علاقائی پارٹیوں کا کمزور ہونا جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں

damiچار ریاستوں کے ساتھ یو پی اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو گیاہے۔ اس نے سیاسی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے اور 11مارچ تک نتائج آجائیں گے۔ہم اس کا تجزیہ بعد میں کریں گے۔پہلا مدعا یہ ہے کہ نوٹ بندی سے پیدا ہونے والا مسئلہ ابھی تک منظم نہیں ہوسکا ہے۔بینکوں میں کافی کرنسی دستیاب نہیں ہے تاکہ پرانے نوٹوں کو بدلا جاسکے۔ پتہ نہیں کس سروے کی بنیاد پر وزیر اعظم اور سرکار نے اعلان کیا کہ 30دسمبر تک آپ اپنے نوٹ کو بدل سکتے ہیں اور انہیں لگا کہ تب تک سبھی نوٹ بدل جائیںگے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ پھر 31مارچ تک ریزرو بینک کے ذریعہ سے نوٹ بدلنے کا بھی متبادل دیا گیا۔
ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پیسے بدلنے کے لئے ریزرو بینک کی شاخوں کے پاس پیسہ نہیں ہے اور نہ ہی نوٹوں کو بدلنے کی سہولت ہے۔ پہلی بات سرکار کو یہ کرنی چاہئے کہ وہ 31 مارچ تک سبھی بینکوں کو نوٹ بدلنے کی منظوری دے تاکہ عام آدمی پر دبائو کم ہو سکے ۔ بیشک سرکار کے پاس ہی یہ اعدادو شمار ہوں گے کہ کتنی کرنسی چھپ سکی ہے، کتنی آنی ہے، کب تک صورت حال حقیقت میں آسان ہوگی۔ چدمبرم نے صحیح پیشن گوئی کی تھی کہ سب کچھ نارمل ہونے میں 7 مہینے کا وقت لگے گا۔ یعنی اپریل ،مئی تک نارمل صورت حال آسکتی ہے ۔ میں سرکار کی اس جلد بازی کو سمجھ نہیں پارہا ہوں۔ہر آدمی کو اس کے پیسے کے بدلے پیسہ ملنا چاہئے۔ کالا یاسفید کا مسئلہ انکم ٹیکس محکمہ دیکھے گالیکن جس کسی کے پاس بھی ایک پرومیسری نوٹ کی شکل میں روپیہ ہے ،اسے نیا نوٹ ملنا ہی چاہئے۔ یہ ایک بہت ہی عام سی بات ہے۔ کوئی راکٹ سائنس کی بات نہیں ہے۔
ابھی بھی فیصلہ لینے والے ایک اعلیٰ ذمہ دار یعنی وزیر خزانہ یہ بتائیں کہ آخر کب تک پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ لوگوں کو مل جائیں گے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ تقریباً سارے نوٹ بندی کے پیسے واپس آگئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کالا دھن کی جو امید کی گئی تھی، وہ غلط ثابت ہو گئی ہے۔ نقلی کرنسی اور دہشت گرد ی پر لگام کا وعدہ پہلے سے ہی غلط ثابت ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے اب نوٹ بندی کا مقصد ہی بدل دیاہے۔ وہ اب کیش لیس یا کم کیش والی اکانومی کی بات کررہے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریروں کی خوبی اور عظمت کم ہوتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم لوگوں کو سمجھائیں کہ کیسے ایک کارڈ کو سوائپ کرنا ہے، یہ کام تو کریڈٹ کارڈ سیلس مین کا ہے۔ ہاں سرکار بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کرنے کے لئے اپنے بینکوں کو بول سکتی ہے۔ بینک کے ملازمین لوگوں کے گھروں میں جاکر انہیں سمجھائیں کہ پے ٹی ایم ، ای ویلیٹ کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟ وزیر اعظم کا یہ سب ذاتی شوق ہو سکتا ہے لیکن عوامی طور سے اس طرح کی بات کرکے وہ وزیر اعظم عہدہ کو چھوٹا نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن سیاست میں ہر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے اس قدم سے وہ مقبول ہو رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
عالمی منظر نامے میں مجھے لگتا ہے کہ امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہندوستان اقتصادی مندی کی سمت میں جارہا ہے۔ 8نومبر کے بعد کئی ماہرین اقتصادیات نے اقتصادی مندی کی پیشن گوئی کی تھی۔بہرحال ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک افسوسناک صورت حال ہوگی کیونکہ ہندوستان میں اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔نوٹ بندی سے یومیہ مزدور، تعمیری مزدور وغیرہ کے روزگار چھن گئے ہیں۔ پلاسٹک کارڈ جب آئے گا تب آئے گا،بینک کھلتے رہیںگے لیکن اس فوری مسئلے سے بچا جاسکتا تھا۔ اس عمل نے یقینی طور سے سرکار اور برسراقتدار پارٹی کے خلاف لوگوں کے دل میں غصہ بھر دیا ہے۔ حالانکہ وہ ایسا نہیں سمجھتے۔
یوپی انتخاب پر آتے ہیں۔ 403میں سے 224 سیٹ جیت کر 5سال تک آرام سے سرکار چلانے والی سماج وادی پارٹی آج ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔ یہ لمبے وقت میں ہندوستان کی سیاست کے لئے اچھا نہیں ہے۔ کون جیتتا ہے،یہ بہت چھوٹی بات ہے۔ ووٹر کس کو ووٹ دیں گے، کوئی جیتے گا،کوئی ہارے گا،لیکن یہ پیغام ملنا کہ قومی پارٹیوں کے علاوہ دیگر علاقائی پارٹی حکومت کر ہی نہیں سکتی، غلط ہے۔ ظاہر ہے مایاوتی کی اپنی پارٹی پر پکڑ مضبوط ہے۔ اگر سماج وادی پارٹی دو دھڑوں میں بٹ کر لڑتی ہے تو اس کا فائدہ مایاوتی کو ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ان کے پانچ سال کی حکومت میں ، 2007سے 2012 تک لاء اینڈ آرڈر ٹھیک تھا۔اتر پردیش میں دو چیزیں اہم ہیں: لاء ایند آرڈر اور روزگار۔جو بھی سرکار لاء اینڈ آرڈر بہتر بنانے کی بات کرے گی، اسے فائدہ ہوگا۔ اکھلیش یادو جو بھی دعویٰ کرلیں،لیکن ان کے دور حکومت میں لاء اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں تھا۔ پوری ریاست کے 70فیصد پولیس اسٹیشنوں کی ذمہ داری یادئووں کو دی گئی۔ یہ اچھا پیغام نہیں دیتا۔ بیشک اس کے لئے اکیلے اکھلیش یادو ہی نہیں، بلکہ سماج وادی پارٹی بھی ذمہ دار ہے ۔ سماجوادی پارٹی کی بنیاد یادو اور مسلم ہے۔ لیکن انتخابی تشہیر ، حکومت ،انتظامیہ باتین الگ الگ باتیں ہیں۔ انتخابی تشہیر میں آپ سبھی کام کرتے ہیں۔ ایک بار جب آپ حکومت میں آجاتے ہیں تب آپ کو غیر جانبدار حکومت اور انتظامیہ کے ضابطے کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ آپ پولیس سروسز ، آئی اے ایس اور دیگر سروسز میں نسل پرستی نہیں تھوپ سکتے ہیں۔
جو بھی انتخابی نتائج آئیں۔اس کی دو صورتیں ہوں گی۔ایک یا تو اتر پردیش میں ایک مستحکم سرکار بنے گی پا پھر مودی کی پالیسیوں اور بی جے پی کی سیاست کی سمت اور حالت طے ہوگی۔ اگر بی جے پی حتمی اکثریت لا پاتی ہے تو وہ اسے نوٹ بندی پر ریفرنڈم مانے گی ۔ اگر وہ ہار گئے تو اپوزیشن بھی یہی کہے گا ۔میرے حساب سے ایسا کہنا مدعے کی سادہ وضاحت کرنے جیسا ہوگا۔ انتخاب کوئی ایک بار منعقد ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ کسی ایک پالیسی یا ایک قدم کے فائدے یا نقصان ہو سکتے ہیں،لیکن آپ اسے ریفرنڈم نہیں بتاسکتے۔ ایسا کہنا ایک خطرناک بات ہے۔
کجریوال اور مایا وتی نے کہا ہے کہ کیا مرکزی سرکار کو یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کی منظوری دی جانی چاہئے۔ وزیر خزانہ نے اسے آئینی ضرورت بتایا ہے۔ اس میں دوپہلو ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ آئینی ضرورت یہ ہے کہ 31مارچ سے پہلے پارلیمنٹ دو یا تین مہینے کے لئے ہونے والے اخراجات کی منظوری دے دے جب تک پورے سال کے بجٹ کو منظوری نہیں مل جاتی ہے۔یہ ہر سال ہوتا ہے، بجٹ 28فروری کو پیش ہوتا ہے اور مارچ میں ووٹ آن اکائونٹ لیا جاتا ہے۔ اس لئے بجٹ کی پوری سرگرمی اپریل یا مئی تک پوری کرلی جاتی ہے اور اخراجات میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے۔ انتخابی سرگرمی 11مارچ تک ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد آپ 15مارچ سے بجٹ سیشن بلا سکتے ہیں۔ لیکن مرکزی سرکار کو نئی اسکیم کا اعلان کرنے کی منظوری دینا غیر ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ الیکشن کمیشن اسکیموں کا اعلان نہ کرنے کی صلاح سرکار کو دے گا۔ مراعاتی بجٹ اسکیموں کا اعلان عوام کو لبھانے کا ایک ذریعہ ہے۔یہاں تک کہ مارچ 2014 میں جب اس وقت کی کانگریس سرکار نے بجٹ پیش کیا تھا تب اس میں ٹیکس کی تجویز نہیں د ی گئی تھی اور یہ کام آنے والی نئی سرکار کے اوپر چھوڑ دیا تھا۔ وہی کام یہاں بھی کیا جاناچاہئے۔جن ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں، وہاں کے لئے آپ نئی ریلوے لائن کا اعلان یا کسی دیگر اسکیم کا اعلان نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ انتخاب کے لئے ٹھیک نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم ، وزیر اعظم سے زیادہ پارٹی ترجمان کی طرح کام کررہے ہیں۔ بولنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ پٹنہ میں گرو گووند سنگھ کی 350ویں یوم پیدائش کے موقع پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے وہاں نتیش سرکار کی تعریف کی،لیکن اصل کھیل کیا ہے؟نتیش کمار نے نوٹ بندی کی حمایت کی ہے۔ دراصل وزیر اعظم کا مقصد نتیش کمار کو لالو یادو سے دور کرنا ہے اور شاید سرکار بنانا بھی ہے ۔یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے۔ مودی کانگریس کے خلاف بول سکتے ہیں،70سالوں کی بات کرسکتے ہیں لیکن کانگریس کے ہی 70سالوں نے یہ یقینا کیا ہے کہ انتخاب ٹھیک سے ہو، وقت پر ہو، بغیر جھڑپ کے پاور ٹرانسفر ہو۔فوج اور پولیس کا ان سب میں کہیں کوئی دخل نہیں ہو۔ ایمرجینسی کی بات چھوڑ دیں تو جمہوریت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ایمرجینسی کی بھول کو بھی آنجہانی اندرا گاندھی نے سدھارا۔ دوبارہ جمہوری سرگرمی کے ذریعہ سے واپس اقتدار میں آئیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سرکار سبھی غلط مثالوں کی تعمیل کرنا چاہتی ہے اور صحت مند مثالوں کو چھوڑنا چاہتی ہے۔ اگر ہم انگلینڈ اور امریکہ کی نقل کررہے ہیں، تو یہ نقل بھی بہت دھیان سے اور مناسب طریقے سے کرنا چاہئے۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے، لیکن ایک توازن ہے اور اس توازن کو بنائے رکھا جانا چاہئے۔ ججوں کی تقرری جج کرے، یہ اچھی بات نہیں ہے،لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان کے صدر جمہوریہ ، چیف جسٹس اور سرکار کو بلا کر یہ چرچا کر سکتے ہیں کہ کیا ہو رہاہے۔ حل ہمارے آئین کے اندر سے ہی تلاش کیا جانا چاہئے ۔جو بہت لچیلا ہے۔ ہمارا آئین اتنا اچھا ہے کہ اس میں تمام مسائل کا جواب ہے۔ مسئلہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہے۔وہ اپنی سوچ اور نقطہ نظر میں تنگ ہوتے جارہے ہیں۔روزگار پر دھیان مرکوز کرنے کی جگہ ہم کہیں اور دھیان دے رہے ہیں۔ امید کیجئے کہ سب کچھ ٹھیک کیا جاسکتاہے۔

Share Article

2 thoughts on “علاقائی پارٹیوں کا کمزور ہونا جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں

  • January 18, 2017 at 7:32 am
    Permalink

    قطعہ: نذرِ اردو چوتھی دنیا
    احمد علی برقی اعظمی

    چوتھی دنیا ہے صحافت کا ستوں
    کرتا ہے اغیار کو جو سر نگوں

    کیوں نہ ہو مقبولِ اربابِ نظر
    اس کے رشحاتِ قلم کا یہ فسوں

    Reply
  • January 18, 2017 at 7:26 am
    Permalink

    چوتھی دنیا کا ہے یہ اک عالمانہ تجزیہ
    لگتا ہے تھی نوٹ بندی ایک ناقص فیصلہ

    دے ہمارے حکمرانوں کو خدا عقلِ سلیم
    ان کی ہو ترجیح برقی ملک و ملت کا بھلا
    ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *