اوم پوری پر عربی اخبارات کا بھرپور کوریج

damiایک کردار کا خاتمہ
فلمی اداکار اوم پوری کی موت پر عرب کے بیشتر اخباروں نے بڑھ چڑھ کر کوریج دیا۔ ایک مشہور اخبار’’النھار ‘‘ لکھتا ہے کہ اوم پوری کی موت کا صدمہ فلم شائقین پر گہرا ہے۔ خود ہندوستانی فلمی دنیاسے جڑے افراد سکتہ میں ہیں۔ مشہور فلمی شخصیت انوپم کھیر اپنے ٹویٹ پر لکھتے ہیں کہ ’مجھے اس عظیم اداکار کی موت کا یقین نہیں آتا ہے ، میں ان کی موت سے بہت غمزدہ ہوں‘‘۔ انوپم کھیر کی طرح ان کے چاہنے والے سکتے میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اوم پوری کی موت سے ایک کردار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
ہمیشہ دل کی بات کہی
ایک دوسرا مشہور عربی اخبار ’’ البیان ‘‘ لکھتا ہے کہ چار دہائیوں تک فلمی پردے پر جلوہ دکھانے والا ایک عظیم فنکار آخری نیند سوگیا ہے۔ ان کی موت کی خبر نے کتنوں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دی۔ انہوں نے نہ صرف ہندوستان کے پردہ سیمیں پر بلکہ پاکستان اور برطانیہ کی فلموں میں بھی اپنے کردار کی دھوم مچایا۔وہ ایک سنجیدہ اور غیر جانبداریت سوچ کے حامل انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ وہی کہا جو ان کے دل میں ہوتا تھا۔
آواز میں جادو تھا
ایک عرب نیوز سائٹ ’’ الجزیرہ نٹ ‘‘ لکھتا ہے کہ اوم پوری سیکولر مزاج آکے دمی تھے۔ انہوں نے اپنے کردار سے ہندوستان میں جمہوریت کا علم بلند کیا ۔ان کی آواز میں جادو تھا۔غصے کے وقت آواز میں گرج اور درد کے وقت لہجے میں سوز کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کی موت کے بعد اب نہ آواز کی وہ گرج اور نہ وہ سوز سننے کو ملیں گے۔ انہوں نے ہندوستانی فلموں کے علاوہ امریکی اور برطانوی فلموں میں اپنے کردار سے دھوم مچایا ۔
ہر میدان میں جھنڈا گاڑا
ایک عربی اخبار ’’ الحیاۃ ‘‘ لکھتا ہے کہ ہریانہ کی زمین پر پیدا ہونے والے اوم پوری نے پہلے علاقائی زبان میں ،پھر ہندی میں اپنے کردار کا نمونہ پیش کیا۔ اپنے کردار میں اتنے پختہ تھے کہ ترقی کی راہ پر تیزی سے بڑھتے چلے گئے۔انہوں نے سنجیدہ کردار کے علاوہ مزاحیہ اداکاری میں بھی جھنڈے گاڑے۔انہوں نے 2007 میں ایک پاکستانی فلم ’’ چارلی ولسنز وار ‘‘ میں جنرل ضیاء الحق کا کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ وہ جس کردار میں ہوتے تھے ،ایک منجھے ہوئے اداکار کی طرح کام کرتے تھے ۔ ان کی موت پر فلمی ہستیوں میں سے کئی نے غم کا اظہار کیا ہے جو ان کی ہردلعزیزی کا پتہ دیتا ہے۔
ہر کردار فطری ہوتا
ایک عربی روزنامہ ’’ الوطن ‘‘ لکھتا ہے کہ فلمی دنیا میں اوم پوری جیسے لوگ کم پیدا ہوتے ہیں۔ جس کردار کو لیا تو اس میں اس طرح گم ہوجاتے تھے گویا کہ وہی ان کا آخری کردار ہے۔ ان کے بولنے کا انداز نرالا تھا۔ اگر غصے کی منظر کشی کرتے تو وہ ان کا فطری غصہ معلوم ہوتا تھا اور جب درد و غم کی منظر کشی کرتے تو ایسا لگتا کہ گویا غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی خصوصیت تھی جس کے حامل کم لوگ ہوتے ہیں۔اوم پوری کی موت 66سال میں ہوئی۔ ان کی موت فلمی شائقین کے لئے ایک دردناک خبر تھی ۔ملک و بیرون ملک میں ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
نڈر اور صاف گو
ایک عربی نیوز سائٹ ’’ السینما دات کام ‘‘ لکھتا ہے کہ فلمی دنیا کو ایک نئی پہچان دینے والے اوم پوری 6جنوری 2017 میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ ان کی کئی ایسی فلمیں ہیں جن میں ان کی اداکاری کو نمونہ کے طورپر پیش کیا جاسکتا ہے۔اوم پوری صاف گو،نڈر اور نفاست پرست اداکاروں میں شمار ہوتے تھے.

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *