پاکستان کی فوجی عدالت کتنی مفید کتنی غیر مفید ؟

damiپاکستان کی فوجی عدالت کی مدت کار ختم ہوچکی ہے۔ اپنے دو سالہ دور میں یہ عدالت مسلسل موضوع بحث بنی رہی ۔کسی نے اس کو اچھا کہا تو کسی نے جمہوریت کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔ اس دو سال کے اندر اس عدالت کے تحت 274 مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں161 مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی اور 113 مقدمات میں مجرموں کوالگ الگ قید کی سزائیں ہوئیں۔ان میں سے 12 مجرموں کو اب تک پھانسی دی جاچکی ہے ۔
اس عدالت کی ابتدا بھی بڑے ڈرامائی انداز میں ہوئی تھی۔ جس وقت پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی اورآپریشن ضرب عضب کے باوجود پشاور میں دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 150 سے زیادہ بچوں کی ہلاکت نے جب ریاست کی کمزریوں کو نمایاں کیا تو حکومت نے عدالتی نظام میں سست روی کا جواز دیتے ہوئے انتہا پسندی سے متعلق مقدمات سے بروقت نمٹنے کے لیے جنوری 2015 میں آئین میں 21ویں ترمیم کرکے فوجی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔اس عدالت کا مقصد فوجی عدالتوں کو دو سال کے لیے خصوصی اختیارات دیئے گئے تھے ۔اس کے بعد جن افراد پر دہشت گردی کے الزامات تھے ،ان کا ٹرائل اس عدالت کے تحت کیا گیا۔ پورے ملک میں9 فوجی عدالتیں قائم ہوئیں، جن میں سے صوبہ خیبر پختون خواہ اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت قائم ہوئی۔
اب جبکہ فوجی عدالت جو کہ صرف دو سال کے لئے تشکیل کی گئی تھی، کا عرصہ پورا ہوچکا ہے تو پاکستان میںاب یہ بحث چل پڑی ہے کہ کیا اس نظام کو مزید آگے بڑھایا جائے یا یہیں پر روک دیا جائے۔ ملک میں الگ الگ طرح کی آراء آرہی ہیں۔ حکومت اس میں مزید توسیع کرنا چاہتی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے فوجی عدالتوں کی میعاد ختم ہونے کے دو روز بعد ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ان عدالتوں کو مزید توسیع دینے کی خاطر آئینی ترمیم متعارف کروائی جائے گی جس کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے فوجی عدالتوں کا جواز پیش کرتے ہوئے چند روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ‘انتہا پسندی کے مقدمات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جج، وکیل اور گواہان کو جان کا خوف ہوتا ہے۔ اہم مقدمے کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ کوئی سامنے نہیں آتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات سے نمنٹے کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئی تھیں اور یہ ضرورت ہنوز باقی ہے اس لئے اس میں توسیع ضروری ہے۔جبکہ ججوں کی عالمی تنظیم سمیت انسانی حقوق کی کئی تنظیموں اور وکلا نے حکومت سے اپیل کی ہیں کہ فوجی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع نہ کیا جائے۔
پہلے مختلف وجوہات کی بنا پر ان عدالتوں کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں میں سے اب بعض ایسے بھی ہیں جو فوجی عدالتوں کی توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ باہر کا کہنا ہے کہ ’ملک میں دوسرے قوانین موجود ہیں جو سیکورٹی اداروں کو تفتیش اور پراسیکیوشن کے لیے بے پناہ اختیارات دیتے ہیں، جن کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کو جواز بنا کر فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں لہٰذا اب اس میں مزید توسیع کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ان کا کہنا ہے کہ’پولیس کو تمام سیاسی جماعتوں نے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، لیکن اب پولیس میں اصلاحات پر بحث شروع ہو گئی ہے تا کہ انہیں اس قابل بنایا جا سکے کہ و ہ تیزی سے اور جدید طریقوں سے انتہاپسندی سے منسلک مقدمات کی تفتیش کر سکیں تا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی موثر بنایا جائے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں فوجی عدالت کا سہارا لینا نہیں پڑے گا۔
بیشتر انسانی حقوق کی ملکی اور عالمی تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان عدالتوں کی منظوری دینے پر پارلیمنٹ کو بڑی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اسلام آباد بار ایسویشن کے صدر طیب شاکر کا کہنا ہے کہ ’پولیس کے پاس تحقیقات اور پراسیکیوشن کا اختیار ہے مگر ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ ان کی شواہد جمع کرنے کی صلاحیت کمزور ہونے کی وجہ سے کمزور مقدمات عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کا انحصار پولیس پر ہوتا ہے اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے مجرم کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ پاتے۔طیب شاکر کا مزید کہنا ہے کہ ایسے مقدمات جن میں انتہاپسندی کا پہلو ہو ،ان میں جج، وکیل، گواہ، سب ہی ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی شناخت مخفی نہیں رکھی جاتی۔ یہ ایک دوسری بڑی وجہ ہے جس سے عدالتی نظام ان مقدمات کو نمٹنے میں تاخیر کر دیتا ہے۔`اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی تو خفیہ رکھی گئی، مگر کیا اب عدلیہ بھی ایسا ہی کرے گی؟
اس سلسلے میں ماہرِ قانون جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ ’حکومت اصل مسئلے سے آنکھیں چرا رہی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پولیس کی تفتیش درست نہیں ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کا تبادلہ ٹھیک نہیں ہے۔ گواہوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ استغاثہ ٹھیک نہیں ہے لیکن حکومت بجائے ان معاملات کو حل کرنے کے لیے آسان حل کی جانب جا رہی ہے‘‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دو سال قبل تمام پارٹیوں نے فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا، لیکن ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ دو سال چٹکی بجاتے ہی گزر جائیں گے۔آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں دو سال پہلے کھڑے تھے اور اس کی وجہ صرف اور صرف سیاست دانوں کی کوتاہی اور نالائقی ہے۔اس لئے فوجی عدالتوں کی توسیع کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا ہے‘‘۔
دفاعی امور کے ماہر ایاز گل کہتے ہیں کہ ’بلاشبہ فوجی عدالتوں کو بیساکھی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں 20 نمبر شق یہی تھی کہ پاکستان کے تعزیری نظام کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جائیں گی، پولیس میں اصلاحات کی جائیں گی، لیکن اس کی بجائے فوجی عدالتیں مسلط کر دی گئیں جو بین الاقوامی طور پاکستان کے تشخص کے لیے اچھا نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام میں تعاون کرنا سوچنا بھی رجعت پسندانہ عمل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ایسے اقدامات نہیں کرنا چاہتی جو اس کے اختیارات میں ہیں لیکن اسے خدشہ ہے کہ اس کی بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی جو 52 عدالتیں موجود ہیں ان کو وہی اختیارات دیے جائیں جو فوجی عدالتوں کو دیے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے تو یہ انصاف کو نافذ کرنے کے لئے بہتر ہوگا۔
فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے میں اس شبہ کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ کہیں اس فیصلے کے پیچھے فوج کا دباؤ تو نہیں ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے؟اس سلسلے میں ایاز گل کا کہنا ہے کہ’ فوج کا دباؤ ہے، البتہ فوج کے دباؤ کا بہانہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اگر دباؤ ہو بھی تو اس کی مزاحمت بھی کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب خود حکومت کے بعض ارکان اس عمل کو پسندیدہ نہیں سمجھتے۔ چند روز قبل بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ فوجی عدالتیں بنانا اچھا قدم نہیں ہے۔ ہماراجمہوری معاشرہ ہے، ہماری سیاسی جماعت ہے، ہم الیکشن لڑ کر آئے ہیں، ہم تو فوجی عدالتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس کے علاوہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنااللہ نے بھی فوجی عدالتوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کوئی حل نہیں ہے، وہ دو سال رہی ہیں، لیکن ان کی کارکردگی بھی کوئی اتنی زیادہ بہتر نہیں رہی ہے جس کے اوپر کہا جا سکے کہ اس کے بغیر سسٹم چل نہیں سکتا۔
ان تمام آراء کو دیکھنے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے حکومت فوجی عدالت کی توسیع میں کامیاب ہوتی ہے یا سیاسی پارٹیوں اور پاکستانی دانشوروں کے مشورے پر اس عدالت کی تشکیل کی انتہا یہیں پر ہوجاتی ہے۔ویسے پاکستان حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے اور اس وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے لہٰذا پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سخت قدم اٹھانا ہی چاہئے البتہ اس میں عوام کے حقوق کا پورا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *