نوٹ بندی ہندوستان کے بعد وینزولا ، ملیشیا اور پاکستان کا نمبر

dami3ہندوستان نے 8اکتوبر 500 اور 1000 کو نوٹ بند کرکے کالے دھن کو واپس لانے اور دہشت گردی کی کمر توڑنے کا 50روزہ منصوبہ بنایا اور پھر یہ مدت بھی گزر گئی مگر نوٹ بندی سے عوام کی عملی دشواریوںکا جوسلسلہ شروع ہوا ،وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔بینکوں میں لمبی قطاریں جاری ہیں۔ 50دن مکمل ہونے پروزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام اپنے خطاب میں ان دشواریوں کو دور کرنے کے بارے میں کوئی اعلان کیا۔8نومبر کو نوٹ بندی کے اس اعلان نے دنیا کے کئی ملکوں کو متاثر کیا ۔اب یہ ممالک اپنے یہاں بھی نوٹ بندی کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ لاطینی امریکہ کے ایک ملک وینزویلا نے ہندوستان میں نوٹ بندی کے بعد اپنے یہاں سب سے زیادہ مالیت والی بڑی کرنسی ((یولیور) کو سکوں میں بدلنے کا اعلان کردیا۔ ملیشیا کی حکومت نے بھی نوٹ بندی کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے یہ ٹیم جائزہ لے گی کہ نوٹ بندی سے معیشت پر کیا اثرات پڑیں گے۔ہندوستان کا ایک پڑوسی ملک پاکستان بھی اپنے یہاں پانچ ہزار کا نوٹ بند کرنے کے لئے سینیٹ میں ایک قرار داد منظور کیا ہے ۔
دراصل شدید اقتصادی اور سیاسی بحران کا سامنا کرنے والے ملک وینزویلا میں مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔حکومت نے پچھلی بار 2015 کے دسمبر میں مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار جاری کیے تھے جن کے مطابق وینزویلا میں مہنگائی کی شرح 180 فیصد تھی۔اس مہنگائی پر قابو پانے کے لئے صدر نکولس مادرونے نوٹ بندی کا اعلان تو کردیا لیکن وہ اس سے پیدا ہونے والے نتائج پر غور نہیںکرسکے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں صر ف تین دنوں کے اندر ہی اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ دراصل صدر وینزویلا نے یہ اعلان کیاتھا کہ جن کے پاس سب سے بڑی کرنسی ہے ،وہ ان کو سکوں میں 72گھنٹے کے اندر تبدیل کرلیں۔قابل ذکر ہے کہ وینزویلا میں سب سے زیادہ مالیت والا نوٹ 100 بولیور ہے۔حکومت کو لگ رہا تھا کہ اس فیصلے سے اسمگلنگ کی روک تھام،خوراک اور دوسری اشیا کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی اور سرحدی علاقوں میں سرگرم اسمگلروں کو پیسے تبدیل کرنے کا وقت نہیں ملے گا۔ صدر نکولس نے ٹیلی ویڑن پر فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے ہوائی، سمندر اور سڑک کے تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ دھوکہ دہی سے جمع کیے جانے والے پیسے بیرون ملک ہی پھنسے رہ جائیں۔صدر کے اس فیصلے کوماہرین معاشیات نے ناکام بتایا اور کہا کہ یہ مسٹر نکولس کی جانب سے معاشی بحران سے نمٹنے کی مایوس کوشش ہے۔حزب اختلاف کے رہنما ہینرک کیپرلز نے ہسپانوی زبان میں ٹوئٹر پر لکھا کہ ’جب نا اہلی راج کرتی ہے تو کون ہے جو اتنے سارے مسائل کے درمیان ایسے اقدام کے بارے میں سوچ سکے‘۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام 100 بولیور کے نوٹوں کو طے شدہ مدت میں بدلنا نامکمن ہے۔
وینزویلا نے ہندوستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے یہاں نوٹ بندی کا اعلان تو کردیا لیکن ہندوستان میں لوگوں کو ہورہی دشواریوں پر غور نہیں کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تین دنوں کے اندر ہی وہاں ایسی افرا تفری مچی کہ حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ حکومت نے اب اپنے اس فیصلے کو دو ہفتے کے لئے ٹال دیا ہے۔دراصل حکومت کے اس فیصلے کے بعد پورے ملک میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔مظاہرین نے پُر تشدد راہ اختیار کرلی۔اس تشدد میں درجنوںدکانیں لوٹ لی گئیں اور متعدد افراد زخمی ہونے کے علاوہ تین کی جانیں بھی گئیں۔اس تشدد کے بعد حکومت نے فی الوقت اس فیصلے کو موخر کردیا ہے۔
نوٹ بندی کے نتیجے میں ہونے والے مشکلات کو دیکھتے ہوئے اب وہ ممالک جو معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنے یہاں نوٹ بندی کا منصوبہ بنارہے تھے ،وہ اب محتاط ہوگئے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ نوٹ بندی کے بعد کسی طرح کی دشواریوں سے بسہولت نمٹا جاسکے۔ چنانچہ آسٹریلیا نے اپنے یہاں ایک ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہے ۔یہ ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ نوٹ بندی کے بعد جو مشکلات سامنے آئیںگی، ان مشکلات کا سامنا کیسے کیا جاسکتاہے؟ آسٹریلیا اس منصوبہ بندی پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے تاکہ کالے دھن کو باہر لایا جاسکے اور 100 ڈالر کے نوٹ کا مستقبل طے ہوسکے نیز فیصلے کے بعد عوام کو مشکلوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ملیشیا کی حکومت نے یہ فیصلہ وہاں کے ایک بینک کی تجویز کے پیش نظر کیا ہے ۔حال ہی میں آسٹریلیا کے یو بی ایس بینک نے ملک میں 100 ڈالر کے نوٹ کو بین کرنے کی مانگ کی تھی۔ بینک نے کہا تھا کہ اگر 100 ڈالر کے نوٹ کو بند کردیا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ بینک کا کہنا تھا کہ بینکوں میں کافی تیزی سے رقم جمع کرنے کے کام میں تیزی آ رہی ہے. ایسے میں ڈیجیٹل اور کیش لیس ادائیگی کو فروغ دینے کے لئے ایسا کر دینا چاہئے۔
100 ڈالر کے نوٹ اور کیش ادائیگی کے بارے میںملیشیائی ٹیکس اور مالیات کے وزیر کیلی اوڈینر کا کہنا ہے کہ’ اس سے پوشیدہ کالے دھن کو باہر لانے میں مدد ملے گی‘۔اگر ٹاسک فورس ٹیم نے نوٹ بندی کے حق میں رپورٹ دے دی تو ممکن ہے ملیشیا بھی اس پر عمل کرتے ہوئے 100ڈالر کا نوٹ بند کردے اور شاید اس نوٹ بندی کے نتیجے میں کوئی تشدد بھی نہ ہو جیسا کہ دیگر ملکوں میں ہوا ہے۔ کیونکہ اس سے ان امکانات پر غور کرنے کے لئے پہلے ہی ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ظاہر ہے نوٹ بندی کا اعلان کرنے سے پہلے ہی وہ ان تمام امکانات پر غور کرلے گا۔
نوٹ بندی سے ہندوستان کو فائدہ ملے گا یا نہیں ، معیشت کو مستحکم کرنے، کالا دھن کی روک تھام کرنے اور دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن اس اعلان کی کشش کو دیکھتے ہوئے پڑوسی ملک پاکستان نے بھی اپنے یہاں پانچ ہزار نوٹ کو بند کرنے کے لئے سینیٹ میں ایک قرار داد منظور کرلیا ہے۔سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے سینیٹ میں یہ قرارداد پیش کی تھی،جس میں کہا گیا کہ رقم کی ناجائز گردش روکنے،بینک اکا ئونٹس کے استعمال کو فروغ دینے اور غیر دستاویزی معیشت کا حجم کم کرنے کی خاطر حکومت 5 ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے کے اقدامات کرے۔حالانکہ وفاقی وزیر زاہد حامد نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں 3اعشاریہ431 ٹریلن نوٹ گردش میں ہیں، ان میں سے 1اعشاریہ02 ٹریلین 5 ہزار روپے کے نوٹ ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام گردشی پیسے کا 30 فیصد بنتا ہے، اتنی بڑی تعداد میں نوٹ مارکیٹ سے نکال لینے سے بحران پیدا ہو گا، مقامی کرنسی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ غیر ملکی کرنسی کو ترجیح دیں گے۔ان کی مخالفت کے باوجود سینیٹ نے قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی۔
غرضیکہ ہندوستان میں نوٹ بندی کے اعلان کے بعد کئی ملکوں نے اپنے یہاں معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نوٹ بندی کے پہلوئوں پر سوچنا شروع کردیا ہے ۔حالانکہ پاکستان کے سینیٹر عثمان سیف اللہ کہتے ہیں کہ ان کے یہاں یہ قرارداد ہر گز نریندر مودی سے متاثر ہو کر نہیں لائی گئی ہے،یہی وجہ ہے کہ یہاں بھارت کی طرح اچانک نوٹوںکو بند کرکے عوام کو دشواریوں میں ڈالنے کے بجائے 5ہزار روپے کے نوٹ کی چھپائی کو روک دیا گیا ۔ 3 سے5سال کے عرصے میں 5 ہزار روپے کا نوٹ مارکیٹ سے خود بخود ختم ہوجائے گا۔ اس طرح بتدریج پانچ ہزار کے نوٹ کو ختم کرنے سے عوام کو دشواری بھی نہیں ہوگی اور بڑی کرنسی میں کالاکاروبار کرنے والوں پر روک بھی لگ سکے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان میں نوٹ بندی کے بعد ہوئی عملی دشواریوں سے کتنے ممالک سبق لیتے ہیں اور اپنے عوام کو پریشانیوںسے بچاتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں جہاںبھی نوٹ بندی ہوئی ہے وہاں عام معیشت کے علاوہ بھکاریوں کو بھیک ملنے پر بھی اس کے اثرات پڑے ہیں۔دنیا کے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میںنقد رقم کا استعمال کم سے کم ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے بے گھر افراد اور بھکاریوں کو خیرات کم دی جانے لگی ہے لیکن اس کا حل نکالتے ہوئے ایمسٹرڈیم کی کمپنی نے ایک ایسی جیکٹ متعارف کرائی ہے جس میں کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ چھونے سے مطلوبہ رقم ایک بینک اکائونٹ سے ہوکر بے گھر افراد کی تنظیم کے اکائونٹ میں چلی جاتی ہے۔ اسے ہالینڈ کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے تیار کیا ہے جسے کانٹیکٹ لیس پے منٹ جیکٹ کا نام دیا گیا ہے ۔اس جیکٹ میں غریب افراد کا اسمارٹ کارڈ لگا ہے جس کے آگے ایک ایل سی ڈی بھی نصب ہے۔ آپ جونہی اپنا کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ جیکٹ پر لگے نظام کے پاس لے جاتے ہیں، ایک یورو کی رقم خود بخود آپ کے اکائونٹ سے نکل کر دوسرے اکائونٹ میں چلی جاتی ہے۔
اس سسٹم میں جیکٹ پہننے والے کو رقم وصول کرنے کے لئے ایک بٹن دبانا ہوتا ہے اور بھیک کی رقم اس کے اکائونٹ میں اس کی آئی ڈی کے ساتھ چلی جاتی ہے جسے بعد میں وہ وصول کرسکتا ہے لیکن کسی سروس ،کھانے یا کپڑے کی صورت حال میں۔ اس ٹیکنالوجی خیرات کی رقم کو فضول کاموں کے لئے خرچ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے صرف سہولیات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *