کمل مرارکاکی صاف گوئی کشمیریوں کو ملک کے شہریوں کی طرح بنیادی حقوق بھی میسر نہیں

damiسابق مرکزی وزیر ، دانشور اور سماجی کارکن کمل مرارکاکوسرینگر کے دورے کے دوران یہاں کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے جو پذیرائی ملی ، اس سے ایک بارپھر یہ بات ثابت ہوئی کہ کشمیری عوام اور انکی لیڈر شپ کویقین ہے کہ ہندوستانی دانشور اور سماجی کارکن کشمیر کے تئیں اپنا ایک الگ نظریہ رکھتے ہیں۔ بھارتی دانشوروں اور سول سوسائٹی پر کشمیریوں کے اس اعتماد اور یقین کو اُس وقت مزید تقویت ملی جب کمل مراکار نے اپنے تین روزہ دورے کے اختتام پرسرینگر میں اپنی پریس کانفرنس میں کسی لاگ لپٹی کے بغیر کشمیریوں کے تئیںمرکزی حکومت کے رویے کو غلط قرار دیا۔ کمل مرارکا نے کہا کہ وہ کشمیرمیں سول لبرٹی اور بنیادی انسانی حقوق کے فقدان کو دیکھ کر ہل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ مسئلہ کشمیر کا حل تو بعد میں ہوگا ، پہلے کشمیریوں کو وہ بنیادی حقوق تو فراہم کردو ، جو انہیں آئین ہندفراہم کررہا ہے۔حالانکہ آئین کی رو سے جموںو کشمیر کو باقی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ حقوق حاصل ہیں لیکن عملی طور پر یہاں کے باشندگان کو اتنے حقوق بھی میسر نہیں جتنے کسی دوسری ریاست کے شہریوں کو حاصل ہیں۔‘‘ کمل مرارکا نے اپنے سہ روزہ دورہ کشمیر کے دوران کشمیر کے جن قابل ذکر شخصیات اور لیڈروں سے ملاقاتیں اور گفتگو کی ان میں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، نعیم احمد خان، شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، سیف الدین سوز، غلام احمد میر، انجینئر رشید وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک ٹیم ، سیول سوسائٹی ، ٹریڈرس اور سٹوڈنٹس کے الگ الگ وفود اور کئی عام لوگوں سے کشمیر کے موجودہ حالات اور مسئلہ کشمیر کی نوعیت پر کھل کر بات چیت کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک عام تاثر ہے کہ کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کے پر تشدد حالات کے دوران حکومت ہند کئی بار اہم ہندوستانی شخصیات کو ’’آگ بجھانے کے عمل ‘‘ کے لئے استعمال کرتے ہوئے انہیں کشمیر بھیجتی رہی ہے۔ یہ شخصیات یہاں آکر عوام کو یہ یقین دلانے کا کام کرنے کے لئے آتے تھے کہ وہ واپس جاکر حکومت ہندکو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر راضی کرائیں گے لیکن بعد میں ثابت ہوجاتا تھا کہ دلی کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ شخصیات اپنی کریڈبلٹی کا استعمال کرکے دراصل کشمیری لیڈروں اور یہاں کے عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان شخصیات ، جن کے ناموں کی فہرست طویل ہے، کشمیر میں اپنی اعتباریت ہی کھو بیٹھے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کوبعض سیاسی تجزیہ نگار ’’A graveyard of many reputations‘‘ یعنی’ کئی با اعتبار شخصیات کا قبرستان ‘قرار دے رہے ہیں۔ لیکن کمل مرار کا کو اس لحاظ سے ایک قابل اعتبار شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں ہی یہ واضح کردیا کہ وہ نہ ہی حکومت ہندوستان کے ایک نمائندے کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں اور نہ ہی وہ اس بات کی کوئی ضمانت دے سکتے ہیں کہ ان کی باتوں پر مرکزی سرکار کوئی عمل کرئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک انسان دوست شہری کی حیثیت سے وادی آئے ہیں اور واپس جاکر وہ اپنے جیسے لوگوں کو یہاں کی حقیقی اور صیح صورتحال سے واقف کرائیں گے۔ یعنی کمل مرارکا نے ان سارے امکانات کو ختم کردیا ، جن کی وجہ سے مستقبل میں کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ انہوں نے نئی دلی کی ایماء پر کشمیری لیڈرشپ یا عوام کو کوئی ’’دھوکہ دینے ‘‘ کی کوشش کی ہے۔کمل مرارکا کو سرینگر میں ہاتھوں ہاتھ لئے جانے کے پس پردہ ایک اور اہم وجہ یہ تھی کہ انہیں یہاں معروف و معتبرصحافی اور ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ لے کر آئے تھے۔ سنتوش بھارتیہ ،وہ واحدہندوستانی جرنلسٹ ہیں ، جنہوں صحافیوں کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسے وقت (اگست 2016) میںکشمیر کا دورہ کیا ، جب انڈین میڈیا ( کا غالب حصہ) کشمیریوں کے خلاف ایک زہر آلود پروپگنڈا کرنے میں مصروف تھا۔ یہاں تین دن قیام کرنے اور حالات کا بچشم خود مشاہدہ کرنے کے جب وہ واپس گئے تو انہوں نے انڈین میڈیا کے پروپگنڈے کی پول کھول کر رکھ دی۔ انہوں نے واپس جاکر وزیر اعظم ہند کے نام ایک کھلے خط میں کشمیر کے حالات و واقعات کی بھر پور عکاسی کی۔ انہوں نے اپنی مختلف تحریروں میں اس جھوٹ سے پردہ ہٹا ، جو انڈین میڈیا کشمیر کے بارے میں پھیلا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ کشمیر میں پتھرائو کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ کشمیر میں لڑکے پانچ پانچ سو روپے کے عوض فورسز پر پتھرائو کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ کشمیر میں جبراً ہڑتال کروائی جاتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ کشمیر میں ہر دوسرا شخص پاکستانی ایجنٹ ہے۔ یہ غلط ہے کہ کشمیری عوام فطری طور پر تشدد پسند ہیں۔ یہ غلط ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک محض ایک گروہ کی پیدا کردہ ہے اور اسے عوامی سپورٹ حاصل نہیں۔ غرضیکہ سنتوش بھارتیہ نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف کشمیر کے زمینی حالات کو اپنے ملک کے عوام کے سامنے رکھا بلکہ جھوٹے پروپگنڈے سے پردہ ہٹانے کی کوشش بھی کی۔وہ خود کہتے ہیں،’’ میں نے کچھ نہیں کیا ۔ صرف ایک صحافی کا اصل کردار ادا کیا۔ ایک صحافی کا بنیادی کام یہی تو ہے کہ وہ سچائی بیان کرے۔ میں نے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا بلکہ اپنے مقدس پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ سنتوش بھارتیہ کی ان کاوشوں کوکشمیر میں نہ صرف سراہا گیا بلکہ لوگوں نے ان سے ملنے کے بعد ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ میر واعظ عمر فاروق نے ملاقات کے دوران ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے چیف ایڈیٹر سے مخاطب ہوکر کہا،’’ آپ نے اور آپ کے اخبار نے بہت خوب کام کیا ہے۔ ہم شکر گزار ہیں کہ آپ نے کشمیر کی سچائی دُنیا کے
سامنے رکھی۔‘‘ شبیر احمد شاہ ، جو جیل میں ہیں ،نے ملاقات کے دوران انہیں بتایا کہ وہ جیل میںرہ کر کشمیر سے متعلق ان کی ہر تحریر پڑھ چکے ہیں۔ شاہ نے کہا،کہ’’ آپ کے قلم نے حق ادائی کی۔‘‘ نعیم خان نے کہا،کہ’’ بھارت میں بہت کم صحافی ایسے ہیں جو کشمیر کے بارے میں سچ لکھتے اور کہتے رہے ہیں، آپ یقیناان میں سے ایک ہیں۔ ہم شکر گذار ہیں۔‘‘کشمیرکی سول سوسائٹی اور ٹریڈرس کے نمائندوں نے بھی اپنی ملاقاتوں میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں ہندو شدت پسندی کی لہر بپا ہے ، آپ نے کھل کر کشمیر کی حقیقت بیان کی۔
یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کمل مرارکا کو کشمیر کے سہ روزہ دورے کے دوران کشمیری عوام اور لیڈروں کی جانب سے جو استقبال ملا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں سنتوش بھارتیہ کشمیر لے کر آئے تھے۔ یہ بات بھی وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر کمل مرارکا صرف اتنا ہی کام کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے اصل حالات و واقعات سے ہندوستان کے دانشور طبقے اورسول سوسائٹی کو باخبر کرتے ہیں تو اس کے ریسپانس میں کشمیری عوام کی جانب سے انہیں اظہار تشکر دیکھنے کو ملے گا کیونکہ کشمیری عوام فطر ی طور پر جتنے مہمان نواز ہیں اتنے ہی احسان شناس بھی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *