سرکار کو طے کردہ معیار کو اپنانا چاہئے

دہلی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اب اپنا تحمل کھوچکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جب سے انھوںنے70 میں سے 67 سیٹوں کی بہت زیادہ اکثریت کے ساتھ الیکشن میں جیت حاصل کی ہے، بی جے پی اسے قبول نہیںکرپائی ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے انھیںپریشان کرنے کی لگاتار کوششیںہورہی ہیں او ران کا کام مشکل بنایاجارہا ہے۔ پولیس کمشنر، جو وزیر اعلیٰ کے مقابلے میں چھوٹے عہدے کا افسر ہے، وزیر اعلیٰ کو بحث کے لےے چیلنج دے رہا ہے۔ یہ ایک بے تکی اور غیر منطقی بات ہے۔ لیکن بعد میں پولیس کمشنر کو عقل آئی اور وہ اپنے کام سے کام رکھنے لگے۔ ابھی تک ریاستی سرکار او رمرکزی سرکارضروری تعاون قائم نہیں کرسکی ہے۔گزشتہ دنوں سی بی آئی نے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کے آفس پر چھاپہ مارا۔ وہ ایک ریگولر سروس کے افسر ہیں۔ اروند کجریوال انھیں کہیں اور سے لے کر نہیں آئے ہیں۔ ان کے خلاف سال 2002 کے بعد کی شکایتیںہیں۔ چھاپے سرپرائز ڈھنگ سے مارے جاتے ہیں۔ 2002 کی شکایتوں پر اب چھاپہ ماری کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ اگروہ شخص وزیر اعلیٰ کے آفس سے جڑا ہوا ہے، تو سی بی آئی کو اضافی احتیاط برتنی چاہےے تھی، لیکن سی بی آئی تو سی بی آئی ہے او روہ اپنے روایتی اور فیمیلئر گھمنڈی انداز میں وزیر اعلیٰ کے آفس پہنچ گئی۔
کجریوال کے عمل کو صحیح ٹھہرایا جاسکتا ہے، لیکن انھوں نے جس طرح کی زبان کا استعمال کیا، اسے کسی بھی طرح جائز نہیںکہا جاسکتا۔ وہ نہ صرف سخت تھی، بلکہ ایک طرح سے کہا جائے، تو غیر مہذب تھی۔ آخر کار وہ ایک وزیر اعظم کے بارے میںکچھ کہہ رہے تھے۔آپ وزیر اعظم کے کتنے بھی خلاف ہوجائیں، لیکن آپ کو زبان میںتحمل ہمیشہ برتنا چاہےے۔ اسے بدقسمتی ہی کہےے کہ مسلسل چلنے والے واقعات کی وجہ سے اروند کجریوال اپنا آپا کھو بیٹھے اور انھوں نے مودی پر اس مسئلہ میں براہ را ست شامل ہونے کا الزام لگادیا۔ اس مسئلہ پر نتیش کمار نے ہی منطقی او رمتوازن بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی سرکاریں اپنی مریادہ پر عمل نہیںکررہی ہیں، جس کی ان سے توقع ہے۔ میرے خیال سے یہ بہت ہی صحیح اور موزوںبیان تھا، جس میںریاست اور مرکزی سرکار سے قانون اور مریادہ کے مطابق کام کرنے کی توقع کی گئی ہے۔
اب ایک بہت چھوٹا مسئلہ، جس کا تعلق انتظامیہ سے نہیں ہے اور جو ڈی ڈی سی اے کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ ہر کھیل سنگٹھن کی طرح یہاں بھی کیرتی آزاد اور بشن سنگھ بیدی جیسے لوگ ناخوش ہیں، جو وقتاً فوقتاً اپنی رائے رکھتے رہے ہیں۔ ارون جیٹلی 1999 سے 2013 تک ڈی ڈی سی اے کے صدر رہے ۔ سی بی آئی کے چھاپے نے ان پر حملہ کرنے کے لےے ان ناخوش لوگوں کو ایک ہتھیار دے دیا۔ وہ روزانہ جیٹلی پر الزام لگارہے ہیں او ران کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں، جو بہت مضحکہ خیز ہے۔ جب ارون جیٹلی کے خلاف بطور فائننس اور کمپنی معاملوں کے وزیر کے طورپر کچھ نہیںملا،تو اب ان کا ستعفیٰ ڈی ڈی سی اے کے ڈائریکٹر کے دور کار کے دوران ہوئے ایک معاملے کی بنیاد پر مانگا جارہاہے۔یہ صرف مضحکہ خیز نہیں ہے ،بلکہ اس سے اروند کجریوال اور ان کی ٹیم کے لوگ عوام کی نظر میں اپنا اعتماد کھو دیں گے۔وہ اپنے مخالفین کو گھیر سکتے ہیں، ارون جیٹلی کی توہین کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ان کے پاس کوئی پختہ بنیاد ہونا چاہئے۔ جب تک پارلیمنٹ سیشن چل رہاہے،تب تک نیوز چینل اس معاملے کو ہرا رکھنا چاہتے ہیں۔یہ ہمارے پختہ جمہوریت کے آپریشن کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ بہت سی سرکاریں بدلیں،کئی وزیر اعظم آئے،لیکن اس طرح کا تماشہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
راجیو گاندھی کے بعد نریندر مودی مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار پر قابض ہونے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ وہ ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ جب آپ مضبوط پوزیشن میں ہوتے ہیں تب آپ کو شائستہ ہونا چاہئے،آپ کو سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہونا چاہئے،لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا ۔ دہلی انتخاب کے نتیجوں سے انہیں سبق لینا چاہئے تھا،لیکن ایسا ہوا نہیں۔ بہار انتخاب کے نتیجوں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کا ایک طبقہ یہ سمجھ گیا ہے کہ تکبر سے کام نہیں چلے گا۔لیکن ہمیں کوئی سدھار نظر نہیں آرہاہے۔ وزیر اعظم جتنی جلدی اس سمت میں قدم اٹھائیں گے (وہ ایسا آسانی سے کرسکتے ہیں) اتنا ہی بہتر ہوگا۔ دہلی سرکار اپنے معاملوں کو وزیراعلیٰ کی ایک ہی میٹنگ میں درست کرسکتی ہے۔ آخر کار دہلی سرکار اپنا کام کر رہی ہے،لیکن اس کے اختیارات محدود ہیں۔ محدود اختیارات کے تحت وہ جو کرنا چاہتی ہے،اسے کرنے دینا چاہئے۔ پانچ برسوں کے بعد انہیں ووٹروں کا ایک بار پھر سامنا کرنا پڑے گا۔اس لئے کوئی رکاوٹ پیدا کرنے اور اپنی کمیاں دوسروں پر ڈالنے کا موقع دینے کے بجائے انہیں اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کرنا چاہئے کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں۔ دراصل انہوں نے عوام سے ایسے وعدے کئے ہیں،جنہیں پورا کر پانا بے حد مشکل ہے۔ بد عنوانی ختم کر پانا بے حد مشکل کام ہے،لیکن وہ اس کے لئے پر زور کوشش کررہے ہیں۔ اگر وہ دہلی کو بد عنوانی سے نجات دلاپاتے ہیں تو یہ ملک کے لئے بہت بڑی خدمت ہوگی اور کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔
فی الحال سب سے مناسب قدم یہ ہوگا کہ جمہوریت کو پٹری پر لایا جائے۔یہ سبھی پارٹیوں کا کام ہے۔ یہ سیاسی تحمل کا کھیل ہے۔ کوئی جیتتا ہے، تو کوئی ہارتا ہے اور اسکے لئے فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن بنیادی ڈھانچے کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے۔ایسی صورت میں ہر معاملہ عدالتوں میں جاتا ہے اور عدالتیں سیاسی معاملوں میں مداخلت کرنے لگتی ہے،جو سرکار کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ دراصل جو کام سرکار کو کرنا چاہئے، وہ عدالتیں کررہی ہیں۔ سرکار جتنی جلدی قائم معیار اپنانا شروع کر دے گی،ہندوستانی جمہوریت کے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *