حب الوطنی اور قومی آہنگی کی بہترین مثال

au-asif-for-webتقریباً 20 برس قبل دہلی کے گاندھی سنگھرالیہ کے اندر تاریخی دستاویز کو دیکھتے دیکھتے اچانک نگاہ ایک جگہ ٹھہر گئی۔ محمد علی جناح کا دادا بھائی نوروجی کے پیڈ پر ان کے سکریٹری کے طور پر موہن داس کرم چند گاندھی کے نام اوائل 20 صدی میں تحریرکردہ ایک مکتوب تھا۔ اس میں گاندھی جی کی جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے انھیں اپنے وطن ہندوستان واپس آکر تحریک آزادی میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔ شیشے میں محفوظ اس تاریخی مکتوب کے پاس انگریزی اخبارات کی چند کٹنگس بھی دکھائی دیں۔ ایک اخباری کٹنگ میں خبر کے ساتھ ایک تصویر تھی جس میں بمبئی بندرگاہ پر محمد علی جناح کو دادا بھائی نوروجی کے نمائندہ اور گجراتی پرتیندھی سبھا کے سکریٹری کے طور پر جنوبی افریقہ سے وطن واپس آئے گاندھی جی کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال کر ان کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ایک خبر اور تھی جو کہ اسی روز شام کو مذکورہ گجراتی سبھا کے ذریعہ گاندھی جی کو دیے گئے استقبالیہ کے موقع کی تھی۔ اس خبر کے ساتھ بھی ایک تصویر تھی جس میں مہمان گاندھی جی ، جناح و دیگر میزبان کے ساتھ محفل میں بیٹھے ہوئے تھے۔
ان خبروں اور تصویروں کو دیکھتے ہی ذہن میں فوراً ہی حب الوطنی او رقومی آہنگی کا تصور ابھرتا ہے جب مذہبی رنگ سے آزاد جناح حب الوطنی سے سرشار ہوکر دادا بھائی نوروجی کی جانب سے مکتوب لکھ رہے ہیں او ربمبئی بندرگاہ پر جناح جنوبی افریقہ سے وطن واپس آئے گاندھی جی کا پھولوں کے ہار سے خیر مقدم کررہے ہیں۔ جناح نے بمبئی بندگاہ پر گاندھی جی کا خیرمقدم گجراتی پرتیندھی سبھا کی طرف سے کیا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ گجرات کے جناح گجرات کے ہی گاندھی جی کو ہندوستان واپسی پر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کتنا مبارک تھا وہ لمحہ جب گجرات کے سنز آف دی سوآئل(sons of the soil) تحریک آزادی کی خاطر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کررہے تھے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گاندھی جی کی وطن واپسی اس لحاظ سے تاریخی تھی کہ اس کے بعد انھوں نے جس انداز سے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی تھی، اسی انداز سے ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد شروع کردی۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے آخری دور میں 2003 میں گاندھی جی کی وطن واپسی کی تاریخ کی مناسبت سے اسی دن یعنی 9 جنوری کو ایک سال چھوڑ کر پرواسی بھارتیہ دیوس منانے کا سرکاری طور پر اعلان کردیا اور پھر اس کے بعد ہندوستان کے مختلف شہروں میں ایک سال کے وقفہ سے اسی تاریخ کو پرواسی بھارتیہ دیوس منانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 14 برس سے لگاتار منایا جانے والا یہ دیوس اب اس لحاظ سے بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ مختلف ممالک میں رہ رہے ہندنژاد، جنھیں پیپل آف انڈین آریجین (پی آئی او) کہتے ہیں او رنان ریزیڈنٹ انڈینز (این آر آئی) اس میں شرکت کرنے آتے ہیں اور ان میں سے بعض اعزاز و اکرام سے نوازے جاتے ہیں۔ اس سال 7-9 جنوری کو بنگلور میں منعقد اس تقریب میں 72 ممالک میں رہ رہے 2000 پی آئی اوز اور این آر آئیز نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں اندرون ملک سے 6 ہزار 340مندوبین بھی اس میں شامل ہوئے۔ اس عظیم الشان سہ روزہ تقریب کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی عزت بخشی۔ اس تقریب میں پرتگال کے وزیر اعظم انٹونیو کوسٹا چیف گیسٹ کے طور پر شریک ہوئے۔
پرواسی بھارتیہ دیوس کا اصل مقصد تو غیر ممالک میں رہ رہے ہند نژاد افراد اور این آر آئیز کوان کے اساسی ملک اور اس کے لوگوں سے جوڑنا ہے۔ نیز پی آئی اوز اور این آر آئیز کے درمیان روابط پیدا کرنا ہے۔ ظاہرسی بات ہے کہ پی آئی اوز او راین آر آئیز کے یکجا ہونے سے ہندوستان میں ان کے ذریعہ سرمایہ کاری بھی ہوتی ہے۔ اس طرح معاشرتی ، تہذیبی ، تمدنی اور اقتصادی لحاظ سے یہ ہندوستان کے لیے مفید ہے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا اور غیر موزوں نہیں ہوگا کہ فی الوقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر کا بھی پس منظرپی آئی او کا ہے۔ ان کے جد امجد کینیا میں جاکر بس گئے تھے مگر ان کے والد انھیں کم سنی میں ساتھ لے کر وطن واپس آگئے اور پھر انھوں نے پنجاب میں تعلیم حاصل کی او روکالت اور ججی کرتے کرتے چیف جسٹس کے اعلیٰ ترین عہدہ تک پہنچ گئے۔ اس طرح یہ بات فخر سے کہی جاسکتی ہے کہ ہمیں گاندھی جی کی طرح ہمارا ایک اور پرواسی جسٹس کھیہر کے روپ میں واپس مل گیا ہے۔
پرواسی بھارتیہ دیوس جیسی تقریب کا ایک اور فائدہ یہ ہورہا ہے کہ اس سے برین ڈرین کو کسی حد تک روکا جارہا ہے۔ راقم الحروف کو یاد آتے ہیں مرحوم انجینئر حبیب احمد، جن کا تقریباً تین برس قبل انتقال ہوا ہے۔ یہ صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی کال پر یوروپ سے ہندوستان واپس آگئے تھے او ریہیں ایک انڈسٹری میں سائنسداں کے طور پرخدمات انجام دینے لگے تھے۔ ’چوتھی دنیا ‘ نے ان سے خصوصی انٹرویو لیا تھاجس میں ان کی 1963 میں کی گئی قربانی کا ذکر تھا۔ اس لحاظ سے پرواسی بھارتیہ دیوس بہت ہی مبارک ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *