میک اِن انڈیا میں مصروف اڑیسہ 300 معصوم بچے موت کا شکار اسپتال کی لاپرواہی سے

damiاڑیسہ میںملکان گری ضلع کے گوبند پالّی گرام پنچایت کا ایک گاؤں ہے کوملاپودر۔مسائی مڈکامی بخار میں مبتلا دو سال کی بچی مونٹی مڈکامی کو گود میں لیے بیٹھی ہیں۔مونٹی کے والد راجہ مڈکامی اپنی دوسری بچی سوری کا علاج کرانے ضلع اسپتال گئے ہیں۔ وہ 60 کلومیٹر پیدل چل کر جب اپنی بچی کی لاش لیے گھر لوٹتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ دوسری بچی مونٹی بھی بخار سے تپ رہی ہے۔ مایوس ہوکر وہ کہتے ہیں کہ اسپتال نے میری بچی کی جان لے لی۔ اب ہمت نہیںہے کہ اپنی دوسری بچی کے علاج کے لیے پھر وہاں جاؤں ۔ صورت حال یہ ہے کہ آدیواسی ضلع اسپتال میں اپنے بیمار بچوں کو لے کر بڑی امید کے ساتھ آرہے ہیں لیکن وارڈ میںسے بچوں کی لاشیں ہی نکل رہی ہیں۔
کبھی ماؤ نوازوں کے اسٹرانگ ہولڈ رہے ملکان گری ضلع میں جاپانی انسیفلائٹس (جیئی) سے دو ماہ میں 300 سے زیادہ بچے دم توڑ چکے ہیں۔ سرکاری افسروں کے لیے محض یہ اعدادوشمار ہیں لیکن ان اعداد و شمار کے پیچھے ہزاروں، لاکھوں آدیواسیوں کا درد چھپا ہوا ہے۔ سرکار کہہ رہی ہے کہ محض 120لوگوں کی موت جاپانی انسیفلائٹس سے ہوئی ہے۔ وہیں مقامی محکمہ صحت اس سال بہتر مانسون کو اس بیماری کے لیے جواب دہ بتارہا ہے۔ افسروں کے مطابق ستمبر کے آخر تک بارش ہوتی رہی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مچھر پیداہوئے ہیں۔
سرکار کا خود آدیواسیوں پر الزام
مقامی سوشل ورکرس کا کہنا ہے کہ حالات بدتر ہیں اور ریاستی سرکار الٹا یہ الزام لگا رہی ہے کہ یہ موتیں آدیواسیوں کی ناسمجھی کی وجہ سے ہورہی ہیں۔ یعنی بچوں کی موت کے لیے خود آدیواسی ہی قصوروار ہیں۔ پچھلے مہینے ان اموات پر توجہ دینے کے لیے ریاستی سرکار نے ایک اعلیٰ درجہ کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے ان اموات کو ’زہریلے بیج‘ کھانے سے ہوئی موت بتادیا۔ وہیں متاثرہ گاؤں والوں نے کمیٹی کی رپورٹ کو مضحکہ خیز بتایا ہے۔ گاؤں والوںنے کہا کہ چھ ماہ کے بچے جنگلوں میں کیسے جاسکتے ہیں او رزہریلے بیج کیسے کھا سکتے ہیں؟ وہیں ماہرین صرف پانچ بچوںکی یورین سیمپل پر مبنی سائنٹیفک رپورٹ پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ سماجی کارکن ڈاکٹر جیکب جان کہتے ہیں کہ یہ بیج آدیواسی صدیوں سے کھاتے آرہے ہیں، پھر یہ موت ابھی کیوں آرہی ہے اور صرف بچے ہی اس کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟ ایکسپرٹ ٹیم آنگن باڑی، پی ڈی ایس اور آئی سی ڈی ایس جیسے سرکاری پروگراموںکی ناکامی پر چپ کیوں ہے؟
آدیواسی بچوں کی بے وقت موت پر دہلی ، گوہاٹی، ناندیڑ، حیدرآباد، کولکاتا، بنگلور، چنئی، ممبئی اور تروننت پورم میں جگہ جگہ مظاہرے ہونے لگے۔ کچھ سماجی کارکن اور تنظیمیں اس بیماری کو نیشنل ہیلتھ ڈیزاسٹر ڈکلیئر کرنے کے لیے مرکزی وزارت صحت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ مارچ میں کچھ کمیونٹیزکے نمائندوں نے وزارت صحت اور نیشنل رورل ہیلتھ مشن سے جڑے کچھ افسروں سے ملاقات کی تھی۔ ’ملکان گری ایکتا سموہ‘ کی دیوانگنا کہتی ہیں کہ شروع میں افسروں نے اسے ریاستی سرکار کا موضوع بتاکر اپنی ذمہ داری سے پلّہ جھاڑ نا چاہا۔ انھوںنے یہاں تک کہا کہ ضلع میں فوری طور پر ٹیکہ کاری کرانے کے لیے ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے۔ انھوںنے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس ماہرین نہیں ہیں، جو اس دماغی بخار کی پہچان کرسکیں۔ جب ان آدیواسی بچیوں کی چیخیں دہلی تک پہنچیں، تب جاکر مرکزی سرکار کچھ حرکت میںآئی۔ مرکزی سرکار نے ریاستی سرکار کو اس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بنانے کی ہدایت دی ہے لیکن اب بھی زمینی سطح پر حالات جوں کے توں ہیں۔
بیماری قہر ڈھارہی ہے
ایسا نہیں ہے کہ یہ مصیبت پہلی بار آدیواسیوں پر ٹوٹی ہے۔ 2011 او ر2012 میں بھی اس بیماری سے سیکڑوں لوگوں کی موتیں ہوئی تھیں لیکن مقامی انتظامیہ آنکھیں موندے رہی۔ الارمنگ سچوئیشن ہونے کے بعد بھی سرکاری مشینری کی کاہلی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملکان گری ضلع اسپتال میں ڈاکٹروں کی تعداد ریاست میں سب سے کم ہے۔ 125 بیڈ کے ضلع اسپتال میں ڈاکٹروں کی 44 پوسٹ ہیں، جس میں سے 35 خالی ہیں۔ ضلع میں ڈاکٹروں کی 103 پوسٹ ہیں، جس میں صرف 37 ڈاکٹر مقرر ہیں۔ یہاں تک کہ 122 نرسوں کی جگہ پر صرف 43 کی تقرری ہوئی ہے۔ مرکزی وزارت برائے صحت اور خاندانی نے 2011 میں’ نیشنل پروگرام فار پریونشن اینڈ کنٹرول آف جاپانی انسیفلائٹس‘ پروگرام شروع کیا تھا۔ ملک بھر میں 19 ریاستوں میں 171 جاپانی انسیفلائٹس متاثرہ ضلعوں میں مرکزی سرکار کی مدد سے یہ منصوبہ لاگو ہونا تھالیکن ریاستی سرکار نے اس مرکزی منصوبے کو ملکان گری میں لاگو کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔
سرکاری افسران مصروف میک اِن انڈیا میں
اس دور ان جب ملکان گری میں آدیواسی کمیونٹی جاپانی انسیفلائٹس سے دم توڑ رہی تھی، سرکاری افسران دسمبر میں بھونیشور میں میک اِن اڑیسہ پروگرام کو کامیاب بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ کئی میٹرو شہروں میں روڈ شو نکالا گیا او رسیکڑوں کروڑ روپے اس کے انعقاد پر خرچ کیے گئے ۔ کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی سرکار کی کاہلی کے سبب یہ بیمار ی ہر سال آدیواسی علاقوں میں بچوں کو اپنا شکار بناتی رہی ہے۔
رائٹ ٹو فوڈ کیمپین آر ٹی ایف سی نے اس بیماری سے متاثرہ مختلف ضلعوں کا دورہ کرکے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کی جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ فوڈ سیکورٹی اور انٹی گریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس (آئی سی ڈی ایس)اور مڈ ڈے میل جیسے سرکاری پروگراموں کی ناکامی کے سبب یہاں کے بچے مستقل طور پر غذائی قلت کا شکار ہورہے ہیں۔غذائی قلت کے شکار بچوںکی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے او روہ آسانی سے کسی بیماری کے شکار ہوجاتے ہیں۔ جیئی سے متاثرہ بچوں میں 95 فیصد آدیواسی ہیںاور ان میںسبھی بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچیاں ہیں۔ اس کی اہم وجہ غریبی، غذائیت سے بھرپور کھانے کی کمی اور سرکاری پروگراموں کی ناکامی ہے۔
حالت یہ ہے کہ یہاںکے کچھ گانووں میں منریگا مزدوروںکو سات مہینے سے پیسہ نہیں ملا ہے۔ 2014 کی ہیلتھ سروے رپورٹ میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ ملکان گری کے دس میں سے سات بچے کم وزن کے ہیں۔ یہ علاقہ ملک کے سو ضلعوں میں سے انڈر ویٹ بچوںکے معاملے میں تیسرے نمبر پر تھا۔ آر ٹی آئی سے جانکاری ملی کہ 2007-08 سے لے کر 2011-12 تک عام بیماریوں، جس میں ڈائریا، سردی زکام، استھما، بخار سے 7400 بچوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ جاپانی انسیفلائٹس مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماری ہے۔ اسے دماغی بخار بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میںتقریباً 25 فیصد بچوں کی موت ہوجاتی ہے، جو بچے بچ جاتے ہیں، ان میں بھی 30-40 فیصد بچے جسمانی اور دماغی طور پر معذور ہوجاتے ہیں۔
دیگر مسائل بھی ہیں
سپتدھارا ندی پارکرکے اور پھر 60 کلومیٹر پیدل چل کر ضلع اسپتال پہنچنا آدیواسیوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آدیواسی ٹیوب پر بیٹھ کر ابلتی ندی پار کرتے ہیں۔ صورت حال اتنی خوفناک ہے کہ اسپتال جانے کے دوران یا تو مریض ندی میں بہہ جاتے ہیں یا راستے میں ہی دم توڑدیتے ہیں۔ جو مریض اس مصیبت سے گزرکر اسپتال پہنچ بھی جاتے ہیں تو اسپتال انتظامیہ ان کی مدد نہیں کرتاہے۔ وہیں ضلع اسپتال کے پاس نہ تو دوائیں ہیں اورنہ ہی ماہر ڈاکٹر۔ ڈیڑھ سال کی منجم ماڈھو تیز بخار میںمبتلا تھی۔ اسے علاج کے لیے کالی میلا سی ایچ سی لے جایا گیا۔ جہاںسے اسے ضلع اسپتال ریفر کردیا گیا۔ وہاںڈاکٹروںنے کچھ دوا دے کر اسے گھر بھیج دیا۔ اگلے دن بخار اور تیز ہوگیا۔ راجول ماڈھو اسے لے کر ضلع اسپتال نکلے لیکن راستے میںہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ ایسے کئی معاملوں میں ڈاکٹروںنے یا تو مریضوں کودوا دے کر گھر بھیج دیا، علاج میںلاپرواہی برتی یا پھر اسپتال میں داخل ہی نہیں کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *