راشٹریہ جنتادل کی خاندان پرور سیاست میسا یادو پر تذبذب

سوکانت
P-10سیاست کا پرانا طریقہ ہے کہ اگر کسی مسئلے پر سیاست کے ماحول کا اندازہ کرنا ہو تو کوئی ایک سکہ اچھال دو۔راشٹریہ جنتا دل کے بہار آرگنائزیشن کے صدر کے عہدے کو لے کر کیا اسی بیرو میٹر کا استعمال ہو رہا ہے ۔یہ سوال بہار کے سیاسی حلقوں میں پوچھا جارہا ہے اور تو اور راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر بھی ایسے ہی سوال کررہے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے قومی ترجمان محمد الیاس حسین کے بیان سے راشٹریہ جنتا دل کے اندر مچی ہلچل سامنے آگئی ہے اور پارٹی کے باہر بھی ماحول بننے لگا ہے۔ محمد الیاس حسین نے بیان جاری کیا کہ میسا بھارتی کو ریاستی راشٹریہ جنتا دل کی کمان سونپ دی جائے۔ انہیں ریاستی راشٹریہ جنتا دل کی صدر بنایا جائے۔ راشٹریہ جنتا دل سپریمو کے خاص اور صوبہ کے مشہور گھوٹالہ ”الکترا گھوٹالہ“ کے ملزم الیاس حسین کی اس بات کا کئی ایم ایل اے نے کھل کر سپورٹ کیا ہے۔ اس سلسلے میں لالو پرساد کے معاون پھر بعد میں ایم ایل اے بننے والے شکتی سنگھ یادو اور اختر الشاہین بہت اہم ہیں۔ پارٹی کی ریاستی کمیٹی سے سبکدوش ہونے والوں کے ایک گروپ نے بھی اس مسئلے پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔وہ میسا کی قیادت کی مانگ کررہا ہے۔ ایم ایل اے اور عہدیداروں کے اس گروپ نے اپنے اپنے طریقے سے میسا بھارتی کی قائدانہ صلاحیت کی خوب تعریف کی ہے کہ وہ پارٹی کی کسی اورسے زیادہ بہتر ڈھنگ سے قیادت کریں گی۔لیکن سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی اور میسا کے چھوٹے بھائی صوبہ کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے اس کی اپنے طریقے سے مذمت کی ہے۔ رابڑی دیوی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ سب بے بنیاد ہے۔تیجسوی یادو نے میڈیا کو ہی نصیحت دے ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا گزشتہ دنوں کئی بے بنیاد خبریں جاری کرتا رہا ہے۔ یہ بھی ویسی ہی ہے لیکن اس مسئلے پر راشٹریہ جنتا دل سپریمو اب بھی خاموش ہیں۔ سپریمو ہی نہیں ، پارٹی کا ہر بڑا نام اس مسئلے پر خاموش ہیں۔ سبھی کو شاید لالو پرساد کے رخ کا انتظار ہے ۔ اصلیت جو ہو ،اتنا تو طے ہے کہ بہار کی ریاستی راشٹریہ جنتا دل کے موجودہ ریاستی صدر رام چندر پوروے کا دوسرا دور بھی ختم ہورہا ہے اور نئے سال کے آغاز میں ہی ریاستی صدر کا انتخاب کر لیا جائے گا۔ ڈاکٹر رام چندر پورے دسمبر 09 میں ریاستی راشٹریہ جنتا دل کے صدر بنے تھے۔ ڈاکٹر پورے انتخاب ہار گئے تھے اور عبد الباری صدیقی کے پارٹی لیڈر بن جانے کے بعد انہیں یہ عہدہ ملا تھا۔
رابڑی دیوی اور تیجسوی پرساد یادو کی تنقید کی اصلیت کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل میں ہوتا وہی ہے جو لالو پرساد چاہتے ہیں۔ پارٹی اور سرکار میں حیثیت یا عہدے کا فائدہ لالو خاندان کے کسی کے دعویدار کے نہ ہونے پر ہی دوسرے کو ملتا ہے۔یہ راشٹریہ جنتا دل کا دستور ہے۔ گزشتہ اسمبلی2010 انتخاب کے بعد عبد الباری صدیقی کو اسمبلی اراکین کا پارٹی لیڈر بنایا گیا تھا۔ اس انتخاب میں رابڑی دیوی انتخاب ہار گئی تھی اور لالو خاندان سے کوئی دعویدار نہیں تھا۔ راشٹریہ جنتا دل سپریمو کی 1997 سے یہ خصوصیت رہی ہے۔اس سال چارہ گھوٹالے میں جب ان کی جیل یاترا عدالت نے طے کردی۔پیشگی ضمانت کے سارے راستے بند ہو گئے، تو انہوں نے رابڑی دیوی کو کچن سے نکال کر وزیر اعلی کی کرسی تک پہنچا دیاتھا ۔ مشکل کے ان دنوں میں لالو پرساد کی سیاست کا انحصار اپنی پارٹی کے معاونین پر تھا۔لیکن سزا یافتہ ہونے کے بعد یہ بھروسہ بھی ختم ہو گیا۔ اسی لئے رانچی جیل میں رہنے کے باوجود کسی کو انہوں نے اپنا کارگزار صدر نہیں بنایا ۔تیجسوی کے توسط سے ساری سیاست کرتے رہے ۔جیل سے پارٹی چلاتے رہے۔ خود انتخاب لڑنے کے قابل نہ ہونے کے سبب پاٹلی پتر پارلیمانی حلقہ سے راج کرپال یادو کی دعویداری نا منظور کرکے میسا بھارتی کو امیدوار بنایا۔ انہیں سیاست میں اتارا گیا۔ لیکن یہ شروعات اچھی نہیں رہی۔ اسمبلی انتخاب میں بیٹوں کے انتخاب لڑنے کے لائق ہو جانے کے بعد وہ دونوں کو سیاست میں جمانے میں لگ گئے۔ دونوں جیت بھی گئے اور دونوں نیتش کمار کی کابینہ میں وزیر اعلیٰ کے بعد دوسرے اور تیسرے نمبر پر براجمان بھی ہو گئے ہیں۔ راشٹریہ سپریمو نے کسی اور کو نہ تو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا اور نہ اراکن کا لیڈر بنایا۔ بہار کے راشٹریہ جنتا دل لیجسلیٹر پارٹی کی لیڈر رابڑی دیوی ہیں اور اسمبلی میں پارٹی کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو ہیں۔ یہ کسی اور کا نہیں لالو پرساد کا فیصلہ تھا۔تمام ایم ایل اے نے انہیں لیڈر منتخب کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔کسی کا نام نہیں دیا تھا۔اس لئے سپریمونے دونوں ایوان میں پارٹی لیڈر کا عہدہ اپنے خاندان میں ہی رکھا۔ لہٰذا لالو پرساد قومی صدر اور پارلیمانی بورڈ کے صدرہیں۔ رابڑی دیوی لیجسلیٹو میں پارٹی لیڈر ہیں ۔تیجسوی یادو اسمبلی میں لیڈر ۔میسا بھارتی اب اس دستور کو آگے بڑھائیں گی تو کیا خرابی ہے۔
خاندان اور سیاست کے تئیں لالو پرساد کے لئے ملائم سنگھ یادو ہی آئیڈیل ہیں۔ خاندان سے بچنے کے بعد ہی کسی کو کچھ دیا جائے۔ چاہے تنظیم میں حیثیت یا سرکار میں عہدہ کا معاملہ ہو یا کوئی اور، بہار راشٹریہ جنتادل کی کمان میسا بھارتی کے ہی ہاتھ آئے گی کیا؟اس سوال کا جواب دینا فی الحال مشکل ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے صوبہ کی سیاست میں میسا کافی دلچسپی لے رہی ہیں۔ پارلیمانی انتخاب لڑنے کے پہلے سے ہی رابڑی دیوی 1997 کی گرمی میں چولہے سے نکل کر سیدھے راج بھون حلف لینے پہنچائی گئیں اور دو دن بعد لالو پرساد کو جیل جانا پڑا ۔ لالو پرساد یادو کو ضمانت ملنے کے بعد وہ پردے کے پیچھے ہو گئی۔ گزشتہ کچھ برسوں میں وہ سیاسی طور پر نئے سرے سے مقبول ہوئی ہیں۔ انہیں فوری سیاسی حیثیت دی جائے یا نہیں،اس پر لالو خاندان میں خوب چرچا ہورہی ہے۔ لگتا ہے اب بھی اس سوال پر خاندان تذبذب میں ہے ۔لالو پرساد خود بھی کہہ چکے ہیںکہ والد کا وارث بیٹا ہی ہوتا ہے۔ خاندان میں اتفاق رائے نہ ہونے کی چرچا بہار کے سیاسی حلقوں میں ہوتی رہی ہے۔ میسا کو جاننے والے راشٹریہ جنتا دل لیڈروں کا ماننا ہے کہ دونوں بھائیوں کی اس تخلیق نو نے اسے کافی متاثر کیا ہے اور راشٹریہ جنتا دل میں وہ اپنی پکڑ بنانے کے لئے بے چین ہے، یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ لیکن میسا بھارتی کی حد یہ نہیں ہے۔یہ سیڑھی ہے ۔راجیہ سبھا۔ لیجیسلیٹر کے آئندہ انتخاب میں بطور امیدوار ان کا نام کا آنا تقریباًطے ہے۔جن طبقوں سے انہیں صدر بنانے کی مانگ کی جارہی ہے وہی طبقہ اس وقت امیدواری کے لئے ان کے نام کو سامنے کر سکتا ہے۔ لیکن اس وقت لالو پرساد کے گھر میں کیا ہوگا؟ یہ کہنا مشکل ہے ۔ہاں پارٹی لیڈروں کی سرگرمیاں دیکھنے کے لائق ہوگی۔ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈروں کو یاد ہے کہ راما نوج پرساد کے ساتھ پارٹی کا سلوک 2010کے اسمبلی انتخاب میں کیا رہا۔رابڑی دیوی ہار کے خوف سے سہمی ہوئی تھیں اور یہ راگھو پور کے علاوہ ایک اور آسان سیٹ سے انتخاب لڑنا چاہتی تھی۔ اس کے لئے سون پور کی سیٹ خالی کروائی گئی اور وہاں کے ایم ایل اے راما نوج پرساد سے لیجسلیٹو کی امیدواری دینے کا وعدہ کیا گیا۔ ربڑی دیوی راگھو پور سے تو انتخاب ہار ہی گئی سونپور میں بھی شکست کھا گئی۔ اسمبلی میں صورت حال یہ رہی کہ کسی طرح جوڑ توڑ سے لیجسلیٹو کی ایک سیٹ جیتی جاسکی تھی لیکن 2012 کے لیجیسلیٹیو الیکشن کے وقت راما نوج یا کسی دیگر کو دعویداری پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انتخاب سے پہلے ہی رابڑی دیوی کو امیدواری دینے کا اعلان کردیا گیا۔ یہ لالو پرساد کا دہائیوں پرانا سیاسی طریقہ رہا ہے۔1990کی دہائی میں ان کا پلڑا ہمیشہ کی طرح بھاری تھا۔ ان لئے رشتہ داروں کو انہوں نے سب کچھ دیا ،بھلے ہی اب ان کا نام سننا پسند نہیں کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں میسا بھارتی کے راشٹریہ جنتا دل کی ریاستی صدر بننے کی امید ہے۔ بشرطیکہ لالو پرساد کی چاہت یہی ہو۔ راشٹریہ جنتا دل کے اندر یا باہر میسا بھارتی کو لے کر چرچا تیز ہے۔ لیکن راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو خاموش ہیں۔ یہ خاموشی سیاست بھی ہو سکتی ہے۔ مہا گٹھ بندھن کی سرکار میں دونوں لڑکوں کو نمبر دو اور تین کی حیثیت دینے اور تیجسوی کو نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ اراکین کا لیڈر بنائے جانے پر راشٹریہ جنتا دل ہی نہیں، ان کے ووٹ بینک میں بھی بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے بزرگ لیڈروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں بھی ناراضگی ہے کہ ان کے حصے کا موقع خاندانی طاقت کو مضبوط کرنے میں لگا دیا گیاہے۔رگھو ونش پرساد سنگھ ،جگدا نند سنگھ، پربھو ناتھ سنگھ، تسلیم الدین ، رام چندر پورے، عبد الباری صدیقی جیسے لوگوں کا غصہ بڑھنا لازمی ہے۔ ایسی نظر اندازی کی انہوں نے توقع نہیں کی تھی۔ اس ناراضگی کی کوئی اہمیت ہے ؟یا اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ درحقیقت علاقائی سیاست کے ہیرو نے ایک نئی طرح کی راج شاہی قائم کی ہے۔ ذات، مذہب اور زبان کے نام پر اقتدار کو خاندانی بنانے کا نیا دستور چلایا ہے۔ یہ جنوب سے شمال تک چل رہا ہے۔ پنجاب ،جموں و کشمیر، اتر پردیش، ہریانہ، بہار ، جھارکھنڈ اڑیسہ ،کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ کی ریاستوں میں یہ تیزی سے رائج ہورہا ہے۔راشٹریہ جنتا دل اسی سیاست کی سینچائی کررہا ہے ۔ ایسی سیاسی طریقے میں خاندان سے باہر کے لیڈر ،کارکن کی کیا کوئی بساط ہے۔ شاید نہیں۔کم سے کم تب تک نہیں جب تک ڈر اور خوف ووٹ کا پیمانہ ہے۔ اس سیاسی ماحول میں اسی کے لئے موقع ہے جو خاندانی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *