پاکستان کے کچھ مدارس شک کے دائرے میں

dami3پاکستان میں مدارس کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ان مدارس میں غیر ممالک سے بڑی مقدار میں چندے وصول کئے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ چندے دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے لئے جاتے ہیں مگر کچھ ایسی اطلاعات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ان چندوں کی آڑ میں وہاں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ابھی حال ہی میں سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث 94 مدارس پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 10 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں جن میں سے 7724 فعال ہیں اور ان میں ساڑھے پانچ لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں 818 غیر ملکی ہیں۔اس سے قبل صوبائی ایپکس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سندھ میں 50 مدراس کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں جن کی آگاہی انیٹلیجنس اداروں اور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ ان مدارس میں سے 27 کراچی،12 حیدرآباد، 4 لاڑکانہ، 6 سکھر اور ایک گھوٹکی میں واقع ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کر روکنے کے لیے سخت اقدامات کئے ہیں اور زبردستی فطرانہ اور کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے آڈٹ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت ایک برس کے دوران صوبے میں 13800 کے لگ بھگ مدرسوں کی رجسٹریشن اور ’جیو ٹیگنگ‘ یا ان کے محل و وقوع کے بارے میں مکمل معلومات جمع کر لی گئی ہیں۔قبل ازیں سندھ میں بھی مدارس کی جیو ٹیگنگ کے تحت کراچی میں 2122 اور حیدرآباد کے ساڑھے 15 سو کے قریب مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل کی گئی تھی۔ اس عمل کے دوران 167 مدارس کو سیل کر دیا گیا تھا۔
1947میں پاکستان میں کل مدارس کی تعداد صرف 189 تھی۔ 1977 میں بھٹو حکومت کے خاتمے کے وقت پاکستان میں 900 مدارس موجود تھے۔ 1988 میں ضیا ء الحق حکومت کے خاتمے تک رجسٹرد مدرسوں کی تعداد 8000 تک پہنچ چکی تھی۔غیر رجسٹرڈ مدارس اس کے علاوہ ہیں۔پاکستان میں روز بروز مدارس کی تعداد بڑھتی رہی جس کا نتیجہ ہے کہ اس وقت پاکستانی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مدارس کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔البتہ گزشتہ سال ایک رپورٹ ’دا مدرسہ کننڈرم‘ کے مطابق ملک میں مدارس کی تعداد 35,337 ہے۔ان مدارس کو زندہ رکھنے میں اندرون ملک تعاون کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی تعاون بھی ملتا ہے۔
حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جو ملک میں دینی مدارس کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالی معاونت کر رہے ہیں۔یہ سرکاری اعداد و شمار ملک بھر کے تقریباً 300 مدارس کے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب پاکستان میں 172 مدارس کی مالیمعاونت کرتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایران دوسرے نمبر پر 84 دینی درسگاہوں کی مدد کرتا ہے۔مدارس کے لیے یہ فنڈنگ صرف سعودی عرب اور ایران سے ہی نہیں بلکہ حکومت کے مطابق تھائی لینڈ اور ترکی جیسے ممالک سے بھی رقوم بھیج رہے ہیں۔دیگر ممالک جو مدارس کی مدد کر رہے ہیں ان میں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے چند دیگر ممالک اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق وہ ضلعے جہاں کے مدارس سب سے زیادہ بیرونی مالی مدد لے رہے ہیں، ان میں فیصل آباد سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ لاہور اور جھنگ بھی شامل ہیں۔ بیرونی امداد حاصل کرنے والے مدارس میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں واقع ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بیرونی فنڈنگ پر نظر رکھنے کے لیے وہ نادرا کے ذریعے ایک ڈیٹا بنک بھی قائم کر رہی ہے۔ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں مدارس میں غیرملکی طلبہ کی تعلیم بھی بند کر نے پر غور کررہی ہے۔
اگرچہ یہ امداد تعلیم کو فروغ دینے کے لئے کی جاتی رہی ہے مگر حکومت کو شک ہے کہ یہ امداد مدارس کے آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے، اس لئے یہ آرڈیننس جاری کیا ہے کہ دینی مدارس اب کسی قسم کی بیرونی امداد حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں لے سکتے۔حکومت کی اس بارے میں ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی ہے۔ کوئی بھی مدرسہ ہو یا کوئی بھی فنڈ ، اس کے لیے کہیں سے بھی رقوم آئیں گی تو وہ سٹیٹ بینک، وزارت داخلہ اور خارجہ کی این او سی کے بغیر نہیں آ سکیں گی۔ اس کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے اور اب بغیر اجازت براہ راست فنڈنگ کہیں سے بھی نہیں آسکے گی۔
پاکستان میں دہشت گردی کے پنپنے کی باتیں بارہا آتی رہی ہیں۔ممکن ہے ان مدارس کو بھی دہشت گرد تنظیمیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کررہی ہوں ۔اگر یہ سچ ہے تو حکومت پاکستان کی یہ اچھی پیش رفت ہے کیونکہ اس وقت پاکستان دہشت گردی کو جنم دینے میں پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *