انتخابات اور مسلم فیکٹر سچر رپورٹ سے سیاسی پارٹیوں کی عدم دلچسپی کیوں ؟

damiیہ تلخ حقیقت ہے کہ انتخابات خواہ پارلیمانی ہوں یا ریاستی ، ان کے اعلانات ہوتے ہی سیاسی پارٹیاں چوکنا ہوجاتی ہیںمختلف انتخابی حلقوں میں مسلم فیکٹر کو لے کر اور تب سچر رپورٹ کے حقائق ان کا پیچھا کرتے ہیں اور پھر ستاتا ہے انہیں اس کا خوف ۔یہ سلسلہ گزشتہ دس برسوں سے مختلف انتخابات کے دوران جاری ہے۔عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں سچر کمیٹی کی 403 صفحاتی رپورٹ کو کبھی بھی اپنا تنظیمی ایجنڈا یا انتخابی ایجنڈا نہیں بناتی ہیں اور نہ ہی مرکز یا ریاست میں اقتدار میں آنے پر اسے نافذ کرنے کے لئے عملی اور ٹھوس قدم اٹھاتی ہیں۔ البتہ جو بھی پارٹی اقتدار میں رہتی ہے، اس تعلق سے چند اعلانات ضرور ہوجاتے ہیں مگر نفاذ کے تعلق سے بات آگے نہیں بڑھتی ہے۔دراصل ان کی یہ عدم دلچسپی ہی ہے جس کی وجہ سے ان دس برسوں میں کسی نے اسے اتنخابی ایجنڈا نہیں بنایا،اپنے منشور میںشامل نہیں کیااور نہ ہی کبھی اس کے نفاذ کامطالبہ کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اواخر 2006 سے لے کر 2009 تک مرکز اور چند ریاستوں میں برسراقتدار کانگریسمسلمانوں کے امپاورمنٹ کے تعلق سے کوئی قابل ذکر کام انجام نہ دے سکی۔ اتفاق سے اسی دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو) ،الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے تحت اپنی اقلیتی حیثیت کھو بیٹھی اور مسلمانوں کو اس سے جھٹکا لگا کیونکہ اقلیتی کردار کے ساتھ یہ ادارہ ان کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کررہا تھا۔یہ معاملہ ہنوز عدالت میں ہے۔پھر 2009 کے پارلیمانی انتخابات ہوئے۔اس موقع پر سچر رپورٹ کے حقائق نے برسراقتدار کانگریس کا پیچھا کیا۔ بہر حال کم وقت ملنے کا بہانہ بناکر اس نے اس سے نمٹا۔ یہی حال اس دوران ریاستی انتخابات کے دوران رہا ۔ اس طرح 2009 سے 2014 تک بھی کانگریس اس لحاظ سے کارکردگی زمینی سطح پر آکر کچھ نہ دکھا سکی۔ البتہ اس کے برعکس یہ ضرور ہوا کہ 2014 میں پارلیمانی انتخابات سے قبل اس کی وزارت اقلیتی امور جو کہ سچر رپورٹ کے نتیجے میں 2006 میں بنائی گئی تھی،نے اس کے نفاذ کو لے کر کھوکھلے اور غلط دعوے پیش کئے۔ اس کے مرکزی وزیر کے رحمان خاں کے ذریعے 2014 میں انتخابات سے قبل یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ 72 میں سے 68 سفارشات پر عمل درآمد ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں یہ جن جن ریاستوں میں اقتدار میں ہے، وہاں بھی صورتحال کم و بیش یہی رہی۔
بہر حال جب سچر رپورٹ کے نفاذ کو لے کرکانگریس اس کی بہت لے دے ہوئی تو اس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو ) کے پروفیسر امیتابھ کنڈو کی سربراہی میں ایک تجزیاتی کمیٹی بنادی جس کی رپورٹ 2014 میں مرکز میں برسراقتدار آئی بی جے پی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک ایلائنز ( این ڈی اے ) کے ابتدائی دور میں تیار ہوئی اور اسے نئی حکومت کی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور محترمہ نجمہ ہپت اللہ کو سونپا گیا۔ یہ رپورٹ اسی وزارت میں ہنوز پڑی ہوئی ہے ۔ مگر نجمہ اور پھر ان کے بعد ان کے جانشیں مختار عباس نقوی کے دور میں بھی کانگریس کے رحمن خاں کی مانند نفاذ کے سلسلے میں مستقل کاغذی دعویٰ پیش کئے جارہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران بھی مسلم موجودگی والے انتخابی حلقوں میں سیاسی پارٹیوں کو مسلم پسماندگی کے مسئلہ کو جھیلنا پڑ رہا ہے اور پھر اس تعلق سے سچر رپورٹ کا بھوت سرچڑھ کربول رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست اتر پردیش میں ہورہے اسمبلی انتخابات کے دوران 403 انتخابی حلقوں میں سے 46 میں ووٹروں کی فہرست اردو میں بھی ریاستی الیکشن کمیشن کے حکم کے تحت شائع کی جارہی ہے۔ اس سے قبل یہ فہرست صرف ہندی اور انگریزی میں شائع کی جاتی تھی۔یہ 46 اسمبلی حلقے 22اضلاع پر محیط ہیں اور ان میں سے بیشتر مغربی یو پی میں ہیں جہاں گھنی مسلم آبادی ہے۔ اردو کی یہ فہرست یو پی کے سی ای او کے ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوگی۔ توقع ہے کہ اردو میں فہرست کے آنے سے مسلم ووٹروں میں سے 30فیصد مستفیض ہوں گے اور یہ مسلمانوں کے سیاسی امپاورمنٹ کے عمل میںمعاون ثابت ہوگا۔عیاں رہے کہ سچر رپورٹ میں مسلمانوں کے سیاسی ڈس امپاورمنٹ کا بھی ایشو اٹھایا گیا ہے۔
سچر رپورٹ کے تعلق سے سیاسی پارٹیوں کا رویہ معاون و مددگار کیوں نہیں ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو یقینا غور طلب ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اصولی طور پر سچر رپورٹ کو مانتی ہیں مگر اس پر واقعی عمل کرتے وقت کتراتی ہیں اور اس کی وجہ ہے اس بات کا خوف کہ اس کا اثر منفی طور پر کہیں ان کے غیر مسلم خصوصی طور پر ہندو ووٹ پر نہ پڑ جائے اور ان پر مسلمانوں کو منہ چڑھائی یا اپیز (Appease) کرنے کا الزام نہ لگے۔ شاید یہی سبب ہے کہ سیاسی پارٹیاں جہاں ایک طرف سچر رپورٹ کے خلاف نہیں بول پاتی ہیں تو دوسری طرف اس کے نفاذ کے سلسلے میں عملی طور پر سرگرم عمل بھی نہیں ہوپاتی ہیں۔
یہی خیال پروفیسر امیتابھ کنڈو کا ہے۔ چونکہ سچر رپورٹ کی حیثیت سرکاری ہے اور اس کا تعلق ملک کی سب سے بڑی اقلیت سے ہے ، اس لئے بی جے پی جیسی پارٹی کے لئے حکومت میں رہ کر اس کے حق میں بولنا اور اس کے نفاذ میں سنجیدہ اور عملی نہ ہونا مجبوری ہے۔ پروفیسر کنڈو ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ مسلم کمیونٹی کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے شروعات تو ہوئی مگر اس سلسلے میں ٰ سرکاری طور پر جو کچھ بھی کیا گیا ،وہ حاشیہ پر رہ رہے بہت بڑی تعداد سے میل نہیں کھاتا ہے اور مسلمانوں میں غربت کی سطح قومی اوسط سے اب بھی پہلے کی طرح زیادہ ہے‘‘۔ موجودہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی بھی اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی رقوم بشمول اسکالرشپ کے اعدادو شمار کے حوالے سے یہ بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں قدم آگے بڑھارہی ہے مگر نتیجہ میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک سچر رپورٹ کی بنیادی سفارشات کو ٹھنڈے بستے میں رکھا جائے گا، مسلمانوں کی دیگر گوں حالت میں مجموعی طور پر کوئی معنوی اور حقیقی تبدیلی نہیں آسکے گی۔یہ بنیادی سفارشات یکساں مواقع کمیشن، ڈائیورسٹی انڈیکس، گھنی مسلم آبادی والے انتخابی حلقوں جن میں سے متعدد ایس سی کاسٹ کے تحت ریزروڈ ہیں،کا پھر سے آبادی کے لحاظ سے ریزرویشن ، آئین ہند کی دفعہ 341 میں ترمیم،انڈین وقف سروس اور برسوں کی قید کے بعد الزام ثابت نہیں کئے جانے پر بے گناہ قرار دے کر بری کئے جانے والے افراد کے معاوضہ اور بازآبادکاری جیسے ایشوز سے متعلق ہیں۔
جسٹس راجند سچر کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب تک ان بنیادی سفارشات پر عمل نہیں ہوتا ہے، مسلم کمیونٹی کی سماجی و معاشی حالات میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ انہیں سخت ملال ہے کہ مواقع کمیشن اور ڈائیورسٹی انڈیکس کے سلسلے میں نہ تو کانگریس حکومت کوئی قدم اٹھاسکی اور نہ ہی بی جے پی حکومت آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا واضح طور پرکہنا ہے کہ جب تک ملک میں موجود تمام طبقات کو برابری کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں کیا جائے گا ،پورے ملک کو ترقی نہیں دی جاسکتی ہے۔
سچر کمیٹی میں او ایس ڈی کے فرائض انجام دیئے ڈاکٹر سید ظفر محمود جو کہ زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا کے صدر ہیں، کا تو کہنا ہے کہ اب تک سچر رپورٹ کی ایک بھی بڑی سفارش پر عمل نہیں ہوا ہے جس سے مسلم کمیونٹی کی حالت میں کوئی نمایا ں تبدیلی ہوسکتی تھی۔یہ کہتے ہیں کہ گورننسمیں بہت کم موجودگی کے سبب ترقی کے متعدد شعبوں میںمسلمان پیچھے ہوتے جارہے ہیں۔ ان کے خیال میں پارلیمنٹ،اسمبلیوں اور لوکل باڈیز میںمسلم نمائندگی کا بہت کم ہونا بنیادی وجہ ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ لوک سبھا میں آبادی کے تناسب سے کم از کم 77 مسلمان ہونے چاہئے مگر یہ 1952 میں اولین عام انتخابات سے لے کر اب تک آدھے بھی نہیں رہے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر محمود کا یہ انکشاف چونکانے والا ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے مسلم گھنی آبادی والے حلقے ایس سی کے لئے ریزرو کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔ مثال کے طور پر آسام کے کریم گنج لوک سبھا حلقہ میں 52.3 فیصد مسلمان اور ایس سی 12.95 فیصد ،یوپی کے نگینہ اسمبلی حلقہ میں مسلمان 64فیصد جبکہ ایس سی محض 12فیصد ہیں،اس کے باوجود یہ ایس سی حلقے قرار دیئے گئے ہیں۔ اس کے برعکس بنگال کے طفیل گنج میں 53فیصد ایس سی اور مسلمان 16فیصد ہیں لیکن یہ ایس سی کے لئے ریزرو نہیں ہے۔اس مثال سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ ایس سی ریزرو سیٹ قرار دینے میں احتیاط تک نہیں برتا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمود کی اس بات سے خود جسٹس راجندر سچر پورے طور پر اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان غلطیوں کو فوری طورپر درست کرلینا چاہئے۔ عیاں رہے کہ سچر رپورٹ نے ایس سی کی تشریح کو مذہب سے آزاد (Religion-Neutral) کرنے کی پرزور سفارش کی تھی اور ایسا پارلیمنٹ میں صرف ایک قراردداد پاس کرکے کیا جاسکتا تھا مگر نہیں کیا گیا۔
اسی سچر کمیٹی کے ایک اور رکن پروفیسر ٹی کے اومین کہتے ہیں کہ نابرابری اور مذہب اور ذات و برادری کی بنیاد پرتقسیم ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ اس میں سدھار کے لئے سچر کمیٹی نے ڈائیورسٹی انڈیکس کی سفارش کی تھی مگر اس سلسلے میں مرکزی یا ریاستی کسی سرکار نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ پروفیسر پریم سنگھ کا خیال ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سچر رپورٹ میں صرف مسلمانوں کی حالت کا تجزیہ کیا گیا ہے بلکہ اس میں پورے ہندوستانی سماج میںمختلف مذہبی و دیگر طبقات کا جائزہ موجود ہے۔ جسٹس سچر اس ضمن میں کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو جو خوف ہے کہ سچر رپورٹ پر عمل کرنے سے وہ ہندو اکثریتی ووٹ سے محروم ہوجائیںگے،سراسر بے بنیاد ہے۔لہٰذا انہیں ملک کی ترقی کے پیش نظر اس رپورٹ کے نفاذمیں سنجیدہ ہونا چاہئے۔
دہلی یونیورسٹی کے سبکدوش پروفیسر منور نجن موہنتی کا کہنا ہے کہ سچر کمیٹی کی دو بڑی سفارشات ہیں۔ ایک سفارش ڈائیورسٹی انڈیکس کے بارے میں ہے جس کا اطلاق تمام سرکاری اور پرائیویٹ اداروں پرہو گا جو کہ ابھی تک کاغذ پر ہی موجود ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب تک ہم اس انڈیکس پر عمل نہیں کرتے ہیں، ہم یہ نہیں جان پائیںگے کہ ہم کن کو چھوڑ رہے ہیں۔ دوسری سفارش نیشنل ڈاٹا بینک کے قیام سے متعلق ہے۔ ہمیں اب تک یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ کیاحکومت اس سلسلے میں اب تک کوئی پالیسی بناسکی ہے؟
پروفیسر موہنتی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ موجودہ حکومت نے حق تعلیم قانون (آر ٹی آئی ) کو بڑی حد تک ڈراپ کردیا ہے جبکہ سچر رپورٹ میں گھنی مسلم آبادی والے علاقوں میں اس کے نفاذ پر خاص زور ڈالتے ہوئے سفارش کی گئی تھی‘‘۔ ان کے خیال میں اگر ایسا کیا گیا ہوتا تواس کا بڑا ہی ٹھوس اثر پڑتا کیونکہ ملازمت اور تعلیم کے بغیر مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کی حالت میں نمایاں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات پر بھی زور ڈالتے ہیں کہ سچر رپورٹ کی سفارشات کے نفاذ کے لئے مسلم کمیونٹی کو قومی مہم میں شریک ہونا چاہئے۔سیاسی پارٹیوں کی اس سلسلے میں عدم دلچسپی کو ایشو بناتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ کسی بڑی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں اسے کبھی شامل نہیں کیا اور نہ ہی کبھی حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے احتجاج اور دھرنا کیا۔
ان تمام تفصیلات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو مسلمانوں کے ووٹ کے لئے صرف فکر کرنے کے بجائے انہیں ترقی کی دوڑ میں دیگر طبقات کے ساتھ لانے کے لئے جدو جہد کرنی ہوگی۔ تبھی وہ بھی امپاور ہوکر ملک کے لئے زیادہ مفید بن سکیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *