پرکاش جاوادیکر کا خواب مسلم تعلیم کے ساتھ اردو، عربی اور فارسی کی ترقی

au-asif-for-web’’مسلمانوں کو معیاری تعلیم کی ضرورت ہے۔ اگر سماج کا ایک طبقہ اچھی تعلیم پاتا ہے جبکہ دوسرا اس سے محروم رہتا ہے تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔ملک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کرے گا اگر یہ کمیونیٹی پیچھے رہتی ہے ‘‘۔
یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے تعلق سے سچر کمیٹی یا کسی اور کا نہیں بلکہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوادیکر کا تجزیہ ہے جسے انہوں نے گزشتہ 17دسمبر 2016 کو بھیونڈی (مہاراشٹر ) میں منعقد 20ویں آل انڈیااردو بک فیئر کے افتتاحی اجلاس کے دوران پیش کرکے سبھوں کو چونکا دیا۔انہوں نے اس موقع پر سرکاری اسکولوں کے تئیں مسلمانوں کو اور زیاد راغب کرنے کے لئے معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کی خاطر سہولیات فراہم کرانے اور حق تعلیم کے قانون (آر ٹی ای ) میں مجوزہ ترمیمات کی بات کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کی تعلیم ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہمیں سوچنا ہے۔ اگر سرکاری اسکول اچھی تعلیم نہیں دیتے ہیں تو بچے نویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے ڈراپ آئوٹ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا میں اسے فوراً روکنا چاہتا ہوں اور میں نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے کہ ہندوستانی زبانوں میں تمام سرکاری اسکول کوالٹی میں ترقی حاصل کریں گے اور طلباء کو اچھی تعلیم ملے گی۔
چونکئے نہیں، اتنا ہی کہہ کر مرکزی وزیر موصوف رکے نہیں بلکہ اردو کو پروموٹ کرنے کے لئے پانچ سالہ پلان کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگ اس کے لئے متعدد اقدام اٹھاتے رہے ہیں۔ جیسے اردو میں کتابوں اور رسالوں کو شائع کرانا اور اردو اخبارات کو اشتہارات دینا‘‘۔ انہوں نے اردو زبان سیکھنے کے لئے لوگوں کے لئے خواہ وہ کہیں بھی رہ رہے ہوں، آن لائن اردو کورس شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دلچسپ بات تو یہ رہی کہ وزیر موصوف نے یہ سب کچھ کہتے کہتے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اس زبان کو سیکھنے کے لئے بے تاب ہیں۔ انہون نے یہ اظہار خیال اردو لرننگ ایپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ جب میں بھیونڈی آئوں گا تو میں اردو میں پوری تقریر کروں گا‘‘۔ خاص بات تو یہ ہے کہ اردو کی بات کرتے کرتے یہ عربی اور فارسی تک پہنچ گئے۔ کہنے لگے کہ وہ لوگ عربی اور فارسی کو پروموٹ کررہے ہیں کیونکہ ہندوستانیوں میں سے بہت سے لوگ ان ممالک میں جاتے ہیں جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب کورسز بھی مقبول عام ہوگئے ہیں۔ وزیر موصوف کی آخری بات یہ تھی کہ سرکاری اسکولوں کے لئے نتائج سے دیکھنے کی خاطر آر ٹی ای ایکٹ میں ترمیمات کی جائیں گی۔ ایسی فہرستیں تیار کی جائیں گی جن سے یہ بتایا جاسکے کہ پہلی کلاس کے طالب علم کو کیا جاننا چاہئے، دوسری کلاس کے طالب علم کو کیا جاننا چاہئے ۔اس سے جواب دہی کے جذبہ کو بڑھایا جاسکے گا۔
ظاہر سی بات ہے کہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل نے مسلمانوں کی تعلیم کے ساتھ اردو، عربی اور فارسی زبانوں کی ترقی کی بات آر ٹی ای ایکٹ کے مکمل نفاز اور ہندوستانی معاشرہ کو صد فیصد تعلیم سے آراستہ کرنے کے تعلق سے ہی کی ہے۔ان کی اس سلسلے میں دلچسپی اور فکر قابل تحسین ہے مگر جو بات ناقابل فہم ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی ضرورت کے تناسب سے ہر سال تعلیم کا بجٹ کم کردیا جاتاہے جبکہ دفاع کے بجٹ کو بے تحاشہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ تعلیم کے تئیں یہ رویہ بدلنا چاہئے کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی کی ضمانت حکومت کے ذریعے تعلیم پر لگائے گئے سرمایہ پر منحصر ہوتی ہے۔ تعلیم کے بجٹ کو خرچ تصور نہیں کیا جانا چاہئے جبکہ یہ ایک طرح کی سرمایہ کاری ہوتی ہے جو بعد میں پورے معاشرہ کے لئے مفید ہوتی ہے۔ تعلیم ہی انسانی وسائل کے فروغ کا واحد ذریعہ ہے۔لیکن سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے منصوبوں میں تعلیم شامل ہی نہیں ہے۔
جہاں تک آر ٹی ای ایکٹ کے نفاذ کاتعلق ہے، اس سلسلے میں عملی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے ماہر تعلیم اور آر ٹی ای فورم کے نیشنل کنوینر امبریش رائے کہتے ہیں کہ ہندوستان میں 8 کروڑ بچے ابھی تک اسکول نہیں جاسکے ہیں۔ڈراپ آئوٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے جس میں بچیاں سب سے زیادہ ہیں جس کے سبب ہیومن ریسورسیز کا بڑا حصہ ترقی کے عمل سے دور ہے۔ دوسری بات جو وہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ملک میں 9لاکھ اساتذہ کی کمی ہے۔ عیاں رہے کہ ہمارے ملک میں ٹیچرس ٹریننگ کی پوزیشن بھی بہت خراب ہے۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے ملک میں صرف 400 ڈائٹ ہیں۔ 92فیصد پرائیویٹ ادارے ٹیچرس ٹریننگ دیتے ہیں۔ غیر معیاری ٹریننگ کا عالم یہ ہے کہ پرائیویٹ اداروں سے ٹریننگ لینے والے صرف دس فیصد ہی ٹیسٹ امتحان پاس کرپاتے ہیں ۔اگر یہی حالت رہی تو سرکاری اسکول صرف خواندگی کے مراکز ہی بن کررہ جائیں گے۔ اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آر ٹی ای ایکٹ کو کیسے مفید بنایا جائے اور پبلک ایجوکیشن سسٹم کوکیسے بچایا جائے؟قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کو سکندر لودھی نے سب سے پہلے سبھوں کے لئے یکساں تعلیم کا نظام دیا تھا۔ انگریزوں سے قبل بنگال میں ایک لاکھ مدارس تھے جن میں سبھی مذاہب کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے لیکن انگریزوں نے اقتدارسنبھالتے ہی سبھی کے لئے یکساں تعلیم کے نظم کو ختم کردیا۔ اسی کے ساتھ مدارس اور جدید اسکولوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
جہاں تک تینوں زبانوں اردو، عربی اور فارسی کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں مرکزی وزیر کی دلچسپی کو عملی شکل میں لانے کے لئے اس حکومت کے اردو کے پروموشن کے لئے پانچ سالہ پلان کی تفصیلات کو منظر عام پر لانا ہوگا۔ اردو کو زندہ رکھنے کے لئے دو کام کرنے ہوں گے۔ ایک سرکاری اسکولوں میں اردو تعلیم کا انتظام کرنا ہوگا اور اس کے لئے اردو اساتذہ کی بحالی کرنی ہوگی ۔جب مسلم اکثریتی علاقوں کے اسکولوں میں اردو تعلیم کا نظم ہوگا تو کالج یا یونیورسٹی میں بھی اردو پڑھنے والے ملیں گے۔دوسرا کام اردو کو ملازمت سے جوڑنا ہوگا۔ جہاں جہاںا ردو بولنے والوں کی آبادی قابل ذکر ہے، وہاں وہاں ریاست بہار کی طرز پر اردو مترجمین کی تقرری کرنی ہوگی۔ محض یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ بالی ووڈ فلم کی زبان اردو ہے اور گانے اردو میں ہوتے ہیں، اس لئے اردو ہمیشہ زندہ رہے گی۔ آل انڈیا ریڈیو، دوردرشن اردو و دیگر ادارے کی بقاء کا بھی انحصار اس پر ہے کہ نئی نسل اردو سے کتنی وابستہ ہے اور نئی نسل تبھی اس سے وابستہ ہوگی جب اردو کی تعلیم کا اسکول کی سطح پر نظم ہوگا۔مرکزی وزیر اردو کے پروموشن کی بات کررہے ہیں لیکن وہ کیا اس سوال کا جواب دیں گے کہ آخر بی جے پی کے 2014 میں اقتدار سنبھالتے ہی ریڈیو پر نشر ہونے والے مقبول عام اردو پروگراموں کو کیوں روک دیا گیا؟
فارسی کی حیثیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔یہ ہندوستان کی ایک ہزار سے زائد عرصہ تک سرکاری زبان کے طور پررہی ہے۔آج بھی عدالت،رجسٹری آفس اور تھانہ میں تحریری کارروائی فارسی الفاظ پر بڑی حد تک منحصر ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی اور رسائل میں یہ زندہ ہے۔ ان مقامات میں یہ ملازمت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
اب رہی بات عربی کی،تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ 19ویں صدی میں لارڈ میکالے کے منٹ (Minute) کا شکار عربی اور سنسکرت دونوں زبانیں ہوئی تھیں۔ مرکزی وزیر موصوف سے یہ سوال ہے کہ کیا ایسے وقت جبکہ سنسکرت کی واپسی ہورہی ہے، عربی جوکہ سنسکرت کی طرح انگریزوں کے آتے ہی معتوب ہوئی تھی، کی بھی اسی طرح بازآبادکاری ہوگی؟
ہندوستان میں عربی کا کیس اس لئے بہت مضبوط محسوس ہوتا ہے کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق 51ہزار 728 افراد کی یہ مادری زبان ہے۔فی الوقت کالجوں کے علاوہ اس ملک میں زبان 40 سے یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ جدید تعلیم گاہوں میں اس کے پھیلنے سے یہ اب صرف مدارس تک محدود نہیں رہی۔ گلوبلائزیشن کے بعد پرائیویٹ اور پبلک دونوں سیکٹروں میں یہ بہت اہم اس لئے ہوگئی ہے کہ عرب ممالک میںٰ تجارتی معاملے اسی زبان میں کرنے پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان ممالک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ٹورزم ، ہاسپٹالٹی اور دفاعی سیکٹروں میں ملازمتوں کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت یہ زبان ملازمت میں معاون ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یونیورسٹیوں میں شعبہ عربی میں غیر مسلم طلباء کی قابل ذکر تعداد دکھائی پڑتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق 1974 سے ہر سال 18دسمبر کو عالمی یوم عربی منایا جاتا ہے۔ پرکاش جاوادیکر نے عربی اور فارسی کی جس قدر تعریف کی ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ یہ ان دونوں اہم زبانوں کی حتی الامکان بازآبادکاری کریں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *