پیرس آب و ہوا سمجھوتہ نہ کسی کی جیت، نہ کسی کی ہار

نوین چوہان
p-4فرانس کی راجدھانی پیرس میں 30 نومبر سے 12 ستمبر 2015 کے بیچ منعقعدہ آب و ہوا کانفرنس (سی او پی 21-) کامیاب ثابت ہوئی۔ پیرس آب وہوا کانفرنس میں شامل ہونے والے 196 وفد (195 ملک اور یوروپی یونین) دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطرے سے بچانے کے لےے نئے ماحولیاتی سمجھوتہ کو آخری شکل دینے میں کامیاب ہوئے اور آب وہوا میں تبدیلی سے متعلق یونائٹیڈ نیشنس فریم ورک سمجھوتہ پر دستخط کےے۔ دنیا بھر کے گرین ہاو¿س گیس کا ا خراج کرنے والے کم سے کم 55 ملکوں (جو کل 55 فیصد گرین ہاو¿س گیس خارج کرتے ہیں) کی منظوری ملتے ہی یہ سمجھوتہ لاگو ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ سبھی ممبر ملکوںکو 22 اپریل 2016 سے 21 اپریل 2017 کے بیچ اس نئے سمجھوتہ پر دستخط کرنے ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی اپنے اپنے ملک کے قانونی یا قانونی عمل کے تحت سمجھوتہ کے پروویژن کو لاگو کرناہوگا۔ اس سمجھوتہ میں کلائمیٹ جسٹس کی بات کی گئی ہے اور اس میںماحولیات کی حفاظت کی ذمہ داری بڑے طاقتور اور امیر ملکوںپر ڈالی گئی ہے۔ اس سمجھوتہ کو تاریخی ٹرننگ پوائنٹ مانا جارہا ہے۔سمجھوتہ کے مطابق عالمی درجہ¿ حرارت کی حد 2 ڈگری سیلسئس سے کافی کم رکھنے اور اس مسئلہ سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لےے سال 2020 سے سو ارب ڈالر سالانہ کی تجویز ہے۔
سمجھوتہ کے مطابق سال2020 کے بعد ہونے والی گرین ہاو¿س گیس کے اخراج کا کوٹا مقرر کیا جائے گااور آب وہوا کی تبدیلی کو روکنے کے طریقے اختیار کےے جائیں گے۔ سمجھوتہ میںدنیا میںکاربن ڈائی آکسائڈگیس کے اخراج کی سطح کو کم کرنے کی کوئی بات نہیںکی گئی ہے اور نہ ہی فوزل فیول ترک کرنے کے بھی کسی طرح کے اشارے دےے گئے ہیں۔ حالانکہ سبھی ممالک آب وہوا کی تبدیلی کو روکنے کے لےے گرین ہاو¿س گیسوںکے خروج میں کمی کرنے کے اپنے قومی ہدف کو لازمی طور پر مقرر کرنے کی ذمہ داری ہے،لیکن اہداف کو حاصل نہ کرنے کی حالت میںکسی طرح کی سزا کا پروویژن نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح وسیع ٹائم ٹیبل، مدت میعاد یا اہداف کو اس سمجھوتہ میںشامل نہیں کیا گیا ہے۔ ٹائم لمٹ کے ساتھ ہدف مقرر کےے جانے کی وجہ سے کیوٹو پروٹوکول کی مخالفت ہوئی تھی،اسی وجہ سے اس آب و ہوا کانفرنس کا ہدف کسی بائنڈنگ ایگریمنٹ تک پہنچنا تھاجیسا کہ گزشتہ بیس سالوںمیںنہیں ہوا تھا۔
پیرس کانفرنس سے پہلے دیگر کئی آب وہوا کانفرنسوں میںبات آخری وقت میںآکر ناکام ہوجاتی تھی۔کیوٹو پروٹوکول کے اہداف کو پورا کرنے کی مدت ختم ہونے کے بعد دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطروںسے بچانے کے لےے نئے اہداف کا تعین نہیں ہو پارہا تھا۔ کانفرنس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ کسی سمجھو تہ تک پہنچنے کی کنجی امریکہ اور چین جیسے ملکوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر یہ دونوںملک مسودے پررضامند نہیں ہوتے ہیں، تو پیرس کانفرنس کا بھی کوئی نتیجہ نہیںنکلنے جارہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی طرف سے کانفرنس میں حصہ لینے گئے مرکزی وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاوڑیکر نے کہا تھا کہ پیرس میں کوئی سمجھوتہ ہوگا یا نہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ امیر ملک کتنی دریا دلی اورلچکدار رخ دکھائیں گے۔کانفرنس کا نتیجہ ترقی یافتہ ممالک کے صحیح رخ پر ہی منحصر ہے، ورنہ یہ سب دھوکے جیسا ہے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کئی بار عالمی اسٹیجوںپر دہشت گردی اور گلوبل وارمنگ کو عالمی چیلنج بتاچکے تھے۔اس کے ساتھ ہی ان چیلنجوںسے نمٹنے کے لےے پوری دنیا کی مشترکہ کوششوں کی بات کہہ چکے ہیں۔ ہندوستان کے اسی رخ کی جھلک پیرس میںنظر آئی۔حالانکہ ہندوستان جی 134- (ترقی پذیر ممالک کا سنگٹھن) میں چین کے ساتھ مل کر ترقی پذیر ملکوں کے حق کی لڑائی بھی لڑ رہا تھا۔ایسے میںاس بار بھی امریکہ، چین اور ہندوستان پر پیرس آب وہوا کانفرنس کو کامیاب بنانے کا سب سے بڑا دارومدار تھا۔بات چیت میںہندوستان ایک اہم حصہ دار بن کر ابھرا۔مشہور میگزین ’ٹائم‘ نے اپنے ایک مضمون میںلکھا کہ اس بات چیت میںہندوستان ایک اہم کھلاڑی کی شکل میںسامنے آیا ہے۔میگزین نے کہا کہ ہندوستانی لیڈرآب وہوا کی تبدیلی کے معاملے پر ایسی حالت میںہیں،جہاںانھیںبہت ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہے۔
اس سمجھوتہ میں مشترکہ لیکن متفرق ذمہ داری کے اصولوں کو جگہ دی گئی ہے، جس کی ہندوستان طویل مدت سے مانگ کرتا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملک اس پروویژن کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ہندوستان اس سمجھوتہ میں پائیدار طرز زندگی اورانجوائے منٹ کا ذکر چاہتا تھا،جسے اس مسودہ میں جگہ دی گئی ہے۔ حالانکہ اس سمجھوتہ میں ایک بڑے چیلنج گلوبل وارمنگ کو صنعتی انقلاب سے پہلے کے عالمی درجہ حرارت سے زیادہ سے زیادہ دو فیصد اور یہاں تک کہ 1.5 فیصد اضافہ تک محدود کرنے کو لے کرہوسکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو صاف ایندھن اور ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد کرنے کے لےے خوشحال ممالک کے ذریعہ 2020 سے سالانہ 100 ارب ڈالر دینے پر رضامندی ہوئی ہے، لیکن اس میں تکنیکوںکے ٹرانسفر کی بات نہیں ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مسودے میںطے کےے گئے 1.5 ڈگری سیلسئس کے ہدف کو حاصل کرنے کے لےے سال 2020 سے 2050 کے بیچ زیرو کاربن کے اخراج کی ضرورت ہوگی۔
آب و ہوا کی تبدیلی پر کسی سمجھوتہ پر پہنچنے سے پہلے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں زوردار ٹکراو¿ دیکھنے کو ملا۔بات چیت کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دھمکی دی کہ اگر ترقی پذیرممالک ترقی یافتہ ملکوںپر زیادہ ذمہ داری اٹھانے اور پیسے کی مدد دینے کا دباو¿ دیںگے، توامریکہ اس سمجھوتہ سے خود کو دور کر لے گا، وہیں ترقی پذیر ملکوں نے بھی امریکہ کے روےہ پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ کیری نے تیکھے تیور دکھاتے ہوئے کہا کہ سمجھوتہ کے ہر لفظ پر نکتہ چینی نہیں ہوسکتی۔چین نے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان پر سخت حملہ کیا اور ترقی پذیر ممالک کی طرف سے کہاکہ کچھ ملک اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں، جو مذاکرات کے جذبہ کے مطابق نہیںہے۔
پیرس آب و ہوا کانفرنس میںاتفاق رائے بننے کے باوجود ہندوستان کی کئی تشویشوںکومسودے میںجگہ نہیںدی گئی۔ہندوستان کا کہنا تھاکہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سیلسئس تک محدود کردینے کے ہدف کے لےے ترقی یافتہ ممالک کو اپنے اخراج میں بھاری کٹوتی کرنی ہوگی اور ترقی پذیر ملکوںکو دی جانے والی اقتصادی مدد بڑھانی ہوگی۔مرکزی وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاوڑیکرنے کہا کہ انٹینڈیڈ ٹو ڈیٹرمائن نیشنل کنٹری بیوشن(آئی این ڈی سی) ایک نئی اور بڑی کھوج ہے اور یہ اہم تبدیلی لانے والی ثابت ہوئی ہے۔ اس نے 186 سے زیادہ ملکوںکی حصہ داری کے قابل بنایا ہے۔اس کے باوجود آئی این ڈی سی کا مسودے میں ذکر نہیںکیا گیا۔ سمجھوتہ کے مطابق عالمی درجہ حرارت کی حد 2ڈگری سیلسئس سے کافی کم رکھنے کی تجویز ہے۔درجہ حرارت بڑھنے پر روک لگانے کی یہ بات ہندوستان اور چین جیسے ترقی پذیر ممالک کی پسند کے مطابق نہیںہے، جو کہ ٹیکنالوجی کے سبب کاربن گیسوںکے اخراج کرنے والے ملکوں میںسے ہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اقوام متحدہ کنونشن میںترقی یافتہ ملکوں میںسخت الفاظ میںذمہ داری ڈالی گئی تھی،لیکن موجودہ سمجھوتہ کی زبان کمزور ہے۔اس میںکئی ایسی باتیں ہیں،جس سے کلائمیٹ فائننسنگ کے مدعوں پر بھرم پیدا ہوسکتا ہے،جیسے کہ ترقی کے لےے دی جانے والی مدد یا قرض کلائمیٹ فائننس کی شکل میں گنا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر ماحولیات پرکاش جاوڑیکر بھی کہتے ہیں کہ یہ سمجھوتہ اور زیادہ امنگی ہوسکتا تھا ،کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں کی کارروائی ان کی تاریخی ذمہ داریوںاور غیر جانبدار حصہ داری (شیئروں) کے مقابلے میںکافی کم ہے۔کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ترقی یافتہ ملکوںکے گروپ کے بھاری دباو¿ کے بعد ترقی یافتہ ملکوں کی ذمہ داریوںمیںکٹوتی کی گئی ہے۔ سمجھوتہ میں کہا گیا ہے کہ سبھی فریق جن میں ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں،کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لےے قدم اٹھائےں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ترقی پذیر ملکوں کواس کے لےے قدم اٹھانے ہوں گے،جو کہ ترقی کے ان کے خوابوں کو پورا ہونے میں رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہےں۔اگر نقصان اورڈیمیج کی بات کریں،تواس سمجھوتہ میں کہا گیا ہے کہ انھیںذمہ داری یا معاوضہ کے حوالے سے نہیں دیکھا جائے گا، تو اس کے مطابق ترقی یافتہ ملکوںپر کوئی حقیقی ذمہ داری بھی نہیںہوگی۔ لیکن مسودہ میںکاروباریوں،سرمایہ کاروں،شہروں اور علاقوںکے ذریعہ کےے گئے کاموں کواہمیت دینا کانفرنس کے اہم نتائج میں سے ایک ہے۔
دنیا کے 134 ترقی پذیر ملکو ں کے بلاک (جی 134-) کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستان ، چین اور سعودی عرب گلوبل وارمنگ پرروک لگانے کے لےے سمجھوتے سے خوش ہےں۔ ترجمان گردیال سنگھ نے کہا ، ہم سمجھوتہ سے خوش ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ متوازن ہے ،اس میںمفادات کو دھیان میںرکھا گیا ہے۔سمجھوتہ سے ہندوستان متفق ہے،چین متفق ہے،سعودی عرب متفق ہے اور عرب گروپ متفق ہےں۔یوروپین کمیشن نے بھی کہا ہے کہ اسے سمجھوتہ پر کوئی اعتراض نہیںہے۔ سمجھوتہ میں ہماری سبھی اہم باتیںشامل ہیں۔ یہ امنگی ہے اور متوازن ہے۔ وہیںآب وہوا کانفرنس کے صدر لارینٹ فیبیس نے کہا کہ یہ سمجھوتہ آپسی بھروسہ بنانے والا ہے۔وہیںہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پیرس سمجھوتہ کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہاںنہ کسی ایک ملک کی جیت ہوئی اور نہ کسی کی ہار، صرف آب و ہواکے تئیں انصاف کی جیت ہوئی ہے۔
سمجھوتہ کے اہم نکات
سمجھوتہ میں گلوبل وارمنگ کو 2 ڈگری سیلسئس کے نیچے رکھنے کا دوررس ہدف رکھاگیاہے اور درجہ حرارت میںاضافہ کو 1.5 ڈگری سیلسئس سے کم رکھنے کی کوششیںکی جائیں گی۔ حالانکہ ٹیکنالوجی کے دور کی شروعات سے اب تک اس درجہ حرارت میں1 ڈگری کا اضافہ ہوچکاہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لےے سرکاروں نے گرین ہاو¿س گیسوںکے اخراج میںجتنی جلدی ممکن ہو، اضافہ روکنے کا عزم ظاہر کیاہے۔ سال 2050 کے بعد کاربن کے اخراج میںاس سطح تک کمی آنی چاہےے جتنی کہ جنگل اور سمندر جذب کرسکیں۔
اخراج کا ہدف
دوررس مقاصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں سبھی ملک ہر پانچ سال میں گرین ہاو¿س گیس کے اخراج کو کم کرنے کے لےے اپنے اپنے قومی ہدف مقرر کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ 180 سے زیادہ ملک پہلے ہی سال 2020سے شروع ہونے والے،پہلے چکر کے لےے مقرر ہدف پیش کرچکے ہیں۔صرف ترقی یافتہ ملکوں سے پوری طرح مقاصد کے مطابق اخراج میں کٹوتی کی امید کی جارہی ہے،جبکہ ترقی پذیر ملکوںکو وقت کے ساتھ اپنی صلاحیت کے مطابق کٹوتی کرنے کے لےے راغب کیاجارہا ہے۔تب تک ان سے ان کی معیشتوںکی ترقی کے مطابق خروج میں اضافہ پر لگام لگانے کی امید کی جاسکتی ہے۔
اہداف کا جائزہ
ابتدائی ہدف طویل مدتی درجہ حرارت کے اہداف کو پورا کرنے کے لےے کافی نہیں ہے۔ اس لےے سمجھوتہ میں سرکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اگلے چار سال میںاپنے اہداف کا جائزہلیں او ریہ دیکھیںکہ کیا وہ انھیںاور بہتر کرسکتے ہیں۔ اس کے لےے سرکاروں کو اپنے اہداف کو اور بڑھانے کی ضرو رت نہیںہے۔لیکن امید ہے کہ ایسا ہدف توانائی کے ذرائع سے اور زیادہ کفایتی اور مو¿ثر ہونے پر ہی ممکن ہوپائے گا۔
شفافیت
اخراج کے اہداف کو پورا نہیںکرپانے پر کسی طرح کی سزا تجویز نہیںکی گئی ہے، لیکن سمجھوتہ میں شفافیت کے اصول ملکوںکی مددکریںگے جیسا انھوںنے کہا ہے وہ اسے پورا کریں۔چین کہہ رہا تھاکہ ترقی پذیر ملکوں کے لےے نرم رخ ہو،یہ سبھی کے بیچ اتفاق رائے بنانے میں آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔سمجھوتہ میںکہا گیا کہ سبھی ملک اپنے یہاں کی اخراجی سطح اوراپنے ذریعہ کی جانے والی کوششوںکی جانکاری دیں۔ یہ سمجھوتہ ترقی پذیر ملکوںکے لےے کچھ لچک کی اجازت دیتا ہے اور یہ ترقی پذیر ملکوںکی فوری ضرور ت ہے۔
فائننس
سمجھوتہ میںپروویژن ہے کہ امیر ملکوں کو اخراج میںکمی لانے اور آب وہوا میںتبدیلی کے مطابق غریب ملکوں کی مدد کرتے رہنا چاہےے۔ اس کے ساتھ ہی وہ رضاکارانہ بنیاد پر غریب ملکوں کی اس کے لےے حوصلہ افزائی کرتے رہیںگے۔ یہ چین جیسی ترقی پذیریافتہ معیشتوں کے لےے راستہ ہموار کرتا ہے،جبکہ ان کے لےے ایسا کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ غریب ملکوں کی مدد کے لےے واضح طور پر کسی طرح کی رقم کا پروویژن نہیں کیا گیا ہے، لیکن امیر ملکوںنے خود ہی سال 2020 سے ترقی پذیر ملکوںکی مدد کے لےے سالانہ 100 ارب ڈالر مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے۔
نقصان اور خسارے کی ذمہ داری
سمندر کے پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے چھوٹے جزیروں کے لےے پیدا ہونے والے ڈوب کے خطرے کے بارے میں بھی اس سمجھوتہ میں بہت کچھ ہے۔سمجھوتہ میںایسے چھوٹے ملکوںکے لےے ماحولیات سے متعلق آفت کے لےے نقصان اور نقصان کی ذمہ داری کے پروویژن کےے گئے ہیں۔ امریکہ طویل عرصہ سے اس تجویز کی مخالفت کررہا ہے۔ اس کی تشویش ہے کہ موسمی حاد ثوں کی وجہ سے ہوئے نقصان کا ایسے ملک دعویٰ کرنے لگےںگے۔آخر میںاس مسئلہ کو بھی شامل کرلیا گیا ، لیکن فُٹ نوٹ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ نقصان اور ڈیمیج کی ذمہ داری کے تحت کسی طرح کی ذمہ داری طے کرنے یا معاوضہ کا پروویژن نہیںہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *