کشمیر کے تئیں ہندوستان کی غلط پالیسیاں

damiکشمیر میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری ایجی ٹیشن ، جس میں تقریباً ایک سو لوگ مارے گئے اور ہزاروں زخمی یا اپاہج ہوگئے، دلی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت کو اس بات پر مجبور کرنے میں ناکام رہا کہ واقعی کشمیر میں کسی طرح کی سیاسی غیر یقینیت یا عدم اطمینانی پائی جاتی ہے۔ بجائے اس کے کشمیری عوام کی یہ کہتیہوئے توہین کی جارہی ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ ایک نفسیاتی ہیجان ہے، جس کے لیے آبادی کا وہ پانچ فیصد حصہ ذمہ دار ہے، جس کی پشت پناہی پاکستان کررہا ہے۔ اسی کے ساتھ نئی دہلی کی وہ پالیسی اور بھی واضح ہوگئی جو اس نے کشمیر مسئلہ کے حوالے سے اختیار کررکھی ہے دلی کی سیاسی قیادت بھی اس پہلے سے طے شدہ مسودے سے باہر نہیں نکلی، جو وہاںایک عرصے سے نارتھ اور ساؤتھ بلاک نے کئیدہائی قبل لکھ رکھا ہے (جس میں وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے دفاتر موجود ہیں) وزیر اعظم نریندر مودی بظاہر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ تمام پالیسیوں کے استاد ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ مگر کشمیر کے معاملے میں وہ یا تو زمینی صورت حال کا مقابلہ کرنے اور اس کو سمجھنے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں یا پھر وہ اپنے سیکورٹی اور بیورو کریٹ مشیروں کی رائے سے باہر قدم رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن اگر سیاسی نقطہ نظر پر غور کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر مسئلہ کے حوالے سے وزیر اعظم او ر وزیر دفاع کے درمیان بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ وزیر دفاع مسئلہ کشمیر کا کوئی ’آؤٹ آف دی باکس‘ حل ڈھونڈنے کے حق میں ہیں جبکہ وزیر اعظم آفس کا نظریہ ہے کہ کشمیریوں کو زیاہ سے زیادہ تھکا دیا جائے تاکہ وہ مجبور ہوکر خود ہی اپنے ایجی ٹیشن سے باز آجائیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ ایجی ٹیشن کی سطح کچھ کم ہوئی ہے یا اس میں پہلے جیسا دم خم باقی نہیں رہاا ور مسلسل ایجی ٹیشن اور ہڑتالوں کی وجہ سے عوام پریشان ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے حریت قیادت کو ہڑتال واپس لینا پڑی، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام کا غصہ ابھی ٹھنڈا ہوا ہے اور نہ ہی ان کی ناراضگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ عوام بظاہر معمول کے حالات کی طرف لوٹ رہے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ کسی بات کو بھولے نہیں ہیں اور یہ لاوا بھی اندر ہی اندر پک رہا ہے، جو کسی بھی وقت پھوٹ کر باہر نکل سکتا ہے۔ گوکہ ماضی قریب میں نہ سہی، البتہ حکومت کی جانب سے کشمیر کے حالات کی ان دیکھی کرنا کشمیر کو سال 2017 میں بھی چین سے نہیں رہنے دے گی۔ اس سیاسی تکڑم سے ان لوگوں کے نظریے کو جوازیت مل جاتی ہے، جو سخت گیر موقف کے حامی ہیں۔ اس کے ساتھ دلی والوں کی نیت کا خلاصہ بھی ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ہمیں یہاں ایک خوشگوار ماحول دیکھنے کے حوالے سے دس قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ ترقی کا مسئلہ الگ ہے، پچھلی ایک دہائی کے دوران یہاں سے سیاحت کے شعبے میں خوب ترقی ہوئی ہے، پل بنے ہیں سڑکیں اور ہسپتال بھی نئے بنے ہوں گے لیکن سیاسی محاذ پر جموں و کشمیر کافی پیچھے رہ گیا ہے اور اس دوران نہ صرف عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سیاسی حکومتوں کی اعتباریت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کا براہ راست فائدہ علیحدگی پسندوں کو ہورہا ہے، اگرچہ آج اس جگہ پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ہے تو ماضی میں نیشنل کانفرنس تھی ۔
اگرچہ بھارتی رائے عامہ کی اکثریت کشمیریوں کے خلاف نظر آئی ہے لیکن اس کے باوجود سول سوسائٹی کی سطح پر کئی کوششیں ہوئی ہیں ، جہاں نہ صرف کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ ان کے دکھ درد اور پریشانیوں کا بھی برملا اعتراف کیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے اس سخت پیغام کہ مسئلہ کشمیر صرف اور صرف طاقت کے استعمال سے ہی حل ہوسکتا ہے، بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے چند ایک جانے مانے چہروں ، جن میں وجاہت حبیب اللہ، بھارت بھوشن، بھارت کے سابق وائس ایئر چیف مارشل (ریٹائرڈ) کیپل کاک او رمحترمہ سشو بابراوے بھی شامل ہیں، نے کشمیر کے حوالے سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ یشونت سنہا اس امن عمل کے شریک معمار بھی مانے جاتے ہیں، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان 2003 کے بعد شروع ہوا تھا۔ سنہا خود کو ایک عام شہری کہتے ہیں حالانکہ انھوں نے بی جے پی کے ساتھ اپنے رشتے نہیں توڑے ہیں۔ اس گروپ نے اگرچہ ابھی تک کوئی بڑا تیر نہیں مارا ہے البتہ وہ اس حوالے سے ایک طویل جمود کو توڑنے میںکسی حد تک کامیاب ضرور ہوئے ہیں اور اگرچہ میر واعظ عمر فاروق ، سید علی گیلانی اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اگست میں دلی سے آنے والے پارلیمنٹ ممبران کے وفد سے بات کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن انھوںنے سنہا کی قیادت والے وفد کو خوش آمدید کہا۔ سنہا اور ان کے گروپ نے یہ بات کئی باردوہرائی ہے کہ وہ کسی حکومت کی نمائندگی نہیںکرتے اور نہ ہی وہ کشمیریوں کو کچھ دے سکتے ہیں لیکن وہ کشمیریوںکی موجودہ جدوجہد کو سمجھ کر اس حوالے سے بھارتی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے کو باخبر کرنا چاہتے ہیں۔ یشونت سنہا گروپ کے ابھی تک دو دورے ہوچکے ہیں اور انھوںنے جنوبی و شمالی کشمیر میں لوگوں کے کئی وفود اور اجتماعات سے ملاقاتیں کی ہیں، اگرچہ وہ وعدہ بند نہیں ہیں لیکن انھوںنے اپنے دورے اور کوششیںجاری رکھ کر عوام کے درمیان رابطہ بنائے رکھنے کاعہد واضح کیا ہے۔ان کے علاوہ ایک سابق وزیر کمل مرارکا اور جانے مانے صحافی سنتوش بھارتیہ ،جن کے ’مودی کے نام کھلے خط‘ نے پورے بھارت میں تہلکہ مچادیا، نے بھی حال ہی میں کشمیر کا دورہ کرکے کئی سیاسی اور سماجی لیڈران کے ساتھ ملاقاتیںکی ہیں۔ حالانکہ بھارتیہ کے خط نے کافی کام کیا لیکن اس کے باوجود وہ نریندر مودی حکومت کوا پنی جگہ سے ہلانے میںناکام رہے۔
سنہا اور اس کی ٹیم کی کوششوں کے حوالے سے ایک عوامی طبقے میںمایوسی بھی پائی جاتی ہے اور اس کے لیے معقول وجوہات بھی موجود ہیں، خاص طور پر ماضی کے حالات، اس طرح کی کوششوںاور قائدین کے ساتھ کئے گئے مذاکرات اور ایک ایسی حکومت کو مدنظر رکھ کر، جو کچھ سننے کے لیے تیار نہیں۔ ان مایوسیوںکا ہونا کوئی عجیب بات بھی نہیں او راس حوالے سے شکوک میںاضافہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بھارتی قیادت کی جانب سے کشمیر اور کشمیریوں کو نظرانداز کرنے کی اپنی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ جس کے باوجود عوام ابھی تک مذاکرات میں یقین رکھتے ہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت ، سول سوسائٹی، بار ایسوسی ایشن،میڈیا او رسماج کے سبھی حلقوںنے نئی دہلی کے کسی بھی شخص یا گروپ کی جانب سے شروع کی گئی کوششوں کو حمایت دے کر اپنی اعتباریت میںمزید اضافہ ہی کیا ہے۔سنہا کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ان سے ملنے والوں نے یہ تک کہہ دیا کہ سنہا ،ان کے اوربھارتی رائے عامہ کے درمیان ایک سفیر بن کر کام کریں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کشمیری عوام نے مذاکراتی عمل میں اپنی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ سنہا اور ان کی پارٹی شاید کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ پائیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ عوام کو مایوسیوں کی دلدل سے ضرور باہر نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے، جو مذاکرات اور اس طرح کی دوسری کوششوں پر سے بھروسہ کھو چکے تھے۔ اس سلسلے نے حکومت کو حقیقت تسلیم کرنے کے لیے مجبور کردیا ہے، برعکس اس کے کہ وہ اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ علاوہ ازیں جس طرح سے سنہا اور مراکرنے کشمیر کی صورت حال کو پیش کیا ہے، اس سے کشمیری عوام کے نظریے کو کافی وزن اور تقویت بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’’کشمیر میں عام لوگوں کے کوئی حقوق نہیں اور نہ ہی کہیں جمہوریت کا نام و نشان ہے۔ اگرچہ آپ ایک پرامن سیاسی جدوجہد بھی کرتے ہیں، آپ کو کھدیڑنے اور دبانے کے لیے طاقت کا بے انتہا اور بے جا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ پوری ریاست کو ایک خاص پوزیشن حاصل ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے غلط طریقہ کارکی وجہ سے پوری ریاست ایک جہنم زار میںبدل چکی ہے‘‘۔ حکومت اس بیان کو مسترد کرسکتی ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
اگرچہ سنہا اور ان کے گروپ کشمیری عوام کو اس طرح مایوس نہیںکرنا چاہیے جیسے کہ ماضی میں یہاں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے کیا ہے لیکن اس کے باوجود نئی دہلی اور سرینگر کو بھی اس بدلتی ہوئی صورت حال کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، انھیں اس تناظر میں عوام تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بشرطیکہ وہ سال 2016 کو ایک ماضی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، حالانکہ زخموں کو مندمل ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے تاہم اس کی ذمہ داری بھی دلی پر ہی عائد ہوتی ہے ۔

یشونت سنہا گروپ کے ابھی تک دو دورے ہوچکے ہیں اور انھوںنے جنوبی و شمالی کشمیر میں لوگوں کے کئی وفود اور اجتماعات سے ملاقاتیں کی ہیں، اگرچہ وہ وعدہ بند نہیں ہیں لیکن انھوںنے اپنے دورے اور کوششیںجاری رکھ کر عوام کے درمیان رابطہ بنائے رکھنے کاعہد واضح کیا ہے۔ان کے علاوہ ایک سابق وزیر کمل مرارکا اور جانے مانے صحافی سنتوش بھارتیہ ،جن کے ’مودی کے نام کھلے خط‘ نے پورے بھارت میں تہلکہ مچادیا، نے بھی حال ہی میں کشمیر کا دورہ کرکے کئی سیاسی اور سماجی لیڈران کے ساتھ ملاقاتیںکی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *