اندر سلگتی آگ زیادہ خطرناک

damiپہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا،وہ یہ ہے کہ کشمیر کا شور اکثر سنائی دیتا ہے، 70 سال پُر اسرار ڈھنگ سے سنائی دیتا ہے۔یہ شور کیوں اٹھتا ہے، کہاں غلطی ہو گئی ،مجھے تو غلطی بھارت کی دکھائی دیتی ہے۔کشمیر میں موسم سرد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگوں میں گرم جوشی رہی ہے۔ بھارت جمہوریت کے شور کے ساتھ یہاں آیا۔ ہم اس شور کے ساتھ کیسے رد عمل دیتے یہ مسئلے کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔ہندوستان جمہوریت کا شور مچاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے کہا جیسے ہی حالات نارمل ہو جائیں گے، جیسے ہی قبائلیوں کو کھدیر دیاجاتاہے،ہندوستان ریفرنڈم کروائے گا اور لوگ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہیں توہندوستان کے ساتھ رہیں ،پاکستان کے ساتھ جانا ہو تو پاکستان کے ساتھ جائیں۔ یہ پہلا شور تھا۔ دوسرا شور کاغذ پر ہوا۔ الحاق کی سیندھ کے دن گورنر جنرل نے لکھاکہ بھارت سرکار کی پالیسی جو ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں کسی ریاست کے مستقبل کو لے کر جھگڑا ہوگا تو اس کا فیصلہ ریفرنڈم سے ہوگا۔ ایک اور شور ایک بہت زبردست آدمی نے مچایا۔ جواہر لال نہرو نے۔ ایک کشمیری کشمیر کے دل لال چوک میں شور مچا رہا تھا، اگر جموںو کشمیر کے لوگ پاکستان میں الحاق کو چنتے ہیں تو مجھے اس کی تکلیف ہوگی لیکن میں اسے روکوں گا نہیں۔ یہ میرا وعدہ ہے کشمیر کے لوگوں سے اور عالمی برادری سے ۔ کشمیر کے لوگوں کو جب لگا کہ ان کے ساتھ کیا گیا وعدہ توڑ دیا گیا تو کشمیر میں شور شروع ہو گیا۔ ہندوستان نے دن کے اجالے میں اپنے وعدے کو توڑا۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ کشمیر کی اجتماعی روح کو گہرا زخم لگا ہے جسے آپ کو ٹھیک کرنا ہے۔
ضرورت ہے مسئلہ کو سمجھنے کی
ہندوستان کو گلمرگ یا پہلگائوں نہیں جانا ہے، بلکہ کشمیر کے زخمی دل کے اندر جانا پڑے گا۔کیونکہ ہندوستان نے کشمیر کا دل دکھایا ہے، اس کی روح کو درد دیا ہے۔ اب تک جو علاج کیا بھی، تو پیٹ کا کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ گیپ پھیلتا گیا۔ حالات اتنے خراب نہیں ہوتے ۔بہر حال ہمیں مسئلے کو سمجھنا ہے۔ ہم اسے کیسے سمجھیںگے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سب کے کنٹرول سے نکل چکا ہے۔ اب یہ نہ تو ہندوستان کے ہاتھوں میں ہے ،نہ ہی پاکستان کے ہاتھوں میں اور نہ ہی کشمیریوں کے ہاتھوں میں ۔اگرآپ جذباتی طور سے دیکھیں گے تو چین کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے۔ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آخر چین کا جھنڈا کیوں لہرایا جارہا ہے۔ جو بچہ سڑک پر جھنڈا لہرا رہا ہے اس کی عمر کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے عمر میں بڑا ہے۔ مجھ سے زیادہ بالغ عقل ہے ۔ہندوستان کے لئے کشمیر سمندر میں ایک بوند کی طرح ہے۔ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔لیکن کشمیر بہت چھوٹا ہے اور کئی حصوں میں بٹا ہے۔ جموں، لداخ، این سی، کانگریس، پی ڈی پی، حریت ،پھرایک گروپ ، دوسرا گروپ، لہٰذا ہندوستان اور کشمیر میں کوئی موازنہ نہیں ہے۔ لیکن پھر کیا ملا آپ کو۔ کیا ملا ہمیں بانٹ کر۔ ہندوستان ایک بہت بڑا، بہت وسیع ملک ہے ،کشمیر اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ کیا لڑائی ،کیا جھگڑا کرسکتے ہیں کشمیر کے لوگ ۔ کشمیری صرف یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارا حشر خراب کر دیا لیکن پھر بھی ہم آپ سے مضبوط ہیں، ہم آپ کے جرموں کا جواب دے سکتے ہیں۔ کشمیری تو ایک مچھر کے برابر ہیں اور ہندوستان ایک بڑا ہاتھی ہے۔یہ مچھر کوئی ڈنک مارے تو ہاتھی کو پتہ بھی نہیں چلے گا لیکن ہاں، کشمیری مچھر ایسے ڈنگ نہیں مارتے ہیں ،یہ ناک کے اندر گھس کر مارتے ہیں۔
بات چیت واحد راستہ
میرا ماننا ہے کہ اب ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے بات چیت۔ اگر بات چیت شروع ہوتی ہے تو آپ کل سے ہی کشمیر میں بدلائو محسوس کرسکتے ہیں۔ میرے تین سوال ہیں۔ کیایہاں کے شور کو ہم ریگولر ڈائیلاگ ایکسرسائز میں نہیں بدل سکتے؟کشمیر جو پورے سائوتھ ایشیا میں ہلچل کا سبب بنتا جارہا ہے، کیا اسے بات چیت سے نہیں سلجھاسکتے؟دوسرا سوال کہ کیا ہم ان راستوں پر دوبارہ نہیں چل سکتے جنہیں غلطیوں نے توڑ دیا؟جس راستے پر اٹل جی چلے تھے، جس پر منموہن سنگھ نے بھی چلنے کی کوشش کی، کیا اس راستے پر دوبارہ قدم نہیں بڑھایا جاسکتا ؟ہم نے ہندوستان و پاکستان کوکئی بار نزدیک آتے اور پھر دور جاتے دیکھا ہے۔ یہ بات کرنے کے لئے ایک ساتھ آتے ہیں اور پھر الگ ہو جاتے ہیں۔ کیا رشتوں پر پڑے برف کو آپسی بات چیت سے پگھلایا نہیں جاسکتا ہے؟ایک چیز جو دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ یہ کہ دھیرے دھیرے کشمیر کی جنگ سائوتھ ایشیا کی جنگ بنتی جارہی ہے۔یہ اور بھی بھیانک روپ لیتی جارہی ہے۔ لیکن ہندوستان اور پاکستان میں جنگ نہیں ہوگی۔دونوں نیوکلیئر پاور ہیں، دونوں جنگ کر ہی نہیں سکتے لیکن جنگ کی حالت بنے رہنا زیادہ خطرناک ہے ۔اگر ہمیں اپنے مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو ہندوستان اور پاکستان کو ساتھ لانا ہوگا ،اس مسئلے سے جوڑنا ہوگا اور ابتدا کشمیر سے کرنی ہوگی۔
میں نے شور کی بات کی۔ کبھی یہ سطح پر ہوتا ہے، کبھی سطح کے نیچے ۔کبھی یہ اتنا نیچے ہوتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیںکہ اب تو امن ہے۔ پھر آپ اچانک دیکھتے ہیں کہ یہ تو شور مچا رہے ہیں ،کیا طوفان آگیا ہے۔ یعنی یہ امن نہیں تھا۔ یہ جو آگ اندر سلگتی رہتی ہے یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر آپ امن اور نارمل سمجھتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ کبھی امن اور نارمل مت سمجھنا۔ دل میں امن چاہئے ۔گھر میں امن چاہئے۔ جب یہ دو چیزیں یقینی ہو جاتی ہے تو امن آتا ہے۔ ڈنڈے سے امن نہیں آتا ہے۔ ہندوستان کی سول سوسائٹی یعنی آپ جیسے لوگ جو کر سکتے ہیں وہ یہ کہ ہندوستان پر دبائو ڈالئے ،پاکستان پر دبائو ڈالئے کہ وہ بات چیت کرے۔ پھر کچھ کرنے کے لئے باقی ہی رہے گا۔صرف ایک بار دبائو ڈالئے۔
( مضمون نگار، حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین اور مسلم کانفرنس کے صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *