سماجوادی پارٹی کا اندرونی تنازع کس کی جیت، کس کی ہار؟

01سیاسی عزائم نے سماجی مریادا روند ڈالی۔ ملائم خاندان کا اقتدار نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک کے لئے جدید سیاسی تاریخ کا پہلا سیاہ سبق بن گیا ہے۔اقتدار کے ہوس نے چچا- بھتیجہ اور باپ – بیٹے کے رشتے کی ایسی تیسی کر دی جبکہ اقتدار پانے کے لئے ہی ملائم نے ریاست کی سیاست میں نسلی بنیاد رکھی تھی۔ سماجوادی کے نام پر پریوار واد کے قائم کرنے کے ذریعہ ہی پروفیسر رام گوپال یادو سے لے کر شیو پال یادو، اکھلیش یادو سے لے کر ڈمپل یادو، دھرمیندر یادو سے لے کر اکشے یادو، تیج پرتاپ یادو، آدتیہ یادو اور تمام رشتہ دار سیاست کے الگ الگ پائدان پر کھڑے ہوتے چلے گئے۔یہ کوشش آگے بھی جاری تھی۔ اپرنا یادو سے لے کر کئی دیگر ملائم خاندان کے افراد سیاست کے دروازے پر قطار باندھے کھڑے تھے، لیکن اس نسلی مہم میں اچانک رکاوٹ پڑ گئی۔
تمام حدیں توڑ دی گئیں
اتر پردیش کے بڑے سیاسی خاندان میں اقتدار کے ہوس نے تمام مریادائیں توڑ ڈالیں۔ جس رشتے سے سرشار ملائم نے سیاسی مریادائوں کو طاق پر رکھ کر بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا، اسی بیٹے نے رشتے کی مریادا طاق پر رکھ دی اور باپ کو ہٹا کر خود کو سماج وادی پارٹی کا سربراہ ہونے کا اعلان کر دیا اور اس طرح سے مغل دور کی تاریخ دوہرائی گئی۔ اب دونوں ایک ساتھ انتخاب لڑیں یا الگ الگ اور حساب و کتاب ساتھ ساتھ ہو یا الگ الگ ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ہندوستانی سماج نے باپ بیٹے کی لڑائی کے نصف آخر کو قبول نہیں کیا ہے۔سماج وادی پارٹی کے مصروف کارکنان اور پرانے سماج وادیوں کی آراء اچھے مستقبل کے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے اس تاریخی تکرار میں سیاسی، سماجی وخاندانی مریادا کے ساتھ ساتھ احسان مندی کے اثر ات بھی مٹی پلید ہو گئے۔ ملائم کی مہربانی سے اونچے عہدوں پر براجمان ہوتے رہے لوگوں نے بھی ایسے موقع پر ملائم کا ساتھ چھوڑ کر اپنی اخلاقی بلندی کا عوامی مظاہرہ کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔ان میں کرن مئے نندا، احمد حسن، نریش اگروال، کنور ریوتی رمن سنگھ، اودھیش پرساد ، دھرمیندر یادو جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ سیاسی موقع پرستی کے یہ تمام چہرے ملائم کے خلاف یکم جنوری 2017 کو منعقد باغیانہ اجلاس میں اسٹیج پر براجمان تھے۔ اقتدار کا لالچ انسان کو کیا کیا بنا دیتاہے۔
ادھر ’جیوسئے جیویو بھوجنم ‘ کی لازمیت کو بحال رکھتے ہوئے دیگر سیاسی پارٹیاں، سماج وادی پارٹی کے خاتمے کی تمنا اور اقتدار کا مزہ لینے کی خواہش ابھی سے کرنے لگی ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے تو مان ہی لیا کہ سماج وادی پارٹی کے اس تنازع کا فائدہ انہیں ملے گا۔ اختلاف سے پریشان مسلمانوں کا ووٹ انہیں حاصل ہوگا اور وہ دلت – مسلم اتحاد کے کندھے پر سوار ہوکر اقتدار تک پہنچ جائیںگی۔ بی جے پی الگ اقتدار کی لذت میں لگی ہوئی ہے اور 40سیٹوں سے سیدھے 300 پر پہنچنے کا خواب رچنے لگی ہے۔ کانگریس بھی اقتدار کا کچھ ٹکڑا پانے کی امید میں کبھی سماج وادی پارٹی سے ہاتھ ملانے تو کبھی بہو جن سماج پارٹی سے ملنے کی کوشش میں ادھر ادھر ڈول رہی ہے۔
عام لوگوں کی رائے زنی اور تجزیہ پر پتنگ بازی ہورہی ہے،لیکن وہ تجزیہ سماج وادی پارٹی تختہ پلٹ اجلاس کے کافی پہلے کیا گیا تھا جو بدلی ہوئی صورت حال میں متعلقہ نہیں رہا۔ اس تجزیہ کی بنیاد پر سماج وادی پارٹی کو پہلے پائدان پر، بی جے پی کو دوسرے اور بہو جن سماج پارٹی کو تیسرے درجے پر رکھا گیا ،لیکن اکھلیش یادو کے ذریعہ خود کو قومی صدر اعلان کرنے اور پارٹی دفتر پر جبراً قبضہ کرنے کے بعد ان کا گراف اچانک نیچے چلا گیا۔ شیو پال کے خلاف اکھلیش کے غصے پر عام لوگوں نے اکھلیش کے تئیں اپنی ہمدردی ظاہر کی تھی اور تب ان کا سیاسی گراف اوپر تھا، لیکن بعد کے عمل نے اکھلیش کی رفتار پر روک لگا دی۔ جب تک وہ اپنے اختیارات کے لئے لڑ رہے تھے، تب تک لوگ اکھلیش کے ساتھ تھے،لیکن جب اقتدار کے خواہش مند ایم ایل ایز کی جماعت لے کر انہوں نے اپنے والد ملائم کے وجود پر ہی حملہ کیا،تب لوگوں کویہ راس نہیں آیا۔ یہ تجزیہ کے بعد کی بات ہے۔ یادو طبقہ سے لے کر سماج کے دیگر طبقوں میں بھی والد کے خلاف بیٹے کی بغاوت ہضم نہیں ہو پائی ہے۔ خود سماج وادی پارٹی سے جڑے لوگ ہی اسے ہضم نہیں کرپارہے ہیں۔
سوشلسٹ اقدار اب ختم
سماج وادی پارٹی کی بغاوت کے دن، یعنی ایک جنوری 2017 کو جو بھیڑ رام گوپال کے بلائے گئے اجلاس میں جمع ہوئی تھی ،وہ سماج وادی پارٹی کے دفتر پر اکھلیش حامیوں کے ذریعہ کی گئی توڑ پھوڑ اور قبضہ بازی کی حرکتوں کی چشم دید گواہ تھی، اس میں سے زیادہ تر لوگوں نے کھلی رائے دی کہ یہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔ عام لوگ بھی سماج وادی پارٹی دفتر پر ہور ہے اس تاریخی حادثے کے چشم دید گواہ بنے تھے، جنہوں نے کھلے عام کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے جمہوریت کے اقدار کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔ بدلے ہوئے سیاسی پس منظر میں سماج وادی پارٹی کے دائمی ووٹر بھی پوری طرح تذبذب میں آگئے کہ وہ کدھر جائیں۔ بیٹے کی طرف یا باپ کی طرف؟ ووٹروں کا یہ خدشہ اسے سماج وادی پارٹی میں ووٹ ڈالنے سے روکے گا۔ اس کے صاف اشارے مل رہے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے ہی ایک سینئر لیڈر بولے کہ ڈاکٹر لوہیا نے کہا تھا کہ’’ سدھرو یا ٹوٹو‘‘۔ یہ سدھر نہیں سکتے تو ان کا ٹوٹ جانا ہی بہتر ہے۔ سماج وادی پارٹی دفتر کے احاطے میں ہی ایک کنارے کھڑے کچھ ادھیڑ ،کچھ بزرگ سماجوادی پارٹی کے لوگ ملائم کی قربانی اور پارٹی کھڑی کرنے میں ان کی خدمات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ بیٹا کی محبت میں نیتا جی کی فضیحت ہوگئی۔اس کے باوجود سماج وادی پارٹی کے یہ عام لوگ اکھلیش اور ان کے حامیوں کی ایسی کارروائی کو پھوہڑ اور افراتفری بتانے سے نہیں ہچک رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے باپ کے ساتھ اکھلیش کو ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔
کانگریس بھی فعال ہوگئی
اب سماج وادی پارٹی میں باپ اور بیٹے کے دو الگ الگ مواقف ہو چکے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو باضابطہ طور پر الیکشن کمیشن جاکر اپنا دعویٰ داخل کر چکے ہیں ۔اکھلیش یادو بھی تقریباً سوا دو سو ایم ایل ایز کے دستخط والے حلف نامے الیکشن کمیشن بھیج کر اپنے خیمے کو اصلی سماج وادی پارٹی بتا رہے ہیں۔ یعنی اب طے ہے کہ ملائم کی سماج وادی پارٹی اور اکھلیش کی سماج وادی پارٹی اسمبلی انتخابات میں الگ الگ اتریں گی۔ ملائم ماضی میں اعلان کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کریںگے۔ بدلی ہوئی صورت حال میں ان کے ساتھ کوئی پارٹی اتحاد کرنے کی پہل کرے گی یا نہیں، یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔لیکن اکھلیش خیمے اور کانگریس کے اتحاد کے امکانات بنے ہوئے ہیں۔ اکھلیش یادو کے لئے وزیر اعلیٰ کی دعویداری چھوڑ دینے کی کانگریس لیڈر شیلا دیکشت کی تجویز دونوں پارٹیوں کے درمیان تال میل کے امکانات کا حتمی اشارہ ہے۔
شیلا دیکشت کو کانگریس کی طرف سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں وزیر اعلیٰ عہدہ کی امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ شیلا دیکشت نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور یو پی کے موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ عہدہ کے لئے مجھ سے کہیں بہتر امیدوار ہیں اور میں اکھلیش کے لئے راستہ چھوڑ دینے میں خوشی محسوس کروں گی‘‘ آپ یاد کرتے چلیں کہ انتخاب کا اعلان ہونے کے فوراً بعد کانگریس نے فرقہ وارانہ طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے سماج وادی پارٹی کے ساتھ اپنے اتحاد کے متبادل کھلے رکھنے کے حتمی اشارے دیئے تھے۔ کانگریس نے صاف صاف کہا تھا کہ اتحاد پر فی الحال تو کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے،لیکن سیکولر نظریہ والی پارٹیوں کے ساتھ وہ ہاتھ ملانے کو تیار ہے۔ دلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت نے بھی کہا کہ کانگریس اور ان کی پارٹی کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو نتیجے اچھے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ’اگر اکھلیش کی انتخابی مہم کی قیادت کرنے کی بات صحیح ہے تو میرے لئے یہ مناسب ہوگا کہ میں دوڑ سے ہٹ جائوں۔وہ نوجوان اور تجربہ کار ہیں‘‘۔
ویسے کانگریس نے سماج وادی پارٹی (اکھلیش) کے ساتھ ساتھ بہو جن سماج پارٹی سے بھی تال میل کامتبادل کھول رکھا ہے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ جس پارٹی کے ساتھ سیٹوں کی حصہ داری پر بامعنی بات بن جائے گی، کانگریس اس پارٹی کے ساتھ تال میل کر لے گی۔ کانگریس کے اترپردیش انچارج جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد اسی پالیسی پر کام کررہے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی چیف مایاوتی کانگریس کی مانگ کے مطابق سیٹیں دینے پر راضی نہیں ہیں۔ ادھر اکھلیش یادو پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ کانگریس سے اگر انتخابی اتحاد ہو گیا تو اتحاد کو 300سیٹیں ملیں گی۔کانگریس سماج وادی پارٹی کے اکھلیش گروپ کے ساتھ جانے کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سماج وادی پارٹی کانگریس کے لئے سو سے زیادہ سیٹیں چھوڑ سکتی ہے، جبکہ مایاوتی اس کے لئے راضی نہیں ہیں۔
مسلم ووٹ پر دعویداری
جہاں تک ٹکٹ کے اعلان کی صورت حال کا سوال ہے تو سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اپنے اپنے امیدواوں کا اعلان کر چکی ہے۔ ملائم سنگھ یادو کی طرف سے سماج وادی پارٹی کے 403 امیدواروں کی لسٹ جاری ہو چکی ہے۔ بعد ازاں اکھلیش یادو نے بھی اپنے 235 امیدواروں کی لسٹ جاری کر دی تھی۔ لیکن سماج وادی پارٹی کے جھگڑے میں امیدواروں کی لسٹ بھی دو دھار میں پھنس گئی ہے۔ حالانکہ پروفیسر رام گوپال یادو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی (اکھلیش خیمہ) ہی اصلی ہے اور 403 سیٹوں پر اکھلیش ٹیم ہی انتخاب لڑے گی۔دوسری طرف بہو جن سماج پارٹی بھی 403 امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے۔ مایاوتی اور ملائم دونوں ہی مسلم ووٹوں پر اپنی اپنی دعویداری کررہے ہیں۔ مایاوتی نے آگے بڑھ کر 97مسلمانوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ دلت امیدواوں کی تعداد 87 ہی ہے۔ صاف ہے کہ دلتوں کی پارٹی بہو جن سماج پارٹی نے مسلمانوں کا ووٹ پانے کی امید میں اپنی ترجیحات کو طاق پر رکھ دیا ہے۔
کیا کرے گی بی جے پی ؟
امیدواروں کے انتخاب میں بی جے پی سب سے ڈھیلی ہے۔ بی جے پی ابھی ابھی ’’پریورتن یاترائوں‘‘یعنی تشہیری یاترائوں سے ابھری ہے۔ اب جاکر بی جے پی نے اپنی الیکشن کمیٹی تشکیل دی ہے، جو امیدواروں کا انتخاب کرے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنائے جانے کی بات کی جارہی تھی، انہیں الیکشن کمیٹی تک میں شامل نہیں کیا گیا۔ یعنی امیدواروں کے انتخاب میں یوگی آدتیہ ناتھ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ جس طرح کی الیکشن کمیٹی بنی ہے،اس سے امیدواروں کے انتخاب میں سر پھوڑ ہونا یقینی ہے۔ امیدواروں کے اعلان کئے جانے میں ہو رہی تاخیر اور وزیر اعلیٰ کا چہرہ طے نہیں ہونے کی وجہ سے بی جے پی پر تنقید پہلے سے ہورہی ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیٹی میں ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کے علاوہ سابق قومی صدر اور موجودہ مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ، اوما بھارتی اور کلراج مشر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔کانگریس چھوڑ کر آئی ڈاکٹر ریتا بہو گنا جوشی اور بہو جن سماج پارٹی سے آئے سوامی پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک بھی الیکشن کمیٹی کے ممبر بنائے گئے ہیں۔ مایاوتی پر متناع بیان دینے کی وجہ سے پارٹی سے معطل کئے گئے دیا شنکر سنگھ کی بیوی سواتی سنگھ بھی الیکشن کمیٹی میں ممبر نامزد ہوئی ہیں۔
چھوٹی پارٹیوں کا خوف
چودھری اجیت سنگھ کے’ راشٹریہ لوک دل‘ میں بھی امیدواروں کا انتخاب نہیں ہو پایا ہے،کیونکہ چودھری بھی اتحاد کے نئے نئے مواقع تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ انتخاب کے بعد کسی طرح ریاست کے اقتدار میں انہیں حصہ داری مل سکے۔ چودھری کبھی سماج وادی پارٹی اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو کوستے ہیں تو کبھی سماج وادی پارٹی سے اتحاد کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ’رالود‘ کا جنتا دل (یو) سے تال میل ہے، لیکن چودھری کو بھی پتہ ہے کہ اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ملنے والا ہے ۔ رالود کسی طرح اپنی 8 سیٹیں بڑھا پانے کی جدو جہد میں لگا ہوا ہے۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بڑے بڑے ا میدواروں کو ہرواتی بھی رہی ہیں۔
لہٰذا بڑی پارٹیاں بھی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتی ہیں۔ اتر پردیش میں ’راشٹریہ لوک دل ‘کے علاوہ’ پیس پارٹی‘،’ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین‘،’ عام آدمی پارٹی‘،’ شیو سینا ‘ اور ’ اپنا دل‘ سمیت کچھ دیگر چھوٹی پارٹیاں بھی اس انتخاب میں اپنا کردار نبھائیں گی۔ یہ پارٹیاں کچھ قد آورامیدواروں کی ناک میں دم بھی بھریں گی۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے لئے جنتا دل (یو) ، راشٹریہ جنتا دل ، راشڑ وادی کانگریس پارٹی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین بھی کافی عرصے سے سرگرم ہیں۔
بہار سے متصل اتر پردیش کے سرحدی علاقوں میں جنتا دل یو ، راشٹریہ جنتا دل اتحاد کسی بھی بڑی پارٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دوسری طرف اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین ووٹروں کواپنی طرف کھینچ کر بڑی سیکولر پارٹیوں کو پریشان کر سکتی ہے۔ اویسی خاص طور پر مایاوتی کے لئے بے حد چیلنج والی پارٹی کے لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان پارٹیوں کے علاوہ ترنمول کانگریس، لوک جن شکتی پارٹی، جنتا دل (سیکولر )، بھاریتہ کمیونسٹ پارٹی ( بھاکپا) اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (ماکپا ) جیسی پارٹیاں بھی اتر پردیش میں اپنی موجودگی درج کرانے کے لئے لگاتار سرگرم اور بے چین ہیں۔ ترنمول کانگریس کے پاس تو ایک ایم ایل اے پہلے سے ہے۔ بہار میں بھاری جیت سے حوصلہ پاکر جنتا دل (یو) نے دیوریا کے رام پور کارخانہ اسمبلی سیٹ سے جارحانہ تیور والے کسان لیڈر شیوا جی رائے سمیت اتر پردیش کی دیگر اسمبلی سیٹوں سے بھی اپنا امیدوار اتارنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جنتا دل (یو) صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اتر پردیش میںخوب سرگرم ہیں۔
ایسی حالت میں تمام بڑی پارٹیاں چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ تامل میل کر کے چلنا چاہتی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان پارٹیوں نے ان کو کس حد تک نقصان پہنچایا تھا۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں پیس پارٹی نے 4، قومی ایکتا دل نے 2 اور راشٹر وادی کانگریس، اپنا دل، اتحاد المسلمین اور ترنمول کانگریس نے ایک ایک سیٹیں جیتی تھیں۔ ان چھوٹی پارٹیوں نے سیٹیں چاہے جتنی بھی جیتی ہوں ،لیکن انہوں نے کئی سیاسی اتحاد کوگڈ مڈ کرکے رکھ دیا تھا۔
چھوٹی پارٹیوں کی وجہ سے ہی تقریباً دو درجن سیٹوں پر سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی ، بی جے پی اور کانگریس کے امیدوار ایک ہزار یااس سے بھی کم ووٹ سے انتخاب ہار گئے تھے۔ اس انتخاب میں رالود 9 سیٹوں پر دوسرے مقام پر ، 14پر تیسرے مقام اور5 سیٹوں پر چوتھے مقام پر رہا تھا۔ پیس پارٹی 3 سیٹوں پر دوسرے مقام پر،8 سیٹوں پر تیسرے اور 24 سیٹوں پر چوتھے مقام پر رہی تھی۔ اس کے علاوہ قومی ایکتا دل نے ایک سیٹ پر دوسرا مقام، چار سیٹوں پر تیسرا اور ایک سیٹ پر چوتھا مقام حاصل کرکے کئی بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کی جیت میں رکاوٹ ڈال دی تھی۔ 2012 کے انتخاب میں اپنا دل نے 76 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔ اپنا دل کا صرف ایک ہی امیدوار جیتا، لیکن اپنا دل دو سیٹوں پر دوسرے ، سات سیٹوں پر تیسرے اور سات سیٹوں پر چوتھے مقام پر رہی۔ اسی طرح کئی دیگر چھوٹی پارٹیوں نے بھی بڑے پیمانے پر بڑی پارٹیوں کے ووٹ کاٹے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بڑی پارٹی ان چھوٹی پارٹیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔
مسلم ووٹروں کو الجھاتی ہیں سیاسی پارٹیاں
سپریم کورٹ کی رائے جو بھی ہو ،لیکن ذات اور مذہب کو سینٹر میں رکھ کر سیاست ہوگی اور اسے کوئی نہیں روک پائے گا۔ بہو جن سماج پارٹی نے جس طرح ٹکٹ بانٹے، سماج وادی پارٹی نے جس طرح ٹکٹ بانٹے اور قومی ایکتا دل کا انضمام کرانے کے لئے اکھلیش یادو تک کو طاق پر رکھ دیا، اس سے یہی ظاہر ہوا کہ ذات و مذہب کی سیاست کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے خاص طور پر مسلمانوں کو محض ووٹوں کی گنتی بنا ڈالا ہے۔ اس کے لئے مسلمان بھی قصوروار ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار کا انتخابی کھیل بھی مسلمانوں کو ہی دائوں پر رکھ کر کھیلا جارہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے جھگڑے اور رگڑے ہوتے رہے ، لیکن اس سے یہ قیاس کیوں لگنے لگتا ہے کہ مسلمان کدھر جائے گا؟ سیاسی پارٹیوں کے لئے اٹھائے جانے والے ایسے سوالوں کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کیوں نہیں ہوتی؟یہ غور کرنے کی بات ہے۔ اس بار بھی وہی سوال اٹھ رہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے جھگڑے میں مسلمان کدھر جائے گا ؟
ملک میں تقریبا ً تمام سیاسی پارٹیاں اور خاص طور پر مقامی پارٹیوں کے لئے ہی خاص ہو گئی ہیں جبکہ اتر پردیش میں مسلمان فیصلہ کن کردار میں ہیں۔ لیکن اسے ایسے سوالوں میں پھنسا کر رکھا جاتاہے۔یہ بھی سیاست کا ہی ایک حصہ ہے۔
اتر پردیش میں مسلم آبادی
اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 19فیصد سے زیادہ ہے۔ تقریباً 140 اسمبلی سیٹوں پر 10سے 20 فیصد تک مسلم آبادی ہے۔ 70 سیٹوں پر 20سے 30 فیصد اور 73 سیٹوں پر 30فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے۔ 140سیٹوں پر مسلم سیدھے طور پر اثر ڈالتے ہیں۔زیادہ ٹکٹ دیئے جانے کی وجہ سے بہو جن سماج پارٹی اور زیادہ توجہ دیئے جانے کی وجہ سے اے آئی ایم آئی ایم جیسی پارٹیاں مسلمانوں کا دھیان اپنی طرف زیادہ کھینچ رہی ہیں۔
بابری مسجد انہدام کے بعد سے اتر پردیش میں سب سے زیادہ مسلم ووٹ ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کو ملے۔یہاں تک کہ ملائم کو ملا ملائم تک کہا جانے لگا۔ لیکن سماج وادی پارٹی کے حالیہ خاندانی جھگڑے کی وجہ سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ مسلمان سماج وادی پارٹی سے بدک کر بہو جن سماج پارٹی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ سروے کا ایک ادارہ’’ سی ایس ڈی ایس ‘‘کے اعدادو شمار دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ سماج وادی پارٹی کو ملنے والے مسلم ووٹوں کے اوسط کا گراف 2002 کے بعد سے ہی نیچے جارہا ہے۔ 2002 کے سمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 54فیصد مسلم ووٹ ملے تھے جو 2007 کے اسمبلی انتخابات میں کم ہوکر 45 فیصد رہ گیا اور 2012 کے انتخابات میں 39 فیصد آگیا جبکہ سماج وادی پارٹی کو 2012 میں سب سے بڑی جیت حاصل ہوئی۔لہٰذا خاندانی اختلاف کی وجہ سے اچانک مسلمانوں کا ملائم پیار کم ہوجانے کا اندازہ صحیح نہیں ہے۔
ریاست کے مسلمانوں کی آراء
مسلم طبقے کے کچھ لوگوں کا کہناہے کہ کسی پارٹی کے تئیں وفادار ووٹر محض اس لئے نہیں بھاگ کھڑے ہوتے کہ پارٹی کے اندر تنازع ہے۔ الگ الگ قسم کے اختلاف اور اندرونی جھگڑے تو ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔ الٰہ آباد کے ڈاکٹر نور عالم کہتے ہیں کہ مسلمان سماج وادی پارٹی سے الگ نہیںہو سکتے ۔حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جتنا کام ہونا چاہئے تھا، اتنا نہیں ہوا، لیکن پھر بھی مسلمان اکھلیش یادو یا ملائم سنگھ سے ناراض نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شیو پال نے بھی بہت لڑائی کی ہے، ان سے بھی لوگوں کوہمدردی ہے۔ پارٹی کے ٹوٹنے کی حالت میں ووٹوں کا دونوں طرف بکھرائو ہوسکتاہے۔
لکھنو کے فرقان احمد کا کہناہے کہ مسلمان ملائم کے ساتھ ہی رہیں گے۔ ان کے سامنے کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ سابق ایم ایل اے شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے نیتا جی نے بہت کچھ کیا ہے۔ اس لئے مسلمان نیتا جی کے ساتھ کھڑے ہیں، ان میں کوئی بکھرائو نہیں ہے۔ کنوج کے حاجی ضرار خاں کا کہنا ہے کہ مسلمان اکھلیش کے ساتھ ہیں۔ پارٹی اگر تقسیم ہوئی تو مسلمان اکھلیش کے ساتھ چلے جائیںگے۔اکھلیش نے مسلمانوں کو جو سہولتیں دی ہیں ،اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
میرٹھ کے گل شیر ملک کہتے ہیں کہ مسلمان تو اکھلیش کی ہی طرف ہیں۔ قبرستان کی چہاردیواری بنانے کا مسئلہ ہو یا کوئی دیگر معاملہ، اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے بہت کام کیا ہے ۔ پارٹی میں ٹوٹ ہوئی تو 80 فیصد مسلمان اکھلیش کی ہی طرف جائیںگے۔ بلیا کے پرویز روشن کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کام نہیں کیا، وہ ٹھیک جانکاری نہیں رکھتے۔اکھلیش نے مسلمانوںکے لئے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ملائم کی اصلی وراثت ہیں اکھلیش، اس لئے مسلمان ان سے الگ نہیں ہوسکتے۔
پروانچل کے محسن خاں کہتے ہیں کہ اگر ٹکٹ کی تقسیم اورامیدواروں کا انتخاب غیر جانبدار طریقے سے ہوا تو اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں سماج وادی پارٹی کو ہی اکثریت ملے گی۔ محسن خان سماجوادی پارٹی کے وہ لیڈر ہیں جنہیں سماج وادی پارٹی کے تناع کا خمیازہ بھگتنا پڑاہے۔ اس کے باجوود وہ بہو جن سماج پارٹی کے دعوے کو پوری طرح ٹھکرا دیتے ہیں۔گورکھپور کے ضلع صدر محسن خان اور گونڈہ کے ضلع صدر محمد محفوط خان کو ہٹا دیا گیا تھا،لیکن ان کی سماج وادی پارٹی کے تئیں وفاداری قائم ہے۔ محمد محسن خان اسٹیٹ گیسٹ ہائوس کانڈ میں ملزم بنائے گئے تھے اور جیل بھی گئے تھے۔ وہ مقدمہ آج بھی چل رہا ہے۔
مسلم دانشور ڈاکٹر محمد شرف عالم کہتے ہیں کہ سیاسی متبادل کی گھبراہٹ دیگر مذہب کے ووٹروں کی اجارہ داری نہیں ہوتی ہے۔مسلم ووٹروں میں بھی متبادل کی تلاش اور بے چینی ہو سکتی ہے اور یہ لمبے وقت تک چلنے والا عمل ہے۔ اس کا کسی خاص سیاسی پارٹی اور کسی خاص لیڈر سے مطلب نہیں نکالاجانا چاہئے۔ 2007اور 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو بالترتیب17فیصد اور 20فیصد مسلم ووٹ ملے اور 2012 کے ہی انتخاب میں کانگریس کو 18 فیصد مسلم ووٹ ملے، اس سے تویہی اظہار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عالم کے خیال کے برعکس ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ چھوٹی موٹی اور دلچسپ ترجیحات کی وجہ سے مسلم ووٹ بھی ویسے ہی تقسیم ہوتا رہا ہے جیسے دیگر ذات اور دھرم کے ووٹروں کے ووٹ تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ اس میں متبادل کی تلاش کم، موقع پرستی کی تلاش زیادہ بڑی وجہ ہوتی ہے۔ حیدر آباد کے مسلم لیڈاسد الدین اویسی کے ذریعہ یا پیس پارٹی یا قومی ایکتا دل جیسی پارٹیوں کے ذریعہ مسلمانوں کا ووٹ کاٹ لینا آخر کیا ہے؟ اب چھوٹی چھوٹی مسلم تنظیموں کو ملا کر بنے اتحاد فرنٹ کا کردار کیا ہوگا؟ اسے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔ ایک طرف بہو جن سماج پارٹی دلتوں اور مسلمانوں کا مشترکہ اتحاد بنانے کی قواعد کررہی ہے تو دوسری طرف اویسی کی پالیسی بھی دلت اور مسلم گٹھ جوڑ پر مرکوز ہے ۔اویسی اپنے سبھی اجلاس میں مسلمانوں اور دلتوں کے اتحاد پر زور دیتے ہیں۔ اویسی سے بڑی پارٹی اتنی خوفزدہ رہتی ہیں کہ سماج وادی پارٹی نے اتر پردیش میں اس کے کئی اجلاس نہیں ہونے دیئے۔ اتر پردیش میں 30فیصد تک ووٹ پانے والی پارٹی سرکار بنانے کی حالت میں آسکتی ہے۔ اسی لئے مایاوتی دلتوں اورمسلمانوں کو ملاکر 39 فیصد ووٹ پانے اور اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔
سیاسی ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر سماج وادی پارٹی کے اکھلیش گروپ کا اتحاد کانگریس سے ہو جائے تو مسلم ووٹ بینک ان کے ساتھ چلا جائے گا۔بی جے پی کے ساتھ مل کر دو دو بار سرکار بنانے والی مایاوتی کے تئیںمسلم طبقہ کا شبہ بنا رہتا ہے۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد مسلمانوں کو بی جے پی کا راستہ روکنے کے تئیں اکسا سکتا ہے۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 403 میں سے 253 اسمبلی حلقوں میں 40 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ 94 اسمبلی حلقوں میں اسے 50فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ لہٰذا ووٹوں کا بدلتا فیصد انتخابی اندازوں کو ادھر ادھر بھی کر سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *