بنگال کا ڈھولا گڑھ فساد کیا اترپردیش انتخابات سے تعلق ہے؟

damiمیں نے سوال کیا یوگی جی! بنگال میں فرقہ وارانہ تشددکا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا اتر پردیش میں انتخاب ہونے والے ہیں ؟بنگال کا اترپردیش سے کیا تعلق ہے؟ ان کا جواب تھاکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے؟میرا تیسرا سوال تھا کہ ڈھولا گڑھ ہندئوں کے زیادہ مکانات دوکانوںکی خبریں موصول ہورہی ہیں ؟ان کا جواب تھا کہ دنگائیوں کی حکمت عملی بدل چکی ہے۔پہلے مسلمانوں کو اجاڑنا اور ان کی تباہی مقصد ہوتا تھا اب مسلمانوں کا خوف دکھاکر ہندئوں کو متحد کرنا ان کا ہدف بن گیا ہے۔کیا نہیں دیکھتے سوشل میڈیا پر کیا چل رہا ہے ؟ بنگال جل رہا ہے، بنگال منی پاکستان بن رہا ہے، ہندئوں کیلئے زمین تنگ کی جارہی ہے، بنگال جہادیوں کا اڈہ بن گیا ۔یہ سب کیا ہے خوف کی سیاست ہے۔ مگر لوگ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ فائدہ کس کا ہوگا ، بی جے پی آئے گی یا پھر ممتا بنرجی کا جادو برقرار رہے گا۔سوال یہ ہے کہ ملک کا کیا ہوگا؟
کلکتہ شہر سے محض 30کلو میٹر کے فاصلے پرچھوٹا شہر ڈھولا گڑھ ان دنوں موضوع بحث ہے۔گزشتہ مہینے 12 دسمبر کو عید میلادالنبی کے موقع پر فرقہ وارانہ تشدد کے بعد سے ہی ڈھولا گڑھ فسا پر بہت کچھ لکھا جارہا ہے ۔سوشل میڈیا سے لے کر قومی میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلوں اور انگریزی میڈیا میں بڑی بڑی رپورٹیں شایع کی جارہی ہیں۔ایک مہینہ بعد بھی علاقے میں خوف کا ماحول ہے،فرقہ وارانہ تشدد کے اثرات نمایاں ہیں،بے اعتمادی ، بے اطمینانی ، شک و شبہات کی فضاء نے پوری آبادی کو مذہبی و سیاسی طور پر تقسم کرکے رکھ دیا ہے ۔
13دسمبر کو فرقہ ورانہ تشددکی خبریں آنے اور سوشل میڈیا پر تباہی کی تصویر یں وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی یہ ٹیم ڈھولا گڑھ جانے کی کوشش کی مگر حالات کشیدہ، کرفیو اور پولس کے ذریعہ علاقے میں میڈیا اہلکاروں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے ہم لوگ اس وقت ڈھولا گڑھ نہیں جا سکے ۔اسی درمیان بنگال کی ایک بڑی مذہبی شخصیت اور یوگا کو کاروبار نہیں بلکہ گزشتہ چار دہائیوں سے ہندوستان کی وراثت کے طور پر یوگا کو فروغ دینے کیلئے سرگرم ’’وجے ترویدی یوگی‘‘نے مجھے فون کرکے اپنے گھر پر آنے کی دعوت دی۔میں وہاں پہنچا ، یوگی جی کا پہلا سوال ڈھولا گڑھ فسادات پر تم کیا کررہے ہو؟ میں نے کہا کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ تم صحافی ہو، تمہیں صحیح خبر ہونی چاہیے ۔میں نے کہا کہ متضاد خبریں آرہی ہیں ؟ پولس صحیح بتانے کو تیار نہیں ، صحافیوں کے داخلے پابندی ہے اور سوشل میڈیا نے سچائی اور جھوٹ کو اس طرح خلط ملط کردیا ہے کہ کوئی بھی ویڈیو صحیح نہیں معلوم ہورہی ہے۔؟یوگی جی نے کہا کہ تم بات سمجھ نہیں رہے ہو؟سوال یہ نہیں ہے کہ کتنے مکانات جلے ہیں ؟ اور کس کا نقصان زیادہ ہوا ہے یا کم؟ سوال یہ ہے کہ آخر اس نفرت کا جواب کیا ہے؟ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے ہندو اور مسلمانوں کے سنجیدہ طبقہ بالخصوص علماء اور ہم جیسے ہندئو لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ سماج میں تقسیم اور خوف کی سیاست کرنے والوں کا مقابلہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلم تنظیمیں یہ اعلان کرتیں کہ ہندئوں کے جو مکانات تباہ ہوئے ہیں وہ ہم بناکر دیں گے اور ہم یہ اعلان کرتے کہ مسلمانوں کے مکانات ہندو تنظیمیں بناکر دیتی ۔
ہوڑہ ضلع کا ڈھولا گڑھ ایک صنعتی علاقہ ہے، یہاں پر زری ، ایمبوڈری اور دیگر کارخانے ہیں۔مقامی آبادی کے علاوہ یہاں کارو بار کرنے کیلئے نقل مکانی کرکے آباد ہوئے ہیں ۔ہندو اور مسلمانوں کی آبادی مشترکہ ہے، سالوں سے مل جل رہتے ہوئے آئے ہیں ، مقامی لوگوں کو یاد نہیں ہے کہ گزشتہ 30سے 35سالوں میں یہاں کوئی بھی فرقہ ورانہ فسادات ہوا بھی ہے ۔10سے12سال قبل پوجا بنڈال کو لے کر معمولی سا تنازع ہوا تھا مگر اس کے بارے بہت ہی کم لوگوں کو یاد ہے۔مگر اب فضاء بدل چکی ہے۔دونوں طبقات کے درمیان بے اعتمادی نے جگہ لے لی ہے ۔ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں ۔لکشمی مالیا نے کہا کہ ہمارے پڑوس میں مسلم خاندان آباد ہے۔جب ہمارے گھر میں پانی نہیں ہوتا تو ہم ان کے گھر سے پانی پیتے تھے وہ ہمارے گھر آتے تھے اور ہم ان کے گھر مگر اب فضاء بدل چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جس ملک میںگجرات فسادات، احمد آباد فسادات ، بھا گلپور فسادات، ہاشم پور ملیانہ فسادات، مظفر نگر اور ممبئی فسادات جیسے قتل عام ہوئے ہیں، وہاں ڈھولا گڑھ فرقہ وارانہ تشدد جس میں 100کے قریب مکانات و دوکانیں جلی ہوں ، جانی نقصان ہواہی نہیں، اس پر واویلا کیوں ہے؟تشدد کی معمولی واردات بھی ناقابل قبول ہے ۔فرقہ وارانہ تشدد سے پا ک سماج کی تعمیر حکومت اور سماج دونوں کی ذمہ داری ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ اس پرواویلا کیوں ہے۔آگ بجھانے کے بجائے کیوںبھڑکائی جارہی ہے؟ بی جے پی ، شدت پسند ہندو تنظیمیں اور ان کی حامی میڈیا اس قدر سرگرم کیوں ہے؟بی جے پی کی آئی ٹی سیل نے منظم انداز میں ٹوئیٹر ، فیس بک اور دیگر سماجی ویب سائٹوں پر ڈھولا گڑھ فساد پر مہم چلا رکھی ہے۔#BengalInFlames pic.twitter.com/hLf5o8H9wt- BJP (@BJP4India) کا ہیش ٹیگ ’’بنگال جل رہا ہے‘‘ چلایا جارہا ہے۔یہ ہیش ٹیگ بی جے پی کے بیشتر لیڈران نے اپنے ٹوئیٹر اکائونٹ پر پوسٹ کیا۔سابق بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن کی بیٹی اور ممبئی سے ممبر پارلیمنٹ پونم مہاجن جنہیں شایدہی ڈھولا گڑھ کے جغرافیہ سے متعلق کوئی علم ہو مگر انہوں نے بھی ٹوئیٹ کیا کہ’’ بنگال جل رہا ہے اور بنگال ہندئوں کیلئے پاکستان بن چکا ہے‘‘۔
ڈھولا گڑہ فساد کا سچ
ان سوالوں کا جواب جاننے کیلئے ڈھولا گڑھ کی ہم نے زمینی حقیقت جاننے کی کوشش کی، مقامی لوگوں سے بات چیت کرکے پردے کے پیچھے کی کہانی معلوم کی تو متضاد باتیں سامنے آئیں مسلمان فساد کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو ہندئو فساد کیلئے مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرارہے ہیں ۔ہر ایک کی اپنی دلیل و دعویٰ و ثبوت ہے ۔انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 13دسمبر کو عید میلادالنبی ؐکے موقع پر مسلمانوں کا ایک جلوس گزررہا تھا۔اچانک انا پرنا کلب دیوا ن گھاٹ کے قریب اس جلوس کو چند ہندئوں نوجوان جس میں زیادہ تر بجرنگ دل کے کارکنان نے روک دیا۔اس وقت دونوں گروپ کے درمیان جھڑپ اور پتھر بازی ہوئی اور پولس کی مداخلت کے بعد مجمع منتشر ہوگیا۔؟ اس کے اگلے دن مسلم اکثریتی علاقہ منشی پاڑہ اور ہندو اکثریتی علاقہ پولی پاڑہ میں تشدد کے واقعات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں اورکئی مکانات و دوکانیں جلادی گئی ۔ایک اندازے کے مطابق 100کے قریب مکانات و دوکانیں تباہ ہوئی ہوں گی۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیادہ تر مکانات غریب ہندئوں اور دلتوں کے تھے مگر مسلمانوں کے مکانات و دوکانیں بھی تباہ ہوئی ہے۔اس کے اگلے کئی دنوں تک ڈھولا گڑھ کے کئی علاقوں میں حالات کشیدہ رہے اور ہندو مسلمان دونوں فسادیوں کے خوف سے اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے۔
ترنمول کانگریس سے وابستہ اور جے رام پور کے رہنے والے شمشیر علی لشکرکہتے ہیں کہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کی سرگرمیاں اس علاقے میں بڑھ چکی ہیں ، نوجوانوں کو ٹریننگ دی جارہی ہے اور ان میں مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلایا جارہا ہے ۔عید میلادالنبی کے موقع پر وشو ہندو پریشد کے کارکنان نے ہی مسلم نوجوانوں کو روکا ، بد تمیزی کی ، ہندئو دیوتائوں کے حق میں نعرہ لگوانے پر مجبور کیا اور دیوان گھاٹ میں واقع مسلمانوں کے دوکانوں کو لوٹ لیا گیا۔مقامی آر ایس ایس لیڈر کی دلیل مختلف ہے وہ جلوس میں شامل مسلم نوجوانوں پر ہندئوں کے گھروں پر پتھر بازی اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خوانی کا الزام عاید کرتے ہیں ۔آر ایس ایس کے ضلع لیڈر شبھندو سرکار نے کہا کہ جان بوجھ کر ہندئوں کے دوکانوں اور مکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈھولا گڑھ فرقہ وارانہ تشدد کو سوشل میڈیا اور قومی میڈیا ایک بڑا حصہ جو سنگھ پریوار کا حامی نے اس پورے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔پرانے ویڈیو کے ذریعہ لوگو ں کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی اس لیے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا یہ شکوہ کسی حد تک بجا ہے کہ ڈھولا گڑھ میں تشدد کے واقعات کو سوشل میڈیا پر بہت ہی زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیاہے۔مگر ریاستی سیکریٹریٹ سے محض 25کلو میٹر کی دوری پر واقع اس علاقے میں امن و امان کے قیام میں انتظامیہ ناکام کیوں رہی۔پہلے دن معمولی جھڑپ کے بعد پولس مستعدو چوکس کیوں نہیں ہوئی۔بنگال کے مختلف اضلاع میں آر ایس ایس اور سنگھ پریوار سرگرمیوں پر حکومت نظر رکھنے میں ناکام کیوں ہورہی ہے ۔کیا صرف بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف بیان بازی سے انتہاپسندی کا مقابلہ ہوسکتا ہے۔
2013میں بنگال میں آر ایس ایس کے شاکھائوں کی تعداد محض 1300تھی جو اب بڑھ 2000ہزار ہوچکی ہے ۔جب کہ ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے سے قبل آر ایس ایس کے شاکھائوں کی تعداد محض300تھی۔
بنرجی نگر، جے رام پور ، منشی پاڑہ اور پولی پاڑہ کے باشندے اب بھی خوف زدہ ہے ۔دوکانیں کھل چکی ہیں اور حالات معمول پر تیزی سے آرہی ہیں ۔مگرگزشتہ کئی سالوں سے ایک ساتھ کارو بار کرنے والی مشترکہ آبادی مکمل طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔دیوان گھاٹ کے پورے علاقے میں صرف بی جے پی کا زعفرانی جھنڈا لہرارہا ہے ۔یہاں پر کسی دوسری پارٹی کے لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے ۔ایک نوجوان نے بتایا کہ اس علاقے میں ہندئو ہونے کا مطلب بی جے پی ہے۔مگر کچھ مقامی نوجوان ڈرتے ڈرتے یہ بھی بتایا کہ اس تباہی کے پیچھے یہاں رہنے کے والوں کا ہاتھ نہیں ہے ۔گھر جلانے والے باہر سے موٹر سائیکل سے آئے تھے۔یہاں میڈیا کی وفاداری بھی پوچھی جارہی ہے۔
ربیع الاول کے مہینے میں مسلمانوں کے گھروں پر لہرانے والے ’’اسلامی جھنڈا‘‘ (گرچہ یہ حقیقت نہیں ہے)سے متعلق مقامی آبادی غلط فہمیوںمیں مبتلا ہیں وہ اسے پاکستانی جھنڈا سمجھتے ہیں ۔ایک شخص نے بتایا کہ ’’مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں مگروہ پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں ۔یہ کیسے ہوسکتاہے ؟۔ مسلمان پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ،مسلمان ڈھولا گڑھ کو ’چھوٹا پاکستان بنانا چاہتے ہیں ۔ہمارا مسلمانوں کے ساتھ یہی اختلاف ہے۔
ظاہر ہے کہ سبز رنگ کے جھنڈے جس پر چاند تارہ بناہوا ہے کو پاکستانی جھنڈا سمجھنے والوں نے کبھی بھی پاکستانی جھنڈا کو غور سے دیکھا ہی نہیں ہے ۔یا یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر مسلمانوں سے متعلق جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر انہیں بھی گمراہ کیا گیا ہے ۔گزشتہ چند سالوں میں ہندوستان میں عید میلادالنبی کے موقع پر سبز رنگ کا جھنڈا جس پر چاند کی تصویر ہوتی ہے کو گھروں پر لہرانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔گرچہ اس کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ہے مگر مسلمانوں نے اس کو اسلامی جھنڈا کے نام پر فروغ دے رہے ہیں ۔جب کہ سبز رنگ کا جھنڈا صرف پاکستان کا نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کا بھی ہے ۔
انوپرنا کلب سے محض نصف کلو میٹردوری پرمسلم اکثریتی علاقہ کوسا دانگا ہے ۔جہاں مینارہ مسجد واقع ہے ۔مسجد کے پاس موجود لوگوں نے بتایا کہ پہلے ہم پر حملہ کیا گا ، ہمارے مکانات جلائے گئے مگر اس کے باوجود میڈیا کے ایک بڑے طبقے نے ہمیں ہی ویلن بناکر میڈیا پیش کیا ہ۔کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے ۔ہمیں پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔دیوان گھا ٹ میں مسلمانوں کے بھی ایمباڈری کے کارخانے تھے ۔وہ بھی نذر آتش کردیا گیا ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ دیوان گھاٹ اور آس پاس جن مسلمانوں کے گھر تھے وہ اب بھی اپنے گھروں سے باہر ہیں ۔ان پر خوف کا سایہ لہرا رہا ہے ۔
ہوڑہ ضلع میں مسلمانوں کی آبادی 20فیصد کے قریب ہے ، یہاں فرقہ ورانہ فسادات بہت ہی کم ہوئے ہیں ۔زیادہ تر ورکنگ کلاس کے لوگ یہاں آباد ہیں جو کل کارخانہ، جوٹ مل اور دیگر کارخانوں میں مل جل کر کام کرتے ہیں اس کی وجہ سے فسادات بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔مگر اس وقت دو کمیونیٹی کے درمیان بد اعتمادی کی جو فضا بنادی گئی ہے وہ کیسے ختم ہوگی ؟ اور ان فسادات کا بنگال کی مستقبل کی سیاست پر کیا اثر ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلم قیادت کی مجرمانہ چشم پوشی!
ڈھولا گڑھ اور اس سے قبل درگا پوجا و محرم کے موقع پر ہونے والے ریاست بھر میں فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات پر مسلم لیڈر شپ کی ناکامی کھل کر سامنے آگئی۔باتوں باتوں میں’’ فتوی بازی‘‘کرنے والے شاہی امام سے لے کر صاحب و جبہ و دستار اور بڑی بڑی مسلم تنظیموں کے نمائندے سبھوں نے نفرت پر مبنی مہم پر خاموشی اختیار کرلی۔لاپرواہی اور بے اعتنائی کی بدترین مثال اس سے بڑھ اور کیا ہوسکتی ہے ڈھولا گڑھ فسادپر ایک طرف جہاں تمام ہندو تنظیمیں مسلمانوں کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنے میں مصروف تھی ٹوئیٹر پر بنگال جل رہا ہے، بنگال کو منی پاکستان بنایا جارہا ہے جیسے پوسٹوں کو وائرل کیا جارہا تھا اور ہماری مسلم لیڈر شپ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو وزیر اعظم بنانے کیلئے مہم کا آغاز کررہے تھے۔
جمعیۃ علماء ہند ریاست کی سب سے منظم جماعت ہے مگر چوں کہ اس کے سربراہ ممتا بنرجی کی وزارت کا حصہ ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ حکومت کی منشاء کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔مگرجماعت اسلامی، ملی کونسل ، فرفرہ شریف اور دیگر مسلم تنظیموں نے بھی اس پر نوٹس لینے کی نہ ضرورت محسوس کی اور نہ ہی فساد زدہ علاقے میں برباد و بے گھر لوگوں کی امداد رسی کی۔ڈھولا گڑھ فساد زدہ علاقے کا جائزہ لینے کیلئے ہندوستان بھر سے صحافی کلکتہ آئے اور ڈھولا گڑھ کا دورہ کیا مگر کلکتہ سے محض 35کلو میٹری دوری پر واقع ہونے کے باوجود اردو اخبارات اور اس کے صحافی جو ہمہ وقت ملت کے ترجمانی کے زعم میں مبتلا ہیں کے کسی صحافی نے علاقے کا دورہ کرکے زمینی حقائق کو جاننے اور لوگوں سے بات کرکے صحیح صورت حال پیش کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔دراصل ہماری پوری ملی قیادت آر ایس ایس ، بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور وزیر اعظم مودی کے خلاف دھماکے خیز بیانات دے کر یہ سمجھنے لگی ہے کہ انہوں نے اپنا فریضہ ادا کردیا اور اور ملتی صحافت ان کے بیانات کو جلی سرخیوں میں شایع کرکے ملی صحافت کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ملی قیادت اور نہ ہی ملی صحافت زمینی حقائق، پس پردہ میں کھیلے جارہی سیاسی کھیل اور اس کا تدارت کرنے پر غور کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے مکمل طور پرعاری ہوچکی ہے۔
(مضمون نگار یواین آئی کلکتہ سے وابستہ ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *