نیٹ ٹیسٹ میں اردو آپشن کو ختم کرنے کا فیصلہ ہزاروں طلباء کا مستقبل خطرے میں

dami3مرکزی حکومت نے طبی تعلیم کے میدان میں گڑبڑیوں کو دور کرکے شفافیت لانے کے مقصد سے سال2017-2018 قومی سطح پر منعقد ہونے والے نیٹ امتحانات ( این ای ای ٹی ) میں 8 زبانوں کو شامل کیا ہے۔ان میں سے کسی بھی زبان میں نیٹ پاس کرنے والے طالب علم اب آل انڈیا کوٹہ اور ریاستی حکومتوں اور دیگر اداروں کے تحت کوٹے کے لئے اہل ہو جائیں گے۔

اس امتحان میں اردو کا آپشن نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ہزاروں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے جن کی تعلیم اردو میڈیم جونیئر کالج سے ہوئی ہے ۔اس فیصلے کو جہاں اردو کے طلباء کو محروم کرنے کی غیر مناسب کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ،وہیں عدالت عظمی کی اس ہدایت کی خلاف ورزی بھی کہا جارہا ہے جس میں عدالت نے 2013 میں فاطمہ انصاری کے مقدمہ میںمرکزی حکومت کو اردو میں نیٹ کے امتحانات کرانے کا حکم دیا تھا۔
واضح ہو کہ مرکزی حکومت گزشتہ تین سالوں سے میڈیکل کالجوں میں داخلے لئے لئے قومی سطح پر ایک امتحان منعقد کراتی ہے ۔ جسے نیشنل ایلی جیبلیکم انٹرینس (نیٹ) کے نام سے جاناجاتاہے۔ اس سال یہ امتحان مئی میں منعقد ہوگا۔ مگر دشواری یہ ہے کہ حکومت نے اپنے سرکاری اعلامیہ میں سوالیہ پرچے میں اردو کو شامل نہ کرکے ملک بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں اردو میڈیم کے طلباء و طالبات کے لئے مشکلیں پیدا کردی ہیں۔جبکہ ملک میں بڑی تعداد میں بچے اردو میڈیم کے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو صرف مہاراشٹر میں اردو میڈیم کے 168 سائنس جونیئر کالج ہیں اور ہر سال 11ہزار طلباء ہزار طلباء امتحان دیتے ہیں۔ آندھرا پردیش میں 50 جونیئر کالج ہیں اور اسی طرح کرناٹک ، جموں و کشمیر ، بہار اور مغربی بنگال سے بھی بارہویں سائنس بورڈ کے امتحانات میں ہزاروںطلباء شریک ہوتے ہیں۔لیکن پھربھی سوالیہ پرچیمیں اردو کو نظر کیا جانا اردو کے ساتھ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔
اس سلسلیمیں آل مہاراشٹرااردو جونیئر کالج اسٹوڈینٹس اینڈ ٹیچرس آرگنائزیشن ‘ کے سکریٹری شیخ نجم الدین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی جب 2013 میں نیٹ امتحانات منعقد ہوئے تھے تب بھی یہی غلطی مرکزی حکومت کی طرف سے دہرائی گئی تھی۔ اس وقت سپریم کوٹ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ نیٹ امتحان اردو میں بھی لیا جائے۔تب مرکزی حکومت کی جانب سے ٹال مٹول کا نقصان یہ ہوا کہ نوٹیفکیشن میں اردو شامل نہیں ہوسکا۔ جو بچے اردو میں فارم بھرنا چاہتے تھے، آپشن نہ ہونے کی وجہ سے انگریزی یا دیگر زبانوں کو چوائس کرلیا۔بعد میں سپریم کورٹ نے اردو کو شامل کرنے کی اجازت تو دی لیکن اردو میڈیم کے جو طلباء مجبوری میں دوسری زبان چوائس کرچکے تھے انہیں پھر سے اردو چوائس کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔لہٰذا اس سال حکومت ایک تو اردو کو سوالیہ پرچہ میں شامل کرے اور یہ عمل نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہوجانا چاہئے تاکہ پچھلی مرتبہ کی طرح بچے دھوکہ میں نہ رہ جائیں۔
نجم الدین نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی سطح پر منعقد کئے جانے والا یہ امتحان ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسیز کیلئے منعقد کیاجا رہا ہے اور مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس نیٹ کو ریاستی پیمانہ پر نافذ کریں یا علیحدہ امتحان لیں لیکن حکومت مہاراشٹرا نے اسی امتحان کو دیگر کورسیز کیلئے بھی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسا کرنے سے اردو میڈیم کے طلبہ میڈیکل ایجوکیشن کے کل 29 کورسیز سے محروم ہو جائیں گے جو بہت بڑی محرومی ہو گی۔انہوں نے مزید کہاکہ اردو میڈیم کے طلبہ کو اس محرومی سے بچانے ، ان کا حق انہیں دلانے اور نیٹ میں اردو کا پرچہ شامل کرنے کیلئے ہم سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت (پی آئی ایل) داخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ( ایس آئی او ) کے مہاراشٹر کے اسٹیٹ سکریٹری محمد علی کا کہنا ہے کہ نیٹ کے امتحان میں اردو کا پرچہ نہ دینے سے ارد و میڈیم کے طلبہ کو یقینا پریشانی ہو گی کیونکہ جنہوں نے 12 سال تک ارد میں ہی تعلیم حاصل کی ہے، انہیں اچانک انگریزی یا دیگر زبانوں میں پرچہ دینا دشوار ہو گا۔ظاہر ہے یہ اردو میڈیم کے طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے اور وزیر اعظم کے نعرہ ’’ سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘ کے برعکس ہے۔ایس آئی او کے محمد شعیب کا کہنا ہے کہ حکومت ان بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے نوٹیفکیشن آنے سے پہلے سوالیہ پرچے میں اردو کو شامل کرے تاکہ طلباء اپنے چوائس کے مطابق زبانوں کے آپشن کو اختیار کرسکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *