اتر پردیش کے مسلمان مایوس اکھلیش کو پانچ سال کا حساب دینا پڑے گا

damiریاست اترپردیش میں مسلمان آج اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے۔اکھلیش یادو نے اپنی 5سالہ حکومت میں انہیں مایوس کیاہے۔ان کی سماج وادی پارٹی نے انتخابات سے قبل 20جنوری 2012 کو جو 24صفحاتی منشور ریلیز کیا تھا، اس میں ریاست کے مسلمانوں کے تعلق سے جو بھی وعدے کئے گئے تھے، وہ مجموعی طور پر پورے نہیں ہوئے۔ علاوہ ازیں ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول بھی ٹھیک نہیں رہا۔انہی کے دور میں ساڑھے تین برس قبل مظفر نگر اور شاملی کے فسادات کے جو متاثرین بے گھر ہوئے، ان میں سے تقریباً 50ہزار اب بھی کیمپوں میں حالت کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو وافر سہولیات پہنچانے اور باز آبادکاری کی کوئی عملی کوشش نہیں ہوئی۔نتیجتاً وہ اپنے ہی وطن میں رفیوجی یا مہاجر بن کر زندگی گزارنے کو مجبور ہیں۔ نیز تقریباً 30برس پرانے ہاشم پور سانحہ مقدمہ میںبھی اس حکومت کا اچھا کردار نہیں رہا۔ اس کی ٹال مٹول کی پالیسی سے معاملہ میں تاخیر ہوئی اور مقدمہ کمزور ہوا۔

انتخابی منشور میں ریاست میں آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کے لئے کوٹا کی بات کی گئی تھی۔ مسلم علاقوں میں نئے سرکاری اسکولوں کو کھولنے اور مدارس کو فنڈ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاکہ وہاں سائنسی نصاب بھی پڑھا یا جاسکے۔ 10ویں کلاس پاس کرنے کے بعد آگے کی پڑھائی جاری رکھنے یا شادی کے اخراجات کے لئے مسلم بچیوں کو 30ہزار روپے گرانٹ دینے کی بات تھی۔ آخر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو نوجوان سالوں جیلوں میں بند ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں،ان کو قانونی کارروائی کے ذریعے رہا کرائیں گے اور دہشت گردی کے بے بنیاد الزام سے نجات دلائیںگے۔ نیز ان کے خلاف الزام لگانے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ 2012 کے انتخابی منشور کے مسلمانوں کے تعلق سے یہ وہ وعدے ہیں جن میں سے تعلیم کے تعلق سے چند نکات کو چھوڑ کر بیشتر کو پورا نہیں کیا گیا ۔مسلم علاقوں میں نئے اسکول کھولنے کا بھی ریکارڈ بہت اچھا نہیں ہے۔ مسلم بچیوں کی دسویں کے بعد مزید تعلیم یا شادی کے لئے فنڈ فراہمی تو ہوئی مگر پورے طور پر نہیں ۔مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے کی بات کرنے کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ان کا وعدہ 19فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو دینے کا تھا۔ اپنے پورے دور میں انہوں نے ایک بار بھی ریزرویشن کا ذکر ہی نہیں کیا۔ کیاوعدے صرف وعدے ہوتے ہیں، ان پر عمل درآمد ضروری نہیں۔
اکھلیش سرکار مسلمانوں کے معاملے میں کتنی سنجیدہ رہی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے باقاعدہ کابینہ کے ذریعے جن اسکیموں کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کا فیصلہ 14اگست 2013 کو لیا، ان کے عمل درآمد پر پہلی میٹنگ 2017 کے اسمبلی انتخابات سے 9ماہ قبل 11مئی 2016 کو یعنی اپنے آخری دور میں کی۔مضحکہ خیز بات یہ رہی کہ اترپردیش سرکار کے 30 مختلف محکمات کی تقریباً ایک سو اسکیموں میں اقلیتوں کی بہبود اور فلاح کا کیا کام ہوا اور اس پر کیسے عمل درآمد ہوا، اس اہم اور غیر معمولی موضوع کو اس وقت کے چیف سکریٹری آلوک رنجن کے ذریعے محض 30منٹ میں نمٹا لیا گیا۔
اس میٹنگ میں متعلقہ محکمات کے زیادہ تر حکام شریک نہیں ہوئے۔ لہٰذا اسے نصف گھنٹے میں ہی ختم ہوجانا تھا۔ طے شدہ اعلان کے مطابق، اقلیتی بہبود کے منصوبوں پر عمل درآمد کی پروگریس رپورٹ ہر مہینہ کی 12تاریخ کوسرکار کے سامنے پیش ہونی تھی لیکن کسی بھی محکمہ نے آج تک کوئی پروگریس رپورٹ نہیں دی اور نہ ہی سرکار نے اس کا کوئی نوٹس لیا۔ عیاں رہے کہ 14اگست 2013 کو فیصلہ چیف سکریٹری جاوید عثمانی کے وقت لیا گیا تھا اور جب 11مئی 2016 کو جائزہ کی میٹنگ ہوئی تو ان کی جگہ آلوک رنجن لے چکے تھے۔
ظاہر سی بات ہے کہ مسلمانوں کے فلاح و بہبود کی اسکیموں کے ساتھ ٹال مٹول کا مظاہرہ ایک ایسی پارٹی کی طرف سے ہوا جو کہ رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذکرنے کے مطالبہ میں آگے آگے رہی ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ خود اکھلیش یادو اورملائم سنگھ یادو نے 2012 کی کامیابی میں مسلمانوں کی حمایت کا اعتراف کیا تھا مگر ان کی حکومت کو ان کی فلاح و بہبود کا ٰخیال پہلی بار سوا سال بعد 14اگست 2013 کو آیا۔ اس وقت وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی صدارت میں کابینہ نے اقلیتوں کو مجموعی طورپر ترقی کے لئے 30سرکاری محکمات کی 85اسکیموں کے ذریعے فائدہ پہنچانے کا فیصلہ لیا تھا۔ سرکا ر نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے وعدوں پر مبنی سات صفحات کا اشتہار بھی جاری کیا تھا جس میں مسلمانوں کی غربت اور بد حالی پر تشویش ظاہر کرنے، سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کرنے اور اقلیتوں کو مین اسٹریم میں لانے کی کوشش کرنے کی بات تھی۔ ان منصوبوں کو نافذکرنے اور اس پر نگرانی کے لئے ریاست میں چیف سکریٹری اور اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی صدارت میں کمیٹیاں تشکیل کرنے کا فیصلہ ہواتھا۔ ان کمیٹیوں میں اقلیتی طبقہ کے دو ارکان کو نامزد کرنا تھا ۔اسی کے ساتھ ساتھ ہندی اور اردو میں ویب سائٹ شروع کرنے اور دھوم دھام سے اس کی تشہیر کا فیصلہ لیا گیا تھا۔اشتہار پر تو کروڑوںر وپے خرچ ہوئے مگر کام کچھ نہیں ہوا۔ اب ویب سائٹ کی بات تو کیجئے ہی نہیں۔
’’چوتھی دنیا ‘‘ نے اکھلیش سرکار کی اس بے رخی اور ٹال مٹول پر نوٹس گزشتہ برس لیا تھا اور تفصیل کے ساتھ سرکار کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی مگر اس کے کانوں پرجوں تک نہ رینگی۔اقلیتی بہبود کی اسکیم پر 2014-15 میں کیا ہوا، اس پر سرکار کچھ نہیں کہتی ہے۔ 2015-16 میں بھی 28 سرکاری محکمات کی 65اسکیموں میں اقلیتوں کے لئے کئے جانے والے کام کی سرکار کو کوئی اطلاع نہیں ہے۔ محکمہ زراعت کی سات اسکیموں میں اقلیتی بہبود کے لئے کیا کام ہوئے، اسے اس کا بھی کوئی علم نہیں ہے۔ یہی حال میدیکل اور ہیلتھ، ٹورزم، پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود ، محکمہ فلاح و بہبود برائے خواتین، ڈیری ڈیولپمنٹ ، باغبانی، چھوٹی صنعتکاری، کھادی دیہی صنعت سمیت متعدد دیگر محکمات کا ہے۔
اردو ، عربی اور فارسی زبانوں کے ساتھ بھی اس دوران انصاف نہیں ہوا۔ لکھنو کی خواجہ معین الدین چشتی اردو، عربی اور فارسی یونیورسٹی کے ساتھ زبردست کھلواڑ کیا گیا۔ نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر خان مسعود احمد نے 2014 میں اس مذکورہ بالا یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنتے ہی اردو، عربی اور فارسی زبان کی لازمیت کو ختم کردیا۔ وائس چانسلر اور رجسٹرار نے تب مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اردو، عربی یا فارسی زبان اختیاری مضمون کے طورپر پڑھائی جائے گی اور ان مضامین کے نمبر مجموعی نمبر میں نہیں جوڑے جائیں گے۔ اس طرح ان زبانوں کے نام پر بنائی گئی اس یونیورسٹی کی معنویت ہی ختم ہوگئی ۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہوا جس طرح آزادی سے قبل جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد میں ہوا تھا۔ یہ یونیورسٹی بھی عربی کے نام پر قائم کی گئی تھی اور اس کے لئے مشہور عالم دین علامہ حمید الدین فراہی کو یہاں ذمہ دار کے طور پر بلایا گیا تھا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے یہاں سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔
جہاں تک بے گناہ اور معصوم گرفتا ر نوجوانوں کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں بھی کہانی بڑی ہی دردناک ہے۔ تازہ معلومات کے مطابق، اتر پردیش کی جیلوں میں 32اسیران اور اترپردیش کے اسیران دیگر ریاستوں میں 26 ہیں۔ ان کی تفصیلی رپورٹ فہرست کے ساتھ ’چوتھی دنیا‘ اپنے شمارہ نمبر 331 میں شائع کرچکا ہے۔ اس سلسلے میں اکھلیش یادو کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔البتہ جمعیت علمائے ہند (ارشد ) کی کوششوں سے متعدد نوجوان بری ہوئے۔
اس طرح ان تمام تفصیلات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکھلیش یادو کی سماج وادی سرکار نے خود اپنے کئے گئے وعدوں کو نہیں نبھا کر ریاست اترپردیش کے مسلمانوں کو بری طرح مایوس کیا ہے۔ ان حالات میں اگر سماج وادی پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ انہیں جتنا بھی ٹھگا جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مسلمان آخر جائیں گے کہاں، سیکولرزم کی خاطر ہماری جانب آنے کے لئے مجبور ہیں، تو اس کی یہ بھول ہے۔ مایوس اور ٹھگی ہوئی کمیونٹی کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے۔ کوئی ووٹ بینک کسی مخصوص پارٹی کی جاگیر نہیں ہے۔ مسلمان تو محض رزلٹ چاہتاہے، اپنی ترقی چاہتا ہے، اپنا امپاورمنٹ چاہتاہے۔ اگر سماج وادی پارٹی نے اس تعلق سے وعدے کئے تھے تو اسے انہیں نبھانا چاہئے تھا اور اگر نہیں نبھایا ہے تو اسے پہلے اس تعلق سے اپنے پانچ سال کا حساب دینا پڑے گا۔تبھی آئندہ انتخابات میں ان کا سامنا کرپائیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *