حریت کشمیر کے غصے کی نمائندگی کررہی ہے

damiکشمیر میں گزشتہ پانچ مہینے سے جاری ہڑتال کی مثال شاید ہی تاریخ میں کہیں ملے۔اس ہڑتال کی وجہ سے پبلک اور پرائیویٹ انٹر پرائزیز ، ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے، پرائمری کلاس سے لے کر یونیورسٹی تک سب بند ہیں۔پوری زندگی بے ترتیب ہوگئی ہے۔ حالانکہ لگ بھگ ایک مہینے سے یہاں پتھر بازی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن مرکزی وزیر منوہر پاریکر اور کرن رجیجو اسے نوٹ بندی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے حوالہ کا پیسہ نہیں آرہا ہے، اس لئے پتھر بازی بند ہو گئی ہے۔ یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ حریت کی لیڈرشپ اور دوسرے لوگوں نے بھی پتھر بازی بند کرنے کی بات کہی تھی۔ ان دونوں وزیروں کو کشمیر کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ بھی ہڑتال کو لے کر اندر سے خوش نہیں ہیں۔ حریت کے تینوں لیڈروں ، گیلانی صاحب،میر واعظ اور یاسین ملک نے ایک بیان دیا کہ ’ہمیں فکر ہے، لوگوں کو کافی تکلیف ہو رہی ہے، لیکن ہماری مزاحمت کی تحریک جاری رہنی چاہئے‘۔لیکن میرا اندازہ ہے کہ شاید یہ ہڑتال ختم ہو جائے۔کیونکہ حریت بھی سوچے گی کہ یہ ہڑتال لمبی چلی ہے اور اس وجہ سے کشمیر کے لوگوں کو کافی تکلیف پہنچی ہے،لیکن کشمیر کی لڑائی جاری رہے گی۔ لیکن اس کی کیا شکل ہوگی؟کیا یہ جمہوری طریقے سے ہوگی؟اگر مودی جی کا خیال ہے کہ وہ ڈیولپمنٹ کا نام لے کر مسئلے کا حل کر لیں گے تو یہ ان کا غلط نظریہ ہے۔کشمیر کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ سمجھ کر حل کرنا پڑے گا۔یہ ہندوستان کی مجبوری ہے کہ پاکستان اس تنازع میں شامل ہے۔جو لوگ آنکھ بند کرکے کہتے ہیں کہ پاکستان کا اس میں کیا حق ہے؟ان کو نہ تو کشمیر کی تاریخ کا علم ہے اور نہ ہی اس تنازع کی جانکاری ۔ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس تنازع کو ہندوستان ہی اقوام متحدہ میں لے گیا تھا۔ اس تنازع میں تین فریق ہیں، کشمیر کے لوگ، ہندوستان اور پاکستان۔ہندوستان عالمی برادری کو یہ بتانے میں کامیاب رہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کی وجہ سے اور وہاں کے کچھ نان اسٹیٹ ایکٹرس کی وجہ سے ہندوستان کو تکلیف ہے۔
کشمیر (میں کشمیر کہتا ہوں ،جموں اور لداخ کانام جان بوجھ کر نہیں لیتا )، مسلم اکثریت والی ریاست ہے۔ جب 1947 میں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق ہوا، اس وقت یہاں 98 فیصد مسلمان تھے۔ کشمیر کے لوگوں نے جان بوجھ کر ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا۔ پاکستان نے قبائلی لوگوں کو یہاں بھیج کر یلغار کی تھی۔ شیخ عبد اللہ سوچ ہی رہے تھے کہ ہوسکتاہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی بات کرنی پڑے، اس سے پہلے ہی 22-20 اکتوبر کو یلغار کر دی۔ اس سے اور کھٹاس پیدا ہو گئی۔ یہاں کے لوگ شیخ عبد اللہ کے ساتھ رہے۔ انہوں نے سیکولر ہندوستان کے ساتھ ایک شرطیہ الحاق کیا۔ شرطیں تو پہلے مہاراجہ ہری سنگھ نے رکھی تھیں، کیونکہ انہوں نے شکایت کی (الحاق کے دستاویز میں یہ ہے) کہ میں نے اسٹینڈ اسٹیل اگریمنٹ کیا تھا۔ اسے ہندوستان و پاکستان دونوں نے مان بھی لیا تھا۔ میں آزاد رہنا چاہتا تھا، اسی لئے یہ اگریمنٹ کیا تھا ۔بہر حال اب پاکستان نے چڑھائی کی ہے، فوج کی مدد دے دو۔ انہوں نے اس میں یہ بھی لکھا کہ مواصلات ، دفاع اور خارجہ معاملے آپ فی الحال لے لیجئے اور فوج بھیج دیجئے۔ شیخ صاحب نے ان کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اخلاقی حمایت میں سب سے بڑی کامیابی شیخ صاحب کی ہوئی تھی۔ (ان کی اپنی پارٹی بھی نہیں جانتی ہوگی یہ )۔جب دہلی میں انہوں نے لارڈ مائونٹ بٹین کے سامنے نہرو کو کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے جو کیا ہے، یہ ٹھیک ہے۔لیکن جب مائونٹ بٹین نے قبول کیا تو مہاراجہ کو خط لکھا کہ ہم ریفرنڈم کریںگے۔ شیخ صاحب نے پہلی فرصت میں جواہر لال نہرو کو مدعو کیا کہ آپ میرے لوگوں کے سامنے یہ کہئے ۔ 13 نومبر کو جواہر لال نہرو یہاں آئے اور یہاں سے بارہ مولا گئے۔ واپسی میں لال چوک میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ نہرو کرسی کے بجائے ٹیبل پر چڑھ گئے۔ ان کے ساتھ اندرا گاندھی اور رفیع احمد قدوائی بھی تھے۔ وہاں نہرو نے کہا کہ ریفرنڈم ہوگا اور اگر کشمیر کے لوگ (یہ تحریر میں ہے ) ہمارے خلاف بھی ووٹ دے دیں گے تو ہم قبول کریں گے۔ پھر دھیرے دھیرے نہرو نے ریفرنڈم سے انکار کیا۔ اس کے عالمی وجوہات ہیں۔ لیکن اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
شیخ عبداللہ نے سوچ سمجھ کر کانسٹی ٹیواینٹ اسمبلی کو بتا دیا تھا کہ بیسک پرنسپل کمیٹی نے کہا تھا کہ آزادی ناممکن ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ نہیں جاسکتے، کیونکہ پاکستان کی بنیاد و قومی نظریہ پر ہے۔ دو قومی نظریہ کو شیخ صاحب نے جوانی کے دنوں میں ہی محمد علی جناح کے سامنے خارج کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جموں کے ہندو بھی ہیں، لداخ کے بودھ بھی ہیں، ہمارا متحدہ پلیٹ فارم ہے اور میری پارٹی نیشنل کانفرنس ہے۔ ہم ان دو قومی نظریہ کو قبول نہیں کرسکتے۔ شیخ صاحب نے ایک بڑی عقلمندی کی۔ انہوں نے سوچا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے تین سبجیکٹ یعنی خارجہ امور، دفاع اور مواصلات سے تھوڑے مسائل ہوںگے ، لیکن اصل بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا دائرہ ہونا چاہئے، الیکشن کمیشن کا دائرہ ہونا چاہئے۔ اس لئے کانسٹی ٹیو اینٹ اسمبلی میں نیشنل کانفرنس سے کہا کہ ہم دلی سے یہ اگریمنٹ کرنے والے ہیں کہ ان چار سبجکٹس کے علاوہ سپریم کوٹ، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور نیشنل فلیگ کے ساتھ ہمارا جھنڈا بھی ساتھ رہے اور ہمارا کانسٹی ٹیوشن رہے۔ کشمیر کی اندرونی خود مختاری کو کامیابی کی شکل میں پیش کیا۔ جب یہ مسودہ منظور ہوا، تو سبھی ممبر نعرے لگاتے ہوئے شیخ صاحب کے گھر تک گئے،لیکن جواہر لال نہرو نے جو لوک سبھا میں تقریر کی، اس میں لفاظی تھی اور لوک سبھا کے ریکارڈ میں اگریمنٹ کو نہیں رکھا گیا۔ یہ بات میرے علاوہ ہندوستان میں کوئی نہیں بتائے گا، صرف میرے پاس اس کی اتھانٹک کاپی ہے۔ پارلیمنٹ حیران ہو گیا جب 1995 میں میں نے اس کی کاپی مانگی تو ۔ شیخ صاحب کھلے دل کے تھے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ یہی مجھ سے ہو سکا۔ لہٰذا دلی کی مہربانی سے اٹانومی کو کم کرتے رہے۔ اس میں جواہر لال نہرو کی نیت خراب نہیں تھی۔لیکن ہندو مہا سبھا اور چھوٹے دماغ کے لوگوں نے ہندوستان کو بھی پریشانی میں ڈال دیا اور پاکستان کو بھی پریشانی میں ڈال دیا۔ کشمیر کے لوگوں کو تو مصیبت ہے ہی۔ جس زمانے میں شیخ صاحب کو شاباسی دینی چاہئے تھی، اس زمانے میں شیاما پرساد مکھرجی ، بلراج مدھوک اور کشمیر میں پرجا پریشد نے ان کو دشمن کی طرح پیش کیا۔ یہاں تک کہ سابق آئی بی چیف آئی بی ملک نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سردار پٹیل نے ان سے کہا کہ شیخ عبد اللہ ہندو دشمن ہیں اور نہرو کو انہیں لے کر بھرم ہے۔
آزادی کی تحریک کشمیریوں نے الگ سے لڑی تھی۔ یہاں کانگریس پارٹی نہیں تھی۔ نیشنل کانفرنس نے ڈوگرا سرکار کے خلاف لڑائی لڑی۔ لگ بھگ چار سو برسوں کی غلامی کی زندگی میں کشمیریوں نے ڈوگرا کے خلاف، مغلوں کے خلاف، پٹھانوں کے خلاف، سکھوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔ اس بات کا ذکر مولانا سعید نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جواہر لال نہرو کی نیت خراب نہیں تھی لیکن وہ شکست کھا گئے تھے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہران پر ہندو فرقہ واریت کا دبائو تھا، لہٰذا انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کہا کہ یہ ایک عارضی کلائوز ہے اور آرٹیکل 370 کو بعد میں ختم کر دیا جائے گا۔ پھر اس لڑائی میں ایک ایسی منزل آئی جب جواہر لال نہرو کی منشا کے مطابق شیخ صاحب کو گرفتار کرکے ان کی سرکار کو برخاست کر دیا گیا۔اگر بخشی غلام محمد صاحب نے شیخ صاحب کا ساتھ دیا ہوتا، تو شاید مرکزی سرکار کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ شیخ صاحب نے الحاق کو جو اخلاقی حمایت دی تھی، وہ عارضی تھی ریفرنڈم کے ساتھ ۔ لیکن نہرو کی نیت بدل گئی۔ بھلے بی جے پی مانے یا نہ مانے لیکن سچ تو یہی ہے کہ نہرو کے ٹکر کا ہندوستان میں کوئی لیڈر نہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ وہ ماڈرن ، صاف ستھرے اور سیکولر بھارت کی تعمیر کررہے تھے،لیکن چھوٹے دماغ کے لوگوں نے نہرو کی راہ میں مشکلیں پیدا کر دیں اور اسی لئے نہرو کشمیر کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے اور لمبے عرصے کے لئے شیخ صاحب کو جیل جانا پڑا اور اپنے لوگوں نے ان کے ساتھ غداری کی۔
میں شاید پہلا شخص ہوں ، جس نے دہلی کو انکار کیا کہ میں فاروق صاحب کے خلاف کھڑا نہیں رہ سکتا۔ ورنہ یہی دیکھا کہ شیخ صاحب تھے تو بیگ صاحب کو، بخشی صاحب کو ڈورے ڈالتے رہے۔ پھر بخشی صاحب آئے تو دوسرے لوگوں کو ڈورے ڈالے۔ پھر صادق صاحب آگئے تو صادق صاحب کو بھی ڈورے ڈالتے رہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دہلی کامیاب ہو گیا۔ میں نے فاروق عبد اللہ اور نیشنل کانفرنس کی مکمل حمایت کی ۔ایک بار ارون نہرو نے مجھ سے کہا کہ آپ کا کوئی انٹریسٹ ہے، تو ہم اس میں کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم نے کہہ د یا کہ میرا کوئی انٹریسٹ نہیں ہے ۔فاروق عبد اللہ کے ساتھ آپ کے جو بھی اختلاف ہیں، انہیں دور کیجئے۔ بی جے پی ایک فرقہ پرست پارٹی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ جانے کے لئے فاروق عبدا للہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ نے 100 بار معافی مانگی اور کہا کہ یہ پارٹی خراب ہے۔ حالانکہ فاروق عبدا للہ کہتے رہے کہ انہوں نے ایسا پارٹی کے لئے کیا، لیکن پارٹی کے لئے نہیں بلکہ عمر صاحب کی اکاموڈیشن کے لئے کیا۔ اڈوانی جی نے تو یہ اپنی کتاب میں بھی لکھا۔
دراصل شیخ صاحب کے ساتھ کافی غلط برتائو کیا گیا اور اس وجہ سے ہندوستان کو کافی نقصان پہنچا۔ 9اگست 1953 کو لے کر سعید ملک، جو بڑے صحافی ہیں ،نے ایک مضمون لکھا ’دی ڈے انڈیا لوسٹ کشمیر‘ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ تو نظریاتی طور سے مفتی صاحب کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ کیسے لکھا؟انہوں نے کہا کہ بہت لکھا میں نے اور پڑھا بھی۔میرے ذہن نے آواز دی کہ آخر کشمیر کو کیا ہو گیا ہے۔9اگست 1953 کے بارے میں آج کے بچوں نے اپنے باپ اور دادا سے سنا ہوگا کہ شیخ عبد اللہ کو ڈسمس کیا گیا ۔یہ بات یہاںکے لوگوں کی ذہنیت میں رچی بسی ہے۔ بعد میں 1975 میں شیخ صاحب چھوٹی کرسی (وزیر اعلیٰ ) پر بیٹھے۔اس وجہ سے لوگ ناراض ہو گئے۔ شیخ عبد اللہ کی جب وفات ہوئی تو وہ ایک مقبول لیڈر نہیں تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو 1975 میں وزیر اعلیٰ نہیں بننا چاہئے تھا۔ ان کے پرنسپل سکریٹری غلام احمد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شیخ صاحب کو ان کی فیملی نے، دوستوں نے اور خود دلی نے مجبور کیا اور 75 19کا سمجھوتہ ہو گیا۔ وہ سمجھوتہ کشمیریوں کو منظور نہیں تھا اور اس کے بعد تو مرکز نے کافی غلطیاں کی۔ جس قوم کی ذہنیت کو زخم لگتا ہے ، اس کے لئے سڑکیں بنانا، بجلی کے کھمبے لگانا کوئی معنی نہیںرکھتا۔ کیا مودی کشمیر میںبخشی غلام محمد سے زیادہ ڈیولپمنٹ کے کام کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ شیخ صاحب اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ بخشی ایک عظیم معمار تھے،اسٹیٹ کی بات کرتے تھے،لیکن بخشی صاحب کی موت ہو گئی تو ان کو قبر کے لئے زمیں نہیں مل رہی تھی۔ خود بخشی خاندان کے لوگ جنازے سے ہٹ گئے تھے،لیکن عام لوگوں میں سے کچھ نے ان کے کام کو یاد کیا اور بڑی منتوں کے بعد ان کو دفن کیا گیا۔ تو بخشی کو استعمال کیا گیا اور بعد میں انہیں ناقابل یقین کیا گیا۔دراصل صادق صاحب نے اور بخشی صاحب نے دلی اگریمنٹ کو کمزور کرنے، اٹانومی کو چھیننے میں مدد کی۔
آج میں کہتا ہوں کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ اس وقت تک الحاق نہیں ہو سکتا،جب تک خود مختاری بحال نہیں ہوتی ۔کشمیر کبھی پاکستان کے ساتھ جانا نہیں چاہتا۔ کشمیر کو یہ بھی معلوم ہے کہ آزادی ناممکن ہے،لیکن جب تک اٹانومی بحال نہیں ہوتی ، تب تک کشمیر بھارت کے ساتھ اینٹیگریٹ نہیں ہو سکتا۔ 2007 میں جب میں منسٹر تھا تو سردار عبدالقیوم سے دلی میں میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہندوستان اور پاکستان میں سے جموں و کشمیر اسٹیٹ کی سرحدیں کوئی بدل نہیں سکتا۔ کیونکہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ اگر ہندوستان حملہ کرے گا تو پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن بارڈر بدلا نہیں جاسکتا ، تو کم سے کم بارڈر کو غیر ضروری تو بنایا ہی جاسکتا ہے۔ جو پانچ کشمیر ہیں، گلگت،بلتستان، لداخ، جموں اور کشمیر کے لئے ویزا فری کیجئے ۔ ویز ا کے لئے کچھ میکنزم ہو اور اس کے لئے مشرف ومنموہن فارمولے پر عمل ہو۔
کشمیر بھارت کے ساتھ رہے گا،کیونکہ کشمیر نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا۔لیکن اگر آپ یہاں ہندو راشٹریہ چاہتے ہیں، تو ہر کشمیری اس کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ آپ کو کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے کوئی فارمولہ تیار کرناپڑے گا۔یہ مسلم اکثریت والا خطہ ہے، جس نے دو قومی نظریہ کو خارج کر دیا ہے۔ اب آپ کسی بھی قوم کو طاقت کے بل پر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔ آپ پیلیٹس یابلیٹرس کے ذریعہ کشمیر پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ آپ کو ہر سال کشمیر کے لوگوں کے ساتھ لڑائی کے لئے ہمیشہ تیار رہنا پڑے گا۔ بجلی سپلائی کر کے، سڑک بنوا کر انہیں خاموش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ سب انسان ہونے کے ناطے ان کی ضرورت ہے،لیکن یہاں کے لوگوں کو طاقت کے بل پر خاموش نہیں کیا جاسکتا ۔ بعد میں بھی لوگوں نے وعدے کئے۔ نرسمہا رائو نے کہا کہ’ اسکائی از دی لمیٹ‘ لیکن سارے وعدے جھوٹے ثابت ہوئے۔
ہندوستانی وزیر اعظم مودی ہوں یا کوئی بھی ہوں، اگر وہ کشمیر کے ساتھ انصاف کریں گے تو کشمیر ہندوستان کا حصہ ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دلی اگریمنٹ، اس کے لئے سب سے درست فارمولہ ہے۔لہٰذا گیند ہندوستانی وزیر اعظم کے پالے میں ہے، لیکن وہ یہ موقع چوک جائیںگے۔ گزشتہ چار مہینے کے دوران جو پورا کاروبار بند رہا۔ اس سے میں بھی خوش نہیں ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو تکلیف دیئے بغیر حریت کو اپنی تحریک جاری رکھنے کے لئے ایک نیا طریقہ اپنانا پڑے گا۔ دراصل حریت اس وقت کشمیر کے غصے کی نمائندگی کررہی ہے۔ کوئی مین اسٹریم پارٹی اس وقت فنکشن نہیں کررہی ہے۔ایک ہندوستانی کشمیری قوم پرست ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی لیڈرشپ یہ سمجھے گی کہ اس مسئلے کے حل کے لئے کچھ کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *