جموںوکشمیر سے جڑے مہاجرین سیاسی عصبیت کا شکار

damiجموں کشمیر کے اسمبلی اجلاس میں گزشتہ دنوں اُن کشمیری مہاجرین کی بازآباد کاری کی گونج سنائی دی ، جو 1947ء میں یا اُسکے بعد جبراً سرحد پار دھکیل دئیے گئے یا پھر بے بسی کی حالت میں خود ہی اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان چلے گئے ہیں۔عموماًاپنے متنازعہ بیانات یا حساس معاملات پر رائے زنی کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے ایوان میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ اس متنازعہ بیان پر انجینئر کو بی جے پی کے ممبران نے موقعے پر ہی لتاڑا۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے ایک ممبر اسمبلی نے غصے میں آکر کہا کہ انجینئر کو پاکستان بھیجا جانا چاہیے۔ یہ پوچھنے پر کہ آخر انہوں نے ایوان میں کشمیری مہاجرین کی باز آباد کاری کا بے محل مطالبہ کیوں کیا، انجینئر نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا کہ یہ بے محل مطالبہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آئینی اور قانونی مطالبہ ہے۔ میں بار بار ان مہاجرین کی گھر واپسی اور پھر یہاں انکی باز آباد کاری کا مطالبہ دہراتا رہوں گا۔‘‘

کشمیری مہاجرین کی کہانی اور انکی باز آبادکاری کا دیرینہ مطالبہ حقیت میں کشمیر مسئلہ کے المیہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔تقیسم بر صغیر کے موقع پر جب جموں میں فسادات بپا ہوئے تو ہزاروں مسلمان کنبوں کا قتل عام ہوا ، ار دیگر ہزاروں کنبوں کو بلوائیوں نے مہاراجہ کے پولیس کی مدد سے سر حد پار دھکیل دیا۔ بعد کے پُر تشدد حالات میں بھی جموں صوبے کے سینکڑوں مسلم کنبے مجبور ہوکر سرحد پار چلے گئے ۔ حالات بہتر ہوجانے کے ساتھ ہی ان مہاجرین کو واپس گھر لانے اور یہاں موجود ان کی جائدادیں انہیں سونپنے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا۔ یہاں تک کہ حکومت نے ان مہاجرین کی جائدادیں محفوظ رکھنے کے لئے کسٹوڈین محکمہ معرض وجود لایا۔ ان کی تمام املاک کی نشاندہی کرنے کے بعد حکومت نے ان جائدادوں کواپنی تحویل میں لے لیا۔1980ء میں پہلی بار نیشنل کانفرنس نے اسمبلی میں ان مہاجرین کی گھر واپسی اور یہاں انکی باز آباد کاری کے لئے قانون سازیہ میں ایک بل پیش کیا۔ دو سال بعد یعنی 1982ء میں ایوان نے اکثریت رائے سے ’’باز آباد کاری بل ‘‘کو پاس کیا اور اسے منظوری کے لئے گورنر کے پاس بھیج دیا۔ گورنر نے اس معاملے کی حساسیت کے مدنظر بل منظور کئے بغیر اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس بل پر ’’نظر ثانی ‘‘ کی جائے ۔ لیکن ایوان نے اس میں کوئی تبدیلی کئے بغیر اسے دوبارہ پاس کیا۔
اسکے بعد گورنر کے پاس اس بل کو منظوری دینے کے سواکوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے 6اکتوبر 1982ء کو ایوان میں پاس شدہ بل کو منظوری دی اور اس طرح سے بازآبادی کاری بل ایک ایکٹ میں تبدیل ہوگئی اور مہاجرین کی گھر واپسی کی ایک قانونی اور آئینی راہ ہموار ہوگئی ۔اُس وات کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اعلان کیا کہ بازآبادکا ری ایکٹ پر عمل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یہ دیکھ کر مرکزی سرکار نے اس بل کو صدارتی ریفرنس کے لئے صدر ہند کے پاس بھیج دیا۔ صدر ہند نے قانونی صلاح کے لئے اسے سپریم کورٹ کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے اس بل کو 19سال تک لٹکائے رکھا۔اس طرح سے لاکھوںکشمیری مہاجرین کی گھر واپسی کا معاملہ التوا میں رہا۔8نومبر 2001کو سپریم کو رٹ نے بل پر کوئی رائے ظاہر کئے بغیر اسے یہ کہہ کر واپس صدر ہند کو بھیج دیا کہ یہ بل 1982 میں ہی ایکٹ بن چکا ہے۔ یعنی باالفاظ دیگرعدالت عظمیٰ نے یہ اعتراف کیا کہ اس کے پاس اس ایکٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی ۔ پینتھرس پارٹی کے کے صدر پروفیسر بھیم سنگھ نے عدالت عظمیٰ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست پیش کرتے ہوئے کشمیری مہاجرین کو گھر واپس لانے پر حکم امتنائی حاصل کیا۔ پروفیسر نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ اگر پاکستان سے لوگوں کو آنے کی اجازت دی جائے تو ان کے ہمراہ دہشت گرد بھی آسکتے ہیں۔فی الحال اس قانون کی عمل در آمد پر حکم امتنائی ہے۔
انجینئر رشید کہا کہنا ہے کہ در اصل یہ سب کچھ نئی دہلی نے کروایا ہے۔ انہوں نے ’’چوتھی دُنیا کو بتایاکہ نئی دہلی نے اس ایکٹ کے نفاذ میں روڑے اٹکا کر در اصل جموں کشمیر کی اسمبلی کی توہین کی ہے۔‘‘در اصل کشمیری مہاجرین کی باز آبادکاری کے مطالبے کی یہ گونج ایک ایسے وقت میں سنائی دے رہی ہے، جب مخلوط سرکار میں شامل بی جے پی جموں صوبے میں مقیم مغربی پاکستان کے ہندوشرناتھیوں کو یہاں کی مستقل باشندگی فراہم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ یہ وہ شرناتھی ہیں ، جو 1947،1965اور 1971 کی بھارت پاک جنگوں کے دوران پاکستان سے بھاگ کر یہاں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ یہ شرناتھی ہزاروں کنبوں پر مشتمل ہیں۔انہیںبھارت کی شہریت تو حاصل ہوچکی ہے لیکن اب انہیں جموں وکشمیر میںمستقل شہریت دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ریاستی سرکار نے حال ہی میں مغربی پاکستان کے شرناتھیوںکو ’’ اقامتی اسناد‘‘ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کشمیر میں حکومت کو شدید طورپر ہدف تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بالخصوص علاحدگی پسند جماعتوں نے مخلوط سرکار کی قیادت کرنے والی پی ڈی پی پر الزامات کی بوچھاڑ کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت غیر ملکی ہندو باشندوں کو جموں کشمیر کی شہریت دے کر یہاں کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘نے سینئر علاحدگی پسند رلیڈر نعیم خان سے کئی استفسارات کئے۔ خان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں شرناتھیوں کے ساتھ ہمدردی ہے لیکن جموں کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ یہ سرزمین متنازعہ ہے ۔ یہاں ان لاکھوں شرناتھیوں کو شہریت دینے سے کئی مسائل پیدا سکتے ہیں۔ اگر حکومت ہند کو واقعی ان شرناتھیوں سے ہمدردی ہے تو انہیں کسی دوسری ریاست میں کیوں نہیں بسایا جاسکتا ہے۔ 1947ء میں جموں بھی وادی کشمیر کی طرح ایک مسلم اکثریتی خطہ تھا۔ لیکن ایک جانب لاکھوں مسلمانوں کو سرحد پار دھکیل دیا گیا اور دسری جانب مغربی پاکستان کے لاکھوں ہندوئوں کو یہاں بسایا گیا۔ اتنا ہی نہیں بہت سارے غیر ریاستی ہندئوں کو جعلی اسٹیٹ سبجیکٹ فراہم کئے جاچکے ہیں۔ ان سب سازشوں کے نتیجے میں آج جموں خطہ میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ کچھ تو کیا ہے نا ان لوگوں نے کہ چند دہائیوں میں ہی ایک مسلم اکثریتی خطہ مسلم اقلیتی خطے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اسی لئے ہم ہندو شرناتھیوں کو یہاں کی شہریت دیئے جانے کے خلاف ہیں۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں جب مہاجرین کا تذکرہ چھیڑا جاتا ہے تو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین اور مغربی پاکستان کے ساتھ ساتھ اور بھی دو قسم کے مہاجرین کی بات بھی سامنے آجاتی ہے۔ ایک کشمیری پنڈت مہاجرین جو 1990ء میں یہاں ملی ٹنسی شروع ہوجانے کی وجہ سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں جابسے اور دسرے وادی کے سرحدی علاقوں کی وہ آبادیاں ہیں جو لائن آف کنٹرول پر آئے دن کی ہندوپاک گولہ باری سے خوفزدہ ہوکر پاکستان زیر انتظام کشمیر چلی گئی ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آج بھی وہ سینکڑوں کشمیری کنبے کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں،جو 1990ء کے بعد کنٹرول لائن عبور کرکے یہاں سے چلے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر سے جڑے یہ ہر طرح کے مہاجرین انسانی بنیادوں پر باز آبادکاری کے مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ کسی نہ کسی لحاظ سے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نئی دلی فی الوقت صرف اور صرف مغربی پاکستان کے ہندو شرناتھیوں کو مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں ہے اور نئی دہلی کی اس کوشش کو ریاست کے مسلمان مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ سرکردہ سماجی کارکن اور سیاسی مبصر ظریف احمد ظریف نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حیران کن بات یہ ہے کہ نئی دہلی انسانیت کا واسطہ دے کر شرناتھیوں کو یہاں کی شہریت تو دینا چاہتی ہے لیکن ریاست کے ان اصل باشندوں کو یہاں واپس نہیں بسانا چاہتی ہے، جو حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہوکر یہاں سے پاکستان چلے گئے ہیںاور جنکی واپسی کے لئے ایک منتخب اسمبلی نے قانون پاس کیا ہے۔یہ دوہرا معیار ہے۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ کشمیر جیسے گھمبیر مسئلے کے گرد نواح میں ایسے ان گنت مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں، جن کا براہ راست تعلق انسانی زندگیوں کے ساتھ ہے۔ لیکن سارے مسائل تب تک حل نہیں ہوسکتے جب تک حکومت ہند، حکومت پاکستان اور جموں کشمیر کی سرکار انہیں سیاسی کے بجائے انسانی عینک سے نہیں دیکھتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *