کی غالب اکثریت کا ماننا ہے کہ در اصل حکومت ہند کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جب بھی کشمیر میں حالات خراب ہوجاتے ہیں تو انہیں عارضی طور پر ٹھیک کرنے اور کشمیری عوام کو ’’فریب ‘‘ دینے کے لئے کسی با اعتبار شخص یا گروپ کو ’’حالات کا جائزہ لینے کے لئے‘‘ وادی کشمیر بھیجا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد کشمیری عوام اور بین الاقوامی برادری کو یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ مرکزی سرکار مسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ سینئر صحافی اور روز نامہ ’’چٹان‘‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’نئی دلی در اصل وقت گزاری سے کام لے رہی ہے۔ جب انہیں لگتا ہے کہ کشمیر کے حالات خراب ہیں تو کسی کو یہاں بھیج کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اب کی بار مرکزی سرکار سنجیدہ اقدامات کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ سب ایک دھوکہ تھا۔ 1990سے یہاں یہی کچھ ہورہا ہے۔‘‘ طاہر محی الدین کو یقین ہے کہ یشونت سنہا کی تازہ رپورٹ کا بھی وہی حشر ہوگا جو اس سے پہلے کشمیر کے بارے میں مرکز کو پیش کی گئی رپورٹوں کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا،’’ اب کی بار تو مودی سرکار ہے۔ کشمیر کے بارے میں اس کی پالیسی ویسے بھی سابق حکومتوں سے مختلف ہے۔یہ حکومت تو ریاست کو حاصل رہے سہے خصوصی اختیارات بھی چھیننا چاہتی ہے۔ اس لئے اس سرکار سے بات چیت شروع کرنے کو توقع رکھنا بھی زیادتی ہے۔‘‘
کشمیر کے تئیں حکومت ہند کے اس رویہ پر علاحدگی پسند جماعتیں اور کشمیر کی سیول سوسائٹی نالاں تو ہے ہی لیکن اس ریاست کو بھارت کا حصہ ماننے والی جماعتیں بھی ناراض ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے فرزند ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ حکومت ہند بار بار مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شوشہ پیدا کرتے ہوئے یہاں مختلف لوگوں کو مذاکرات کاروں کی حیثیت سے بھیجتی ہے ۔ لیکن بعد میں ان مذاکرات کاروں کی رپورٹوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے۔ یہ رویہ خطرناک ہے۔ کشمیریوں کا اب نئی دلی سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک زندہ مسئلہ ہے ۔ اگر بھارت کا موقف ہی درست مانا جائے تب بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ، جو ریاست کا ایک تہائی حصہ ہے، کا فیصلہ کرنا باقی ہے۔یعنی خود بھارت کے موقف کی رو سے بھی یہ ایک متنازعہ ریاست ہے۔اگر حکومت ہند اس حقیقت کو مسلسل نظر انداز کرتی رہے گی تو اس کے خطرناک نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر کمال کو مرکزی سرکار کی اس دلیل سے بھی اختلاف ہے کہ جب تک تشدد ختم نہیں ہوجاتا کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے کہا،’’ اب وہ ( مرکز) کہہ رہے ہیں کہ جب تک تشدد جاری ہے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ لیکن میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے تشدد ہورہا ہے یا تشدد کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پیدا ہوگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی تشدد ہورہا ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے ہی ہند پاک جنگیں ہوئی ہیں اور ملی ٹنسی بھی اسی مسئلے کی پیدا وار ہے۔ اسلئے مسئلے کو حل کرنا ناگزیر ہے۔‘‘
مرکزی سرکار کشمیر کے مسئلے کو سلجھانے کے لئے سیاسی اقدامات کرتی ہے یا نہیں، یہ تو بہر حال آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ نئی دلی کی جانب سے اس مسئلے کو حل کرنے کی سمت میں اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے کشمیری عوام اور مرکز کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ اس صورتحال کو یشونت سنہا نے اپنی رپورٹ میں یہ کہہ کر واضح کیا ہے کہ ’’ کشمیری عوام کی باقی ملک کے تئیں بد اعتمادی بڑھتی جارہی ہے۔‘‘یشونت سنہا کی رپورٹ میں شامل یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت یہاں جو خاموشی دیکھی جارہی ہے وہ مستقبل میں ’’کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتی ہے‘‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *