پنجاب انتخابات اصل مقابلہ کانگریس اور آپ کے درمیان؟

damiہر انتخاب کسی نہ کسی ایشو پر لڑا جاتاہے۔ بھلے وہ ایشو اہمیت کا حامل ہو یا نہ ہو۔ پھر بھی جب انتخابی رپورٹ لکھی جاتی ہے تو اس میں ایسے ایشوز کو شامل کیا ہی جاتا ہے جو سیدھے عوام سے جڑے ہوئے ہوں۔ اب پنجاب انتخابات کا بگل بج چکا ہے تو ایسے میں سبھی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہیں اور اپنے اپنے وعدے بھی کر چکی ہیں۔ لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان وعدوں کے مقابلے عوام کا اصل مسئلہ کیا ہے؟کیا کوئی سیاسی پارٹی پنجاب کے عوام کے اصل مسئلے کا حل دینے کی بات بھی کر رہی ہے اور اگر کر رہی ہے تو کیا اس کے پاس اس کے لئے کوئی منصوبہ بھی ہے یا بس انتخابی وعدے ،بعد میں انتخابی جملے ہی بن کر رہ جائیں گے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں ڈرگس کی ۔پنجاب میں بھلے ہی اس سطح تک نشے کا کاروبار نہ ہو جس سطح پر اسے میڈیا یا فلموں میں دکھایا گیا ہے۔ پھر بھی نشہ وہاں کا ایک اہم اور سب سے بڑا مسئلہ ضرور ہے۔ پنجاب کی طاقت اس کی کھیتی ہے۔ اس کی پہچان کھیتی رہی ہے۔ لیکن نشے نے اس پہچان پر ایک کالا دھبہ لگا دیا ہے۔
پنجاب آج نوجوانوں میں ڈرگس کے مسئلے کو لے کر خبروں میں آتا ہے ۔ ایمس کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 10ضلعوں کی کل 1.23 کروڑ نوجوان آبادی نشے کی گرفت میں ہے۔ پنجاب میں نشے سے متعلق تقریبا ً15 ہزار ایک ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ دلچسپ طور سے نشے کے اس کاروبار کے لئے برسراقتدار پارٹی شریمانی اکالی دل کے کچھ لیڈروں پر ہی الزام لگے ہیں۔
ایسے میں اپوزیشن پارٹی کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے نشے کے ایشو کو اپنا انتخابی مدعا بنایا ہے۔ بی جے پی نے بھی کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو ایک مہینے کے اندر نشے پر لگام لگائے گی۔ عام آدمی پارٹی نے تو سیدھے سیدھے اس کاروبار کے لئے اکالی دل کے ایک قدآور لیڈر وکرم جیت سنگھ مجیٹھیا کو ذمہ دار بتایا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ اقتدار ملی تو مجیٹھیا کا کالر پکڑ کر اسے جیل میں ڈالیں گے۔ ویسے اسے آپ عام آدمی پارٹی مارکہ والا وعدہ بھی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی یہ پارٹی شیلا دیکشت کو جیل بھیجنے کی بات کہتی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتدار کے دو سال پورے ہونے کے بعد بھی وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکی۔ پھر بھی عام آدمی پارٹی نشے اور مجیٹھیا کو لے کر جو باڈی لنگویج پنجاب میں دکھا رہی ہے ،وہ ابھی سب سے جارحانہ ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پنجاب کے عوام اور خاص کر نوجوان طبقہ اس ایشو پر کس طرح سے ری ایکٹ کرتاہے۔
پنجاب انتخابات کا دوسرا سب سے اہم ایشو ہے دلت ایشو۔ یہاں دلت آبادی 32فیصد ہے ۔ ظاہر ہے یہ آبادی کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے توجہ کا مرکز ہے ۔ پنجاب میں دلتوں پر ظلم، نوکری اور ان کی زمین کا مسئلہ ایک اہم ایشو ہے ۔ ظاہری طور پر پنجاب میں دلت ایشو پر سب سے ابھری ہوئی ابھی عام آدمی پارٹی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس اور اکالی دل کی طرف سے ابھی کوئی خاص پلان نہیں ہوا ہے۔ لیکن عام آدمی پارٹی نے اقتدار میں آنے پر دلت نائب وزیر اعلیٰ بنانے کی بات ضرور کہی ہے اور دلتوں کے لئے الگ سے منشور بنانے کی بھی بات کہی ہے۔
پنجاب میں ایک عام رجحان بنا ہوا ہے کہ برسراقتدار پارٹی سے جڑے لوگوں نے یہاں پر اپنا سکہ جم کر چلایا ہے۔ کبھی پنجاب دہشت گردی کا سامنا کرتا رہا تھا ۔ابھی یہاں پر جرائم پیشہ وروں کا حوصلہ کافی بڑھا ہوا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اس کے لئے برسراقتدار پارٹی سے جڑے لیڈروں کو ہی ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ فی الحال پنجاب میں تقریباً 5 درجن مجرموں کے گینگ ہیں۔ پنجاب سے کئی بار جیل بریک کی خبریں آتی رہی ہیں۔ لیکن اس سب کے بعد بھی لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے کا بہتر حل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اعلان یا اسکیم کا اعلان کسی پارٹی کی طرف سے ہوتا ہوا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے نوجوان ہندوستان کے باقی حصے کے نوجوانوں کی طرح ہی بھاری بے روزگاری کے مسئلہ کا سامنا کررہے ہیں۔ 2015 میں یہاں کے روزگار دفتروں میں بے روزگاروں کی تقریباً 361299 درخواستیں زیر غور تھیں۔ ظاہر ہے یہ اعدادو شمار بھی بہت کم ہیں کیونکہ بہت کم نوجوان ہی روزگار دفتر میں خود کو رجسٹر کراتے ہیں۔ دوسری طرف نیشنل سمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق یہ اعدادو شمار 55لاکھ ہیں۔ ان میں 72 فیصد تعلیم یافتہ جبکہ 22فیصد تکنیکی طور سے اسکیلڈ ہیں۔ یہاں بے روزگاری کے اعدادو شمار تقریباً بہار کے برابر ہی ہیں جو کہ فی ہزار 60 ہے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے نوجوان ووٹروں کو رجھانے کے لئے یہاں نوکری اور بے روزگاری بھتہ دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن وہ اپنے اس وعدے کو پورا کیسے کریںگی، اس کا کوئی روڈ میپ نہیں دکھا یا ہے۔
عام طورپر یہ مانا جاتاہے کہ پنجاب کھیتی میں کافی آگے ہے۔ بہت حد تک یہ صحیح بھی ہے۔لیکن پنجاب کسان خود کشی کے معاملے میں بھی ریکارڈ بنا رہا ہے۔ اس کی وجہ بھی کھیتی ہی ہے۔ کھیتی پر منحصر ریاست ہونے کے بعد بھی یہاں فوڈ پروسیسنگ یونٹس کی جتنی ضرورت ہے۔ اتنی لگائی نہیں جارہی ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے۔ قرض الگ سے انہیں پریشان کرتا ہے۔ یہاں کے کسانوں پر بینکوں اور قرض خواہوں کے 69355 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ موجودہ ریاستی سرکار کی اقتصادی صورت حال ایسی ہے نہیں کہ وہ کسانوں کی حالت سدھار سکے۔ ایسے میں اگر کوئی سیاسی پارٹی یہ اعلان بھی کرے کہ وہ کسانوں کا قرض معاف کر دے گی تو سوال ہے کہ اس وعدے کو پورا کیسے کیا جائے گا؟
ادھر وعدوں کی جھاڑی لگانے میں کوئی بھی پارٹی پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ کانگریس نے ہر گھر میں نوکری ، کسانوں کے قرض معافی اور چار ہفتے میں نشہ سے پاک پنجاب کا وعدہ کیا ہے۔ بی جے پی نے بھی نشہ سے پاک ریاست بنانے کی بات کہی ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی اقتدار پانے کے لئے ہر ایک دائوں کھیلنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں دلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ایک ریلی میں یہاں تک بول دیا کہ لوگ عام آدمی، پارٹی کو یہی مان کر ووٹ دیں کہ وہ اروند کجریوال کو ووٹ دے رہے ہیں۔ حالانکہ سسودیا نے آگے یہ بھی کہا کہ جو بھی وزیر اعلیٰ بنے، اروند کجریوال کی ذمہ د اری ہوگی کہ جو وعدے کئے جارہے ہیں ،انہیں پورا کیا جائے۔ بعد میں اس پر خود کجریوال نے بھی بیان دیا اور یہ صاف کیا کہ وہ دلی چھوڑ کر کہیں نہیں جارہے ہیں۔
بہر حال پنجاب انتخابات اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ کیونکہ یہاں اب تک دو رخی لڑائی ہوتی رہی ہے لیکن اس بار معاملہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی ایک اہم طاقت کے طور پر میدان میں ہے اور یہ اکالی اور کانگریس دونوں کے لئے ایک چینلج بنی ہوئی ہے۔ اس بات کو کانگریس ، بی ے پی اور شریمان یااکالی دل بھی سمجھ رہی ہیں۔ اکالی دل کے خلاف اینٹی انکمبینسی فیکٹر کام کر رہا ہے۔ بی جے پی کے پاس یہاں کچھ خاص کرنے کو ہے نہیں ۔ لہٰذا ایک زوردار ٹکر آپ اور کانگریس کے بیچ ہونے کا امکان زیادہ ہے ۔لیکن سوال اب بھی وہی ہے کہ چاہے جو جیتے،جسے اقتدار ملے ،کیا وہ عوام سے جڑے ایشوز پر کام کرے گی۔ عوام کے مسائل کا حل نکالے گی یا پھر اپنے ہی وعدوں کو بھول کر بعد میں اسے ایک جملہ بھر بتا کر پلہ جھاڑ لے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *