خانہ جنگی میں جل رہا ہے گیمبیا

dami00گیمبیا مغربی افریقہ میں واقع ایک ملک ہے۔ اپنے رقبہ کے لحاظ سے سرزمین افریقہ پر سب سے چھوٹا ملک ہے۔ اس کے گرد سینیگال واقع ہے جب کہ یہ خود دریائے گمبیا کے گرد واقع ہے۔ اس ملک کو 11 دسمبر، 2015 کو گیمبیا کے صدر یحیی جامع نے اسے اسلامی جمہوریہ قرار دیا ہے۔اس وقت ملک میں ان سخت مخالفت ہورہی ہے۔دراصل گزشتہ ماہ جو الیکشن ہوا تھا ،اس میں ان کی شکست ہوگئی تھی۔وہ اپنی شکست تسلیم نہیں کررہے ہیں اور صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ان کے اس عمل کی وجہ سے ملک میں کشمکش کا ماحول بنا ہوا ہے۔ پارلیمانی ارکان ان کی مدت کار میں توسیع چاہتے ہیں جبکہ یوروپین یونین انہیں برخاست کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے فوجی کارروائی تک کرنے کے موڈ میں ہے۔انہیں 22 جنوری تک عہدہ چھورنے کی مہلت دی گئی تھی ۔
صدر یحییٰ جامع نے اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے مقرر کردہ دن سے صرف 2 روز قبل ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ جامع نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں ہنگامی حالت کے جواز میں کہا کہ دسمبر میں منعقدہ انتخابات میںغیرملکی مداخلت کی وجہ سے خوف ناک حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن رہنما اداما بارو کامیاب ہوئے تھے لیکن یحییٰ جامع نے قومی ٹیلی ویژن پر انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی مغربی افریقی ممالک کے لیڈروں کی ثالثی کو بھی مسترد کردیا۔ مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی کمیونٹی کی سربراہ اور لیبیا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے کمیونٹی کی میٹنگ میں مسٹر جامع سے استعفیٰ دینے کی درخواست کی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ جامع گزشتہ 22 برس سے گیمبیا میں حکومت کر رہے تھے ۔ جامع پر میڈیا، انسانی حقوق کارکنوں، اپوزیشن اور ہم جنس پرستی کو کچلنے کے الزام لگتے رہے ہیں لیکن جامع نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا تھا جس کی اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت کئی افریقی ممالک نے مذمت کی تھی۔
مغربی افریقہ کے ممالک نے گیمبیا کے صدر یحییٰ جامع کو اقتدار سے الگ ہونے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں فوجی مداخلت کی جائے گی۔اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مغربی افریقہ کے علاقائی اتحاد نے یحییٰ جامع کو اقتدار چھوڑنے کی مہلت دیتے ہوئے ملک میں داخل ہونے والے سینیگال کے فوجی کو اپنی پیش قدمی روکنے کا کہا ہے۔
مغربی افریقہ کے ممالک گیمبیا کے الیکشن میں جیت حاصل کرنے والے صدر آداما بارو کی حمایت کر رہے ہیں۔علاقائی اتحاد ایکواس کے ترجمان مارسل الین ڈی سوزا نے کہا ہے کہ معاملات کے حل کے لیے گنی کے صدر الفا کندہ کی سربراہی میں آخری کوشش کی جائے گی اور اگر یہ کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو اس صورت میں فوجی کارروائی اگلا قدم ہو گا۔اگر یحییٰ جامع اقتدار سے الگ نہیں ہوتے ہیں تو اس صورت میں حتمی طور پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔اس سے پہلے سینیگال کی فوج کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ ان کے فوجی گیمبیا میں داخل ہو گئے ہیں جس کا مقصد حالیہ صدارتی انتخابات کے فاتح آداما بارو کو ملک کے نئے صدر کی حیثیت سے اقتدار کی منتقلی کویقینی بنانا ہے۔
اس سے تھوڑی ہی دیر قبل بارو نے سینیگال میں واقع گیمبیا کے سفارت خانے میں عہدہ صدارت کا حلف اٹھایا تھا۔ تقریبِ حلف برداری کے دوران انھوں نے گیمبیا کی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیرکوں ہیں میں رہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ جن فوجیوں کے پاس ہتھیار پائے گئے، انھیں باغی تصور کیا جائے گا۔اس تقریب میں مغربی ملکوں کے سْفرا، مغربی افریقہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی اور علاقائی معاشی تنظیم ایوکواس نے تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ اس دوران سینکڑوں گیمبیائی باشندے عمارت کے باہر موجود تھے۔
ایک طرف آدامابارو عہدہ صدارت کا حلف لے رہے تھے اور اسی دوران گیمبیا کی پارلیمان نے دو تہائی اکثریت سے یحییٰ جامع کی مدتِ صدارت میں تین ماہ کی توسیع کر دی۔ بعض ماہرین کے مطابق ان کے پاس اب بھی ملک کا صدر کہلوائے جانے کا قانونی جواز موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
آداما بارو کو بین الاقوامی طور پر گیمبیا کی صدارت کا مستحق سمجھا جا رہا ہے لیکن گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامع اس انتخاب کو قطعی غلط قرار دے کر اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کررہے ہیں ۔کیونکہ انھیں پارلیمان کی حمایت حاصل ہے۔مگر مغربی افریقی ممالک دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ جامع کو زبردستی معزول کر دیں گے۔
صدر جامع 1994 میں ہونے والی بغاوت کے بعد سے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق نائجیریا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ جاسوسی کرنے کے لیے مسلح فضائیہ گیمبیا کی فضاؤں میں ہے اور ان کے پاس حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر جامع سے عہدہ صدارت نہیں چھوڑا تو طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔مغربی افریقی فوجی طاقتوں نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ گیمبیا میںِ اقتدار کی منتقلی کے لیے تیار ہیں۔
دوسری طرف سینیگال میں گیمبیا کی کل فوج صرف ڈھائی ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہے اس لیے یہ تصور کرنا محال ہے کہ وہ سینیگال کا مقابلہ کر سکے۔بہر کیف اس وقت گیمبیا کی صورت حال انتہائی نازک ہے اور ملک بڑی تیزی کے ساتھ خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر ایسا ہواتو پہلے سے ہی معاشی اعتبار سے کمزور اس ملک میں فاقہ کشی کی صورت حال مزید بڑھ جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *