نئی تعلیمی پالیسی، 2016 کتنی ہمہ گیر ، کتنی سیکولر ؟

damiانسان کے لیے سب سے اہم چیز جان و مال کی حفاظت ہے۔موجودہ تناظر میں اگر تعلیم پر بھی گفتگو ہوتی ہے تو سب سے پہلے ذہن میں یہ تشویش ابھرتی ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں ایسی کوئی بات تو نہیں جو فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے کا سبب بنے۔بظاہراس مسودہ میں ایسی کوئی بات نظرنہیں آتی، لیکن خوبصورت الفاظ اورمبہم بیانات کی پرت اٹھانے پر معنی کی تہیں کھلتی ہیں اور اصل مقصد سامنے آتا ہے۔
کچھ دن قبل، مشہور مورخ پروفیسر ہربنس مکھیا نے دہلی کے ایک روزنامہ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں ایک بڑی اہم بات کہی کہ قومی سطح پر مارکسی اور لبرل مورخین نے جتنا کام کردیا ہے، اس سے فرقہ پرست قوتوں کو ،قومی سطح پر، تاریخ میں نظریاتی دخل اندازی کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اب ان لوگوںنے علاقائی تاریخ کو نشانہ بنایا ہے جہاں کام کم ہونے کی وجہ سے غلط بیانی کرنے اور ہیرو پرستی کی کافی گنجائش ہے۔ پروفیسر مکھیا نے جس خطرے کی طرف اشارہ کیا ہے، اس کی تصدیق ان بیانات سے ہوتی ہے جو آئے دن اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب راجستھان کے وزیر تعلیم نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہاں کے طالب علموں کو اب راجستھان کے ’’ویروں‘‘ کے بارے میں پڑھایا جانا چاہیے۔یہ ’’من‘‘ و ’’تو‘‘ کے درمیان افتراق پھلانے کی اس کوشش کاحصّہ ہے جس کے تحت تاریخ ،اور خاص طور سے عہد وسطیٰ کی تاریخ، کے’’ ناپسندیدہ حصّے‘‘ کو اس طرح نکارنا چاہتے ہیں کہ باہر سے ملک میں داخل ہونے والے’’بدیشی‘‘ اور ’’بدیشی آکرمن کاری‘‘ کے مقابلہ میں’’ اپنی‘‘ پرشکوہ تاریخ کو پیش کرسکیں۔ریاستوں سے بار بار جو خبریں ملتی ہیں ،اس سے لوگوں کے دل میں یہ تشویش ہے کہ،کیا قومی سطح پر بھی اس عمل کو کسی نہ کسی شکل میں دہرا یا جا سکتاہے۔ممکن ہے تاریخ کے معاملہ میں ایسا کرنا ممکن نہ ہو مگر تعلیم کے میدان میں دیگر بہت سے معاملات ہیں جن میں ایسا ہونا ممکن ہے۔
اس بات سے تشویش کو اور بھی تقویت ملتی ہے کہ مجوزہ تعلیمی پالیسی کے مسودہ کی ابتدا ء قدیم ہندوستان کے علمی فتوحات کے ذکرسے ہوتی ہے اور پھرتیسرے پیراگراف کے آخری جملہ میں اچانک جدید ہندوستان کا ذکر شروع ہوجاتا ہے؛ گویا عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں کچھ ہوا ہی نہیں۔اس عمل میں وہ تاریخی ترتیب بھی بھول جاتے ہیں کہ راجہ رام موہن رائے، گوکھلے سے پہلے تھے۔ انگریزی حکومت کے قیام کے وقت کی تعلیمی صورت حال ہمارے لیے زیادہ معنویت رکھتی ہے تاکہ انگریزی عہد میں پیدا ہونے والی اس بہتری یا ابتری کوسمجھا جاسکے جس کی کوکھ سے جدوجہد آزادی کے دوران ہمارے تعلیمی مطالبات نے جنم لیاتھا۔
انگریزی عملداری شروع ہوتے ہی ، اس ملک کی تعلیمی صورت حال کے بارے میں جو رپورٹ انگریزوں نے خود تیار کیں،ان سے اس کا اعادہ ہوتا ہے کہ انگریزی حکومت سے پہلے ہماری تعلیمی حالت ایسی بری نہیں تھی۔ولیم ایڈم اپنی رپورٹ میں1835-38 کے دوران، بنگال پریسیڈنسی میںایک لاکھ سے زائدتعلیمی درسگاہوں کی موجودگی کا ذکر کرتا ہے۔1826 میں،سر تھامس منروکی مدراس کی بابت رپورٹ ہے کہ وہاں ہر ہزار آبادی پر ایک اسکول تھا۔جو لوگ گھر پر اپنے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرتے تھے ،وہ اس کے علاوہ تھا۔ایسی رپورٹ ملک کے بہت سے خطہ کے بارے میں موجود ہے۔صرف اتنا بتادینا کافی ہوگاکہ1837 میں آر ایم مارٹن اپنی تاریخ کی کتاب میں اعداد و شمار پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس زمانہ میںہندوستان میں خواندگی کی شرح یورپ سے کہیں زیادہ تھی۔پرشکوہ ماضی کا بیان حوصلہ کو بڑھاتا ہے مگر اس کے کسی حصّہ کو نظرانداز کرنا اپنے قومی ورثہ پر لات مارنا ہے۔یہی نہیں کہ انگریز ی عملداری شروع ہوتے وقت کی تعلیمی صورتحال کو، جو ہمار ے عہد کو سمجھنے کے لیے زیادہ اہم ہے ،اسے نظرانداز کردیا گیا،بلکہ قدیم ہندوستان کی علمی فتوحات کا ذکر کرتے وقت اس میں ذات پات کے کرشمہ کا ذکر بھی غائب کردیا گیا؛ یعنی کم بیانی کی گئی ہے۔یہ باتیں تشویشناک ہیں۔
نئی تعلیمی پالیسی کے مسودہ میں بار بار ’’اقدار‘‘ کی تعلیم کی بات کی گئی ہے مگر اس ان قدروں کی وضاحت نہیں کی گئی ہے جن کی تعلیم اسکول کی سطح پر دی جانی چاہیے۔آئین میں جس سائنسی مزاج کے تشکیل کی بات کہی گئی ہے اسے یکسر نظرانداز کرکے، سماجی علوم کی کتابوں میں دیومالائی واقعات کو شامل کرنے اور اسکول میں پرارتھنا کرانے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے، اس سے طرح طرح کے شبہات کا جنم لینا فطری ہے۔ اس لیے جب مسودہ میں’’اطلاعات پر مبنی تعلیمی نظام کے بجائے اقدار پر مبنی تعلیمی نظام ‘‘ کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ ان صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے جو ’’افراداور قوم کی تشکیل‘‘ میں معاون ہوں تو ذہن میںیہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی اقدار ہوں گی۔ روایات اور اقدار وقت کے ساتھ فرسودہ ہو جاتے ہیں اور ان کو رد کرنے یا پھر ان کے تجدید نو کی ضرورت ہوتی ہے۔آج نہ ستی کی روایت کو اپنایا جاسکتا ہے اور نہ غلام رکھنے پر اصرار کیا جا سکتا ہے۔جو لوگ دیومالا کو تاریخ کا درجہ دینے پر مصر ہیں، ان کے بارے میں یہ خوش فہمی نہیں ہوسکتی کہ وہ اْن اقدار پر مبنی تعلیم کی بات کر رہے ہیں جن سے بچوں میں سائنسی مزاج کی تشکیل ہوسکے۔سائنسی مزاج کی تشکیل تب ہی ممکن ہے جب روایات اور اقدار کو جانچ پرکھ کر اپنایا جائے۔ یہ بات مسلمانوں کے مفاد میں ہے کہ وہ آئین میں کہی گئی سائنسی مزاج کی تشکیل پر زور دیں اور فرسودہ افکار اور غیر تاریخی دیومالائی واقعات کی تعلیم کی مخالفت کریں۔اس سلسلہ میں فرقہ پرستوں کے اس چھلاوہ سے ہوشیار رہنا چاہیے جس کے تحت ’’ دھارمک سدبھاونا‘‘ کو سیکولرزم کے بدل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔دھارمک سدبھاونا ،یا پھر یوں کہیے کہ مذہبی روداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں، سارے مذاہب اچھے ہیں مگر میرا مذہب زیادہ اچھا ہے۔اب اگر میرا مذہب زیادہ اچھا ہے اور ہم بڑی اکثریت ہیں تو ہمارے مذہبی اقدار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔یہیں سے فرقہ پرستی کو موقع ملتا ہے۔ اس کے برخلاف سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا نہ کوئی مذہب ہوگا اور نہ وہ کسی مذہب کے تابع ہوگا۔ریاست کا ہر شہری سے یکساں اور مساوی رشتہ ہوگااورہر شہری کے مذہبی عقیدے کی ریاست کی نظر میں مساوی حیثیت ہوگی۔یہی وہ چیز ہے جو جمہوریت کو ’’اکثریت بازی‘‘ میں بدلنے کی فرقہ پرستوں کی کوشش کو ناکام بناتی ہے۔ مذہبی سدبھاونا جیسی اصطلاح کے حسین جال میں پھنسے بغیر ،سیکولر اقدار کی تعلیم اور سائنسی مزاج کی تشکیل پر زور دیناتمام کمزور طبقات، خاص طور پر مسلمانوں کے حق میں ہوگا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سرکاری اسکولوں میں مذہبی تعلیم کا مطلب ہے اکثریت بازی کے کھیل کو بڑھاوا دینا اور اکثریت کی مذہبی روایات کو فروغ دینا ۔
گزشتہ چند برس میں عدم اعتماد کی جو فضا بنی ہے، اس کی وجہ سے حکمراں ٹولے کی نیت کے بارے شکوک کا جنم لینا فطری ہے۔نئی تعلیمی پالیسی کامسودہ جس طرح منظرعام پر لایا گیا ہے، اس نے پورے ملک میں تنازعہ کو جنم دیا ہے۔سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے لوگوںکی رائے جاننے کے لیے ، پنچایت اور بلاک سے لے کر قومی سطح تک 2.6لاکھ لوگوں سے مشاورت کی۔اس سلسلے میں طرح طرح کی شکایات ہیں کہ مشورہ لیا نہیں گیا بلکہ ان سے باتیں منوالی گئیں۔
موجودہ مرکزی وزیرپرکاش جائوڈیکرنے آئیڈیا ایکسچنج پروگرام میں کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے پانچ ستون ہیں: رسائی انصاف،معیار،جوابدہی اور استطاعت۔لیکن جس 43 صفحاتی مسودہ پر لوگوں سے رائے مانگی گئی اس میں’’استطاعت اور انصاف ‘‘کا ذکر نظر نہیں آتا۔’’استطاعت اور انصاف ‘‘ کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ،مبینہ طور پر، مائکرو منصوبہ بندی کے ضمن میں’’انصاف ‘‘کے مسئلہ پر غور کیا تھا اور درج فہرست ذات و قبا ئل اور اقلیتی علاقے میں ترجیحی بنیاد پر اسکول کھولنے پر زور دیا تھا۔ تعلیمی اور معاشی دونوں میدان میں پچھڑے ہوئے مسلمانوں کے لیے’’استطاعت اور انصاف‘‘ دونوں بے حد اہم ہیں۔
تعلیمی سروے کی رپورٹ لگاتار یہ ظاہر کررہی ہے کہ نہ صرف تعلیم سے محروم رہنے والوں بلکہ درمیان میں ہی اسکول کو خیرباد کہنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یونیسکو کی عالمی بچوں کے تعلق سے 2016 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں 3تا 6سال کی عمر کے74ملین بچوں میں سے 20ملین بچے ،جو زیادہ تر پسماندہ گھرانوں سے ہیں، پری اسکول میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ان میں سے34 فیصد کا تعلق مسلمان گھرانوں سے ہے ،جبکہ 25.9 فیصد ہندو گھرانوں سے اور25.6فیصد عیسائی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پری اسکول کی تربیت بچّہ کی تعلیم میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے جب اسے چین سے بیٹھنا،غور سے سننا اور سلیقہ سے اپنی بات کہنا سکھایا جاتا ہے۔ لکیر کھینچنے اور نقظوں کو ملاکر تصویر بنانے کے عمل میں انگلیوں کی جو تربیت ہوتی ہے وہ آئندہ تعلیم میں معاون ہوتی ہے۔ایسے میںاگر اسکول میں فیل ہونے والے و نیز درمیان میں اسکول چھوڑ جانے والوں میں مسلمان بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ویسے بھی اسکول میں داخلہ نہ لینے والوں میں مسلمان بچوں کی تعداد دوسروں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ درسگاہوں میں ان کی رسائی یعنی رسائی کا کم ہونا ونیز ان کے علاقوں میںتعلیمی اداروں کا بہت کم قائم ہونا یعنی انصاف کا فقدان ، دونوں ہی ہے۔ہر بچہ کو مفت اور لازمی تعلیم تو تب مل سکے گی جب حسبِ ضرورت ہر علاقے میں تعلیمی ادارے موجود ہوں گے۔سرکار نے مفت اور لازمی تعلیم کے 2009کے قانون کے ذریعہ چھ سے چودہ سال کے بچوں کی تعلیم کو مفت اور لازمی تو بنا دیا لیکن وہ تین سے چھ سال کی پری پرائمری کی تعلیم کو مفت فراہم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔کمیٹی کی سفارش بھی بے معنی ہے۔ اس لیے کہ جب تک مرکز اور ریاستوں میں تعلیم کا بجٹ نہیں بڑھایا جاتا تب تک نہ تو سرکار چھ سال سے پہلے کی تعلیم کو مفت اور لازمی کرسکتی ہے اور نہ ہی چودہ سال کے بعد یعنی نویں اور دسویں کی تعلیم کو۔ مسلمانوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اس مانگ میںجمہوری قوتوں کا ساتھ دیں۔
درسگاہوں میںجو بچّے پہنچ گئے ہیں ان کی تعلیمی حالت بھی کچھ اچھی نہیں ۔نیشنل اچیومنٹ سروے 2014 کی تعلیم سالانہ صورت حال کی رپورٹ (اے ایس ای آر) کی رپورٹ کے مطابق پانچویں جماعت میں پڑھنے والے بچّوں میں سے پچاس فیصد نہ تو ٹھیک سے خواندی کے اہل ہیں اور نہ علم الحساب کی ضروری اہلیت رکھتے ہیں۔2014 کی تعلیم کی سالانہ صورت حال کی رپورٹ (اے ایس )نے بھی تعلیمی معیار کی بڑی خراب تصویر پیش کی ہے۔اس کے مطابق پانچویں جماعت کے 51.9فیصد بچّے دوسری جماعت کی کتاب کو پڑھنے کے اہل نہیں پائے گئے۔ یہاں تک کہ آٹھویں جماعت میں بھی 25.4فیصد بچے دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے۔رپورٹ کے مطابق پرائیوٹ اسکولوںمیں بھی خواندگی زیادہ اچھی نہیں تھی۔ریاضی کی تعلیم کا یہ حال پایاگیاکہ آٹھویں جماعت کے 39فیصد طلبہ سو تک کے اعداد کی تفہیم نہیں رکھتے تھے۔ اسی ملک میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم موجود ہے مگر ان لوگوں کے لیے ہے جو بھاری فیس ادا کرسکتے ہیں۔دلت اور مسلمان جن کے درمیان خوشحال طبقہ کی تعداد بہت چھوٹی سی ہے، اتنی بھاری فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
مفت اور لازمی تعلیم کو ٹھیک ڈھنگ سے لاگو کرنے میں جو مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے وہ بلا وجہ نہیں ہے۔ اسے کھلی معیشت کے نام پر1990 کی دہائی سے شروع ہونے والی معاشی لبرلزم اور نام نہاد معاشی اصلاح کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے کردار میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور پرائیوٹ درسگاہوں کو بڑھاوا ملا ہے۔ اب چھوٹی گھریلو صنعت و حرفت کو تحفظ دینے والی فلاحی سرکار نہیں رہی۔ کھلی معیشت کا مطلب ہے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کی آمد بلکہ ضروریات زندگی کی اشیاء اورخدمات کی آمد۔ان کی آمد کا سلسلہ تب ہی جاری رہے گا جب حکومت ان کے تحفظ اور منافع کو یقینی بناکر بین الاقوامی سرمایہ داروںکا اعتماد جیتے۔اس عمل میں سرکار کی توجہ گھریلو صنعت اور دیسی اداروں سے ہٹ گئی اور سرمایہ کاری ونیز منافع تک محدود ہوگئی۔ یہ بات بھلادی گئی کہ معاشی اصلاح محض ذریعہ ہے جس کا مقصد عوامی فلاح ہے۔ لہٰذا حکومت نے سرکاری عوامی اداروں کے مقابلے میں ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے پرائیوٹ اداروں کے سیلاب کو روکنے کی کوشش نہیں کی؛ بلکہ خود ان کے ساتھ معاونت شروع کردی۔ کوٹہ /پرمٹ راج کو ختم کرنے کے نعروں کے درمیان نجی اداروں کو فراخ دلی سے اجازت نامے بخشے گئے۔ان میں تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں؛اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس عمل میں ملکی کارپوریٹ بھی پھلا پھولا۔ یہاں تک کہ کارپوریٹرائیزیشن اپنے آپ میں طرز زندگی بن گیا۔ اس سے فیضیاب طبقہ اپنے بچوں کو ایسی ’’عمدہ ‘‘ تعلیم دلانا چاہتا ہے جس سے نوکری کی منڈی میں محیرالعقول اعداد والی تنخواہ مل سکے۔ عام لوگوں کے لیے وہ پست درجہ کی تعلیم ہے جس سے وہ کام چلائو خواندگی اور اسکل ڈیولپمنٹ پراکتفا کرے۔
محنت و سرمایہ کے اس نئے رشتہ نے تعلیم کے مقصد کو بدل کر رکھ دیا ہے۔کم از کم عملی طور پر،اب حکومت کا مقصدنہ تواستحصال سے پاک عادل سماج کی تعمیر رہ گیا جس میں ہر انسان کو بلا تفریق اپنی اہلیت کے مطابق ترقی کرنے اور حسب توفیق اپنا کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں اور نہ حصول علم کا مقصدایک اچھے انسان کی تشکیل رہ گیا جو نیچرل سائنس، سماجی علوم اور فنون لطیفہ کی مبادیات سے واقف ہواور ساتھ ہی کسی خاص شعبہ میں اختصاص رکھتا ہو۔اب تعلیم کا مقصد دولت کی لوٹ ہوگیا ہے طالب علم اورتعلیمی ادارے دونوں کے لیے۔ بالآخر تدریس کی جگہ کوچنگ نے اورپڑھنے اور سمجھنے کی جگہ رٹنے کے عمل نے لے لی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرکے ’’کیریر‘‘ کی دوڑ میں ’’کامیاب‘‘ ہوا جاسکے۔پورے نصاب کے بجائے بس ایک حصّہ کی کوچنگ کافی سمجھ لی گئی ہے۔سرکار کی دلچسپی بھی اس بات میں نہیں رہ گئی ہے کہ عام لوگوں کوبہتر تعلیم ملے۔معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے دلت اور مسلمانوں پر اس کا سب سے بْرا اثر پڑا ہے۔ مجوزہ تعلیمی پالیسی اس مسئلہ کو نظرانداز کرکے حل ڈھونڈھنا چاہتی ہے۔اس لیے اس کے مسودہ میں ان امور سے صرف نظر کرکے سطحی وجہیں تلاش کی گئی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *