اترپردیش میں نوٹ بندی کے اثرات مسلم معیشت اور تعلیمی اداروں کی کمر ٹوٹی

au-asif-for-webیوں تو پورے ملک کی مسلم معیشت اور تعلیمی ادارے گزشتہ 8 نومبر 2016 کو نصف شب میں نافذ ہوئی نوٹ بندی سے متاثر ہوئے ہیں مگر اترپردیش کے مسلمانوں کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں یہاںسب سے زیادہ روایتی صنعتیں پائی جاتی ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ نیز اسی طرح دینی و عصری تعلیم گاہیں بھی یہاںملک کی کسی بھی ریاست کے بالمقابل زیادہ تعداد میں ہیں۔
مسلم معیشت کا بڑی حد تک دارومدار ان ہی روایتی صنعتوںپر ہے۔ یہ انحصار ملکیت اور کارکنان دونوں اعتبار سے ہے۔ بنارس کی سلک ساڑی ہو یا پان، مئو ناتھ بھنجن کے ہینڈ لوم اور پاور لوم سے بنے ہوئے کپڑے او رساڑیاں ہوں یا قدرتی تیل اور نورانی تیل، بھدوئی اور مرزاپور کی ہاتھ کی بنی اونی قالینیں ہوں یا دریاں، لکھنؤ کی چکن کڑھائی والے کپڑے ہوں یادیگر ہنر، کانپور کی لیدر ٹینریزہوں یا چپل جوتے، آگرہ کے جوتے چپل ہوں یا مرادآبادی برتن، فیروزآباد کی چوڑیاں ہوں یا علی گڑھ کے تالے او رمیرٹھ کی قینچیاں، ان تمام چھوٹی بڑی صنعتوں پر یکے بعد دیگرے تالے لگتے جارہے ہیں یا وہاں کام بہت کم ہوگیا ہے ۔
مالکان کا تو برا حال ہے ہی، لیکن ان صنعتوں میں ورکروں کا حال اور بھی برا ہے۔ یہ بری حالت 1991 کی معاشی اصلاحات اور گلوبلائزیشن کے بعد سے پیدا ہونی شروع ہوگئی تھی۔ 1995 میںبچہ مزدوری کے نام پر کیلاش ستیارتھی کی تحریک شروع ہونے کے بعد ان روایتی صنعتوں میں سے جہاں بچپن سے ہی بچے ہنر سیکھنے میںلگ جاتے ہیں، بچوں کو ہٹا لینے کے سبب متعلقہ ہنر ہی متاثر ہونے لگا۔ نیز مثال کے طور پر ہاتھ کی بنی ہوئی اونی قالینوں پر رگ مارک لگانے کی شرط لگنے کے بعد ایکسپورٹ کی جارہی تعداد میں واضح کمی آتی گئی کیونکہ رگ مارک پر لکھا رہتا تھا کہ ’’یہ بچوںکے خون سے بُنی نہیں گئی ہے‘‘ جس کے سبب پورے کاروبار پر اثر پڑا۔ یوروپ خصوصاً جرمنی اور امریکہ میں ہندوستان کی ہاتھ سے بنی اونی قالینیں بہت مقبول تھیں۔ اس کی وجہ سے یوروپ اور امریکہ میں مشینوںسے بنی ہوئی اونی قالینیں ہاتھ سے بنی ہوئی قالینوں کے مقابلے میں پسند نہیں کی جاتی تھیں۔ دراصل مغرب کی یہ چال تھی ہندوستانی قالینوں کے ایکسپورٹ کو کم کرنے کی اور وہ اس چال میں کامیاب رہے۔ بعض مبصرین کا تو یہ بھی الزام ہے کہ کیلاش ستیارتھی کو نوبل پرائز برائے امن جو دیا گیا ہے، اس کے پیچھے مغرب کی غرض و غایت چھپی ہوئی ہوسکتی ہے۔ بچوں کی مزدوری بچوں کا استحصال تو ہے لیکن اس کے لیے پورے ہنر کو ہی ختم کردینا پڑے، اس پر غورو فکر کرنا چاہیے تھا اور ہنر سے بچوں کو ہٹانے کے بجائے ان کی تعلیم کا ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ انتظام ہونا چاہیے تھا۔
خیر جو کچھ اثر روایتی صنعت و حرفت پر اس وقت یعنی تقریباً 20 برس قبل پڑنا شروع ہوا اور پھر اس نے ملک میں آنے والے فارین ایکسچینج پر اب تک جو کچھ اثر ڈالا، نوٹ بندی نے اس کی کمر پورے طور پر توڑ دی۔ ان سب کا سیدھا اثریہ پڑا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی۔
مسلمانوں کے زیادہ تر دینی و عصری دونوں تعلیمی ادارے مالی تعاون او رچندے سے چلتے ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ و دیگر کارکنان کو مشاہرے کیش میںملتے تھے۔ اس طرح یہ تعلیمی ادارے بھی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔اترپردیش میں مسلم معیشت اور تعلیمی اداروں پر نوٹ بندی کے جو اثرات پڑے ہیں، وہ تو اپنی جگہ ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ عام مسلم عوام بھی سخت پریشانی میںہیں۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ ریاست میں مسلم علاقوں میں نیشنلائزڈ او رپرائیویٹ بینک عام طور سے نہیں ہیں۔ ریاست کے مختلف شہروںمیں جو مسلم علاقے بعد میں وجود میں آئے ہیں، انھیں بینکوں کے ذریعہ ’بلیک ایریا‘ قرار دیے جانے کے سبب وہاںنہ بینک قائم ہوتے ہیں اور نہ ہی کریڈٹ کارڈ بنواتے اور قرض لیتے وقت انھیںمنطوری ملتی ہے۔ علاوہ ازیں ان علاقوں میں اے ٹی ایم کی سہولیات تو کس قدر ہوگئی ہے۔ مگر نوٹ بندی کے بعد ان اے ٹی ایمز میں پیسہ اکثر نہیں رکھا جاتا ہے او ریہی حال ان علاقوں میں چند معدودے بینکوں کا ہے۔
یہ تو شہروں کا حال رہا۔ دیہی علاقوں کا حال تو بہت ہی برا ہے ۔ سلطان پور میں ایک انٹر کالج کے پروفیسر توفیق کہتے ہیں کہ اس چھوٹے سے شہر اور متعلقہ دیہی علاقوں میں نوٹ بندی کے بعد رقم نہ نکالنے کے سبب فاقہ تک کی نوبت آگئی۔ ریاستی سرکار نے اس پورے بحران سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ گورکھپور میں ایک اردو اخبار سے وابستہ محمد عاطف نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ گورکھپور میں تو گزشتہ دو ماہ مسلم علاقوں کے لیے بالخصوص بہت ہی پریشانی میں گزرے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ دیہی علاقوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ یہ صورت حال یقیناً لمحہ فکریہ ہے ملک و ملت کے لیے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس تشویشناک صورت حال پر غور کیا جائے گا؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *