اترپردیش مایاوتی کا مسلم پریم کیسا؟

damiاترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں مایاوتی نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے انھیں 97 ٹکٹ دیے ہیں۔ اس بار دلت ، برہمن کارڈ کھیلنے کے بجائے مایاوتی دلت -مسلم کارڈ کھیل رہی ہیں۔ ایسے میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ مایاوتی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کتنا کام کرتی رہی ہیں۔ مایاوتی چار بار اترپردیش کی وزیر اعلیٰ رہی ہیں۔ واضح ہو کہ مایاوتی تین بار اترپردیشمیں بھارتیہ جتنا پارٹی سے گٹھ بندھن کرکے سرکار بنا چکی ہیں۔ آگے بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملائیں گی۔ سال 2002 میں مایاوتی نے گجرات جاکر مودی کے حق میں انتخابی پرچار کیا تھااور مودی کو 2000 سے زیادہ مسلمانوں کے قتل کرانے کے معاملے میں کلین چٹ دی تھی۔ مایاوتی کا مسلم پریم اس چڑی مار جیسا ہے جو چڑیا کو پھنسانے کے لیے پہلے خوب سارے دانے ڈالتا ہے۔
گزشتہ دنوں اعظم گڑھ ریلی میں مسلمانوں کو پھسلانے کے لیے مایاوتی نے کہا تھاکہ بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے معاملوں میں غلط ھنسایا جاتا ہے۔ مایاوتی کے مسلمانوں کے بارے میں سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان کا یہ بیان صرف ا نتخابی جملہ ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ مایاوتی کے 2007 والی وزیر اعلیٰ کی مدت کار میں سب سے زیادہ بے گناہ مسلمان دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں پھنسائے گئے تھے۔مسلمانوں کو ان بم دھماکوں کے معاملوں میں پھنسایا گیا تھا۔
(1)گورکھپور بم بلاسٹ کیس 22- مئی 2007
(2)وارانسی کچہری بم بلاسٹ کیس 23- نومبر 2007
(3)فیض آباد کچہری بم بلاسٹ کیس 23- نومبر 2007
(4)لکھنؤ کچہری بم بلاسٹ کیس 23- نومبر 2007
المیہ یہ ہے کہ 2008 میں گرفتار کیے گئے انڈین مجاہدین گروپ کے لوگوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ اتر پردیش میں مذکورہ سلسلہ وار بم دھماکے ان لوگوں نے کیے تھے۔ پھر ان ہی بم دھماکوں کے معاملے میں پہلے ہی دوسرے لوگوںکو پکڑکر جیل میں کیوںٹھونس دیا گیا اور جب اس کی اطلاع اترپردیش پولیس کو حاصل ہوگئی تب بے گناہ مسلمانوں کو ضمانت پر کیوں نہیں چھڑ وایا گیا؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان ہی بے گناہ لوگوں میںخالد مجاہد نام کا ایک آدمی بھی تھا، جس کی بعد میں فیض آباد سے بارہ بنکی عدالت میں پیشی پر لانے کے دوران مشکوک انداز میںموت واقع ہوگئی۔ الزام تھا کہ اس کا قتل کردیا گیا تھا۔ ان ہی الزامات میں بند کیے گئے کچھ لوگ حال ہی میںچھوٹے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ ابھی بھی جیل میں سڑ رہے ہیں۔ لہٰذا اعظم گڑھ ریلی میں مایا وتی کا بیان جھوٹا ہے، کیونکہ اس کے لیے مایاوتی ہی ذمہ دار ہیں۔
اسی طرح جب 2007 میں مایاوتی اترپردیش کی وزیر اعلیٰ تھیں، تو انہی دنوں دہلی میں بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر ہوا تھا۔ ا س انکاؤنٹر میںاعظم گڑھ کے تین لڑکے مارے گئے تھے او راعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس پر اترپردیش پولیس پر یہ الزام بھی لگا کہ دوسری ریاستوںکی پولیس اترپردیش سے دہشت گردوںکو گرفتار کر کے لے جارہی ہے، لیکن یوپی پولیس کچھ نہیں کررہی ہے۔ اس پر یوپی پولیس نے بھی بٹلہ ہاؤس جیسے انکاؤنٹر کا منصوبہ بنایا۔ اس میں 4/5 اکتوبر 2007 کی رات میں فوج اور پولیس کے ذریعہ مل کر فوج کے دفتر پر فرضی دہشت گردانہ حملہ دکھانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس مڈبھیڑ میں فوج اور پولیس کو شامل ہونا تھااور دو کشمیری دہشت گردوں کو ما ر گرایا جانا تھا۔ کسی طرح اس سازش کی خبر سماجی کارکنوں کو مل گئی۔ مشہور سماجی کارکن اور میگسیسے ایوارڈ جیتنے والے سندیپ پانڈے نے ایک ریٹائرڈ پولیس ڈائریکٹر جنرل سے اسے رکوانے کی درخواست کی۔ انھوںنے اس بارے میں اس وقت کے پولیس ڈائریکٹر جنرل سے بات چیت کی اور مذکورہ فرضی انکاؤنٹر کو رکوانے کے لیے کہا۔ فرضی انکاؤنٹر رک گیا کیونکہ اس بارے میں پریس کو بھی مطلع کردیا گیا تھا ۔ اس کے بعد پولیس نے سندیپ پانڈے سے ہی پوچھ تاچھ کا المناک دور چلایا۔ دو کشمیری لڑکوں کو فرضی انکاؤنٹر میں مارے جانے کا واقعہ اس وقت تو ٹل گیا لیکن انھیں 25 جنور ی 2008 کو دہلی- غازی آباد بارڈر پر فرضی انکاؤنٹر کرکے مار گرایا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر مایاوتی نے مسلمانوں کو کتنا تحفظ اور انصاف دیا تھا۔ مسلمان یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا مایاوتی کے سخت انتظام کی یہی تعریف ہے؟
مایاوتی کے وزیر اعلیٰ کے دور میں ہی 6 فروری 2010 کو سیما آزاد اور ان کے شوہر کو الہ آباد میں ماؤ نوازہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھااور ان پر دیگر الزامات کے ساتھ ساتھ غداری کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ سیما آزاد ایک صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ سیما آزاد پی یو سی ایل اترپردیش کی تنظیم سکریٹری بھی ہیں۔ انھوںنے الہ آباد میں ریت کی غیر قانونی کانکنی کرنے والے مافیا کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ سیما نے مایاوتی کے عزیز پروجیکٹ’ گنگا ایکسپریس‘ کے لیے زبردستی زمین تحویل کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔ اس کی وجہ سے ریت مافیاؤں کے اشارے پر سیما آزاد کو ماؤ نواز کہہ کر گرفتار کیا گیاتھا۔ اسے کئی سال تک جیل میں رہنا پڑا اور ضلع عدالت نے سیما آزاد اور اس کے شوہر کو عمر قید کی سزا سنادی۔ اس واقعہ سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مایاوتی نے مسلمانوںکے ساتھ ساتھ کانکنی مافیا کے اشارے پر کس طرح سماجی کارکنوں کا شکار کیا۔ سیما آزاد کے معاملے میں جب پی یو سی ایل کے ایک وفد نے مایاوتی کے اس وقت کے چہیتے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل (کرائم) برج لال ،جو اب بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں، سے ملنے کے لیے وقت مانگا تو انھوںنے انکار کرتے ہوئے کہا تھا ، ’آپ لوگ تو ماؤ نوازوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
دہشت گردی کے معاملے میںمایاوتی کی ہندو دہشت گردوںسے ہمدردی کی سب سے بڑی مثال کانپور میںبم دھماکے کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں بجرنگ دل کے دو کارکن بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔ یہ واقعہ 23 اگست 2008 کا ہے۔ موقعہ واردات سے بم بنانے کا بہت سار ا سامان بھی ملا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اسے صرف ایک واقعہ مان کر اس کے پیچھے کے گروہ کا پتہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بعد میںپتہ چلا کہ ان کا ارادہ جنم اشٹمی میں بم دھماکہ کرکے مسلمانوں کے خلاف ماحول پیدا کرنا تھا۔ لیکن پولیس نے اسے دبا دیا اور معاملے کو رفع دفع کردیا گیا۔
مایا وتی کا دلت پریم بھی بے جوڑ
مایاوتی کا دلت پریم بھی نایاب ہے۔ اترپردیش کی دلت کمیونٹی کے لوگ ان کے نام نہاد دلت پریم کی پوائنٹ ٹو پوائنٹ مثال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی مایاوتی کی وکالت دلت اور پچھڑا مخالف ہے۔ پچھڑی ذاتوں کو درج فہرست ذاتوں کی فہرست میںشامل کرنے کی مایاوتی کی وکالت بھی دلت مخالف بتائی جاتی ہے ۔ اسی طرح مایاوتی نے اپنے دور اقتدار (2007-12)میں درج فہرست ذاتوں کے پروموشن میں ریزرویشن کی بحالی کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مناسب پیروی نہیں کی، جس سے دلت افسروں کو ڈیموٹیڈ ہونا پڑا۔ مایاوتی نے 2001 میں اترپردیش میں درج ایس سی / ایس ٹی اٹروسٹیز ایکٹ کے لاگو کرنے پر روک لگادی تھی، جس سے دلتوںکو بھاری نقصان ہوا۔ اس حکم کے سبب دلتوں کے استحصال کے معاملے اس ایکٹ کے تحت درج نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے نہ تو انھیں کچھ معاوضہ مل سکا اور نہ ہی گناہگاروں کو سزا دی جاسکی۔
مایاوتی نے کانشی رام کی کوششوںسے بنی فلم ’تیسری آزادی‘ اور راماسوامی نائیکر پیدیار کے ذریعہ لکھی کتاب ’سچی رامائن‘ پر روک لگادی تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مایاوتی نے اسپورٹس کالج میں دلتوں کے ریزرویشن کا حکم کچھ اعلیٰ ذاتوں کے ذریعہ مخالفت کرنے پر منسوخ کردیا تھا۔ مایاوتی نے سرکاری اسکولوںمیں دلت باورچیوں کے ذریعہ کھانا بنانے کی مخالفت کرنے پر بھی قصورواروں کو سزا دینے کے بجائے دلت باورچیوںکی تقرری کا آرڈر ہی منسوخ کردیا تھا۔ اس سے سرکاری اسکولوں میں چھوا چھوت کو فروغ ملا۔ مایاوتی نے دلتوں کی رہائشی زمین کو ان کے حق میں کیے جانے کے آرڈر کا اعلیٰ ذاتوںکی مخالفت کرنے پر اسے بھی منسوخ کردیا تھا۔ مایاوتی نے 2007میں اترپردیش میں امبیڈکر مہاسبھا کو دفتر کے لیے ملی سرکاری عمارت کا الاٹمنٹ رد کرکے اسے اپنے وزیر کو الاٹ کردیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم پر مہا سبھا کو اسٹے ملا۔ مایاوتی نے 2008 میں لاگو ہوئے جنگلا ت سے متعلق قانون کے تحت جنگل میں رہنے والوں اور آدیواسیوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دینے کے بجائے ان کے 81 فیصد دعووں کو رد کردیا تھا جس کے سبب انھیں اپنے قبضے کی زمین کا مالکانہ حق نہیں مل سکا۔ آل انڈیا پیپلز فرنٹ کو الہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنے کے بعد آرڈر حاصل کرنا پڑا تھا۔ مایاوتی نے اتر پردیش کے دو فیصد آدیواسیوں کے لیے اسمبلی کی دو سیٹیں ریزرو کرنے سے متعلق بل کی مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے انھیں 2012 کے اسمبلی انتخابات میں کوئی بھی سیٹ نہیں مل سکی تھی۔ اب جاکر آدیواسیوں کے لیے دو سیٹیں ریزرو ہو سکی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *