سپریم کورٹ کو اپنی حد سمجھنی چاہئے

damiپانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے، جس میں انتخاب اور انتخاب کے نتائج جاری کرنے کی تاریخ بتائی گئی ہے۔سماج وادی پارٹی میں چل رہے اندونی تنازع کی وجہ سے اتر پردیش کی طرف لوگوں کا زیادہ دھیان ہے،لیکن انتخابی سرگرمی میں یہ ہوتا رہتا ہے۔ اصل ایشو یہ ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے 8نومبر کو اچانک لاگو اس غیر متوقع اعلان سے ملک میں اتھل پتھل مچ گیا۔ یہ اتھل پتھل دو وجوہات سے تھا۔ پہلا ، پرانے نوٹوں کا نئے نوٹوں سے فوری نہیں بدلا جانا، ناقابل معافی ہے۔نوٹ بندی کا فیصلہ اچھا تھا یا برا، یہ سرکار کا فیصلہ ہے۔ اس کا اچھا اثر پڑے گا یا برا یا کوئی اثر نہیں پڑے گا، وہ بھی سرکار کی پریشانی ہے ،لیکن کسی عام آدمی کو اس کے نوٹوں کے بدلے میں نئے نوٹ ضرور ملنے چاہئے۔ اس کے پاس پرومیسری نوٹس ہیں، جس پر ریزرو بینک کے گورنر کا دستخط ہے اور آپ اس کے بدلے نئے نوٹ نہیں دے رہے ہیں،یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اس سے لوگوں کا کرنسی پر سے یقین ختم ہو جائے گا، سرکار سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔یہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اپوزیشن کے اختلاف کرنے پر یہ کہہ کر اس کی زبان پر تالا لگا دیا گیا کہ صرف وہی لوگ اس قدم کی مخالفت کررہے ہیں، جن کے پاس کالا دھن ہے۔ یہاں کالا اور سفید کا سوال نہیں ہے۔ نوٹوں کے اوپر یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ پیسہ سفید ہے یا کالا ۔ سوال یہ ہے کہ نوٹ کے بدلے مجھے نئے نوٹ ضرور ملنے چاہئے۔یہ میرا فیصلہ ہوگا کہ میں اسے بینک میں رکھوں یا نہیں رکھوں ،آپ ہم پر دبائو نہیں ڈال سکتے۔
جب لمبی لائنیں لگنے لگیں اور لوگ مرنے لگے، تو انہوں نے اپنا سُر اچانک بدل دیا۔ اب یہ کہنے کے بجائے کہ یہ قدم کالا دھن ، نقلی نوٹ اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اٹھایا گیا ہے،یہ کہا جانے لگا کہ ہم کیش لیس اقتصادی نظام یا لیس کیش اقتصادی نظام کی عادت ڈلوانا چاہتے ہیں۔یہ بے ڈھنگی باتیں ہیں۔یہاں تک کہ جو آدمی ایسا کہہ رہاہے ، وہ جانتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ گائوں کو بھول جائیے، ممبئی جیسے شہر میں جو ماڈرن شہر ہے، وہاں کتنے لوگ کرنسی کے لئے پلاسٹک کارڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ میں آپ کو چیلنج دے سکتا ہوں کہ کارپوریٹ سیکٹر اور آرگنائزڈ سیکٹر کے علاوہ کوئی بھی پلاسٹک کارڈ کے کاروبار میں یقین نہیں کرتا۔ ایک کیرانہ کی دکان چلانے والا آدمی کیش میں یقین کرتا ہے۔یہاں تک کہ اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والی گھرنی بھی کیش میں یقین رکھتی ہے۔ کیش کالا دھن نہیں ہے۔ اب لوگوں کو یہ تعلیم دینی ضروری ہے کہ کالا دھن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
مجھے یہ کہنا پسند نہیں ہے،لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ کالا دھن اور بد عنوانی پر دیا جانے والا زور ختم ہونا چاہئے۔ زور ترقی پر ہونا چاہئے، انفراسٹرکچر پر ہونا چاہئے، ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ پر ہونا چاہئے، جس نعرے کے ساتھ نریندر مودی منتخب ہو کر آئے تھے۔ مہربانی کرکے آپ اس پٹری پر واپس آئیے۔ آپ پٹری سے اتر گئے ہیں۔ آپ لوگوں کا دھیان بھٹکا رہے ہیں۔ آپ نے ایسا تأثر پیدا کررکھا ہے جیسے سارے امیر لوگ مصیبت میں ہیں، اس لئے غریب لوگ خوش ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ امیروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے، فرق غریبوں پر پڑنے والا ہے،جو صرف کرنسی نوٹ کے رنگ کو پہچانتے ہیں، وہ متأثر ہوں گے ۔مجھے یہاں میڈیا کے خلاف بولنا پڑے گا۔ میڈیا کو اب مینج کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا اب لوگوں کی رائے نہیں چھاپ رہا ہے۔ میڈیا یہ ذہنیت تیار کررہا ہے کہ نوٹ بندی کا فائدہ لانگ رن میں ہوگا۔یہ لانگ رن کیا ہے؟سرکار کے پاس تو صرف پانچ سال کا وقت ہے۔مودی جی ،پانچ میں سے ڈھائی سال نکل گئے۔ لانگ رن کیا ہے؟مان لیا جائے کہ اس کا فائدہ پچاس سال کے بعد ملتا ہے تو پھر آپ ابھی یہ کیوں کررہے ہیں؟کیا آپ نے 100سال کے لئے اس ملک کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟یہ مضحکہ خیز ہے ۔یہ ایک سیاسی سوچ نہیں ہے۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔
لیکن جو ہو گیا، وہ ہوگیا۔ اب جی ڈی پی یا تو اوپر جائے گا یا نیچے آئے گا۔ اس کا تعلق نوٹ بندی سے نہیں ہے۔اگر مان لیا جائے کہ جی ڈی پی دو پوائنٹ نیچے چلا جاتاہے تو اپوزیشن کہے گا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ہوا ہے اور سرکار کہے گی کہ اس کے دوسرے وجوہات ہیں۔اگر جی ڈی پی دو پوائنٹ اوپر جاتا ہے تو سرکار کہے گی کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، جبکہ اپوزیشن کوئی اور وجہ بتائے گا۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔ ایک ملک ،جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور جہاں کی جمہوریت 70 سال پرانی ہے، وہاں ہر فیصلے پر بحث کرنا بیوقوفی ہے۔ اس کو یہیں پر چھوڑتے ہیں اور اس کو اپنے فطری انجام تک پہنچنے دیتے ہیں۔
بی جے پی کی پہلی آزمائش نوٹ بندی پر نہیں ،بلکہ ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے اتر پردیش میں ہے۔وہ ایسا تأثر پیدا کررہی ہے جیسے بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی دھوکہ بازوں کی پارٹی ہے، صرف و ہی (بی جے پی ) بے داغ اور بے گناہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ لوگ ان کی اس سوچ پر یقین کریں گے۔ بی جے پی کے لئے ایک انتباہ والا پیغام یہ ہے کہ ہر کسی کو چور کہنا سمجھداری نہیں ہے۔ خود ان کی پارٹی کے لوگوں پر بھی الزام ہے۔ مودی بھلے ہی صاف شبیہ کے ہوں، لیکنمیں ملک کی الگ الگ ریاستوں میں بی جے پی کے لوگوں سے ملا ہوں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ کانگریس کے لیڈر سے کہیں سے بھی کم نہیں ہیں۔ بی جے پی میں یہ فیشن بن گیاہے کہ ملک کی ہر غلط چیز کا الزام جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی کے اوپر لگا دیا جائے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ وقت بتائے گا کہ منموہن سنگھ کا 10 سال کا دور اقتدار ، موجودہ سرکار کے دوراقتدار سے بہتر تھا۔ میڈیا ہی اس بات کی تصدیق کرے گا۔
دوسرا اہم ایشو سپریم کورٹ کا ایٹکٹویزم (زیادہ سرگرم ہونا ) ہے۔ سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں ججوں کی تقرری کی بات نہیں کررہا ہوں۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلوں میں توازن کا فقدان ہے۔ انتہائی غیر معمولی معاملے، جس میں قتل کے الزام کو موت کی سزا دی جاتی ہے، اس میں بھی الگ الگ جج انتہائی غیر معمولی معاملوں کی پہچان الگ الگ طریقوں سے کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے ،لیکن یہ بہت ہی من مانا ،غیر منطقی اور شخصی نوعیت کا ہوتا ہے۔ انصاف کے احساس کا فقدان ہے ۔حال کی دو تین مثالیں دینا چاہوں گا۔ پہلی مثال سہارا چیف سبرت رائے کو دو سال تک جیل میں رکھنا ہے۔ یہ بات میں اس لئے نہیں بول رہاہوں کہ وہ میرے دوست ہیں۔ وہ میرے دوست نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ کو قانون کے تسلط کو نافذ کرنا چاہئے۔ آپ نے انہیں بغیر چارج شیٹ کے ہی جیل میں ڈال دیا ہے۔ جب ان کے وکیل نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ان سے کہا گیا کہ عدالت نے انہیں اپنی کسٹدی میں رکھا ہے، سزا نہیں دی ہے۔ کیا سپریم کورٹ ایک تھانیدار بن گیا ہے؟
بی سی سی آئی کا معاملہ ہے۔حسد الگ چیز ہے۔ ایک آدمی کا دوسرے کے تئیں حسد کرنے کو میں سمجھ سکتا ہوں، جو ارون جیٹلی، راجیو شکلا یا کسی اور آدمی کے خلاف ہو سکتا ہے۔لیکن سپریم کورٹ کو ثبوت ہونا چاہئے۔ اس معاملے کو حسد کرنے والے افراد کو آپس میں سلجھا لینے دینا چاہئے، جیسا کہ سیاست میں ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے لوڑھا کمیٹی تشکیل دی اور لوڑھا کمیٹی کسی کا سپورٹ کررہی ہے۔سپریم کورٹ کو سب سے پہلے یہ جانچ کرنی چاہئے کہ اس سلسلے میں جو عرضی دائر کی گئی ہے، اسے فائننس کون کر رہاہے۔ وہ وہ جناب ،جن کا نام ورما ہے، جنہوں نے عرضی دائر کی ہے، ان کے وکیلوں کی فیس کون ادا کررہا ہے؟کیا کوئی للت مودی یا کوئی وجے مالیہ؟سپریم کورٹ کو یہیں عرضی خارج کر دینی چاہئے کہ وہ بے نامی کیس کی سنوائی نہیں کرسکتا۔لیکن سپریم کورٹ نے نہ صرف کیس کی سنوائی کی، بلکہ لوڑھا کمیٹی نے ایسے سجھائو دیئے ہیں، جس کے مطابق بی سی سی آئی کو پلیٹ میں سجا کر کارپوریٹ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اگر آپ کہتے ہیں، موجودہ سسٹم میں بدلائو کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے لوگ دوبارہ منتخب ہوتے رہتے ہیںتو اس کے لئے آپ الیکشن کمیشن کی طرح کوئی سسٹم بنا سکتے ہیں۔ تاکہ انتخاب غیر جانبدار اور دھاندلی سے پاک ہو سکے۔ لیکن اس چیز کو ختم کرنے کے لئے آپ ایک اسٹیٹ، ایک ووٹ کا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ سکم ، منی پور، تریپورہ ، سبھی کے پاس ایک ووٹ ہوگا ۔ان ریاستوں میں کوئی بھی شکاری کاروباری پہلے جائے گا، ان کا ووٹ خریدے گا اور آنے والے وقت کے لئے بی سی سی آئی کو اپنے پاکٹ میں رکھ لے گا۔ کیا یہی سپریم کورٹ چاہتا ہے؟جسٹس ٹھاکر جو اَب ریٹائر ہو گئے ہیں ، وہ جسٹس لوڑھا کے قرضدار ہو سکتے ہیں، کیونکہ جسٹس لوڑھا ان سے سینئر ہیں۔لیکن جسٹس لوڑھا نے جو کیا، اس میں کرکٹ کا نقصان ہے، کرکٹ انتظامیہ کا نقصان ہے، قانون کے تسلط کا نقصان ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جسٹس کھیہر جنہوںنے اپنی ذمہ داری سنبھالی ہے ، معاملے کی جانچ کریں گے۔یہ بالکل ٹھیک ہے،اگر آپ کہیں کہ اگر کوئی 9سال تک لگاتار اپنے عہدے پر رہتا ہے، تو اسے بریک لینا چاہئے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔70 سال کے بعد کوئی بھی آدمی ریٹائر ہوجاتاہے اور کرکٹ کے لئے اس کے پاس وقت رہتاہے۔ اسے عہدہ سنبھالنے دیجئے ۔دنیا بھر میں کھیل کے اداروں کے چیف 80سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔
ایک اسٹیٹ ایک ووٹ ہندوستانی کرکٹ کے جمہوری طریقہ کار کے لئے خطرناک معلوم ہوتا ہے۔ ایک اور فیصلہ آیا ہے، سنیما ہال میں راشٹریہ گیت کے پہلے کھڑا ہونے کو لے کر ۔ آپ کیسے اس حکم کو نافذ کروائیںگے۔ بی جے پی کے دور حکومت میں سوئم سیوک خود مختار بن جائیںگے۔ یہ فاشسزم ہے۔یہ کام نہیں کرے گا۔ اب 30 لاکھ این جی اوز نے اپنے کھاتے کی جانکاری نہیں دی ہے۔ اب اس کے آڈیٹ کا حکم دیا گیا ہے۔ کون آڈ یٹ کرے گا ان 30لاکھ کھاتوں کو؟ایسے آڈیٹ کی خوبی کیا ہوگی؟کم سے کم ایک کٹ آف پوائنٹ ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ سپریم ہے، لیکن یہ ایک بدنصیب حصہ بھی ہے۔وہ جو بھی بولتے ہیںوہ قانون ہوتا ہے۔ آج میں نے ایک بہت ہی مضحکہ خیز خبر پڑھی۔ سپریم کورٹ نے بڑلا سہارا ڈائری کیس کی جانچ کروانے سے منع کردیا ہے، جس میں لیڈروں کے نام آئے ہیں ، اس کیس کو خارج کر دیا ہے۔ پھر حوالہ ڈائری کیا تھی؟وہ سی بی آئی کے ذریعہ ضبط کی گئی تھی،یہ انکم ٹیکس محکمہ کے ذریعہ ضبط کی گئی ہے۔ حوالہ ڈائری کیس میں سپریم کورٹ نے سنوائی کی، چارج شیٹ فائل ہوئی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کہتا ہے کہ دستیاب ثبوت کافی نہیں ہیں۔ یہ کیا ہے؟اس طرح سے تو ملک نہیں چلے گا۔ ایسا ہی چلتا رہا تو ایک دن آئے گا جب اس ملک کے لوگ سپریم کورٹ پر بھروسہ کرنابند کر دیںگے۔کرکٹ ایک کم اہم چیز ہے۔ ہندوستان اس میں بہتر کر رہا ہے۔ آپ کو اس میں مداخلت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟اگر کسی نے اس میں غلط پیسہ لگایا ہے تو قانون اپنا کام کرے گا۔ آپ کو مداخلت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ہم لوگ بہت ہی غلط سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ اس سرکار کی ان آئینی اقدار کو بدلنے میں مدد کررہی ہے جو پچھلے 70سالوں سے صحیح ثابت ہوتی آرہی ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ مودی کانگریس سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہوںگے اور کانگریس اقتدار میں آنے کی کوشش کررہی ہوگی، یہ ٹھیک ہے۔یہی سیاست ہے،یہی جمہوریت ہے، لیکن سپریم کورٹ کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری حدیں کیا ہیں؟ہم کیا کرسکتے ہیں،کیا نہیں کرسکتے ہیں؟جو کام لوگوں کو خود اپنے اقدار اور سمجھ کے حساب سے کرنا ہے، اسے آپ قانون کے ذریعہ زبردستی نہیں کرا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ یہی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے یک افسوسناک مثال ہے ۔جتنی جلدی یہ سب ختم ہو، اتنا اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *