شرمیلا ٹیگور جامعہ میں

dami00کشمیر کی کلی کے نام سے مشہور شرمیلا ٹیگور ان اداکاراوں میں سے ہیں، جس نے اپنے بااثر اداکاری سے برسوں تک بالی وڈ پر راج کیا ۔ شرمیلا کی ذاتی زندگی بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے ۔ بنگال کے ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھنے والی شرمیلا کو نواب پٹودی سے پیار ہو گیا تھا اور دونوں کی شادی اس زمانے کی سب سے زیادہ مشہور شادیوں میں سے ایک تھی۔
شرمیلا ٹیگور اور نواب منصور علی خان پٹودی کی پہلی ملاقات 1965 میں دہلی میں ہوئی تھی۔ نواب پٹودی کو شرمیلا پہلی نظر میں ہی بھا گئیں۔
نواب پٹودی کرکٹ کے بڑا اسٹار تھے، تو وہیں شرمیلا بالی ووڈ کی مشہور ہیروئین۔ شرمیلا کو منانے کیلئے نواب پٹودی کو مسلسل 4 سالوں تک مشقت کرنی پڑی۔کہا جاتا ہے کہ شرمیلا کو خوش کرنے کے لیے نواب پٹودی نے اس زمانہ میں ایک فرج گفٹ کیا تھا، لیکن شرمیلا پر ان کے اس قیمتی گفٹ کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔مسلسل 4 سالوں تک کوشش کرنے کے بعد شرمیلا نے منصور علی خان کو ہاں کہا، لیکن دونوں کی محبت کو منزل ملنا اتنا آسان نہیں تھا۔ دونوں کے درمیان مذہب کی دیوار تھی اور گھر والوں کو منانا کافی مشکل تھا۔
سالوں کی محنت کے بعد آخر ان کی محبت کے آگے گھر والوں کو جھکنا ہی پڑا اور 27 دسمبر 1969 کو دونوں کی شادی ہوئی۔ پٹودی کی شرمیلا سے شادی نہ صرف سنیما اور کرکٹ کا ملن تھا بلکہ دقیانوسی خیالات کی ہار بھی تھی۔شادی سے پہلے شرمیلا ٹیگور کو اپنا مذہب تبدیل کرنا پڑا۔ شرمیلا عائشہ سلطانہ بن گئیں۔ شرمیلا اور پٹودی کے 3 بچے ہوئے۔ دونوں کی جوڑی ایک مثال تھیں۔ 42 سال تک دونوں ساتھ رہے اور 2011میں نواب پٹودی کا انتقال ہو گیا۔
اواخر2009میں1973بیچ کے اائی اے ایس افسر اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں اینرجی اکانومکس پر پی ایچ ڈی کررہے نجیب جنگ نے تاریخی تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر بننے کے بعد وہاں کے کیمپس کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہاں کے طلبا وطالبات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی سنٹرل یونیورسٹی یا جدید تعلیم گاہ کے کیمپس میں نہیں بلکہ کسی مدرسہ کے کیمپس میں ہیں۔ لہٰذا میری کوشش ہوگی کہ اس تاثر کو ختم کروں۔‘‘ نجیب جنگ تو تقریباً 4برس بعد2013میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر بننے کے سبب یہاں سے رخصت ہوگئے مگر 7برس بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے قیام کے 97برس بعد جامعہ نجیب جنگ کے اس خواب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ احساس اس وقت ہوا جب 17جنوری2017 کو موجودہ وائس چانسلرطلعت احمد اور ماس کمیونی کیشن کے ڈائریکٹر افتخار احمد کی کوششوں سے جامعہ میں فلم کلب قائم ہوگیا۔
جامعہ کے فلم کلب کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے زمانے کی مشہور فلم اداکارہ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی)کی سابق چیئرپرسن اور پدم بھوشن سے نوازی گئی شرمیلا ٹیگور نے کہا کہ جامعہ بالخصوص ماس کام ادارے کے ذریعے طلبا وطالبات کے فلم کے شعبہ میں زبردست کردار کے باوجود اتنی دیر سے فلم کلب کا کھلنا باعث حیرت تو ہے مگر خوش آئند بھی ہے۔ انہوں نے توقع کی کہ یہ فلم کلب جامعہ کے طلبا کو فلمی دنیا کے تازہ ترین حالات و رجحانات کو سمجھنے میں معاون ومددگار ثابت ہوگا۔
شرمیلاٹیگور نے معاشرے کی برائیوں کے لیے کچھ لوگوں کی طرف سے فلم کو ذمہ دار قرار دینے کے الزام کو غلط بتایا اور کہا کہ یہ برائیاں معاشرہ کے انتشار سے پیدا ہوئی ہیں جب کہ فلمیں تو ان کا محض آئینہ دکھاتی ہیں ۔ شرمیلا ٹیگور جنہوں نے ایک سو سے زائد فلموں میں کام کیا ہے ، کے ذریعے جامعہ کے فلم کلب کاافتتاح اپنے آپ میں ایک اہم واقعہ ہے۔
تقریب کے مہمان خصوصی اور نیسکام کے سابق صدر کرن کارنک نے کہا کہ اس طرح کے کلبوں سے صرف فلموں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے بلکہ ان سے آدمی کچھ سیکھتا بھی ہے اوراس ان کی سوچ تیار ہوتی ہے۔ ان کلبوں میں سنیما کے بارے میں سنجیدہ بات چیت بھی ہوتی ہے اور فلم ڈائریکٹرز اور فلم مینوفیکچررز سے ربط اور گفتگو کا بھی موقع ملتا ہے۔ ڈائریکٹر امت کھنہ نے کہا کہ 1920تک ہندوستان دنیا میں فلم بنانے والا ایک بڑا ملک بن گیا تھا اور 1922میں فلمی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل بھی ہوگئی تھی جو کہ مستقبل میں فلم سنسربورڈ کے قیام کی بنیاد بنی۔
جامعہ کے فلم کلب کا قیام دراصل جامعہ ماس کام کے ڈائریکٹر افتخار احمد کی کوششوں کاثمرہ ہے۔ موجودہ وائس چانسلر کی خصوصی دلچسپی اور منظوری نے ان کی کوششوں کو بار آور کیا۔توقع ہے کہ جامعہ علم کے دیگر شعبوں کی مانند اب عملی طورپر فلمی دنیا میں اب پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں کردار ادا کرسکے گا۔
ڈاکٹر افتخاراحمد نے ’چوتھی دنیا‘ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس فلم کلب کے ذریعے جامعہ کے طلبا و طلبات کو نہ صرف عمدہ فلمیں دیکھنے بلکہ فلموں اور ٹی وی دنیا کی مشہور شخصیات سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کاموقع ملے گا اور مستقبل میں یہ کلب یہاں کے طلبا وطلبات کو فلمی دنیا میں مزید اہم رول ادا کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *