اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2017 ’چوتھی دنیا‘ کا انتخابی سروے مایاوتی سب سے آگے

damiاتر پردیش اسمبلی انتخاب ہمیشہ سے ملک کا سب سے اہم انتخاب رہا ہے۔ یہاں الگ الگ انتخابی اتحاد بن رہے ہیں۔مایاوتی کیا پھر سے واپس آپائیںگی؟سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کو کیا اکثریت ملے گی؟بی جے پی لوک سبھا کی طرح اتر پردیش میں کارکردگی کر ے گی؟مسلم ووٹ بینک کاکیاہوگا؟اسد الدین اویسی کی پارٹی کا انتخاب پر کیا اثر ہوگا؟ایسے کئی سوالات ہیں جو اتر پردیش کے انتخابی نتائج پر اثر ڈالیں گے۔ اتر پردیش کا انتخاب پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاست کا راستہ طے کرنے والا ثابت ہوگا؟
کامیابی کسے ملے گی؟ یہ تو نتیجہ آنے کے بعد ہی پتہ چل پاتا ہے،لیکن ہر کوئی یہی جاننے کے لئے بے چین ہے کہ انتخاب کا نتیجہ آخر ہوگا کیا؟اتر پردیش کی سیاست میں گزشتہ کچھ مہینوں میں کافی سیاسی اٹھا پٹخ ہوئی ہے۔سماج وادی پارٹی کے اندر تنازع، مایا وتی کی پارٹی سے کئی لیڈروں کا پارٹی چھوڑنا، کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے راہل کی پہل کے ساتھ ہی بی جے پی کے اندر لیڈروں کے درمیان گھمسان وغیرہ جیسے وقعات نے اتر پردیش کے انتخاب کو اور بھی دلچسپ بنا دیاہے۔
انتخاب سے پہلے میڈیا کے ذریعہ نشر اور شائع ہونے والے انتخابی سروے نے تذبذب کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ہر نیا سروے ایک نئے پینترے کے ساتھ لوگوں کو مذبذب کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ ہر سروے کے نتیجے الگ الگ ہیں۔ کوئی سروے مایاوتی کی سرکار بنارہا ہے تو کوئی یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اکھلیش یادو پھر سے وزیر اعلیٰ بن جائیںگے۔ کچھ سروے ایسے بھی ہیں جو بی جے پی کے لئے اکثریت کا عویٰ کررہے ہیں۔ اب اگر الگ الگ سروے، الگ الگ نتیجے دے رہے ہیںتو اس کا پہلا مطلب یہی ہے کہ اتر پردیش کے عوام نے اب تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس کی سرکار بنائیںگے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش کا انتخاب سب سے دلچسپ موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اتر پردیش کے عوام کا موڈ کیا ہے؟وزیر اعلیٰ عہدہ کی دوڑ میں سب سے آگے کون ہیں؟اتر پردیش میں اس بار انتخاب کا اہم مدعا کیا ہوگا؟موجودہ سرکار کے کام کاج سے عوام کتنا مطمئن ہیں؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن پر عوام کی رائے جاننے کے لئے ’’چوتھی دنیا ‘‘نے اتر پردیش میں ایک سروے کیا۔ اس سروے کا مقصد یہ جاننا نہیں ہے کہ کس پارٹی کو کتنا ووٹ ملے گا اور کتنی سیٹیں آئیںگے بلکہ ہم نے الگ الگ سیاسی ایشوز پر عوام کے موڈ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
’’چوتھی دنیا ‘‘کا یہ سروے 14سے 18 جنوری 2017 کے درمیان کیا گیا۔ اس دوران ہماری ٹیم ریاست کے الگ الگ اسمبلی حلقوں کے ووٹروں سے ملی اور ان سے مختلف ایشوز سے جڑے ہوئے سوالات کئے۔ ووٹروں کے جوابوں کو ہی ہم نے اپنے سروے کی بنیادی اعدادو شمار کی شکل میں استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ووٹروں کے ووٹنگ پیٹرن اور الیکشن کمیشن کے اعدادو شمار کی بھی مدد لی گئی۔ سروے میں سمپل کے لئے ہم نے ملٹی اسٹیج اسٹیٹی فائڈ رینڈم سمپلنگ ٹکینک کی مدد لی۔ سروے کے دوران ہم نے اس بات کا خاص دھیان رکھا کہ ریاست کے سبھی طبقوں کے ووٹروں کے مزاج کو اہمیت ملے ۔ان میں عورتیں، نوجوان، دلت، مہا دلت ، اقلیت، پسماندہ طبقہ اور اعلیٰ ذات وغیرہ سبھی شامل تھے۔ ہم نے ہر لوک سبھا حلقے کے دو اسمبلی حلقوں میں سروے کیا ۔ مطلب یہ ہے کہ اس سروے میں 160 اسمبلی حلقوں میں 16ہزار لوگوں سے سوال پوچھے گئے ۔ سیمپل کا سائز اور ٹکنیک دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سروے عام انتخابی سروے سے زیادہ قابل اعتماد اور مدلل ہے۔ ہم نے کافی غورو فکر کرنے کے بعد طے کیا کہ اس سروے میں یہ بتانا مناسب نہیں ہوگا کہ کس پارٹی یا اتحاد کو کتنی سیٹیں ملیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخاب میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ اس سروے کے پیچھے ہمارا مقصد تھا اتر پردیش کے عوام کا مزاج یعنی موڈ کا اندازہ کرنے کی کوشش کرنا۔ اس سروے کے ذریعہ ہم نے یہ پتہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ بنیادی سیاسی سوالوں پر اتر پردیش کے عوام کیا سوچ رہے ہیں۔ اس سروے میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انتخاب سے پہلے ہوئی سیاسی اٹھا پٹخ کا عوام پر کیا اثر ہوا ہے؟ یہ سروے اتر پردیش کی سیاسی ، سماجی اور معاشی صورت حال اور موجودہ وقت میں واقع ہورہے واقعات پر عوام کی مجموعی طور پر رائے پیش کرتا ہے۔
’’چوتھی دنیا‘‘ کے اس سروے کے مطابق آج کے ماحول میں مایاوتی اتر پردیش کی پہلی پسند ہیں۔ان کی سیدھی لڑائی سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ہے۔ ان دونوں کے علاوہ اتر پردیش میں ایسا کوئی بھی لیڈر نہیں ہے جو ان دونوں کے درمیان کے مقابلے میں اپنی موجودگی درج کرا سکے۔ مایاوتی وزیر اعلیٰ کی ریس میں سب سے آگے ہیں۔ ان کے سب سے آگے ہونے کی وجہ ان کی سخت انتظامیہ کی شبیہ ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ اگلی سرکار ایسی ہو جو لاء اینڈ آرڈر کو درست کر سکے اور اس کے لئے انہیں لگتا ہے کہ مایاوتی سب سے مناسب ہیں۔ مایاوتی کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اس سروے کے دوران اقلیتوں کا جھکائو مایاوتی کی طرف نظر آیا۔ مغربی اترپردیش کے اقلیتوں کے دماغ میں آج بھی مظفر نگر کے فسادات کی یاد تازہ ہے۔ انہیں لگتا ہے ہے کہ ریاستی سرکار نے اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے نہیں نبھائی۔یہی وجہ ہے کہ اس سروے کے دوران زیادہ تر اقلیتوں نے مایاوتی کی حکومت میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرنے کی بات مانی۔ وزیر اعلیٰ کاچہرہ، اقلیتوں کا بھروسہ، سماج وادی پارٹی کا خاندانی تنازع اور نوٹ بندی سے پھیلی ناراضگی کی وجہ سے اتر پردیش میں بہو جن سماج پارٹی اور مایاوتی کے لئے موافق ماحول ہے۔
یہاںیہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اس سروے کے دوران لوگ ذاتی طور سے اکھلیش یادو کے کام کاج اور رویے سے ناراض نہیں دکھائی دیئے لیکن ان کی سرکار کے کام کاج کو لے کر غیر مطمئن نظر آئے۔ اس سروے سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ سماج وادی پارٹی کو سب سے بڑا نقصان خاندانی تنازع کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو لگتا ہے کہ شیو پال اور اکھلیش کی لڑائی کی وجہ سے سماج وادی پارٹی کو کافی نقصان ہوگا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس سروے میں زیادہ تر لوگ یہ مانتے ہیں کہ اکھلیش نے اپنے چچا شیو پال یادو سے لڑائی کرکے غلطی کی ہے۔ اکھلیش یادو کے دور حکومت کی سب سے بڑی کمی یہ رہی ہے کہ وہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کو ٹھیک ڈھنگ سے چلا نہیں سکے۔ اس سروے کے دوران لوگوں نے یہ بھی مانا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے سماج وادی پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ اب یہ دیکھنااہم ہوگا کہ کیا یہ فائدہ اتنا بڑا ہوگا کہ انتخاب میں مایاوتی کو پیچھے چھوڑ سکیں۔
بغیر کسی وزیر اعلیٰ کے چہرے کے انتخاب میں جانا بی جے پی کے لئے مہنگا پڑ سکتاہے۔ بی جے پی کو نوٹ بندی کی وجہ سے پھیلی ناراضگی کا بھی شکار ہونا پڑ سکتا ہے۔ سروے کے دوران دیہی علاقوں میں نوٹ کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانی ہوئی ہے اور اب تک صورت حال حال سدھر نہیں سکی ہے، اس لئے یہ ناراضگی کی شکل میں انتخاب میں اثر چھوڑ سکتا ہے۔ اس سروے میں ہم نے ووٹروں سے کل 10سوالات پوچھے۔ ایسے سوالات جن کا سیدھا اثر ووٹ پر ہوتا ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے سروے کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان نتیجوں میں کیا بدلائو ہوتا ہے، اس کے بارے میں بھی ہم آپ کو اپنے ویب سائٹ www.chauthiduniya.com پر اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔

1۔ وزیر اعلیٰ کی پہلی پسند کون ہیں؟

مایاوتی اکھلیش راجناتھ سنگھ یوگی آدتیہ دیگر
28
29
11
7
15

 
2۔ کیا آپ اکھلیش سرکار کے کام کاج سے مطمئن ہیں؟
ہاں نہیں پتہ نہیں
22
53
25

3۔ اس انتخاب کا بنیادی ایشو کیا ہے؟
لاء اینڈ آرڈر بدعنوانی مہنگائی روزگار سڑک بجلی دیگر
32
16
15
11
8
7
11

4۔ کس پارٹی کی سرکار میں لاء اینڈ آرڈر بہتر ہوتا ہے؟
بی ایس پی بی جے پی سماج وادی پارٹی کانگریس کہہ نہیں سکتا
41
29
16
3
11

5۔کس کے دور حکومت میں اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں؟(سوال صرف اقلیتوں سے)
بی ایس پی سماج وادی پارٹی کانگریس بی جے پی دیگر
43
34
9
3
11

6۔ کیا انتخاب میں نوٹ بندی کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا؟
ہاں نہیں کہہ نہیں سکتا
23
46
31

7۔ کیا شیو پال سے لڑ کر اکھلیش نے غلطی کی؟
ہاں نہیں معلوم نہیں
61
17
22

8۔ کیا خاندانی جھگڑے سے سماج وادی پارٹی کو نقصان ہوا؟
ہاں نہیں کہہ نہیں سکتا
68
11
21

9۔ کیا اتحاد کا فائدہ سماج وادی پارٹی کو ہوگا؟
ہاں نہیں کہہ نہیں سکتا
41
32
27

10۔ آپ ووٹ دیتے وقت ان میں سے کسے ترجیح دیں گے؟

وزیر اعلیٰ کا چہرہ پارٹی امیدوار دیگر
41
27
21
11

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *