سنگھ اپنے نظریہ سے سمجھوتہ کر رہا ہے

damiکہتے ہیں کہ جب کوئی سماج وادی تانا شاہ بنتا ہے تو بہت گھٹیا تانا شاہ بنتا ہے۔ حالانکہ کئی تانا شاہ ایسے ہوئے ہیں جن کی تعریف ہوئی ہے، لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر بھی گننے کے لائق نہیں ہے۔دراصل یہ ابتدا کچھ عجیب لگ سکتی ہے،لیکن تمام تنقیدوں کے باوجود راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کو ہم ان کے اپنے نظریہ میں پائے جانے والے اخلاقیات کے سوال پر تنقید کے دائرے میں نہیں لے سکتے۔راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے اب تک اپنے نظریہ کے ثقافتی پہلو کو کبھی چھپایا نہیں اور نہ ہی انہوں نے اس پر کوئی شرم محسوس کی۔ جب بھی وقت آیا، انہوں نے سماج، ہندوستان اور ریاستی نظم و نسق کا تصور صاف طور پر لوگوں کے سامنے رکھا۔
لیکن اب جب ان تمام تصورات کی کسوٹی کا وقت انتخاب کے وقت سامنے آیا ہے، تب ایسا لگتا ہے کہ سنگھ پہلی بار اپنے نظریہ کے ساتھ سمجھوتہ کررہا ہے۔ وہ سمجھوتہ ہی نہیں کررہا ہے، بلکہ پوری طرح ان سیاسی پارٹیوں سے مسابقت بھی کررہا ہے ،جن کی وہ اب تک تنقید کرتا رہا ہے۔ سنگھ اب تک یہ کھلے عام کہتا رہا ہے کہ سیاست میں وہ بی جے پی کی محدود حمایت کرتا ہے۔ بی جے پی کی جیت اور ہار اس کی اپنی پالیسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ میں کئی بار ایسا وقت آیا،جب یہ لگا کہ سنگھ نے اپنا نظریہ آگے بڑھانے کے لئے کبھی کبھی ان کی بھی حمایت کی، جن کی وہ عام طورپر حمایت نہیں کرتا۔ ایک بار اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بھی حمایت سنگھ نے کی تھی اور کھلے عام ان کی تعریف بھی کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخاب میں سنگھ نے کھل کر بی جے پی کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے سوئم سیوک سنگھ ایک ایک پولنگ بوتھ پر چٹان کی طرح نہ صرف کھڑے رہے، بلکہ نریندر مودی کے حق میں ووٹ ڈلوانے کے لئے، جو بھی کر سکتے تھے، انہوں نے کیا۔ بہار کے انتخاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو نتیش کمار کے سامنے متبادل کی شکل میں کھڑا کردیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر بہار کے لوگ نتیش کمار کو ووٹ دیں گے تو ترقی ختم ہوگی، تنزلی آئے گی،لیکن اگر نریندر مودی کو ووٹ دیں گے تو ترقی آئے گی۔ بہار کے لوگوں نے نتیش کمار کو چنا،نریندر مودی یا بی جے پی کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ سنگھ نے کہا کہ چونکہ ہم نے بی جے پی کی حمایت نہیں کی، اس لئے بی جے پی ہار گئی۔ حالانکہ یہ اعلان کھلے عام نہیں ہوالیکن سنگھ کے لوگوں نے مضبوطی کے ساتھ چاروں طرف یہ ہوا پھیلا دی۔ آسام میں بی جے پی سیدھے نہیں جیتی۔ آسام میں اگر ہیمنٹ شرما کانگریس سے ٹوٹ کر بی جے پی میں نہیں آئے ہوتے اور پرفل مہنت کو دھوکہ میں رکھ کر ان کا ساتھ بی جے پی نے نہیں لیا ہوتا تو شاید وہاں بھی بی جے پی اقتدار میں نہیں آ پاتی۔ وہاں بی جے پی کی سرکار صرف اور صرف کانگریس کی انتہائی بیوقوفی کا نتیجہ ہے۔
اب اتر پردیش ، پنجاب اور گوا کے انتخابات ہورہے ہیں۔بی جے پی ٹکٹ تقسیم کررہی ہے اور بی جے پی کے ٹکٹ تقسیم کا اثر ہر جگہ دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی کے کارکنوں میں بے اطمینانی ہے، پارٹی کی ضلع اکائیوں میں بغاوت کی صورت حال ہے اور ریاستی سطح کی قیادت اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کررہی ہے۔دراصل جنہیں ٹکٹ دیا جارہا ہے، ان میں ایک بڑی تعداد ان کی ہے ،جن کا رشتہ کبھی بھی بی جے پی سے نہیں رہا۔ یہ بی جے پی کے کارکنوں کے گلے نہیں اتر رہا ہے کہ جو باہری لوگ مانے جاتے ہیں، دوسری پارٹیوں سے آئے ہوئے مانے جاتے ہیں، انہیں ٹکٹ دینے میں ترجیح دی جائے۔اتر پردیش اور پنجاب میں ہر جگہ مرکزی وزیروں کے پتلے جلائے جارہے ہیں۔ امیت شاہ اور نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے جارہے ہیں۔ نیز بی جے پی میں بے اطمینانی کا آتش فشاں ہر جگہ پھوٹ رہا ہے۔
اب اس میں سنگھ کہاں ہے؟اب تک یہ مانا جاتا رہا اور اس بار بھی صاف طور پر دیکھا گیا ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی ضلع سطح کی تنظیم، ضلع کے اسمبلی حلقے کے حساب سے امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتی ہے ۔ ان کے حق یا خلاف ، خوبیوں یا کمیوں کی بنیاد پر وہ اپنی رپورٹ بی جے پی کی ریاستی سطح کی تنظیم کو دیتے ہیں اور ریاستی سطح کی تنظیم بی جے پی کے ساتھ مل کر امیدواروں کے انتخاب میں اپنا رول ادا کرتا ہے۔اس بار ایسا کیا ہوا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے یا تو اس کام کو کیا نہیں یا اس کے اپنے ضلع سطح کے عہدیداروں نے اپنے کو اسی سانچے میں ڈھال لیا، جس میں کانگریس یا سماج وادی پارٹی کے لوگ ڈھلے ہوئے ہیں۔
اب تو کئی لوگ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے عہدیداروں کا ایک بڑا حصہ اسی نظریہ کا علمبردار ہوگیا ہے اور انہی برائیوں کے سائے میں پہنچ گیا ہے جنہیں برسراقتدار ہونے کے ناطے مختلف جال جکڑ لیتے ہیں۔سینئر سنگھ عہدیدار، جن میں ریاست کے چیف عہدیدار شامل ہیں، بیرونی ممالک کے اسفار میں مگن ہیں۔ وہیں، چھوٹی سطح کے عہدیدار ان ساری کمیوں کا لطف لے رہے ہیں جو برسراقتدار پارٹی کے اہم ممبر ہونے کے ناطے مختلف کاروباریوں اور پیسے والوں کے نزدیک آنے سے خود بخود قریب آجاتے ہیں۔ یہ ماننے کو من تو نہیں کرتا ،لیکن سچائی اس کے آس پاس ہی کہیں دکھائی دیتی ہے کیونکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں خاص طور پر اتر پردیش میں، جب یہ اعلان کر دیا جائے کہ اگر دوسری پارٹیوں سے آیا ہوا کوئی ایم ایل اے ہے، تو اس کا ٹکٹ پکا ہے۔ اس کا مطلب بی جے پی اپنے سوئم سیوکوں یا اپنے کارکنوں کو ٹکٹ نہیں دینا چاہتی ہے۔ انہیں ترجیح دینا چاہتی ہے، جو انتخاب جیت سکیں۔ چاہے وہ کبھی بھی بی جے پی یا سنگھ کے رابطے میں نہیں رہے ہوں یا پھر وہ باہو بلی بد عنوان، مجرمانہ شبیہ والے یا داغدار ہی کیوں نہ ہوں۔
اتر پردیش کی ٹکٹ تقسیم میں بی جے پی کی یہ نئی پالیسی اس پر کم، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ پر زیادہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ سنگھ کی قومی قیادت کاتسلط، دبائو یا ان کی اخلاقی تعلیم کی بنیاد کمزور ہوگئی ہے یا وہ خود چاہتے ہیں کہ سنگھ انہیں طریقوں کا استعمال کرے اور بی جے پی کو انہیں طریقوں کا استعمال کرنے دے، جن کا استعمال دوسری سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں۔ اگر ایساہے تو یہ مایوسی کے سمندر میں ایک اور ندی کے ملنے کا نتیجہ مانا جائے گا۔ سنگھ نظریہ کی لڑائی لڑے، اس کا ہمیشہ استقبال ہونا چاہئے، لیکن سنگھ انہیں طریقوں کا استعمال کر کے صرف اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنائے ، جن کا استعمال باقی سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں تو یہ قابل استقبال ہرگز نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ سنگھ یا بی جے پی کی انتخابات میں امیدواروں کے اتارنے کی یہ پالیسی کتنی کامیاب ہوتی ہے اور یہ سنگھ یا بی جے پی کو انتخابات میں کتنی مدد کرتی ہے۔ گوا میں سنگھ میں شاید اسی لئے ایک بڑی ٹوٹ ہوئی ہے، کیونکہ سنگھ سے جو لوگ الگ ہوئے، انہیں سنبھالنے کی سنگھ کے سینئر عہدیداروں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ایسا کیوں ہوا، اس کا بھی پتہ نہیں چلا ہے،لیکن اگر سنگھ میں ہر ریاست میں ٹوٹ ہونے کا آغاز ہو جائے، تو یہ ماننا چاہئے کہ سنگھ کے اپنے نظریہ میں بھی اندرونی اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔ بھلے ہی اس کی وجہ نظریہ ہو یا وہ وسائل ہوں جن سے سمجھوتہ کرکے سنگھ اپنی ایک نئی تصویر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *