نوٹ بندی کے بعد اب باری اینمی پراپرٹی کی

dami500 اور 1000 کے نوٹوں پر روک لگانے کے بعد اب مرکزی سرکار نے غیر قانونی جائیدادوں کی تحویل کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔اس کی پہلی کھیپ میں وہ جائیدادیں ضبط یا نیلام کی جائیں گی جو ملک کی تقسیم کے وقت پاکستان چلے گئے لوگوں کی ہیں۔ ایسی جائیدادوں پر زیادہ تر مافیا عناصر یا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کا قبضہ پایا گیا ہے۔ نوٹ بندی کا حکم جاری ہونے کے ایک ماہ بعد ہی خفیہ ایجنسیوں کو پورے ملک میں موجود ایسی جائیدادیں جنہیں سرکاری زبان میں اینمی پراپرٹی ( دشمن جائیداد) کہا جاتا ہے،کی تازہ صورت حال کے بارے میں چھان بین کر کے رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔
سرکار کے پاس رپورٹ پہنچ گئی
زیادہ تر رپورٹیں مرکزی سرکار کے پاس آ گئی ہیں۔ اب ان جائیدادوں پر قابض لوگوں سے قبضے کا قانونی ثبوت مانگا گیا ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسی کا ماننا ہے کہ کئی ایسی جائیدادیں ہیں، جن پر پاکستان بھاگ کر گئے مافیا سرغنہ دائود ابراہیم کے کارندوں ، رشتہ داروں یا دائود سے جڑے لوگوں کا قبضہ پایا گیا ہے۔ اسی طرح اینمی پراپرٹی کے نام پر ایسی بھی جائیدادیں ملی ہیں جن پر دہائیوں سے مشکوک سرگرمیوں والے افراد کا قبضہ ہے،جنہیں اب سرکار اپنے قبضے میں لے کر یا تو نیلام کرے گی یا سرکاری استعمال میں لائے گی۔ مرکزی سرکار نے دسمبر2016میں ہی اینمی پراپرٹی (امنڈمنٹ اینڈ ویلڈیشن ) آرڈیننس لاکر اپنا قانونی پہلو مضبوط کر لیا تھا۔
اینمی پراپرٹی پر سرکار کی تحویل یا اس کی نیلانی کے عمل میں نچلی عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے کا کام پہلے سے چل رہا تھا۔ تازہ جانچ کے بعد پایا گیا کہ اینمی پراپرٹی جتنی اب تک بتائی جارہی تھی، اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ابھی اس کی تعداد بڑھ ہی رہی ہے۔ مرکزی ایجنسی کے ایک آفیسر نے کہا کہ سرکاروں نے اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے میں دلچسپی نہیں لی۔ ابھی بھی کئی ریاستی سرکاریں اس کی چھان بین میں تعاون نہیں کررہی ہیں۔ آفیسر کہتے ہیں کہ مرکز کی یہ کارروائی غیر قانونی اور بے نامی جائیدادوں پر کارروائی کی طرف پہلا قدم ہے۔
سبھی متعلقہ ریاستوں کے کلکٹروں کو وزارت داخلہ کی طرف سے ہدایت بھیجی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے ضلع کی اینمی پراپرٹی پر قابض لوگوں سے قبضے کا قانونی ثبوت حاصل کریں۔ جو قبضے قانون کے مطابق پائے جائیں گے ان کا کرایہ بازار ریٹ اور مقررہ سرکاری شرطوں پر لاگو کیا جائے گا اور جن قبضوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہوگا، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔ اتر پردیش میں ایک ہزار 468 اینمی پراپرٹی پر جو لوگ قابض ہیں، انہیں سرکاری نوٹس دی جاچکی ہے۔ ان میں لکھنو کے حضرت گنج جیسے بیش قیمتی علاقے میں موجود لاری بلڈنگ ، محمودآباد منشن، مولوی گنج میں لال کوٹھی، چار باغ گنگا پرساد روڈ پر صدیقی بلڈنگ، گولا گنج امام باڑہ میں ملکہ جمانیا جیسی کچھ اہم جائیدادیں بھی شامل ہیں جس پر لوگ دہائیوں سے قابض ہیں۔ زیادہ تر لوگ کرایہ بھی نہیں دیتے ہیں ، جو دیتے ہیں وہ بھی کبھی کبھار والے ہی ہیں۔
بیش قیمتی علاقوں میں موجود ان جائیدادوں پر قابض لوگوں کو کوڑیوں کا کرایہ جمع کرنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ان میں حضرت گنج کے مشہور کپور ہوٹل، اہم کاروباری ادارہ ہلوسیا ، دھنشیام آپٹیکلس ، شرما ایسو سی ایٹس، میسرس اورینٹل موٹر کار، کوہلی برادرس جیسے اداروں کے مالدار مالکوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں نے تو کبھی کرایہ دیا ہی نہیں ۔ اب انہیں بقیہ کرایہ بھی جمع کرنا ہوگا اور سرکار کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اینمی پراپرٹی پر ان کے قبضے کا قانونی ثبوت کیا ہے۔
اس طرح کی نوٹسیں پورے ملک میں گئی ہیں۔اینمی پراپرٹی کے دائرے میں رہائشی عمارتیں، کاروباری عمارتیں، زرعی زمینیں وغیرہ آتی ہیں۔لکھنو ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راجدھانی میں اینمی پراپرٹی پر قابض 35 اہم ڈیفالٹرس کے خلاف پہلی کھیپ کی نوٹس جاری کیجاچکی ہے جن میں 24 مسلم اور 11 غیرمسلم شامل ہیں۔ان کے قبضے کے قانونی ثبوت کی جانچ کی جارہی ہے۔ پختہ قانونی ثبوت پائے جانے پر ان کا سارا ملتوی کرایہ وصول کیا جائے گا ورنہ جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ جن قبضوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں پایا گیا، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔ لکھنو ضلع انتظامیہ نے کہا کہ لکھنو کی صدر تحصیل کے قریب ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ اینمی پراپرٹی کا عملی معائنہ کرایا گیا ہے اور ان پر قابض لوگوں کے خلاف بھی نوٹس جاری کی گئی ہے۔
فوج بھی بیورا لینے میں سرگرم
آرڈیننس لاگو ہونے کے بعد نہ صرف سول ایڈمنسٹریشن بلکہ فوج نے بھی اینمی پراپرٹی کا بیورا لینا شروع کردیا ہے۔ سینٹرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاص طور پر اس معاملے میں سرگرم عمل ہے، کیونکہ سینٹرل کمانڈ کے دائرے میں آنے والی 7 ریاستیں اترپردیش، اترا کھنڈ ،مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ ہیں۔ان میں سے یوپی ، ایم پی اور اتر اکھنڈ میں سب سے زیادہ اینمی پراپرٹی ہیں۔ فوج کے سینٹرل کمانڈ کا دفتر لکھنو میں ہے ۔ یو پی میں لکھنو ، فیض آباد، بریلی، سیتا پور، کانپور، فتح گڑھ، رام پور، کاس گنج، مراد آباد، میرٹھ، جھانسی جیسے علاقوں اور اتراکھنڈ میں دہرا دون نینی تال، ہلدوانی، مسوری اور اسی طرح مدھیہ پردیش میں بھوپال، مہو، جبل پور، اندور جیسے علاقوں میں اینمی پراپرٹی کا بیورا اکٹھا کرنے میں فوج خاص طور پر لگی ہوئی ہے۔
بھوپال کے نواب کی جائیداد بھی اینمی پراپرٹی کی شکل میں شناخت کی گئی ہے، لہٰذا وہاں بھی فوج نے ضلع انتظامیہ سے جائیداد کا تفصیلی بیورا دینے کو کہا ہے۔ وزارت داخلہ نے سی آر پی ایف کو ان جائیدادوں پر قبضے کا حکم بھی جاری کر دیا تھا،لیکن فی الحال اس پر کارروائی کو روک دیا گیا ہے۔ بھوپال میں ایسی تقریباً 150 اینمی پراپرٹی پر کارروائی ملتوی پڑی ہوئی ہے۔
اینمی پراپرٹی کی ملک گیر تعداد
وزارت داخلہ کے دستاویز بتاتے ہیں کہ ملک میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت کی ریئل اینمی پراپرٹی ہیں۔ تقریباً تین ہزار کروڑ روپے کی منقولہ جائیداد وں کے ہونے کا اب تک ثبوت ملا ہے۔ اس کی جانچ اور تخمینے کا کام چل رہا ہے اور اعدادو شمار بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ابتدا میں 2186 اینمی پراپرٹی کا ہی پتہ لگا تھا، جو اب بڑھ کر 16 ہزار کے اعدادو شمار پار کر رہے ہیں۔ اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے میں کئی ریاستوں نے مرکز کو تعاون نہیں دیا۔ ان میں مغربی بنگال اول نمبر پر ہے۔ اس کے بعد بہار کا نمبر آتا ہے۔
اینمی پراپرٹی کے پانچ ہزار سے زیادہ معاملے مغربی بنگال سرکار کی فائل میں بند پڑے ہوئے ہیں۔ اینمی پراپرٹی کے پہلے والے اعدادو شمار یعنی کل 2186 اینمی پراپرٹی میں سے 1468 جائیدادیں صرف اتر پردیش میں تھیںجس کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دیگر ریاستوں میں مثلاً مغربی بنگال میں 351 ، دہلی میں 66 ، گجرات میں 63 ، بہار میں 40 ، گوا میں 35 ، مہاراشٹر میں 25 ، کیرل میں 24 کے علاوہ کچھ اینمی پراپرٹی دیگر ریاستوں میں تھیںلیکن بعد میں شدت سے کرائی گئی چھان بین میں اینمی پراپرٹی کی تعداد 16 ہزار کے پار چلی گئی۔ وزارت داخلہ کے دستاویزوں کے مطابق ملک کی 31 اینمی پراپرٹی کا استعمال مرکزی سیکورٹی محکمے کررہے ہیں۔
اس میں سے 12 کا استعمال مرکزی صنعتی سیکورٹی فورس ( سی آئی ایس ایف ) ، 7 کا استعمال نیشنل سیکورٹی گارڈ ( این ایس جی ) ، 6 کا استعمال مرکزی ریزرو پولیس فورس ( سی آر پی ایف ) ، 4 کا استعمال مسلح سرحدی فورس ( ایس ایس بی ) اور 2 اینمی پراپرٹی کا استعمال نیشنل ڈیزاسسٹر رسپانس فورس ( این ڈی آر ایف ) کر رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ماہ نومبر میں نوٹ بندی لاگو کئے جانے کے بعد 23دسمبر 2016 کی دیر رات سے اینمی پراپرٹی آرڈیننس لاگو کیا گیا۔ 22دسمبر 2016 کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے آرڈیننس پر دستخط کئے۔ مرکزی کابینہ نے 21دسمبر 2016 کو آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد اسے صدر جمہوریہ کی منظوری کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ آرڈیننس پانچویں بار لایا گیا۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد یہ بل بن جائے گا۔ نوٹ بندی کے بعد لاگو ہونے والے اس آرڈیننس کو منظور نہیں کرنے کی صدر جمہوریہ سے اپیل بھی کی گئی تھی، لیکن صدر جمہوریہ نے ان اپیلوں پر دھیان نہیں دیا۔
جہاں تک مافیا اور دہشت گرد سرغنہ دائود ابراہیم کی ہندوستان میں غیر قانونی جائیداد کا مسئلہ ہے، اسے بھی اینمی پراپرٹی کے دائرے میں رکھا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ریئل اسٹیٹ کے دھندے میں کئی مشہور کمپنیوں میں دائود کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسی اور انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے دائود ابراہیم کی ایسی 9 بڑی جائیدادوں کا پتہ لگایا تھا جسے بیچنے کی بات چل رہی تھی۔ حالانکہ دائود نے مرکز کے متنبہ ہونے کے پہلے اپنی کئی جائیدادوں کو بیچ بھی ڈالی۔یہ جائیدادیں ممبئی، پونے، میسور، مسوری، لکھنو ، دہلی اور کولکتا شہر میں ہیں۔
اترا کھنڈ کے مسوری میں ہوٹل، لکھنو میں ہوٹل اور ریئل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ کئی فارم ہائوس اور ریزارٹرس میں بھی دائود کا پیسہ لگا ہے، جسے باہر سے سفید پوش چلا رہے ہیں۔ 2015 کے دسمبر مہینے میں ہی سرکار نے ممبئی کے ناگپاڑہ میں دائود کے ایک ہوٹل ’دلی ذائقہ ‘ کو ضبط کرکے اسے نیلام کر دیا تھا۔ دلی کے صدر بازار میں بیلی رام مارکیٹ کی تقریباً 200 دکانوں کو لے کر بھی اینمی پراپرٹی تنازع چل رہا ہے۔
دلی کے بلیماران میں مسلم مسافر خانہ بھی لمبے عرصے تک اینمی پراپرٹی تنازع میں پھنسا ہوا تھا۔ اینمی پراپرٹی (امنڈمنٹ اینڈ ولیڈیشن ) آرڈیننس کے تحت بھوپال میں سابق نواب کی اربوں روپے کی جائیداد بھی اینمی پراپرٹی میں شامل ہے۔ بھوپال نواب خاندان کی جائیداد یں بھوپال اور اس کے آس پاس کے تین سمبلی حلقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ بھوپال شہر کے کئی محلے نواب کی جائیداد پر ہی بسے ہوئے ہیں۔
باکس
جائیدادیں خوب مگر ریونیو ندارد
اتر پردیش کے راجہ محمودآباد عرف عامر محمد خاں کی لکھنو سمیت اترپردیش کے کچھ دیگر ضلعوں اور اترا کھنڈ ریاست میں موجود بڑی اینمی پراپرٹی کی شکل میں اعلان کیا گیا ہے۔ اینمی پراپرٹی آرڈیننس کے تحت اینمی پراپرٹی کا مالکانہ حق مرکزی سرکار کو تو مل گیا ہے،لیکن زیادہ تر جائیدادیں غیر قانونی قبضے میں ہیں اور اس سے سرکاری ریونیوکو کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ یہی حال ریاست کی دیگر تمام اینمی پراپرٹی کا بھی ہے، جہاں لوگ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور سرکاری ریونیو کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔
راجہ محمود آباد (لکھنو کے نزدیک سیتا پور ضلع کی تحصیل کا نام ہے مرادآباد ) کی ایسی جائیدادوں کی کل تعداد 936 ہے۔یہ جائیدادیں لکھنو، سیتا پور اور نینی تال میں ہیں جو اَب اینمی جائیداد کے دائرے میں ہیں۔ لکھنو میں راجہ محمود آباد کی جائیدادوں میں مشہور بٹلر پیلس، محمودآباد ہائوس اور حضرت گنج کی عالیشان دکانیں اور ہوٹلس ہیں۔ سیتا پور کے کلکٹر، ایس ایس پی اور سی ایم او کی رہائش کے بھی راجہ محمود آباد کی جائیدادوں کا حصہ ہیں۔راجہ محمود آباد عامر احمد خاں (اس وقت کے راجہ محمود آباد ) کے ہند-پاک دونوں ہی ملکوں میں اچھے سیاسی تعلقات تھے۔ ان کا دونوں ہی ملکوں میں آنا جانا لگا رہتاتھا۔ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے وہ عراق میں رہ رہے تھے۔1957 میں انہوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ کر پاکستانی شہریت لے لی۔ ہندوستان نے ملک چھوڑ کر پاکستان جابسے لوگوں کی جائیدادیں ’ہندوستان کے سیکورٹی آئین ( ڈیفنس آف انڈیا رولس ) 1962، کے تحت اپنی نگرانی میں لے لی۔ہندوستانی سرکار نے یہ کارروائی 1965 کے ہندوستان-پاکستان جنگ کے بعد کی، جبکہ پاکستان یہ کام پہلے ہی کر چکا تھا۔ 1973 میں راجہ محمود آباد کی لندن میں موت ہو گئی۔ ان کے بیٹے محمد عامر محمد خاں نے والد کی جائیداد پر حقدار ہونے کا دعویٰ پیش کیا۔ لکھنو سول کورٹ نے انہیں جائیداد کا وارث مانا، لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ 2001 میں ممبئی ہائی کورٹ نے بھی محمودآبا کے حق میں فیصلہ دیا۔ سرکار نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر محمود آباد وارث کو جائیداد کا حق مل گیا۔ 2010 میں کانگریس سرکار اینمی پراپرٹی ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس لائی اور سبھی جائیدادوں کو پھرسے قبضے میں لے لیا۔
وزارت داخلہ کے ایک آفیسر نے کہا کہ ہندوستان سے نقل مکانی کرکے پاکستان جانے والے لوگوں کی چھوڑی گئی زیادہ تر جائیدادوں پر زمین مافیااور مشکوک کردار والے عناصر قابض ہیں۔کئی جگہوں پر زمین مافیائوں کے ذریعہ اینمی پراپرٹی بیچی جارہی ہے۔ لکھنو سمیت فیض آباد، کاس گنج، بریلی، رام پور جیسے کئی ضلعوں میں ایسے معاملے سامنے آئے ہیں۔ سیاسی سرپرستی والے مافیائوں کے خلاف انتظامیہ کچھ نہیں کر پارہا ۔ اینمی پراپرٹی پر قابض لوگ سرکاری ریونیو کے بھی دشمن بن گئے ہیں اور سرکاری ٹیکس جمع نہیں کر رہے ہیں۔
ریاست کے ریونیو محکمہ کے آفیسر نے کاس گنج ضلع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں 152 اینمی پراپرٹی نشان زد کی گئی تھیں، ان پر کروڑوں کا ریونیو باقی ہے۔ ان اینمی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ کاس گنج تحصیل کے کناوا میں ایک ، واحد پور معافی میں ایک ، ڈھولنا میں3، کھیڑیا میں 6، رحمت پور معافی میں 6 ،ا ورہرا میں ایک، طالق پور سرائے میں 10، نرائنی میں 7، مبارکپور میں 4، بھٹونا میں 19 اور ٹنڈولی معافی میں 50 اینمی پراپرٹی نشان زد کی گئیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر جائیدادیں اناپ شناپ لوگوں کو بیچ ڈالی گئیں۔خرید و فروخت بھی غیر قانونی طریقے سے ہوئی جس کا کوئی ریونیو ریکارڈ نہیں ہے۔ اب سرکار کے سامنے ان جائیداوں کے مالکانہ حق کی پہچان کرنے کا بڑا مسئلہ ہے ۔
ایسا ہی حال نینی تال میں محمود آباد کی جائیداد کابھی ہوا۔ نینی تال میں میٹرو پول ہوٹل بھی اینمی جائیداد قرار دیا گیا ہے،لیکن اربوں کی اس جائیداد پر ہوئے قبضے کے خلاف نینی تال ضلع انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔نینی تال کوتوالی میں ایک ایف آئی آر درج کرکے ضلع انتظامیہ مست ہو گیا۔ میٹرو پول ہوٹل اپنے زمانے میں نینی تال کا سب سے بڑا ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ 41کمروں کے اس ہوٹل کی تعمیر ایک انگریز مسٹر رینڈل نے کیا تھا۔ بعد میں یہ راجہ محمود آباد کی جائیداد میں شامل ہوگیا ۔اس پر متعدد لوگوں کا قبضہ رہا۔ 1995 تک یہ ہوٹل کی شکل میں چلتا رہا، پھر 2010 میں عدالت کے حکم پر ضلع انتظامیہ نے بطور کسٹوڈیم اسے قبضے میں لے لیا۔ ضلع انتظامیہ اس پر قبضہ تو جما لیا، لیکن اس کی دیکھ ریکھ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ زمین مافیائوں نے ہوٹل میں آگ لگوا دی، جس میں وائرئل روم، بیڈ منٹن کورٹ اور 14کمروں والا حصہ خاک ہو گیا۔ جائیداد پر قبضے کے ارادے سے ہی یہ آگ لگوائی گئی تھی۔ اس میں ضلع انتظامیہ کے مشکوک کردار سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اینمی پراپرٹی کا قانونی محافظ ضلع انتظامیہ ہی ہوتاہے لیکن جائیدادوں کے نام جوڑنے گھٹانے کا بھی کھیل انتظامیہ ہی کرتا رہتاہے۔ طاقتور لوگ اینمی پراپرٹی کی لسٹ سے اپنی جائیداد ہٹوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسی بھی کئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *