گوا میں آپ کی شمولیت سے مقابلہ دلچسپ

damiگوا کے گزشتہ کئی اسمبلی انتخابات میں عام طور پر بی جے پی اور کانگریس کے بیچ مقابلہ رہا ہے اور اکثر علاقائی پارٹیوں میں سے کوئی ایک سرکار بنوانے میں فیصلہ کن کردار میں رہی ہے۔ بی جے پی میں اندرونی اختلاف ہے، اس کے باوجود پارٹی مہاراشٹر وادی گومانتک پارٹی کے ساتھ اپنا گٹھ بندھن توڑ کر اِکلا چلو کی راہ پر نکل چکی ہے۔ وہیں قومی سطح پر 2014 کے عام انتخابات کی ہار کے بعد کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین تلاش کر رہی ہے۔ 2014 کے بعد پانڈیچری کو چھوڑ کر کانگریس کو کسی بھی ریاست کے انتخاب میں کامیابی نہیں ملی ہے۔ گزشتہ سال 4اپریل سے 16مئی کے بیچ ہوئی پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد ہی بی جے پی نے سب سے زیادہ ایم ایل اے کے معاملے میں کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ظاہر ہے کانگریس کو بھی گوا سے کافی امیدیں ہوںگی۔ لیکن گوا انتخاب کا سب سے دلچسپ پہلو عام آدمی پارٹی کا مقابلے میں شامل ہونا ہے۔ انتخاب سے پہلے کرائے گئے کسی بھی سروے نے عام آدمی پارٹی کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ بلکہ کوٹلی نے اپنے سروے میں عام آدمی پارٹی کو سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں پروجیکٹ کیا ہے۔ لہٰذا یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ گوا میں سہ رخی مقابلہ طے ہے۔

بہر حال ، گوا اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا خیمہ بھلے ہی خود اعتمادی سے بھرا نظر آرہا ہے ،لیکن اس بار اس کے لئے راستہ آسان نہیں ہے۔ کیونکہ ایک طرف جہاں ریاست کے سابق آر ایس ایس چیف سبھاش ولینکر نے بغاوت کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے، وہیں وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پارسکر کے ذریعہ ایم جی پی کے دو وزیروں کو اپنی کابینہ سے برخاست کئے جانے سے بی جے پی ایم جی پی کا گٹھ بندھن ختم ہو گیاہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بی جے پی -ایم جی پی کا گٹھ بندھن نہیں ٹوٹتا تو بی جے پی کا راستہ بہت آسان ہو جاتا ۔ غور طلب ہے کہ 2012 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ایک 21 سیٹیں جیت کر ایک زبردست کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ پہلی بار کانگریس ریاست میں ایک گوشے میں سمٹی تھی۔ کانگریس کو 9سیٹیں ملی تھیں جبکہ ایم جی پی کو 3 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔
تازہ اعلان کے مطابق بی جے پی ریاست کی 40 سیٹوں میں سے 37 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور باقی کی تین سیٹیں جو عیسائی اکثریت والا علاقہ ہے، وہاں آزاد امیدواروں کو باہر سے حمایت کرے گی۔ بی جے پی نے 2012 کے برعکس اس بار کسی کو وزیر اعلیٰ پروجیکٹ نہیں کیا ہے۔ حالانکہ 2012 میں پارٹی سابق وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر کو اپنے وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنا کر انتخاب میں اتری تھی۔ ایسا اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ پارٹی نے اتر پردیش میں کسی کو اپنا وزیر اعلیٰ کاامیدوار نہیں بنایا ہے اور اتر پردیش کا انتخاب پارٹی کے لئے بہت اہم ہے، اس لئے ہو سکتا ہے کہ اسی پالیسی کے تحت یہاں بھی اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہو۔ وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان نہیں کرنے کی پالیسی بی جے پی کے لئے کئی ریاستوں میں کاگر ثابت ہوئی ہے لیکن یہ پالیسی بہار میں بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔
جہاں تک بی جے پی کی انتخابی تیاریوں کا سوال ہے تو پارٹی نے اب تک 35 اسمبلی حلقوں میں منوہر پاریکر اور وزیر اعلیٰ لکشمی پاریکر کی ریلیاں منعقد کر چکی ہے۔ جس طرح سے ایم جی پی کے ساتھ گٹھ بندھن ٹوٹنے سے بی جے پی کو نقصان کا امکان ہے اسی طرح آر ایس ایس کے سابق ریاستی چیف سبھاش لے لنگکار کے آر ایس ایس اور بی جے پی سے بغاوت کی وجہ سے بھی ہے۔ سبھاش لے لنگکار کی مانگ تھی کہ بی جے پی سرکار انگریزی میڈیم اسکولوں کو عطیہ دینا بند کرے اور مراٹھی اور کوکنی زبان کی ترقی کے لئے کوشش کرے لیکن منوہر پاریکر سرکار اور بعد میں لکشمی کانت پارسکر کی سرکار نے بھی ان کی مانگوں کو نظر انداز کردیا جسے ناراض ہوکر انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس سے بغاوت کرکے’ گوا سرکشا منچ ‘نام کی تنظیم بنا کر انتخاب میں اترنے کی تایر کرلی ہے اور اب ریاست کی تین ہندوتوادی پارٹیاں ایم جی پی، گوا سرکشا منچ اور شیو سینا نے ایک گٹھ بندھن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم جی پی لیڈر سودین دھولیکر اس گٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ گٹھ بندھن نے ریاست کی 40 میں سے 37 سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس گٹھ بندھن میں بی جے پی کا کھیل خراب کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔
ادھر زمینی حقیقت کو سمجھتے ہوئے کانگریس نے ابتدائی پس و پیش کے بعد این سی پی اور گوا فاروارڈ اور اتنسی او موسیراٹے کے ساتھ گٹھ بندھن کرنے کا من بنا لیا ہے۔ دراصل 2012 کے انتخاب میں بری ہار کے بعد ریاستی کانگریس ازسرنو پارٹی کو ریاست میںمستحکم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ وہیں 2014 کے عام انتخابات میں ملی ہار کے بعد ریاستی اسمبلی انتخابات میں ہار کے سلسلے کو ختم کرنے کے جگاڑ میں لگی مرکزی قیادت یہاں ہر امکانات کو تلاش کرے گی تاکہ پارٹی کو لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں کھڑی کیا جاسکے۔ لہٰذا گوا میں کانگریس کے صدر لوئی زینو فلیرو اور ’اے آئی سی سی ‘جنرل سکریٹری گریش چودنکار کافی دنوں سے ان پارٹیوں سے گٹھ بندھن کی کوشش کررہے ہیں۔ دراصل کانگریس پارٹی نے اس انتخاب میں ویسے ہی وعدے کئے ہیں جیسے وعدے بی جے پی نے 2012 میں کئے تھے۔ دراصل کانگریس اپنے گٹھ بندھن کے ساتھ بی جے پی کو سخت چیلنج دے سکتی ہے۔ انتخاب سے پہلے سروے بھی کانگریس کو خارج کرتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
دہلی اور پنجاب میں اپنے قدم جمانے کے بعد عام آدمی پارٹی گوا میں بھی اپنی زمین تلاش کررہی ہے۔ دراصل گوا کی ایسی پارٹی اور تنظیم جو نہ کانگریس کے ساتھ تھے اور نہ ہی بی جے پی کے ساتھ تھے ،انہوں نے عام آدمی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے سابق بیوروکریٹ ایلوس گومیز کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا ہے ۔ حالانکہ ایسی رپورٹیں آرہی ہیں کہ گومیز کو وزیر اعلیٰ امیدوار بنانے سے پارٹی کے اندر کا ایک طبقہ خوش نہیں ہے۔ لیکن حالیہ کچھ مہینوں کے دوران کجریوال نے ریاست کے کئی دورے کئے ہیں ۔کئی ریلیاں کی ہیں جن میں اچھی خاصی بھیڑ بھی جمع ہوئی اور ریاست میں کارکنوں کی ایک ٹیم بھی کھڑی ہو گئی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق عام آدمی پارٹی ریاست کی کل 40سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری میں ہے۔ دراصل عام آدمی پارٹی کے میدان میں آجانے کے بعد بی جے پی اور کانگریس کے بیچ عام طور پر ہونے والا دو رخی مقابلہ اب سہ رخی مقابلے میں بدل گیا ہے۔
حالانکہ عام آدمی پارٹی کانگریس اور بی جے پی سبھی بھاری اکثریت سے اپنی اپنی جیت کے دعوے کررہے ہیں، لیکن ریاست کے انتخابات کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اور موجودہ سیاست صورت حال کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ ریاست ایک سہ رخی اسمبلی کی طرف طرف بڑھ رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *