افمی کے محبان ہند کو سلام

au-asif-for-webبلاشبہ ہندوستان اس لحاظ سے خوش نصیب ملک ہے کہ غیر ممالک میں وہاں کی شہریت کے ساتھ قیام پذیر ہند نژاد افراد نے اپنے مادر وطن سے تعلق بالکل قطع نہیں کیا ہے۔یہاں کی مٹی اور یہاں کے لوگوں کے لئے ان کے دل میں آج بھی بھرپور جگہ ہے۔ان ہند نژاد لوگوں میں مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو کہ اپنے بچپن میں کسی غیر ملک میں اپنے والدین کے ساتھ منتقل ہوگئے جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو کہ غیر ملک میں پیدا ہی ہوئے۔ بہر حال خاص بات یہ ہے کہ غیر ملک میں پیدائش یا رہائش یا گوناگوں مصروفیات کے باوجود یہ ہند نژاد لوگ اپنے آبائی وطن اور وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور ان کی مجموعی طور پرترقی میں ہاتھ بھی بٹاتے ہیں۔ایسا کرنے والے یہ لوگ واقعی قابل مبارکباد ہیں۔
ہند نژاد لوگوں کے اپنے آبائی وطن اور اس کے شہریوںسے محبت اور فکر کا اندزہ گزشتہ دنوں 31دسمبر 2016 اور یکم جنوری 2017 کو نئی دہلی کے ایس پی مکھرجی سیویک سینٹر کے کیدار ناتھ سہنی آڈیٹوریم میں منعقد’’ امریکن فیڈریشن آف ملسمز آف انڈین آریجن ‘‘(افمی )کے تعلیم کے موضوع پر دو روزہ سلور جبلی کنونشن میں شرکت کے دوران ہوا۔
محمد نعیم کی سربراہی میں فعال’’ دہلی یوتھ ویلفیئر ایسو سی ایشن‘‘ کی میزبانی میں ہوئے اس کنونشن میں شرکت کرنے کے لئے امریکہ سے کل 22 ہند نژاد افراد تشریف لائے تھے۔ ہمت کی داد تو دینی پڑتی ہے افمی کے بانی ٹرسٹی ڈاکٹر عبد الرحمن صالح بھائی نکادار کو جو کہ 81 برس کے ہوکر بھی نوجوان کی طرح فعال و چست دکھائی دیتے تھے۔ جب ان سے ان کی بلند ہمتی کا راز پوچھا تو برجستہ کہا کہ ’’ ہندوستان، اس کی مٹی اور اس کے لوگوں کے بارے میں سوچنا مجھے ہمیشہ جوان رکھتا ہے ‘‘۔ تبھی تو کنونشن کے افتتاحی اجلاس کا صدارتی خطبہ دیتے ہوئے مشہور قانون داں اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر نے کہا تھا کہ ’’ یہ ایک ایسے شخص ہیں جن کی فعالیت اور پُھرتی نیز نہ تھکنے والی اسپرٹ پر انہیں رشک آتا ہے اور جلن پیدا ہوتی ہے اور میںسوچتا ہوں کہ یہ سب کچھ میرے اندر کیوں نہیں ہے‘‘۔ ویسے کوئی ضروری نہیں کہ کوئی راجندر سچر کے اس خیال سے متفق ہو کیونکہ یہ اس وقت 93 برس کے ہوچکے ہیں اور ڈاکٹر نکادار سے پورے 12برس بڑے ہیں۔ یہ بھی اپنی فعالیت کے سبب دہلی و دیگر شہروں میں منعقد پروگراموں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں افمی کے کنونشن میں شرکت بھی کی ہے۔
افمی 25برسوں سے ہندوستان میں مسلمان بچے اور بچیوں کو 10ویں اور 12ویں کلاس کے امتحانات میں بہترین کارکردگی کے لئے گولڈ، سلور اور برونز میڈلز اور اسکالر شپ دیتی آرہی ہے۔ اب تک 25برسوں میں ڈھائی ہزار طلباء و طالبات اس سے مستفیض ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر شخصیات کو بھی ان کی خدمات جلیلہ کے اعتراف میں ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔ اس برس بھی مختلف ریاستوں کے 135 طلباء و طالبات کو ان کے بہترین نتائج کے لئے مختلف قسم کے میڈلز اور اسکالرشپ دیئے گئے۔ اس بار افمی سابق چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر شہاب الدین یعقوب قریشی اور دہلی کی تاریخی تعلیم گاہ اینگلو عربک سینئرسکنڈری اسکول جہاں سے بانی اے ایم یو سرسید احمد خان ، اور بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی کے علاوہ پاکستان کے اولین وزیر اعظم صاحبزادہ لیاقت علی خاں اور پاکستان کے سابق صدر ایوب خاں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے، کو افمی ایکسیلنزایوارڈ ،سماجی کارکن اے قادر بھائی سوپاری والا کو سرسید احمد خاں ایوارڈ اور ریختہ ڈاٹ کام کے بانی سجنیو سراف کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے میر تقی میر ایوارڈ دیئے گئے۔ سال کے آخری روز 31دسمبر کو ایک میوزیکل شام منعقد کی گئی جس میں لاس وگاس ، امریکہ کے جیتندر شرما اور ان کے گروپ نے مشہور غزل گو آنجہانی جگجیت سنگھ کو خراج تحسین و عقیدت پیش کیا ۔’’ چوتھی دنیا ‘‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے اس موقع پر ان کے ڈی بٹ البم ’’ نذرانہ ‘‘ کا اجراء کیا جو کہ اس فنکشن کی زینت بڑھانے اپنی بیگم رینا بھارتیہ کے ساتھ خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ سنتوش بھارتیہ بھی افمی کے نیویارک کنونشن میں 2008 میں شرکت کرچکے ہیں اور ڈاکٹر نکادار ان کی اس شرکت کا ذکر کرتے تھکتے نہیں ہیں۔ان کا کہناہے کہسنتوش جی نے ہمارے پروگرام میں نیویارک اور یہاں بھی آکر ہماری ہمت افزائی کی ہے۔افمی کے ٹرسٹی اور روح رواں اسلم عبد اللہ تو ملک و ملت کو درپیش ایشوز پر سنتوش بھارتیہ سے بات چیت کرنے ’’ چوتھی دنیا‘ کے نوئیڈا میں واقع مرکزی دفتر بھی پہنچ گئے اور ان کی صحافتی بالخصوص اردو خدمات کا اعتراف کیا۔
افمی کے نئے صدر ڈاکٹر قطب ایم الدین نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ سے خصوصی بات چیت میں پُر عزم ہوکر کہا کہ وہ اپنی مدت کار کردگی میں ہندوستانی طلباء و طالبات کو میڈلز اور اسکالرشپ کے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے شمولیت اور ہندوستانی سماج میں حاشیہ پر رہ رہے مسلم طبقات پر خصوصی توجہ دیں گے۔ حیدر آباد سے آبائی تعلق رکھنے والے ڈاکٹر قطب ایم الدین امریکہ کے انڈیا نا پولس، انڈیانا میں ماہر نفسیات ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ان کا زور اپنے آبائی ملک کی نئی نسل میں مثبت، سیکولر، پروگریسیو، شمولیاتی اور دانشمندانہ سوچ کو پیدا کرنے اور بڑھانے پر ہوگا۔
دہلی کے اس کنونشن میں مختلف ریاستوں کے ہندوستانی طلباء اور طالبات کے علاوہ ڈاکٹر ایس وائی قریشی، راجندر سچر، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ایم نسیم احمد،دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا،مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر اختر الواسع ،اور تعلیم و خواندگی کے سکریٹری انل سروپ نے شرکت کی۔ آئندہ برس افمی کا کنونشن راجستھان کے جودھپور میں ہوگا جس کے کنوینر ماڑواڑ مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے جنرل سکریٹری محمد عتیق ہوںگے۔افمی کے ہند نژاد ہندوستان کے محبان ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کاسلام جو کہ ہندوستان کے طلباء و طالبات میں ہمت کی نئی روح پھونک رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *