آسام میں بنگالی مسلمانوں پر شہریت کا نزلہ گرانے کی تازہ کوشش ؟

damiشمال مشرقی ہندوستان کے سب سے بڑ ے صوبہ آسام میں سن 70کی نصف دہائی سے نام نہاد بنگلہ دیشی ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کا مسئلہ فرقہ پرست طاقتوں کی سیاست کا اہم مشغلہ رہا ہے جس کا بظاہر مقصد مسلمانوں کو سیاسی قوت حاصل کرنے سے روکنا ہے ۔اب اس میں کچھ زیادہ شدت آگئی ہے جب سے ریاست میں (گزشتہ سال مئی ) بی جے پی کو سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے اقتدار میں آنے کا موقع ملا ۔ چنانچہ ریاستی حکومت یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے اور اقدامات کررہی ہے جس سے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔حکومتی معاملات میں فرقہ وارنہ رنگ صاف جھلکتا ہے ۔ بالخصوص وہ شہریت کے قومی رجسٹر ( نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس) کی تیاری میں مداخلت کر رہی ہے۔ جس کے خلاف ایک تنظیم آسام مائنارٹی جاتیہ پریشد نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس غیر آئینی اقدام سے روکا جائے۔
جاتیہ پریشد کے صدر اور آسام اسمبلی کے سابق رکن محمد عبدالعزیز نے ’چوتھی دنیا ‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ کسی شہری کوجس کے آبا واجداد صدیوں سے وہاں رہتے آئے ہوں ، محض شک و شبہ کی بنیاد پر مشتبہ رائے دہندہ کی فہرست یا ڈائوٹ فل ووٹر لسٹ میں ڈالا جائے۔اس فہرست میں جس شخص کے نام کے آگے ’ڈ ی‘ حرف ہوتا ہے اسے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس طرح ریاست کے لاکھوں شہریوں کو محض مذہبی تعصب کی بنیاد پر شہریت سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے سابق ایم ایل اے عزیز نے کہا کہ اگست1985 میں جو سمجھوتہ آسام کے احتجاجی رہنمائوں، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان طے پایا تھا جسے ’آسام اکارڈ ‘ کہا جاتا ہے اس کے تحت آسام میں 25مارچ 1971کے بعد غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے اور انہیں ملک بدر کرنے کی شق ہے ۔ اسی معاہد ہ کی رو سے سٹی زن شپ ایکٹ مجریہ 1955 کے سیکشن( دفعہ) A6 داخل کرکے آسام میں شہریت کی حتمی تاریخ 25مارچ 1971 مقرر کی گئی ۔ تاہم اس دفعہ کے آئینی جواز کو دو فرقہ پرست تنظیموں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔
آسامی رہنما نے کہا کہ شہریت کے قانون کی اس دفعہ کو آسام کے تمام سماجی حلقوں نے تسلیم کیا ہے اب اسے چیلنج کرنامتعصبانہ سوچ و فکر کا غماز ہے اور ہم اس کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت شہریت کا دفتر تیار کرنے کے کام میں مداخلت کر رہی ہے جس کا مقصد بالکل واضح ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد میں شہریت سے محروم کیا جائے ۔ ـ
۔ اس کا و اضح ثبوت موجودہ حکومت کے ایک سینئر وزیر ہمنت بسواس سرما کے بیان سے مل جاتا ہے جو بی جے پی میں شمولیت سے پہلے کانگریس میں تھے اور ترون گو گوئی حکومت میں بھی وزیر تھے۔ انہوں نے کھلے عام کہا تھاکہ ریاست میں غیر قانونی طور پر آنے والے بنگالی ہندوئوں کو شہریت دی جائے تاکہ یہاں مسلمانوں کو اکثریت میں آنے سے روکا جاسکتا ہے ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ سیاسی مفادات کے لئے تخلیق کیا گیا اور اس کے خلاف احتجاج نے اسیّ کی دہائی میں خون آشام اور پر تشدد شکل اختیار کر لی تھی اور دریائے برہم پتر پانی بے گناہوں کے خون سے رنگین ہوگیا تھا۔ ضلع ناگاوں کے قصبہ نیلی میں فروری1983میں ر ونما سفاکانہ قتل عام کا واقعہ آج بھی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے جس کے ایک بھی مجرم کو آج تک سزا نہیں ملی ۔ اس کے علاوہ گاھا پور، مکال مون ، چائولکھوا اور دیگر مقامات پر سینکڑوں ہزار وں لوگوں کا قتل عام ہوا تھا ۔ گو اب یہ کیفیت نہیں رہی ہے مگر ریاست کی بنگالی بولنے والی آبادی 1979ء سے شناخت اور جبری جلاوطنی کے نام پر ناقابل بیان مصائب کا نشانہ بن رہی ہے اور 1997میں سب سے پہلے ووٹر لسٹ میں ڈی- ووٹر ( مشتبہ رائے دہندہ) کی اصطلاح متعارف کی گئی ہے تب سے ابتک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد اپنی شہریت کے حوالے سے تمام حقوق سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس وقت وہاںجو صورت حال ہے وہ بڑی سنگین ہے ۔ عبدالعزیز نے سوال کیا کہ کیا ایک ہی ملک کے باشندوں کے لئے شہریت کے الگ الگ قوانین ہوسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسی متعدد مثالیں ہیں کہ ماں اور باپ دونوں کو حقیقی ہندوستانی شہری قرار دیا گیا لیکن ان کی اولادوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے مشتبہ ووٹر قرار دیا گیا۔
غیرملکی شہریت کے مسئلہ پر جاتیہ پریشد کے صدرنے ایک بڑے پتہ کی بات یہ کہی کہ اگر شہریت کا دفتر آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقہ سے تیار کیا جائے تو آسام میں بنگلہ دیشی دراندازی کا نام نہاد مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہوجا ئے گا۔ مگر ریاست کے سیاستداں اور جماعتیں اس کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ آسام کی کانگریس حکومتیں بھی اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ایک طرف سے اس سے اصل مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے میں مدد ملتی ہے اور دوسری طرف یہ مسلمانوں کو دباکر رکھنے کی حکمت عملی میں معاون ہے ۔ آسام کے آبایادتی نقشہ پر سر سری نظر ڈالی جائے تو حقیقت آشکار ہوگی کہ ریاست میں اکثر یت قبائلی فرقوں کی ہے جو کل آبادی کا لگ بھگ40 فی صد ہے ۔ قبائلیوں کی کل ہند تنظیم راشٹریہ آدیواسی ایکتا پریشد کے نیشنل کو آرڈی نیٹر پریم کمار گیڈو کے مطابق آئین ہندکی رو سے قبائلی ہندو نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے جس نے قبائلیوں کو غیر ہندو قرار دیا تھا ۔ چنانچہ ریاست میں ہندوء حقیقی معنوں میں اکثریت میں نہیں ہیں اس لئے فرقہ پرست جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بنگلہ دیشی دراندازی کے نام پر بنگالی مسلمانوں کو سیاسی طور پر ابھرنے سے روکا جائے۔ انہیں یہ خوف اسوقت ہوا تھا کہ 1977میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں قریب27مسلم امیداور کامیاب ہوئے تھے اس کے بعد سے ہی یہاں آسامی طلبا کی تنظیم آسو نے آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کے اشارے پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
آج ًمعاملہ یہ ہے کہ ریاست کی سرکاری مشینری ( چاہے پولیس ہو یا انتظامیہ) کے نزدیک بنگالی بولنے والا اور بنگلہ دیشی دونوں ہم مترادف ہیں۔ اور جو کوئی بنگالی زبان بولتا ہے۔ وہ شک کے دائرہ میں آتا ہے۔تاریخی اعتبار سے بنگالی آسام کے قدیمی باشندے ہیں۔ مورخ سنجیب دیب لشکر کے بقول یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب انگریزوں نے 1874ء میں آسام کو چیف کمشنر کا صوبہ بنایا تو
مال گزاری کے خسارہ کو پورا کرنے کی غرض سے بنگال پریسڈنسی (صوبہ) کے دو متصل اضلاع سلہٹ اور کچھار کو آسام میں شامل کیا گیا ۔ یہ علاقہ بارک وادی کہلاتا ہے جو بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل آسام کا جنوبی علاقہ ہے۔ بہر حال پر وپیگنڈا کے نتیجہ میں یہ عمومی تصور بن گیا ہے کہ آسام میں لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی در آئے ہیں جس کے باعث آسامی بولنے والی آبادی کی شناخت کو خطر لاحق ہوگیا ہے ۔ غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد کے حوالے سے بڑے بے تکے دعوے کئے جاتے ہیں۔ کوئی انکی تعداد 90لاکھ بتاتا ہے کوئی 60لاکھ یا .ریاست کے ایک سابق گورنر ، جنرل(ریٹائرڈ) ایس کے سنہا نے مضحکہ خیز دعوی ٰکیا تھا کہ گزشتہ 20 برسوں میں ہر دن اوسطاً 6,000بنگلہ دیشی شہری غیر قانونی طریقے سے آسام میں داخل ہوتے رہے ہیں۔
شہریت کے مسئلہ کے علاوہ آسام کی بی جے پی حکومت اور بھی کئی ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے۔ اس نے صرف مسلمانوں کو سرکاری زمینوں سے بے دخل کر نے کام شروع کیا ہے جنہوں تباہ کن سیلاب اور دریائے برہم پتر ساحلی علاقے کٹ جانے کی وجہ سے ان پر اپنے آشیانے بنائے ہیں ۔ جاتیہ پریشد کے جنرل سیکریٹری علی اکبر میاں نے جو صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، بتایا کہ ان لوگوں نے سیلاب میں اپنے مکانات تباہ ہوجانے کے بعد بے مصرف سرکاری زمینوں پر آشیانے بنائے تھے لیکن انہیں مناسب امداد اور باز آباد کاری کئے بغیر ہی انہیں من مانے اور امتیازی طریقے سے اجاڑ ا جار ہا ہے۔ حالانکہ ان سرکاری زمینوں پر تمام فرقوں کے لوگوں نے کچے مکانات بنائے ہیں لیکن صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس بارے میں بھی جاتیہ پریشد نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی ہے اور عدالت سے انصاف فراہم کرنے کی استدعا کی ہے ۔ اکبر میاں نے کہا کہ ہم حقیقی ہندوستانی شہریوں کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ جب ان سے راقم نے یہ سوال کیا کہ آسام میں مسلمان زائد از 35فی صد ہیں تو وہاں فرقہ پرستوں کو بر سرا قتدار آنے کا انہوں نے موقع کیوں فراہم کیا، اس کے لئے اکبر میاں نے مولانا بدرالدین اجمل کی آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو قصوروار قرار دیا کہ جس نے 60اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرکے سیکولر ووٹ تقسیم کردئے تھے۔
اسی طرح ریاست کی بی جے پی حکومت نے سرکاری مدرسوں میں انگریزی دور حکومت سے چلی آرہی جمعہ کو عام تعطیل کی سہولت ختم کردی ہے۔ وہ اس طرح کے اقدامات کرکے اپنی متعصبانہ شبیہ کو مزید نما یاں کرتی جارہی ہے ۔ اکبر میاں نے کہا کہ ان اقدامات کا سیکولر حلقوں میں بھی اچھا تاثر نہیں جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *