مودی حکومت کا اینمی پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس وقف اراضی کے کروڑوں کی جائیداد کوڑیوں کے بھائو

dami3موجودہ حکومت اینمی پراپرٹی کے تعلق سے چوتھا ترمیمی بل لانا چاہتی ہے۔اس بل سے سب سے زیادہ نقصان مسلم طبقے کو ہوگا۔ خیال رہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد جوشہری پڑوسی ملک چلے گئے تھے اوران کی جائیدادوں کولے کر مسائل پیدا ہوئے تو 1950اور پھر 1960 کی دہائی میں مرکزی حکومت نے اینمی پراپرٹی قانون منظورکیا۔ اترپردیش میں ایک معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد حکومت نے اینمی پراپرٹی آرڈیننس تین مرتبہ پیش کیا اوراب چوتھی مرتبہ اسے پیش کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔
اس آرڈیننس کے خلاف راجیہ سبھا کے کچھ ارکان نے صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اینمی پراپرٹی (ترمیمی اور توثیقی) آرڈیننس 2016 کو دوبارہ جاری نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔مہاراشٹر سے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ حسین دلوائی کی قیادت میں ان اراکین نے صدر جمہوریہ مکھرجی اور وزیر اعظم مودی کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اس آرڈیننس میں کئی ایسے شق ہیں جو شہریوں کے حقوق اور آئین کی دفعات کو متاثر کرتے ہیں۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ ہزاروں شہری اس کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہوں گے اوریہ ان کے حقوق کے خلاف ہے ،بلکہ ہمارے دستورہندکے اصولوں اور ضوابط کے منافی ہے اس ترمیمی بل سے سب سے زیادہ نقصان اقلیتی طبقہ خاص طور پر مسلمانوں کو ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ تقسیم کے بعد جب لوگ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان جارہے تھے تو ان میں سے بیشتر نے اپنی جائیدادیں مسلم فلاحی کام کے لئے وقف کردیا تھا۔ایسی وقف شدہ جائیداد وں کی تعداد بڑی تعداد میں ہے ۔ ان وقف شدہ جائیدادوں کا صحیح استعمال کرکے مسلم طبقہ جن کی معاشی حالت سچر رپورٹ کے مطابق دلتوں سے بھی بد تر ہے ،کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اینمی پراپرٹی سمیت دیگر اوقاف کی جائیدادوں کے تعلق سے حکومت مخلصانہ قدم اٹھائے۔
مہاراشٹر کا حال سب سے برا
پورے ملک میں اوقاف اراضی کو لے کر مسلم طبقے میں جو تشویش پائی جاتی ہے اور ان اراضی کا حکومت ، پرائیویٹ اداروں اور مافیائوں کے ذریعہ جو غلط استعمال کیا جارہا ہے، اس کے خلاف مسلسل آواز اٹھتی رہی ہے۔’’چوتھی دنیا‘‘ اپنے مختلف شماروں میں اوقاف کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کی نشاندہی کرتا رہا ہے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرف نہ تو مرکزی اور نہ ہی ریاستی سرکاروں نے خاطر خواہ توجہ دی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کروڑوں کی املاک کوڑیوں کے بھائو میں استعمال ہورہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا نقصان مسلم طبقے کو ہورہا ہے ۔6 199میں حکومت کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق اوقاف کی تعداد پانچ لاکھ ہے جس کا رقبہ 06 لاکھ ایکٹر پر ہے۔ اگر اس کا دس فیصد یعنی صرف 12000 ہزار کروڑ روپیہ بھی مسلمانوں کے فلاح و بہود پر خرچ کیا جاتا تو حکومت کو مسلمانوں کے لیے کسی بھی بجٹ کو مختص کرنے کی ضرور ت محسوس نہیں ہوگی ۔
ملک کی جن ریاستوں میں اوقاف کی جائیدادوں کا غلط استعمال ہورہا ہے، ان میں سب سے برا حال مہاراشٹر میں ہے ا ور سب سے زیادہ ناجائزقبضہ مہاراشٹرمیںہی ہوئے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہوجائے تو اس کی آمدنی سے مسلمانوں کے تمام فلاحی کام آسانی سے انجام پائیں گے۔ البتہ مہاراشٹر میں وقف اراضی اور جائیدادوں کو شناخت کرنا دیگر ریاستوں کی بہ نسبت قدرے مشکل ہے ۔کیونکہ مہاراشٹرمیںوقف جائیدادیں د و محکموںمیں بٹی ہوئی ہیں،کچھ جائیدادیں تو وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں اور کچھ چیریٹی کمشنر کے پاس ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق مہاراشٹر میں 92ہزار ایکٹر زمین وقف بورڈ کی ریکارڈمیں موجود ہے مگر اس میں سے اکثر اراضی کا اندارج محصول شعبہ میں نہیں ہے، جیسا کہ لینڈ ریکارڈ آفس،سٹی سروے ، پی آر کارڈ ،میں وقف بورڈ کا نام درج نہیں ہے بلکہ یہ املا ک کسی اور کے نام سے درج ہے۔ان اراضی کو مافیائوں سے آزاد کرانے کے لئے بار بار کوشش کی گئی مگرحکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہونے سے مایوس ہوکر اب مہاراشٹر کی کچھ مسلم تنظیموں نے خود سے آگے بڑھ کر ان جائیدادوں کو تحفظ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں’تنظیم آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن‘ نے ’آل انڈیا مجلس مشاورت ‘ اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر وقف اراضیکو ناجائز قبضہ سے آزاد کرانے اور موجودہ قیمت کی مناسبت سے کرایہ وصول کرنے اور بقایا ادا کرنے کے علاوہ وقف بورڈ کو مضبوط کرنے کے لئے عملی قدم بڑھایا ہے ۔
ابھی حال ہی میں’ تحریک اوقاف ‘عنوان سے مولانا معین میاں کی سربراہی میں ریاست گیر مہم چلانے کا اعلان ہوا ہے اور وقف املاک کی لوٹ کھسوٹ کو روکنے کے لئے 12رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری مجتبیٰ فاروق کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سچر کمیٹی کی رپورٹ میں اوقاف کے تعلق سے جو سفارشات کی گئی ہیں ان کو ایمانداری سے نافذ کردیا جائے تو مسلمانوں کو کسی قسم کے ریزرویشن اور نہ ہی طلباء کے لئے سرکاری اسکالر شپ کی ضرورت رہے گی۔
وقف جائیداد پر سچر کمیٹی کی سفارشات
قابل ذکر ہے کہ پورے ملک میں مسلمانوں کے پاس اوقاف کی جتنی جائیدادیں ہیں ان سے ہونے والی آمدنی کو مسلم فلاحی کاز میں لگانے کے تعلق سے سچر کمیٹی نے کچھ سفارشات کی تھی،جن پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ ان سفارشات کو پڑھنے کے بعد خود بخود یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ اوقاف مسلمانوںکے لئے کتنا اہم ہیں اور ان کے ذریعہ مسلم طبقے کو خوشحال طبقے میں تبدیل کرنا کتنا آسان ہے بشرطیکہ اس سلسلے میں حکومت مخلصانہ اقدام کرے۔ سچر کمیٹی نے جو سفارشات کی تھی،ان میں سے کچھ یہ ہیں :(1)ملک میں پھیلے ہوئے پانچ لاکھ وقف املاک کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ،مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ کی سطح پر وقف معاملات کو زیادہ سے زیادہ ترجیح ملنی چاہیے۔(2)قومی وقف ترقیاتی کارپوریشن بنایا جائے۔ (3)پانچ لاکھ رجسٹر ڈ شدہ وغیر رجسٹرڈشدہ جائیدادوںکو کنٹرول رینٹ جیسے قانون سے آزاد کردیاجائے۔ (4) وقف بورڈکو قانون سازادارے وعدالت کی حیثیت دی جائے۔(5)جس وقف زمین کا استعمال ایک سال کے اندر حکومت نہ کرسکی ہواسے وقف بورڈکے حوالے کردیاجائے۔کمیٹی کے مشاہدہ میں یہ بات بھی آئی ہے کہ بے شمار حکومتی ایجنسیاں وقف کی املاک پر قابض ہیں اوران پر بھی چندہی اسکوائرفٹ پرعمارتیںقائم ہیں باقی زمین خالی پڑی ہے۔(6)جن املا ک پر حکومت کا قبضہ ہے اور وہاں کوئی سرکاری عمارت نہیںیا وہ اراضی خالی پڑی ہیں تو وہ بلاتاخیر مسلم تعلیمی اداروں صحت عامہ کے سینٹرکو دی جائے۔(7)حکومت کے قبضہ والی جائیدادوںکو چھ مہینے میں خالی کیا جائے اور اس کا کرایہ جوپچاس سال سے چلا آرہا ہے، اسے تبدیل کیا جائے اور موجودہ مارکیٹ کے حساب سے اس کا کرایہ دیا جائے۔(8)وقف بورڈ کے تمام فیصلہ مسلمانوں کے حق میںہوں،مسلم پرسنل اور اسلامی قوانین کے مطابق کیے جائیں۔اس کے لیے مسلم جماعتوں کی نمائندگی ضروری ہے۔(9) اس بات کا پورا پورا خیال رکھا جائے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈرو رکن کو وقف بورڈکا چیئرمین نہ بنایاجائے۔(10) کلکٹر او رکمشنر کوتعاون کے لیے ہدایت نامہ جاری کیاجائے۔(11) وقف بورڈکی لیز صرف11مہینہ پر مشتمل ہو اور وقف بورڈ کی ایک نوٹس پر قبضہ خالی کرانے کے اختیارات وقف بورڈکو دیئے جائے۔
کانگریس کے دور میں جے پی سی سفارشات
ان شفارشات اور عوامی مطالبات کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے دور حکومت میں پارلیمانی کمیٹی میں ایک بل پیش کیا گیا تھا۔ وقف اراضی کے تعلق سے جو جے پی سی کی سفارشات ہیں، ان کو پڑھنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔یہ سفارشات کچھ اس طرح ہیں: (1)سرکاری افسران ،سیاسی وزیروں کی مداخلت پر روک لگانے کے لیے لیزپردینے کے اختیارات اوقاف ہی کودیے جائے۔ (2) وقف سروے کمیشن کی تقرری کو لازمی قرار دیاجائے۔ (3)وقف املاک کے سروے میں15اگست 1947کے تمام اوقاف کی اراضی کو شامل کیاجائے۔ (4)سینٹرل وقف کونسل کا چیئرمین کسی وزیر کونہیں بلکہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈجج یا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کوبنایاجائے۔(5)سینٹرل وقف کونسل کے سکریٹری کوحکومت ہند کے جوائنٹ سیکریٹری کا درجہ دیاجائے تاکہ سرکاری افسران کی دخل اندازی روکی جاسکے۔ (6)سروس کارڈبناتے وقت اعلی تعلیمی افرا د کوC.E.Oبنایاجائے جواوقاف ایکٹ 1954کے مطابق صرف مسلمان ہو۔(7) اوقاف کی قیمتی ارضیات ،عمارتیں کسی انفرادی فردیا سرمایہ دار کو نہ دی جائیں بلکہ رجسٹرڈ ٹرسٹ یا رجسٹرڈ سوسائٹی کودیاجائے۔ (8) کسی بھی صنعت کار یا شخص کو ذاتی استعمال کیلئے لیز پراوقافی اراضی یا زمین نہ دی جائے ،خواہ وہ اسپتال کے لئے ہو یا کمرشیل پروجیکٹ۔ (9) وقف کے ناجائزقبضہ جات ہٹانے کیلئے سی ای او کواختیارات اورناجائز قبضہ جات کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر سی او پرجرمانہ عائد کیاجائے۔
این ڈی اے کی متوقع پیش رفت
لیکن یہ سفارشات بھی کاغذی کی حد تک ہی رہیں ،عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا۔اب جبکہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کی حکومت ہے تو کچھ دنوں پہلے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں پیش رفت کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وقف کے املاک کو مافیاکے چنگل سے چھڑانے کے لئے مرکزی حکومت جنگی سطح پر مہم چلا رہی ہے تاکہ ان جائیداد کا استعمال کرکے مسلم کمیونٹی کے اقتصادی سماجی و تعلیمی اعتبار سے با اختیار بنانے کے لئے کوششیں کی جاسکیں۔ نقوی نے ریاستی وقف بورڈ کو ہدایت کی کہ اس سال کے آخر تک تمام وقف جائیدادیں آن لائن رجسٹرڈ ہو جانی چاہئے۔ اس کام کے لئے ہماری وزارت نے ریاستی وقف بورڈ کو مالی مدد بھی دی ہے۔ کئی ریاستوں کے وقف بورڈ اس سمت میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ کئی ریاستوں کے وقف بورڈ آن لائن وقف جائیداد رجسٹریشن کے معاملے میں سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ وقف املاک کی شکایات کے لئے مرکز ی سطح پر بورڈ ’بورڈ آف ایڈجیوڈیکیشن‘‘ تشکیل دیا جائے گا۔جس کی صدارت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس یا ریاستی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کریں گے۔حکومتیں وعدہ تو کرتی ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوپاتا ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ شاید اب کچھ کام ہو پائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *